شیلا جی ،کیسے زندہ رہیں گے غریب؟

جس ملک کے لیڈروں پر غریبوں کا اناج کھا جانے ، چینی ہضم کرجانے اور کولتار پی جانے تک کے الزامات عائد ہوتے ہوں، وہاں کی عوام میں سے ہی کچھ امیر طبقے کے لوگ اگر غریبوں کا راشن ہضم کر لیں تو زیادہ حیرت نہیں ہونی چاہئے۔مگر حیرت تو تب ہوتی ہے، جب یہ سب کچھ ملک کے دارالخلافہ یعنی دہلی میں ہو رہا ہو۔ دراصل دہلی کے عوام کو راشن کے تحت ملنے والی غذائی اشیاءمیں بد عنوانی کا معاملہ روشنی میں آیا ہے۔ بیشتراے پی ایل کارڈ وہولڈر بی پی ایل کارڈ کے کوٹہ میں اپنا اندراج کر اچکے ہیں۔ بڑی تعداد میں غریب لوگوں کے پاس راشن کارڈ ہی نہیں ہیں۔اور یہ خلاصہ ہوا ہے ایک سروے رپورٹ سے، جسے بین الاقوامی خوراک پالیسی اور ریسرچ ادارہ دہلی اور نیشنل سینٹر فار ریسرچ اینڈ ڈبیٹ ان ڈیولپمنٹ نے تیار کیا ہے۔ رپورٹ میں راجدھانی کے نہرو کیمپ، مان سروور جھگی جھوپڑی ، ہرش وہار اور کھجوری خاص جیسے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے کنبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سرکاری اعداد و شمار کے مقابلہ دہلی میں اقتصادی طور پر کمزور کنبوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ اس میں بھی تقریباً50فیصدی کنبوں کے پاس راشن کارڈ ہیں ہی نہیں۔ مہنگائی نے جینا حرام کر دیا ہے، اور اوپر سے یہ بد عنوانی اور دھاندلے بازی
جون -اکتوبر 2009کے دوران شمالی دہلی کے کچھ مخصوص علاقوں کے 80گھروں میں جا کر راشن کارڈ کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس کے بعد جو آخری اطلاع ملی، وہ حیرت زدہ کرنے والی تھی۔13کنبوں کے پاس انتودیہ کارڈ، 19کے پاس بی پی ایل اور 7کنبوں کے پاس اے پی ایل کارڈ تھے۔حیرت انگیز طور سے 41کنبوں کے پاس کسی بھی طرح کا راشن کارڈ نہیں تھا مطلب یہ کہ 51فیصدی لوگوں کے پاس راشن کارڈ ہی نہیں تھے۔ حالانکہ 2004-05کے ایک سروے کے مطابق، دہلی کی 26فیصدی آبادی ، جو غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے، اس میں 33فیصدی کے پاس بی پی ایل کارڈ، 39فیصدی کے پاس اے پی ایل کارڈ اور 28فیصدی کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں، لیکن ، اس پورے سروے کے کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غریبی کی سطح سے اوپر رہنے والے 74فیصدی میں سے 18فیصدی کنبے ایسے ہیں، جن کے پاس بی پی ایل کارڈ ہیں۔ ظاہر ہے، وہ کنبے غریبوں کا حق چھین رہے ہیں۔ علاوہ ازیں راشن کارڈسے جتنا راشن غریبوں کو ملتا ہے، وہ ایک کنبہ کی ضرورت کا محض60فیصدی ہی ہوتا ہے۔
شمالی دہلی کے کھجوری خاص علاقہ میں سروے کے دوران معلوم ہوا کہ یہاں جو لوگ 15یا 20سال سے کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں، ان کے پاس بھی راشن کارڈ نہیں ہیں۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ یہ کنبے ایسا کوئی بھی دستاویز پیش نہیں کر پائے، جس سے ثابت ہو سکے کہ مذکورہ کنبہ کے لوگ دہلی کے باشندے ہیں۔ ایسے کرائے داروں میں زیادہ تر بہار اور اتر پردیش سے آئے ہوئے لوگ ہیں۔ ہرش وہار کی تین گلیوں میں سروے کیا گیا۔ وہاں تقریباً628کنبے رہتے ہیں، جن میں سے 10فیصدی کرائے دار ہیں۔ پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا کہ ان میں سے 25فیصدی کنبوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں۔ سروے ٹیم نے جب وہاں کے 20ایسے کنبوں سے رابطہ کیا جو غریبی کی سطح کے نیچے تھے، تو معلوم ہوا کہ ان میں سے 14کنبوں کے پاس راشن کارڈ تھے ہی نہیں ۔ یہ بھی معلوم ہواکہ اگر کوئی کارڈ ہولڈر دو دنوں کے اندر اپنا راشن نہیں لیتا ہے تو دکاندار سارا اناج بلیک میں فروخت کر دیتا ہے اور رجسٹر پر اندراج کر دیتاہے۔ ناپ تول میں بے ایمانی تو عام شکایت تھی۔لیکن، وزیر اعلیٰ شیلا دکشت اس مسئلہ پر توجہ دینے یابہترکرنے کے بجائے عوام کو اس طرز تقسیم سے بچانے کے منصوبے بنا رہی ہیں۔شیلا دکشت عوامی طرز تقسیم(پی ڈی ایس) میں بدعنوانی کی بات تو تسلیم کرتی ہیں، پھر بھی وہ موجودہ نظام کو سدھارنے کے بجائے کمیشن سے اسے ختم کرنے کی اجازت مانگ رہی ہیں۔ اب وہ غریبوں کو راشن کے بدلے ہر ماہ 1100روپے دینے کے فیصلہ پر غور کر رہی ہیں۔ جن میں سے 1100روپے خوراک سبسڈی اور 100روپے کیروسن سبسڈی کے طور پر دینے کی اسکیم ہے۔ لیکن،انہیں یہ سوچنا ہوگا کہ خامیوں پر توجہ دینے کے بجائے کسی نظام کو ختم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔نیا نظام اپنے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں لائے گا، اس کی کیا گارنٹی ہےَ دوسری جانب، وزیر اعظم کہتے ہیں کہ عوامی طرز تقسیم کے لئے ملک میں کافی خوردنی اناج ہے اور حکومت پی ڈی ایس کو مضبوط کرے گی۔ وہ یہ بھی یقینی کرے گی کہ غریبی کی سطح سے نیچے رہنے والا کوئی بھی کنبہ بھوکہ نہ رہنے پائے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں پانچ کروڑ ٹن خوردنی اناج کا ذخیرہ ہے۔باوجود اس کے نہ صرف دہلی، بلکہ ملک کے کئی دیگر حصوں میں عوامی طرز تقسیم کی حالت انتہائی خستہ ہے۔کئی جگہ لوگوں کو راشن نہیں ملتا ،اور ملتا بھی ہے تو پورا نہیں ملتا۔لیکن دہلی حکومت کے وزیر خوراک ہارون یوسف نے ’چوتھی دنیا ‘سے ہوئی گفتگو میں جو کچھ کہا، اس کے مطابق وزیر اعظم کے دعوے بے معنی نظر آتے ہیں۔جب ہارون یوسف سے دہلی کے ایسے غریب کنبوں کے بارے میںاستفسار کیا گیا جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں تویوسف اس کے لئے مرکزی حکوت کی پالیسی کو ذمہ داربتاتے ہیں۔ یوسف کہتے ہیں کہ مرکزی حکومت نے دہلی کے لئے چار لاکھ نو ہزار راشن کارڈ کا ہی کوٹہ بنایا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دہلی میں غریب خاندانوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔پھر بھی ہم کچھ نہیں کر سکتے جب تک کہ اس کوٹہ کو مرکزی حکومت نہیں بڑھاتی۔
نامور ماہر اقتصادیات ا مرتیہ سین نے بھی کہا ہے کہ ہندوستان کے لوگ بھوک کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لئے مرتے ہیں کیونکہ ہندوستانی نوکر شاہی نظام میں انسان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ساتھ ہی لیڈران کے پاس وہ خواہش بھی نہیں ہے،جس سے عوامی طرز تقسیم کو مضبوط بنایا جا سکے۔

Share Article

One thought on “شیلا جی ،کیسے زندہ رہیں گے غریب؟

  • March 26, 2010 at 3:48 pm
    Permalink

    کھجوری خاص شمالی دیللی مے نہیں …. مشرقی دیللی مے آتی ہے موحترم …..

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *