آروشی قتل کانڈکی فائل بند

ارے!
کمال کی بات کرتی ہیں آپ؟
کیا کہنا چاہتی ہیں؟
اب سی بی آئی کو ٹھوس ثبوت ملے ہی نہیں تو وہ کورٹ میں بھلا کیا پیش کرتی؟
کیا فرضی ثبوت پیدا کرتی؟
اب اس ملک کا جوڈیشری سسٹم ہی ایسا ہے کہ وہ نارکو اینا لسس ٹسٹ کی رپورٹ کو ثبوت نہیں مانتا تو بھلا سی بی آئی کیا کرسکتی ہے؟
بھڑک اٹھتے ہیں ملک کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کے اعلیٰ افسر ۔ جب ان سے ہزار مرتبہ پہلے بھی پوچھا گیا سوال بار بار دہرایا جاتا ہے©” کہ نوئیڈا کے آروشی ہیمراج کے قاتلوں کو پکڑنے میں کیوں ناکام رہی سی بی آئی؟“اگر ایسا ہے کہ نارکو ٹسٹ کرانے سے سی بی آئی کو کچھ خاص کامیابی نہیں ملتی اور کوئی فائدہ نہیں ہوتا ، تو پھر ضرورت کیا تھی کہ واردات کے اتنے دنوں بعد، تمام سوالوں اور الزامات کو جھیلنے کے بعد، سی بی آئی نے آروشی کے والدین کے نارکو ٹسٹ کرائے؟ وہ بھی تب، جبکہ ڈاکٹر راجیش تلوار اور ڈاکٹر نپر تلوار نے تو پہلے بھی کہا تھا کہ وہ نارکو ٹسٹ کے لئے تیار ہیں۔
مرکزی تفتیشی ایجنسی( سی بی آئی)کے یہ بڑے صاحب ہلکی سی مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ فرماتے ہیں کہ” دراصل یہ ٹسٹ اس کیس کو لے کر لوگوں کے دماغ میں پیدا ہوئے تمام شبہات کو ختم کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے، تاکہ التوا میں پڑے اس کیس کی فائنل رپورٹ عدالت میں پیش کی جا سکے۔ پہلے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تھی۔ تب لگا تھا کہ شاید ایسا کوئی ثبوت مل جائے جو آروشی کے قاتلوں کو سزا دلانے میں مددگار ہو سکے۔اب سی بی آئی نے بھی مان لیا ہے کہ وہ اس کیس کو اپنے انجام تک نہیں پہنچا سکتی۔
واہ، بہت خوب!
مطلب یہ کہ شدید ہنگاموں اور میڈیا کے شور شرابے کے بعد آروشی کی ماں نپر تلوار اور والد راجیش تلوار کا بنگلور میں نارکو اینا لسس ٹسٹ اس لئے نہیں کرایا گیا کہ اس سے سی بی آئی کو اس کیس کے گناہگاروں کو پکڑنے کی سمت میں کوئی سوراغ مل سکے گا، بلکہ اس لئے تاکہ اس کیس کی فائل بند کرائی جا سکے۔
سی بی آئی کی یہ سفاک اور برہنہ حقیقت یقینا آپ کے لئے بے حد حیران کن ہو گی مگر ملک کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی کی تلخ حقیقت یہی ہے۔تفتیش کے نام پر لوگوں کی آنکھ میں دھول جھونکنا ۔ سی بی آئی سے انصاف کی امید باندھنے والے مظلوموں کو بے وقوف بنانا۔ ہاں اس میں ایک بات ضرور ہے کہ اگر متاثرہ یا ملزم کوئی سیاسی شخصت ہے تو پھر بات الگ ہے۔
کیونکہ، تب ان ہی سی بی آئی افسروں کے بیچ اپنی اپنی قابلیت ثابت کرنے کی ایک دوڑ شروع جاتی ہے۔یہ باتیں ہم جذبات میں بہہ کر نہیں کہہ رہے ہیں۔ بلکہ سی بی آئی کی حرکتیں خود ہی یہ باتیں ثابت کر رہی ہیں لوگوں کے ذہنوں میں ابھی بھی تازہ ہے نوئیڈا کا دل دہلا دینے والا ،بے حد سنسنی خیز آروشی قتل سانحہ۔ اس کی تفتیش کا ذمہ بڑی امیدوں کے ساتھ سی بی آئی کے سپرد کیا گیا تھا۔ توقع تھی کہ جو کام اتر پردیش پولس نہیں کر پائی، وہ سی بی آئی ضرور کر لے گی۔ آروشی کے قاتل پکڑے جائیں اور اس پر اسرار قتل معاملے کی ان کہی کہانی کا خلاصہ ہو پائے گا۔ مگر سبھی جانتے ہیں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ تفتیش تو سی بی آئی نے کی، مگر آج تک کوئی نتیجہ اس کے ہاتھ نہیں لگ سکا۔ تب سی بی آئی نے وہی کیا، جس کا اندیشہ تھا۔ بغیر قاتل کو بے نقاب کئے سی بی آئی نے آروشی ہیمراج قتل معاملے کے اس کیس میں فائنل رپورٹ داخل کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ آروشی کی ماں نپر تلوار اوروالد راجیش تلوار کا نارکو ٹسٹ نہیں کرانے کے سبب بھی سی بی آئی پر انگلیاں اٹھ رہی تھیں۔ چونکہ آرشی کے والد راجیش تلوار اور والدہ نپر تلوار پر بھی اپنی بیٹی کے قتل کے الزامات عائد کئے جا رہے تھے۔اور سی بی آئی پر بھی یہ الزام تھا کہ وہ انہیں بچانا چاہتی ہے۔ لہٰذا ان کا یہ ٹسٹ کرا کر سی بی آئی نے اس داغ سے مبرا ہونے کا بھی ایک راستہ نکال لیا ہے۔ دونوں کے نارکو ٹسٹ کے بعد بھی سی بی آئی کو ایسا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے، جس کا سہارا لے کر اس پر اسرار قتل کی پہیلی کے سلجھ جانے کا اعتبار لوگوں کو دلا یا جاسکے۔ حالانکہ جو حالات رہے ہیں، ان میں ایک بات آئینہ کی طرح صاف رہی ہے کہ سی بی آئی نے کبھی چاہا ہی نہیں کہ وہ آروشی کے قاتلوں کو سزا دلائے۔
دراصل دیکھا جائے تو شروع سے ہی اس کیس میں سبی آئی کے اعلیٰ افسران کا رویہ پراسرر رہا ہے۔ ان کی تفتیش میں کبھی بھی اس کیس کی تہہ تک جانے کی سنجیدگی دیکھنے کو نہیں ملی۔ چھان بین کا نتیجہ تو عجیب و غریب رہا ہی، تفتیش کے طریقے کو لے کر بھی آپس میں افسران کی کھینچا تانی خوب رہی۔اس کیس کے بارے میں سب کی رائے مختلف تھی۔ قتل معاملے کی تفتیش کے لئے جن افسران کی ٹیمیں بنائی گئیں، ان کے درمیان بھی اختلاف رائے رہا۔ کچھ قیاس آرائیوں کے دم پر اپنی تفتیش کو آگے بڑھاتے رہے، تو کچھ ثبوت پانے میں ناکام رہنے کے سبب اتر پردیش کی پولس کو کوستے رہے۔ کوسنے کے اس نیک کام میں اس وقت کے سی بی آئی ڈائریکٹر وجے شنکر تیواری بھی پیچھے نہیں رہے۔ جب بھی ان سے ہم یہ سوال کرتے ہیںکہ آخر کار کب پکڑا جائے گا آروشی کا قاتل؟ تو وہ بڑی ادا سے جواب دیتے ہیں کہ اگر نوئیڈا پولس نے اس کیس کے ثبوتوں کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا ہوتا تو سی بی آئی محض 24گھنٹوں میں ہی اس گتھی کو سلجھا لیتی۔مگر قاتل کون ہے؟اس سوال کے جواب میں وہ اپنی موچھوں پر تاﺅ تو ضرور دیتے ہیں، مگر کوئی جواب قطعی نہیں۔ اس معاملہ کی تفتیش کو لے کر ایک اور افسوسناک بات یہ رہی کہ تفتیش میں لگے افسران کو ان کی عقل و سمجھ کی بنیاد پر کام کرنے کی آزادی نہیں رہی، جس نے بھی فرض ادا کرنا چاہا اور ایمانداری دکھانے کی کو شش کی ، اسے کسی نہ کسی بہانے سے ٹیم سے باہر ہونا پڑا۔
پہلے اس کیس کی تحقیقات جوائنٹ ڈائریکٹر ارون کمار کی صدارت میں ڈی آئی جی ذکی احمد کر رہے تھے۔ ذکی احمد کی چھان بین سے کچھ ایسے حقائق سامنے آئے، جو اس وقت کے سی بی آئی ڈائریکٹر وجے شنکر تیواری کو پسند نہیں آئے۔اس مدع پر خوب بحث بھی ہوئی۔ آخر ذکی احمد کو اس کیس سے الگ ہونا پڑا۔ وجہ پوچھنے پر بتایا گیا کہ گھریلو اسباب سے انہوں نے چھٹی لے لی۔مگر جب ذکی احمد سے جاننے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ بہر حال ایسے اور بھی واقع پیش آئے۔ کہتے ہیں کہ وجے شنکر کی خواہش تھی کہ ان کے ڈائریکٹر کے عہدہ پر رہتے ہوئے ہی اس ملک کے اس سب سے پراسرار کیس کو سلجھا لیا جائے، تاکہ وہ اس کا کریڈٹ لے کر ہی رٹائر ہوں۔ مگر اس کیس میں چونکہ سبھی افسران پنی اپنی ڈفلی بجانے میں لگے تھے، لہٰذا وجے شنکر تیواری کی خواہش پوری نہیں ہو سکی۔
ڈی آئی ذکی احمد کے بعد اس کیس کی کمان سونپی گئی ڈی آئی جی آلوک رنجن کو۔ ارون کمار تو خیر بنے ہی ہوئے تھے۔ نئے ڈائریکٹر اشونی کمار نے عہدہ سنبھالا اور سب کو یقین دلایا کہ جلد ہی آروشی کا قاتل سب کے سامنے ہوگا۔ مگر کچھ ہی دنوںبعد وہ بھی اپنے اس بیان سے مکرتے اور منھ چھپاتے نظر آئے۔ ابھی تک اس کیس میں موڑ تو کئی آئے، مگر نتیجہ کے طور پر کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ڈاکٹر راجیش تلوار، جو بیٹی کے قتل کے الزام میں جیل میں تھے، وہ اپنے خلاف ثبوت نہ ملنے کے سبب ضمانت پر رہا ہو چکے تھے اور ان کا کمپاﺅنڈر کرشنا اپنے دوست راج کمار اور وجے منڈل کے ساتھ سی بی آئی کی حراست میں تھا۔ ان سبھی سے سی بی آئی کی تفتیش اور سائنسی تجربات جاری تھے۔ سی بی آئی کے بے حد تجربہ کار اور تیز طرار افسر کرشنا، راج کمار اور وجے منڈل سے راز اگلوانے کی مشقت میں ہلکان ہو گئے، مگر ان تین جاہلوں نے افسران کی پوری ٹیم کو اپنے شاطرانہ پن سے نچا ڈالا۔ آخر ایک رات 6گھنٹے کی مسلسل پوچھ گچھ کے بعد اپنی سیل میں لوٹتے وقت کرشنا نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کے اعلیٰ افسران کی ناکامی پر ترس کھا کر ہنستے ہوئے کہا کہ پہلے میں نے بیٹی کو مار کر پھر اس کے باپ کو پھنسا کر اپنے بدلا لے لیا اور اب میں نے آپ لوگوں کے پسینے چھڑا دیئے۔ کر لیجئے جو کچھ کرنا ہے، مگر سی بی آئی کچھ نہیں بگاڑ سکتی میرا۔
اور ایسا ہی ہوام،ایک نوکر جو قتل کے الزام میں سی بی آئی کے افسران کی سخت گرفت میں ہے، وہ انہیں سرعام للکارتا ہے اور سی بی آئی کے اعلیٰ تربیت یافتہ افسران لاچار، بے بس بنے اس کا منھ تاکتے رہ جاتے ہیں۔ ان نوکروں کانارکواینا لسس ٹسٹ کرایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر راجیش تلوار کے دوست پرفل درانی کا کمپاﺅنڈر راج کمار یہاں بھی سی بی آئی کو مات دے جاتا ہے۔ اسے بے ہوشی کے لئے جو ٹوتھ سیرپ دیا جاتا ہے، اس پر اثر ہی نہیں کرتا۔ دوبارہ اس کا ٹسٹ کرنا پڑتا ہے۔کرشنا ٹسٹ میں یہ قبول کرتا ہے کہ اس نے راجکمار کے ساتھ مل کر آروشی کا قتل کیا تھا۔ پھر بھی سی بی آئی اسے گناہگار ثابت نہیں کر پاتی۔ نہ ہی قتل میں استعمال ہتھیار ہی برآمدکر پاتی ہے؟
آروشی اور ہیمراج کا موبائل فون بھی سی بی آئی کے ہاتھ نہیں لگ سکا۔ نہ ہی واردات کی جگہ سے پائے گئے خون کے چھینٹوں سے ہی وہ کچھ پتہ لگا سکی۔ آروشی کے بستر پر پڑے داغ، سیڑھیوں پر پڑے نشان، چھت پر دیواروں پر پڑے خون کے بڑے بڑے دھبے ، چھت پر رکھے کولر کے پانی میں گھلا خون، راجیش تلوار کے گھر میں ملی خالی شراب کی بوتل پر پڑے قاتلوں کی انگلیوں کے نشان، کرشنا کے کمرے سے ملی کھکھری ، راجکمار کا خون لگا ٹی شرٹ ، ان ساری چیزوں کے سائنسی تجربات کے نام پر سی بی آئی نے بکھیڑا تو بہت کھڑا کیا، مگر ثبوت کچھ نہیں یکجا کر سکی۔کورٹ نے ثبوتوں کے فقدان میں تینوں ملزمین کو ضمانت دے دی۔ مگر اس کیس کی تفتیش مصروف سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ارون کمار بس ایک ہی راگ الاپتے رہے کہ اس پراسرار اور پیچیدہ قتل کی گتھی سلجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ٹیم پر ٹیم بنتی رہی۔ تفتیش کا ناٹک چلتا رہا۔ سرکاری پیسوں کو سائنٹیفک ٹسٹ کے نام پر پھونکا جاتا رہا۔ انصاف کی امید میں بیٹھے لوگ سی بی آئی پر بھروسہ جتاتے رہے۔آروشی کو انصاف دلانے کے لئے احتجاج، مظاہرہ کیا جاتا رہا۔ بس ، جو نہیں ہوا، وہ یہ کہ سی بی آئی کے اعلیٰ افسران بھی اس کیس کو سلجھا نہیں سکے۔
ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب تو سی بی آئی کے بڑے بڑے افسران ہی دے سکتے ہیں۔ مگر ایک عام آدمی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ ایسی کیا مشکلات تھیں، جن کی وجہ سے یہ کیس بغیر سلجھے ہی ختم ہو گیا۔دو لاشیں ملیں، اتنے سارے ثبوت ملے۔نالیاں،پانی کی ٹنکیاں، پارک ، چھت، کوڑے دان، سبھی کچھ چھانا گیا۔ کئی کئی بار ۔وہ بھی ملزمین کے بیان کی بنیاد پر۔ پھر بھی سی بی آئی کے افسران کو منھ کی کھانی پڑی؟ جبکہ ملزمان کے طور پر اسکی گرفت میں آروشی کے والد سمیت تینوں نوکر بھی تھے۔بقول سی بی آئی:اس کے پاس نارکو ٹسٹ کی سی ڈی میں کرشنا کااقرار نامہ بھی موجود ہے۔ باوجود اس کے لئے وہ لاچار اور بے بس ہے۔
دیکھا جائے تو سی بی آئی سے کہیں بہتر اور فیصلہ کن کام نوئیڈا پولس نے کیا تھا۔ حالانکہ اس کی جلدبازی اور طریقہ کار کو لے کر تنازعے بھی ہوئے ۔ اس وجہ سے میرٹھ رینج کے ڈی آئی جی گرچرن سنگھ پر بھی نزلہ گرا۔ معاملہ نے اتنا طول پکڑا کہ وزیر اعلیٰ مایاوتی کو بھی میدان میں کودناپڑا۔ سب کو لگا کہ نوئیڈا پولس معاملہ کے ساتھ انصاف نہیں کر پائےگی، اس لئے سی بی آئی ہی اس کی تفتیش کرے، تبھی انصاف ہو پائے گا۔ مگر سی بی آئی نے تو پورے معاملہ کو ہی دفن کر دیا۔
کتنی حیرانی اور تکلیف کی بات ہے کہ ملک کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی پر تین جاہل نوکر بھاری پڑ گئے اور جنھوں نے پوری سی بی آئی کو ہلا کر رکھ دیا؟ ایسے میں بھلا کیا جواز رہ جاتا ہے سی بی آئی کے ہونے کا؟ کیا یہ سب اس بات کی جانب اشارہ نہیں کرتا کہ سی بی آئی کا بنیادی مقصد اس فائل کو بند کرنا ہی ہو گیا ہے۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *