بچے ، زمین گھوٹالہ اور وسندھرا

آخر کار یہ ماجرا کیا ہے؟ راجستھان کی اشوک گہلوت حکومت کیا کر رہی ہے؟ ایک طرف تو وہ ”سرو شکشا ابھیان“ کے تحت چلنے والے مڈ ڈے مل پروگرام کو ریاست میں نافذ کرنے کی خاطر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے تو دوسری جانب اسکیم کے نام پر وہ ملک کے بڑے بڑے صنعتی گھرانوں کے ذریعہ رضا کارتنظیموں سے کروڑوں روپے وصول بھی کررہی ہے۔ یہ نذرانے عطیے کے نام پر بھی قبول کئے جا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ کام سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ہی ہو رہا ہے۔ لہٰذا اسے قانونی جامہ پہنانے کی غرض سے راجستھان حکومت نے ایک ٹرسٹ کی تشکیل بھی کر دی ہے۔ ایم ڈی ایم ٹرسٹ یعنی مڈ ڈے مل ٹرسٹ ۔ اب ان بڑے گھرانوں کا بھی کمال دیکھئے۔سرکاری اسکولوںکے بچوں کو کھانا مہیا کرانے کے نام پر اگر وہ دونوں ہاتھوں سے رقم لوٹ رہے ہیں اوریہ بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی ہے تو مڈ ڈے مل کے نام پر ریاستی حکومت اور رضا کارتنظیموں کی اس کارگزاری کا مقصد کیا ہے؟مڈ ڈے مل کے نام پر کیا کھچڑی پک رہی ہے؟۔ راجستھان حکومت اور نامور صنعتی گھرانوں کے درمیان؟سماجی خدمت کے نام پر جو کچھ دکھ رہا ہے، کیا وہی حقیقت ہے یا پردے کے پیچھے کا کھیل کچھ اور ہے۔ یہ جو لین دین کا کھیل ہے، وہ صرف مذہب کے تحت ہے یا اس کی آڑ میں کچھ اور گل کھل رہے ہیں۔کیونکہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض سماجی خدمت تو ہو ہی نہیں سکتا’چوتھی دنیا‘ نے جب تحقیقات کی تو جو حقیقت سامنے آئی، وہ واقعی حیرت زدہ کرنے والی ہے۔بی جے پی کی وسندھرا راجے حکومت کے وقت میں شروع ہوئی اس اسکیم کی آڑ میں بیش قیمتی سرکاری اراضی پر قبضے ہو رہے ہیں۔ یہ گھرانے رضاکار اداروں کے ذریعہ سماجی خدمت کاڈھونگ رچتے ہیں۔ مذہب اور سماج کے نام پر کچھ کروڑ روپیوں کا عطیہ کر کے سیکڑوں کروڑ کی زمین پر قبضہ کرتے ہیں اور ٹیکس ادا کرنے سے بھی بچ جاتے ہیں۔سماج سے نیک نامی کا تمغہ الگ سے مل جاتا ہے۔ ویسے، ایسا بھی نہیں ہے کہ تمام کی تمام رضا کار تنظیمیں اس کھیل میں شامل ہیں۔ ان میں سے واقعی کچھ ایسی ہیں جو سماج کے مفاد کے بارے میں سوچتی ہیں اور کام کرتی ہیں ۔ مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔
سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد راجستھان میں شروع کی گئی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ اسکیم اپنا خوب رنگ دکھا رہی ہے۔ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے نام پر راجستھان میں اکشے پاترا فاﺅنڈیشن ،ناندی فاﺅنڈیشن،ہندوستان زنک لمیٹڈ،اوآرجی فاﺅنڈیشن، شری ساونلیا جی مندر ٹرسٹ ،اسکان،ٹیمپل بورڈ سواد، جے جی ہیومین ٹیرین سوسائٹی،ادمیہ چیتنا ٹرسٹ،ڈی سی ایم شری رام گروہ، آدتیہ برلا گروپ،بوہراکمیونٹی،دگر ٹرسٹ ،مہندرا اینڈ مہندرا ،نو پریاس آکرتی اور سینٹر فار نیشنل ڈیولپمنٹ انیشیٹو ریاست بھر کے سرکاری اسکولوں کے 80لاکھ بچوں کو مڈ ڈے مل مہیا کرا رہی ہیں۔اور، اب تو اسٹیل کنگ لکشمی متل جیسے سرمایہ دار بھی اس کام میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
ان رضاکار تنظیموں کو ان اس کام کے بدلے مرکز اور ریاست سے مکملگرانٹ ملتی ہے۔ حالانکہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کا ڈھنڈھورا پیٹ کر بھی مڈ ڈے مل کے تحت بچوں کو صحیح کھانا نہیں مل پا رہا ہے۔ ناگور، جھاڈول، بیکانیر اور گنگا نگر کے ڈی ایم کے پاس درجنوں شکایات آئیں ہیں کہ جو رضاکار ادارے ہیں، ان کے ذریعہ دیئے جا رہے کھانے میں کیڑے مکوڑے ملتے ہیں،سڑی گلی سبزیاں استعمال ہوتی ہیں، جس سے آئے دن بچے بیمار ہو جاتے ہیں،کئی اسکول تو ایسے ہیں، جہاں بچوں کو کھانا تک نہیں ملتا۔ کیا فائدہ ان بڑے ٹرسٹوں اور رضاکار اداروں کا ؟ حکومت بھی کروڑوں روپے کا عطیہ دے کر دکھاوا کرتی ہے کہ اسے بچوں کا کتنا خیال ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہےکہ ان بچوں کی صحت سے کھلواڑ ہو رہا ہے۔
یہ ادارے حکومت سے عطیہ تو لیتے ہیں، مگر اس عطیہ کی رقم سے کہیں زیادہ رقم حکومت کو مڈ ڈے مل کے درست کرنے کے نام پر عطیہ کی شکل میں مل جاتی ہے۔تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر مقصد سماجی خدمت ہے تو پھر ان رضا کار اداروں کے ذریعہ عطیہ لینے کا جواز کیا ہے؟پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کی جلد پیش ہونے والی رپورٹ میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے اور اس پر بے حد سخت نکتہ چینی بھی کی گئی ہے۔پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کی رپورٹ بھی سرکاری اراضی کے گھوٹالوں پر ہی ٹکی ہے۔حالانکہ ان سب میں اشوک گہلوت حکومت کا کوئی خاص کردار نہیں ہے۔اس لین دین کی شروعات وسندھرا راجے سندھیا نے اپنے دور اقتدار میں ہی کر دی تھی۔
شروعات کرتے ہیں بنگلور اسکان کے ذریعہ چلی اکشے پاترا فاﺅنڈیشن سے۔ بنگلور میں حکومت زمینوں کی خرید فروخت میں گھوٹالہ کرنے کے معاملوں میں یہ پہلے سے ہی بدنام ہے۔اور، اب راجستھان میں بھی اس کا وہی کاروبار جاری ہے۔یہ فاﺅنڈیشن راجستھان کے جے پور، بارن اور ناتھ دوارا کے سرکاری اسکولوں میںایک لاکھ 80ہزار بچوں کے لئے کھانے کا انتظام کرتی ہے۔ اس کے لئے اکشے پاتر کو سرکاری عطیہ کے علاوہ اناج بھی ملتا ہے۔ مگر یہ معمولی سرکاری عمل ہے۔ حیرت کرنے والی بات یہ ہے کہ اکشے پاتر نے جے پور ناتھ دوارا میں چلنے والے اس سرکاری پروگرام کے لئے راجستھان حکومت کو کل سات سو کروڑ 28لاکھ روپے کی رقم عطیہ کے طور پر دی ہے۔ادارہ جب اتنی بڑی رقم خیرات میں دے سکتا ہے تو پھر سرکاری عطیہ لینے کا دکھاوا کیوں کر رہا ہے؟جو کہانی سامنے آئی ہے، اس کے مطابق ماجرا یہ ہے کہ اکشے پاتر فاﺅنڈیشن جے پور میں ایک میگا ٹاﺅن شپ کی تعمیر کرا رہی ہے، جس کے لئے اونے پونے داموں میں زمین وغیرہ مہیا کرانے کا کام راجستھان حکومت نے کیا ہے۔ حالانکہ اکشے پاتر کو زمین مہیا کرانے کا عمل بی جے پی کی وسندھرا حکومت کے وقت سے ہی شروع ہو چکا تھا۔ راجستھان میں اکشے پاتر کے قدم بھی وسندھرا راجے کی مہربانیوں کے سبب ہی پڑے۔ بی جے پی کے قدآور لیڈر اور ادمیہ چیتنا نام کی عظیم رضا کار تنظیم کے مالک اننت کمار نے وسندھرا اور اکشے پاتر کے کرتا دھرتا پنڈت مدھو داس کے درمیان رابطہ بنانے کا کام کیا تھا۔ اننت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں اور مرکزی حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ وسندھرا نے بے حد تام جھام کے ساتھ جے پور میں اس ادارہ کا افتتاح کیا اور مڈ ڈے مل کا کام سونپ دیا۔ بنگلور کی طرز پر یہاں بھی ٹاﺅن شپ بنانے کا کام شروع کر دیا۔ دراصل، اکشے پاتر کا کام ہی یہی ہے۔پہلے وہ سماجی خدمات کے نام پر پہل کرتی ہے۔ حکومت میں اپنی ساکھ اور پہنچ بناتی ہے۔ پھر بلڈنگ کنسٹرکشن کے کام میں گھس جاتی ہے۔پہلے بنگلور، پھر جے پور، اس کے بعد ورنداون اور اب متھرا، مطلب یہ کہ سماجی خدمات کی آڑ میں اکشے پاتر اپنے دوسرے دھندوں کی جڑیں پھیلا رہی ہے۔
اب ذکر کریں گے ناندی فاﺅنڈیشن کا۔ اس ادارہ کو سر پرستی حاصل ہے مشہور صنعتی گھرانے مہندرا اینڈ مہندرا کی۔ مہندرا اینڈ مہندرا کو جے پور میں سیز کے تحت آنے والی تین ہزار ایکڑ زمین حاصل ہے، جس میں وہ ورلڈ سٹی نام سے ایک ورلڈ کلاس کارپوریٹ بزنس ہاوئس بنا رہے ہیں۔ 16دسمبر 2006کو راجستھان کی اس وقت کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے نے ورلڈ سٹی کی سنگ بنیاد خود اپنے ہاتھوں سے رکھی تھی۔ ویسے کہنے کو اس میگا پروجیکٹ میں راجستھان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اینڈ انویسٹمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ بھی شریک ہے، مگر موصولہ جانکاری کے مطابق اس کا کردار حاشیہ پر رہنے جیسا ہے۔حکومت کی اس مہربانی کے عوض مہندرا اینڈ مہندرا نے راجستھان حکومت کو جے پور میں مڈ ڈے مل کے اہتمام کے لئے ایک کروڑ روپے عطیے کی شکل میں دیئے۔مہندرا اینڈ مہندرا نے ادے پور، بھیل واڑا اور گنگا نگر کے ایک لاکھ اسکولی بچوں کو مڈ ڈے مل مہیا کرانے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔3000ایکڑ سرکاری زمین کے مقابلہ یہ سودہ پھر بھی سستا ہے۔
ناندی فاﺅنڈیشن کے اس کام میں اور بھی بڑے بڑے کارپوریٹ گھرانے شریک ہیں، جیسے اکشے پاتر کو انفوسس کا ساتھ ملا ہے۔ ویسے ہی ناندی فاﺅنڈیشن کے ساتھ ریڈی لیب، ستیم وغیرہ کی حصہ داری ہے۔ہندوستان زنک لمیٹڈ بھی اس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا حصہ دار ہے۔ہندوستان زنک لمیٹڈ ناندی فاﺅنڈیشن کے ساتھ گنگا نگر چتوڑ میں15000بچوں کو دوپہر کا کھانا کھلاتا ہے۔کپاسڑ، نیم بہیڑا اور چتوڑ گڑھ میں60000بچوں کی ذمہ داری ہے۔ یعنی کہ کل ملا کر 75000بچے اور حکومت کو عطیہ میں دی گئی ایک کروڑ روپے کی رقم۔بدلے میں حکومت نے احسان مند کیا ہے 350ایکڑ زمین دے کر۔ جس پر کمپنی بجلی کا چھوٹا پاور پلانٹ لگا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی منرل اور مائننگ کے کام میں بھی ہاتھ آزما رہی ہے۔ راجستھان منرل رچ اسٹیٹ میں ہے، جہاں تقریباً25قسم کے منرلس ملتے ہیں۔ہندوستان زنک لمیٹڈ کو زنک کے علاوہ گرینائٹ ، کیلسائٹ ، کلے،کاپر،فلورائڈ اور فاسفیٹ کا بھی لائسنس ریاستی حکومت سے مل چکا ہے۔
اب بات کریں اے وی برلا گروپ کی، جنھوں نے 25لاکھ روپے اس اسکیم کو چلانے کے لئے راجستھان حکومت کی جھولی میں ڈالے تھے۔اس گروپ نے چتوڑ گڑھ میں ناندی فاﺅنڈیشن کے ساتھ مل کر دس ہزار بچوں کا پیٹ بھرنے کاذمہ اٹھایا تھا۔یوں تو اس کمپنی کے ساتھ زمین کے بڑے کاروباری استعمال کا مسئلہ نہیں جڑا ہے، مگر اسے تعلیمی اداروں کو کھولنے کے لئے زمین کے بڑے ٹکڑوں کی ضرورت پڑتی ہی رہتی ہے۔لہٰذا ریاستی حکومت کی مہربانی تو بنی ہی رہنی چاہئے۔ اور، اس کی خاطر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں شامل ہونا ہی پڑے گا۔اوپر سے سیمنٹ کا کاروبار۔یعنی برلا سیمنٹ، حکومت کو نذر انہ تو پیش کرناہی پڑے گا، کیونکہ راجستھان ہی ملک کی واحد ایسی ریاست ہے ، جہاں13ملین ٹن سیمنٹ کی ہر سال پیداوار ہوتی ہے۔
مدھیہ پردیش کا پاٹنی گروپ بھی اس پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں کھل کر شریک ہے۔ آر کے ماربل نام کی اس کی معاون کمپنی ناندی فاﺅنڈیشن کے ساتھ مل کر 20ہزار بچوں کے لئے کھانا تیار کر رہی ہے۔ بدلے میں حکومت نے اس کمپنی کو ادے پور میں زمین اور سنگ مر مر کی کان سے نوازا ہے۔ یہاں ایک بات جو بے حد غور کرنے والی ہے، وہ یہ ہے کہ تمام اسکیموں اور کمپنیوں کی حصہ داری 2007میں شروع ہوئی تھی۔ جب ریاست میں بی جے پی کی حکومت تھی اور وزیر اعلیٰ کی کرسی پر مہارانی وسندھرا راجے سندھیا تشریف فرما تھیں۔آر کے ماربل نے وسندھرا راجے کی اس مہربانی کے عوض پچیس لاکھ روپے ریاستی حکومت کی جھولی میں ڈالے تھے۔ حالانکہ وعدہ تو کمپنی نے 45لاکھ ر وپے کا کیا تھا۔
بات جب سیمنٹ کی ہو رہی ہو، تو جے کے سیمنٹ کو درکنار کیسے کیا جا سکتا ہے۔جے کے سیمنٹ نے مڈ ڈے مل کے نام پر چالیس لاکھ روپے کا داﺅں کھیلا۔ یہ کمپنی چتوڑ میں اپنا پروگرام چلا رہی ہے۔ عوض میں حکومت نے اے سی سی سیمنٹ کی کانوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ یقینا اے سی سی فائدے میں ہیں۔
اور، اب بات آر ایس ایس ایل گروپ کی۔ یہ گروپ اودے پور کے سلم اور جھاڈول کے بچوں کے لئے کھانے کا انتظام کرتاہے۔ اس کے علاوہ اس نے 94لاکھ روپے راجستھان حکومت کو دیئے ہیں، تاکہ وہ اپنی اسکیمکو مستحکماور خوشحال طریقہ سے آگے بڑھا سکےں۔ انعام میں ملی زمین پر یہ ایم بی اے کالج بنوا رہا ہے، تاکہ طلبا کے داخلہ اور تعلیم کی فیس سے روپیوں کی بارش میں نہا سکے۔
بوہرا کمیونٹی۔ ویسے تو یہ ایک مذہبی ادارہ ہے، جو مذہبی کام کرتا ہے۔ ان کاموں کے لئے اس کمیونٹی کو تمام امارتوں کی ضرورت پڑتی ہے، تاکہ وہ اس مذہب پر عقیدہ رکھنے والوں کی فلاحکے کام کر سکے۔ ظاہر ہے، عمارتوں کے لئے زمین تو چاہئے ہی اور وہ بھی بڑے پیمانہ پر ۔لہٰذا ایک تیر سے دو شکار ہو رہے ہیں۔ ایک کروڑ روپے کا عطیہ دے کر یہ فرقہ تعریفیں لوٹ رہا ہے۔ تو بدلے میں ریاستی حکومت کی کھلی حمایت مل رہی ہے۔ یقینا ایک کروڑ روپے کے عطیہ کے نام پر اندراج برا نہیں ہے۔ راجستھان میں سولر پلانٹ بٹھانے والے ڈگر چیریٹیبل ٹرسٹ نے بیکانیر کو اپنا مقاممنتخب کیا اور راجستھان حکومت کو سونپی 15لاکھ روپے کی رقم۔ اب یہ ٹرسٹ راجستھان کے مختلف اضلاع میں تعلیمی اداروں کی شروعات کر رہا ہے، جس کے لئے حکومت سے اسے بھر پور تعاون بھی مل رہا ہے۔
یو آئی ٹی جودھ پور یعنی اربن امپورومنٹ ٹرسٹ۔ اس نے ریاست کی وسندھرا حکومت سے نیو ہوٹل پالیسی 2006کے تحت ریاست کی سیاحی صنعت کو بڑھاوا دینے کے لئے ہوٹلوں کو بنانے کا ٹھیکہ لیا۔ تب سے اب تک اس ٹرسٹ نے بیکا نیر ، اودے پور، اجمیر اور جودھ پور میں کئی تعمیریں کیں۔ جو زمین اس ٹرسٹ کو ملی ، وہ بے حد مختصر رقم پر اسے دی گئی ہے۔ بدلے میں25لاکھ روپے کی سوغات تو کچھ بھی نہیں ۔ مڈ ڈے مل کے نام پر اس ٹرسٹ نے وسندھرا حکومت کو پچیس لاکھ روپے کی رقم سونپی۔ ایسے اداروں اور کمپنیوں کی طویل فہرست ہے، جنھوں نے وسندھرا حکومت کو احسان مند کیا۔ بدلے میں انہیں بھی بھرپور تعاون بخشا گیا۔لیکن یہ کہانی بی جے پی کے لیڈر اور وسندھرا راجے کے عزیز دوست اننت کمار کے ادارے ادمیہ چتینا کی بات کئے بنا پوری نہیں ہوتی۔ اننت کمار کا یہ ادارہ بنگلور میں پیدا ہوا۔اس نے راجستھان میں بھی اپنا سامراج قائم کیا ۔یقینا مہارانی کا ہاتھ اننت کمار کے ادارے کے سر پر رہا۔کئی تنازعے اس سے جڑے رہے ادمیہ چیتنا کو لیکر۔ کھاتے میں گڑبڑیوں کو لے کر تفتیشی کمیٹی بھی بنی، مگر اننت کمار کی ادمیہ چیتنا کا کچھ نہیں بگڑا۔ادمیہ چیتنا نے بھی مڈ ڈے مل کے نام پر عطیہ کے طور پر 90لاکھ روپے وسندھرا حکومت کے خزانہ میں ڈال دیئے اور بغیر صاف صفائی اور بچوں کی صحت کا دھیان رکھے،مڈڈے مل کا ٹھیکہ سرکار سے حاصل کرتی رہی۔ یعنی کہ پیسوں اور پہنچ کے دم پر گڑبڑی چلتی رہی، مگر ان کی شکایات پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی تک پہنچتی رہیں اور ان کی تفتیش بھی ہوتی رہی۔ اب پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کی رپورٹ اس بجٹ سیشن میں لوک سبھا میں پیش ہونے والی ہے۔ پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کے چیئر مین جسونت سنگھ نے اپنے عہدہ سے استعفے دینے سے قبل تمام تفتیشی کمیٹیوں کی رپورٹ کی بنیاد پر فائنل رپورٹ بنا کر پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کے سپرد کر دی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس رپورٹ کے پارلیمنٹ میں پیش ہونے کے بعد کئی سنسنی خیز انکشافات ہوں گے۔کئی نامور ہستیوں پر سوال اٹھیں گے۔ اقتدار پر قابض لوگوں کے ذریعہ اقتدار کا ناجائز استعمال اور صنعت کاروں کے ساتھ ان کی قربت کی ایک بار پھر چرچا ہوگی۔ تب ممکنہ راجستھان مڈ ڈے مل کے نام پر چل رہی بیش قیمتی سرکاری زمین کی اندھا دھندتقسیم کا پردہ فاش بھی ہو پائے۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *