سیاست کے اکھاڑے،ہاکی کے سہارے

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ان دنوں غیر معمولی سیاست کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں ہیں انھوں نے ”مدھیہ پردیش بناﺅ یاترا“ اور ہندوستانی ہاکی ٹیم کے ذریعہ ریاستی سطح پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور قومی سطح پر ایک نئی شبیہ بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔’ شیو راج سنگھ‘ ان دنوں عوامی جلسوں میں اسٹیج پر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی طرز پرتقاریر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ نتن گڈکری کے آنے کے بعد قومی سیاست میں نئے لیڈروں کے امکانات کو مد نظر رکھتے ہوئے شیوراج سنگھ کا یہ قدم خود کے سیاسی مستقبل کو محفو ظ کرنے کی سمت میں بے حد اہم مانا جارہا ہے۔
عام گفتگو، سادہ طرززندگی اور سادہ مزاج شخصیت۔ اسی کا مظاہرہ ’ مدھیہ پردیش بناﺅ یاترا‘ کے پہلے مرحلہ میں وزیر اعلیٰ کے ذریعہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں وہ کامیاب بھی رہے ہیں۔ اپنے سفر کے پہلے مرحلہ میں انھوں نے انوپ پور ، ڈنڈوری اور منڈلاکے قبائلی اضلاع میں طویل وقت گزارا۔ یہ مدھیہ پردیش بچاﺅ سفر کا آغاز تھا۔ دوسرے مرحلہ میں اب تک اعلانیہ پروگرام کے مطابق انہیں دھار، جھابوا اور علی راج پور انچل میں جانا ہے۔ دوسری جانب خواتین کی قومی ہاکی ٹیم کے 18ممبران کو ایک ایک لاکھ روپے اور کھلاڑیوں کو فنڈ کی شکل میں 50 لاکھ روپے کی رقم وزیراعلیٰ نے دی۔ وزیر اعلیٰ کا یہ قدم قومی سطح پر ہاکی جیسے پچھڑے ہوئے کھیل کی حوصلہ افزائی کرنے والا نظر آتا ہے، لیکن اس اسکیم کو فروغ دینے کے پس پشت مرکزی حکومت کی ہاکی سے متعلق پالیسیوں کی مخالفت اور ہاکی یونین کی سیاست پر شیوراج سنگھ کی سیاست بھی صاف نظر آرہی ہے۔ شیوراج سنگھ’ خواتین ہاکی ٹیم‘ کے ہر ممبر کو اپنی بیٹی قرار دیتے ہیں۔ وہ ’لاڈلی لکشمی اسکیم‘ کی طرح ’خواتین ہاکی ٹیم‘ کی ہر ممبر کو ہر ممکن مدد دینے کے لئے تیار ہیں۔
شیوراج کی سیاست کے ان دو نوںپہلوﺅں پر ایک اور چھاپ نظر آتی ہے۔وہ ہے عوامی اسٹیج پر تقریر کرنے کا ان کا انداز جو کہ بہت حد تک سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے ملتاجلتا ہے۔اٹل جی کی طرح ہاتھوں کو گھمانا ، گردن کو جھٹکا دینا،اور الفاظ پر زور دے کر، ایک لفظ اور دوسرے لفظ کے درمیان تھوڑا فل اسٹاپ رکھنا، یہ سب شو راج سنگھ کی تقریر کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔لگتا ہے کہ بی جے پی میں قومی سطح پر ہوئی تبدیلیوں سے شیوراج سنگھ خوش ہیں اور وہ اپنے مستقبل کو قومی سیاست میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ ادھر انہیں لگتا ہے کہ ہاکی، قومی سیاست میں انہیں قوم پرست لیڈر کی شکل میں ایک نیا مقام دے سکتی ہے اور شیوراج اس موقع کو کھونا نہیں چاہتے۔
’بی جے پی‘ کی قومی سیاست میں’ نتن گڈکری‘ کی شمولیت کے بعد شیوراج سنگھ نے خود کو قومی سطح پر منوانے کی اسکیم پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ انھوںنے مشورہ دیا ہے کہ کھیلوں کی سیاست سے لیڈروںکو گریز کرنا چاہئے۔ ان کے اس مشورے کو بی جے پی کی قومی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے پہلے ’ارون جیٹلی‘ اور’ نریندر مودی‘ جیسے لیڈروں کا قد چھوٹا کرنے کی ایک نئی کوشش مانا جا رہا ہے۔شیوراج سنگھ یہ بھی جانتے ہیں کہ مدھیہ پردیش میں سریش پچوری کے رہتے ہوئے کانگریس پارٹی میں گروہ بندی زندہ رہے گی۔ اس وقت مدھیہ پردیش کانگریس میں کانگریس( ایس) اور کانگریس (بی) کا دبدبا ہے۔ ان حالات میں بی جے پی عام سیاسی موقعوں پر کسی تبدیلی کے متعلق کبھی بھی سوچ سکتی ہے۔ شیوراج سنگھ نے بی جے پی میں خود کو گروہ بند ی کی سیاست سے اتنا دور رکھا ہے کہ پارٹی کا عام لیڈر عام خیالات کے اظہار کے لئے وزیر اعلیٰ کی اجازت یا تعریف کا محتاج نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ بی جے پی کے موجودہ گروہ میں سے کسی کے بھی ساتھ نہیں ہیں۔ انتظامی امور کے لحاظ سے شیوراج سنگھ اب تک کے سب سے کمزور وزیر اعلیٰ کے شکل میں جانے جائیں گے۔ دگوجے سنگھ حکومت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بدعنوانیاں بی جے پی کے اس دور میں ہوئی ہیں۔ جہاں دگوجے سنگھ نے بدعنوانیوں کے کارپوریٹ کلچر کو عروج دیا ، وہیں بی جے پی حکومت کے دوران اس کا پنچ نامہ کر دیا گیا۔ شیوراج سنگھ کے دور اقتدار میں ترقی کی نئی اسکیموں پر کام ہوا، لیکن جو کام مقامی طور سے ہونا تھا، اسے بار بار کرا کے ناجائز رقم دینے کی کوشش کی گئی۔’کانگریس مدھیہ پردیش بناﺅ یاترا‘ کی کھل کر مخالفت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر اس کے صوبائی صدر نے اپنے دور اقتدار میں اسمبلی، لوک سبھا، غیر مقامی نکاتی الیکشن اور بعد میں پنچایتی الیکشن تک پارٹی کو مسلسل شکست ہی دلوائی ہے۔ سریش پچوری اپنے دور اقتدار کے دوران کوئی بھی عوامی تحریک شروع نہ کر سکے ، جس سے کہ کانگریس کو فائدہ ہوتا۔
کانگریس صرف ایک لاچار اور کمزور اپوزیشن کی شکل میں موجود ہے۔دگوجے سنگھ نے اپنے سیاسی مفاد کو پورا کرنے کے لئے پچوری کے راستہ میں صرف روڑے اٹکانے کے کام کئے۔ کمل نا تھ کے لئے مدھیہ پردیش کی سیاست کاروباری مفاد کی پشت پناہی کا ایک ذریعہ ہے۔سندھیاگوالیئر سے آگے بڑھ پانے کی کبھی ہمت نہیں کر سکے۔ کانگریس کی انہی وجوہات کے سبب بی جے پی کو اپنی مدھیہ پردیش بناﺅ یاترا بنا کسی رکاوٹ پورا کرنے کا موقع مل گیا۔ قومی سیاست میں شیوراج سنگھ، نریندر مودی کے بعد ایک بہتر سماجی شبیہ کے ساتھ شامل ہونے جارہے ہیں۔ ریاست میں چل رہی تمام سیاسی کوششیں ایک شخص کے مفاد کے لئے راہ ہموار کرنے کا کام کر رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نتن گڈکری کی مدت ختم ہونے سے قبل شیوراج سنگھ سیاست کی کن بلندیوں کو حاصل کر پاتے ہیں؟۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *