’اتیتھی تم کب جاﺅگے‘

کوکنا سین اور اجے دیوگن اسٹارر فلم ’اتیتھی تم کب جاﺅگے‘اشونی دھیر کے ذریعہ بنائی گئی ہے۔ٹی سیریل’ آفس آفس‘ کی ہدایت کاری کر چکے اشونی نے اس فلم کے ذریعہ بھی اپنے ہنر کا لوہا منوایا ہے۔عظیم مصنف شرد جوشی کے ذریعہ قلمبند کی گئی ایک تحریر ’تم کب جاﺅگے اتیتھی ‘ سے ترغیب لے کر اشونی نے اس فلم کی کہانی تیار کی اور اسے فلمایا۔بغیر کسی خاص چمک، دھمک اور گلیمر کے کافی وقت کے بعد گھریلو فلم باکس آفس پر اتاری گئی ہے۔ ہمارے ملک میں عام کہاوت ’اتیتھی دیوو بھوا‘ کی طرز پر ’اتیتھی تم کب جاﺅگے‘ ایک مزاحیہ فلم ہے۔یہ ممبئی میں رنے والے ایک عام کنبہ کی کہانی ہے، جس میں کوکنا سین یعنی من من ایک انٹیرئر ڈزائنر ہیں۔گھر کے مکھیا اور ان کے شوہر اجے دیوگن(پونیت)اسکرپٹ رائٹر ہیں اور ان کے اس کنبہ کو پورا کرتاہے 6سالہ بچہ آیوش۔ ان کے گھر ایک دیہاتی مہمان پریش روال(لمبو دار چاچا)آ جاتے ہیں اور گھر کے ڈسپلن کو خراب کر دیتے ہیں، حد تو تب ہوتی ہے جب وہ جانے کا نام ہی نہیں لیتے ہیں اور پونیت -من من انہیں چلے جانے کا اشارہ دیتے دیتے پریشان ہو جاتے ہیں ۔ ممبئی جیسے بڑے شہر میں جہاں ہر جانب دکھاوے کا لبادہ چڑھا رہتا ہے، چاچا جی کے سلوک کی وجہ سے انہیں کئی طرح کی دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔باوجود اس کے، پنیت چاچا جی کے ساتھ برا سلوک نہیں کرتا۔ حالانکہ ہر بیوی کی طرح من من کی ناراضگی اپنے شوہر پر ہی ظاہر ہوتی ہے،کوکنا سین نے چھ سالہ بچے کی ماں، ایک بیوی اور ایک بہو اور نوکری کرنے والی عورت کا جدید کردار بخوبی ادا کیا ہے۔اجے دیوگن پنیت کے کردار میں خوب جمے ہیں،سوائے فلم کے آخری سین میں، جہاں انہیں جذباتی کردار ادا کرنا تھا۔ایکشن، کامیڈی اور سنجیدہ کردار میں نام کمانے والے اجے جذباتی کرداری میں رنگ نہیں جما پائے۔ایسا لگتا ہے کہ جس کردار کو ہم مسلسل دو گھنٹے سے دیکھتے آ رہے ہیں وہ یکا یک بدل جاتا ہے۔ اس کہانی میں ٹوئسٹ آتا ہے،ساتھ ہی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ پوری فلم پریش راوال کے کردار لمبو دار چاچا کے ارد گرد گھومتی ہے۔ اپنی ادکاری سے اس کردار کا جادو انہوں نے خوب چلایا ہے۔ پوری فلم میں کوکنا، اجے اور پریش را ول پر فلمائے گئے مناظر ناظرین کو ہنسانے میںسو فیصد کامیاب ہوتے ہیں۔اس کا شرف صرف فنکاروں کو ہی نہیں، مصنف اشونی دھیر کو بھی جاتا ہے۔ فلم کو آواز دینے میں پریتم اور امت مشرا نے جو ریٹرو اسٹال پر استعمال کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ 60-70کے دور کی بلیک اینڈ وائٹ فلموں جیسی گلوکاری ، نغمہ کے بول اور پیشکش خاص ہے۔اور ، فلم کی کہانی کے ساتھ فٹ بھی۔ اس آواز کے ساتھ فلمائے گئے مناظر ریٹرو لک میں بھی معمولی ہو کر خاص لگتے ہیں۔اس کے علاوہ آج کل شہروں میں پوجا پاٹھ میں استعمال ہونے والے گانوںکی بھی خاصی اچھی پیشکش کی گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *