اب دگ وجے ہوشیار ہو گئے ہیں

اعظم گڑھ سے گورکھپور آتے آتے کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ عرف دگی راجہ کا سر ہی بدل گیا۔ ان کی زبان پر نہ تو اعظم گڑھ جیسی تلخی تھی نہ ہی کسی کے خلاف دشمنی کے جذبات۔ ایسا لگ رہا تھاجیسے وہ اعظم گڑھ سے گورکھپور صرف ڈیمیج کنٹرول کرنے آئے تھے۔
دہلی میں کانگریس کی حکومت میں ہوئے بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹرپر سوال اٹھا کرمسلمانوں کو خوش کرنے کی سیاست کو آگے بڑھانے کا جو کھیل کانگریس کے جنرل سکریٹری اور اتر پردیش کے انچارج دگ وجے سنگھ نے سنجر پور( اعظم گڑھ) سے شروع کیا تھا، اسے اور آگے بڑھانے کی جرا¿ت ان میں نظر نہیں آئی۔ وہ 25فروری کو گورکھا ناتھ پہنچے ضرور، مگر اعظم گڑھ والی غلطی انہوں نے یہاں نہیں کی۔ بلکہ ان کی کوشش رہی کہ وہ اپنا سیکولرا زم والا چہرہ بچائے رکھیں اور ان پر دوبارہ مسلمانوں کو خوش کرنے کا الزام کہیں عائد نہ ہو۔ اس لئے دگی راجہ نے ہندو اور مسلمان دونوں کی ہی رہنمائی کرنے کی کوشش کی۔ اسی کوشش میں وہ مقررہ پروگراموں میں شرکت کرنے سے پہلے گورکھاناتھ مندر پہنچے اور وہاں ماتھا ٹیکا۔اس کے بعد انہوں نے امام باڑہ جا کر چادر چڑھائی۔ وہاں انھوں نے ہندو مسلم اتحاد کی بات کی اور کانگریس کو مسلمانوں کا سچا ہمدرد بتایا۔ اس درمیان دگی راجا اقلیتی سیمنار میں حصہ لینے آئے مہمانوں کی کھری کھوٹی بھی سنتے رہے۔ مگر اس سیمنار میں وہ سچر کمیٹی جیسے جھن جھنے سے اقلیتی فرقہ کولبھانے سے خود کو روک نہیں سکے۔ سیمنار میں آئے مولویوں، علما ءاور مسلم دانشوروں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ افضل گرو جیسے دہشت گردوں کو بیچ چوراہے پر گولی مار دی جائے تو ان لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی، لیکن ہمارے جوان بچوں کو سکون سے جینے دیا جائے۔ ایک طرف دگی راجہ مسلمانوں کو لبھانے میں لگے تھے تو دوسری طرف کانگریس کے پرمود تیواری نے الگ پوروانچل کے حق میں بیان دے کر امر سنگھ کی مشکلیں بڑھانے کے لئے نیا داﺅ ںکھیلا۔
راہل گاندھی کے منھ لگے لیڈران میں سے ایک دگی راجہ اکثر ہی پارٹی کے لئے مصیبت کھڑی کرتے رہتے ہیں، مگر ان کا آج تک کوئی کچھ بھی بگاڑ نہیں سکا۔ کئی بار تو نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ کانگریس ان کے بیانات سے اپنے آپ کو الگ ہی کر لیتی ہے، لیکن ہم نہیں سدھریں گے کی طرز پر دگ وجے بڑے بڑے بول بولتے ہی جاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں وہ اکثر اپنی بات ہائی کمان پر بھی لاد دیتے ہیں۔ اب ارجن سنگھ تو سیاست میں قریب قریب نہ کے برابر رہ گئے ہیں، پر دگی راجہ نے ان کی جگہ لینے کی جیسے قسم کھا لی ہے ۔آخر دونوں ایک ہی ریاست اور ایک ہی برادری کے جو ہیں۔
سماجوادی پارٹی کی جانب مسلمانوں کا جھکاﺅ کم کرنے کے مقصد سے دگی راجہ اعظم گڑھ کے سنجر پور گاﺅں کے بعد گورکھپور پہنچے تو ان کے ساتھ ریاستی کانگریس صدر ڈاکٹر ریتا بہوگنا، مرکزی ریاستی وزیر شری پرکاش جیسوال، کانگریس پرلیمانی بورڈ کے لیڈر پرمود تیواری وغیرہ بھی موجود تھے۔گورکھپور میں ان کی تقریر کا رخ مسلمانوں کی غربت اور ناخواندگی پر مرکوز رہا۔ انھوں نے ایک طرف تو سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی کم نمائندگی کا معاملہ اٹھایا تودوسری جانب ریاست کی بی ایس پی حکومت کو نشانہ پر لیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ آئینی نظام ایسا ہے کہ ہم ( مرکزی حکومت) براہ راست کچھ نہیں کر سکتے۔ مرکز کی اسکیموں کو ریاستی حکومتیں ٹھیک سے عملی شکل نہیں دے رہی ہیں جس سے مسلم سماج کو صیح فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ وہ یہ بھی کہنے سے نہیں چوکے کہ 2012میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں مسلمان کانگریس کے ساتھ جائیں۔ ان کے ساتھ آئے مرکزی صوبائی وزیر شری پرکاش جیسوال نے حکومت کا حق مسلمانوں کے سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ حکومت سچر کمیٹی کی سفارشوں کونافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انھوں نے ہوشیار کیا کہ گورکھپور فرقہ وارانہ طاقتوں کے نشانہ پر ہے۔ کانگریس کے پرمود تیواری نے تو مسلمانوں سے معافی طلب کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا پارٹی سے غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن مسلم سماج کے لئے کانگریس سبھی پارٹیوں میں بہتر ہے۔اگر مرکز کے 15نکاتی پروگرام نافذ ہو جائیں تواقلیتوں کی حالت بدل جائے گی۔ ایک طرف کانگریسی مسلمانوں کو لبھانے میں لگے تھے تو دوسری جانب مسلمانوں کی رہنمائی کا دم بھرنے والے کانگریس کے قومی سکریٹری اور ممبر پارلیمنٹ پرویز ہاشی نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسلمان چاہتے ہیں کہ مرکزی مدرسہ بورڈ بنے۔ مگر یہ بتاتے ہوئے ہاشمی یہ بھول گئے کہ دہلی میں بیٹھ کر مسلمانوں کی سیاست کرنے والے دیگر مسلم لیڈران نے مدرسہ بورڈ بنانے کی زوردار مخالفت بھی درج کرائی ہے۔ انھوں نے آر ایس ایس اور بجرنگ دل پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی یہ لوگ پھیلاتے ہیںاور الزام ہمارے اوپر لگاتے ہیں۔
ان کے دورہ کے بعد سماجوادی پارٹی کے مسلم ممبران اسمبلی نے لکھنو¿ میں ایک میٹنگ کے بعد دگ وجے سنگھ پر نشانہ باندھتے ہوئے کہا کہ دہلی سے سنجر پور کی دوری طے کرنے میں عام آدمی کودو دن کا اور وی وی آئی پی کو دو گھنٹے کا وقت لگتا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ دگ وجے سنگھ کو دو سال لگ گئے۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ بٹلہ ہاﺅس سانحہ کے وقت مرکز اور دہلی دونوں میںہی کانگریس کی حکومت تھی۔ دگ وجے سنگھ کے دورہ پر تنقید کرتے ہوئے اترپردیش بی جے پی کے نائب صدر اور مشیر ہرد یہ نارائن دکشت نے جاننا چاہا کہ بٹلہ انکاﺅنٹر کے ملزم سیف کے والد کے گھر جانے کے بعد کیا ان کا ارادہ قصاب کے گھر بھی جانے کاہے؟۔انھوں نے کانگریس پر ووٹ بینک اور مسلمانوں کی منھ برائی کی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے مسلمانوں کو دہشت گرد حمایتی مان کر ہی افضل گرو کو ابھی تک پھانسی پر نہیں لٹکایا ہے، جو حب الوطن مسلمانوں کے لئے گہرا صدمہ ہے۔کانگریس کی اس مہم سے عا م مسلمان غم زدہ ہیں ۔
بہر حال، کانگریس کے ذریعہ اعظم گڑھ میں دگی راجہ کے انکاﺅنٹر سے متعلق بیان سے اپنے آپ کو الگ کرنے کے بعد دگی راجہ نے گورکھ پور میں اپنا سر بدلنے میں دیر نہیں کی۔ پہلے وہ یوگی آدتیہ ناتھ پر حملہ بو ل رہے تھے لیکن گورکھ پور پہنچ کر انھوں نے زبان بد ل لی۔ اس کے برخلاف دگی راجہ ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی اور سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ کے صاحبزادہ اجے سنگھ، کانگریس ضلع صدر سنجیو کمار سنگھ، کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید جمال وغیرہ کے ساتھ گورکھناتھ مندر پہنچ گئے۔ مندر میں پوجا کرنے کے بعد دگی راجہ تمام لیڈران کے ساتھ گورکش پیٹھا دھیشور مہنت اویدھناتھ کے پا س پہنچے۔ ان کا آشیرواد لے کر ان سے بات چیت بھی کی۔کچھ دیر بعد دگی راجہ کا قافلہ امام باڑہ پہنچا۔وہاں انھوں نے بابا روشن علی شاہ کی مزار پر چادر چڑھائی۔ اتنا ہی نہیں اقلیتی اجلاس میں انھوں نے گرو گورکھناتھ پیٹھ اور روشن علی شاہ کی تعریف کے پل باندھے۔ یہ بھی کہہ دیا کہ دونوں کی تاریخ دلتوں اور پسماندہ طبقات کو جوڑنے والی ہے، مگر تب بھی ایسی روایات والی جگہ پر ہندو اور مسلمان تقسیم کیوںہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *