راہل، ادھو اور راج

اب تنازع راہل گاندھی اور ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے درمیان پہنچ گیا ہے۔ دونوں کی سر پرستی کرتے ہوئے بال ٹھاکرے دکھائی دے رہے ہیں۔ راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے کے لئے پورا ہندوستان ممبئی یا مہاراشٹر ہے اور انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ ملک کے باقی حصوں کے لوگ کیا سوچ رہے ہیں۔ ہندوستانی سیاست میں آنے کی خواہش رکھنے والے راج اور ادھو ٹھاکرے ہندوستانی تہذیب، ہندوستانی رہن سہن، ہندوستانی رواداری، ہندوستانی پیار، ہندوستانی بقائے باہم کو نہ جاننا چاہتے ہیں اور نہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے ساتھ رہنا اور ساتھ کام کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
غیر مہذب زبان سیکھنے کے لئے کسی اسکول میں جانے کی ضرورت اب نہیں پڑنے والی، مہاراشٹر کے دو لیڈروں کے آئے دن آنے والے بیانات اس تعلیم کے لئے کافی ہیں۔ مراٹھی ادیب پلادیش پانڈے اور جے تیندولکر کی روح اپنے اس سپوتوں کی زبان سن کر کراہ رہی ہوگی۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا مہاراشٹر کے لوگوں کی پہچان کی علامت راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے بن رہے ہیں۔ جواب ہے نہیں، بالکل نہیں۔ مہاراشٹر کے لوگوں نے ابھی کچھ ماہ پہلے ہی ثابت کیاہے کہ وہ ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے ساتھ نہیں ہیں۔ انھوں نے انتخاب میں کانگریس اور این سی پی کی سرکار بنوائی ہے اور بال ٹھاکرے کے سپنے کو دھول میں ملا دیا ہے۔ آپ اگلے چارسال تک بال ٹھاکرے کو داڑھی میں ہی دیکھیں گے، کیوںکہ لوگ نہیں چاہتے کہ وہ کلین شیو دکھائی دیں۔بال ھاکرے نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی داڑھی تبھی بنوائیں گے،جب شیو سینا کی حکومت مہارشٹر میں بنے گی۔ برسوں ہو گئے۔ پہلے انھوں نے فرینچ داڑھی رکھی، اب پوری رکھنی پڑ رہی ہے۔ عوام سے ملی ہار سے کوئی سبق شیو سینا نے نہیں سیکھا، نہ ہی سیکھنا چاہتی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے سبق سیکھا ہے، ایسا دکھائی دے رہا ہے۔ بی جے پی کولگاکہ اگر اس نے الگ سے الیکشن لڑا ہوتا تو مہاراشٹر میں اچھے نتائج سامنے آ سکتے تھے، اسلئے پہلا موقع ملتے ہی اس نے شیو سینا سے اپنے کو الگ دکھانا شروع کر دیا۔ مہاراشٹر میں شمالی ہندوستانیوں کی حفاظت کے لئے سنگھ کے چیف نے سوئم سیوکوں کو احکامات دیئے ہیں۔ شمالی ہندوستانیوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں۔ شیو سینا نے سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو دھمکایاہے۔سنگھ سے اس نے کہا کہ وہ جنوب میں ہندی کی تشہیر کرے اور بی جے پی سے کہا ہے کہ سبھی کام قانون سے نہیں ہوتے۔ یہ بیان شیو سیناکے ایک ممبر پارلیمنٹ نے دیا ہے، جو اتفاق سے ”سامنا“کا ایڈیٹر بھی ہے۔بی جے پی نے مہاراشٹر کی قیمت پر ملک کو کھونے کا خدشہ ختم کر دیاہے۔
راہل گاندھی 5فروری کو ممبئی گئے۔ ان کی مخالفت کے لئے راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے نے الگ الگ منصوبے بنائے تھے۔ راہل گاندھی کو دہلی میں مشورہ دیا گیا کہ وہ ممبئی نہ جائیں، مگر راہل گاندھی نہیں مانے۔ انھوں نے ایک دن پہلے ہی یوتھ کانگریس کا صدر مہاشٹر کے نوجوان کو بنا دیا راہل گاندھی کی مخالفت میں نہ کہیں لوگ تھے اور نہ بھیڑ۔ بس ایک علامتی مخالفت تھی مہاراشٹر کے عوام نے تو ساتھ ہی نہیں دیا۔
یقینا شیو سینکوں اور نونرمان سینکوں نے بھی نہیں دیا۔تنہا ٹیکسی ڈرائیوروں کو زد و کوب کرنا ان کی ٹیکسیاں توڑنا، ٹھیلے والوں کو لوٹنا ایک بات ہے، مگر سڑکوں پر کھڑے مراٹھی لوگوں سے ٹکر لینا دوسری بات ہے۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ دونوں سیناﺅں اور ان کے لیڈر اس سے بھی کوئی سبق نہیں لینے والے۔ ابھی مہاراشٹر میں اور خاص طور پر ممبئی، ناسک اور پونے میں بدنظمی پھیلنے والی ہے، اس کا سامنا کرنے کی ہمت مہاراشٹر سرکار کو دکھانی چاہئے۔ راہل کی ممبئی آمد کو مراٹھیوں نے خوش آمدید کہا۔خاص طور پر بھیڑ والی لوکل ٹرین میں سفر کرنے کی ہمت نے مراٹھی مانس کا دل جیت لیا۔ کئی مراٹھی لڑکے لڑکیوں نے انہیں سپر اسٹار تک کہا۔راہل کایہ قدم دونوں ٹھاکرے بندھوﺅں کے جواب میں سراہنے لائق ہے۔ اگر ٹی وی فوٹیج آپ نے دیکھی ہوں تو باڈی لینگویج دھیان دینے لائق ہے۔ راج اور ادھو کے تنے چہرے لال اور پیلی ہوتی آنکھیں، کڑا جسم، کل ملا کر شکست کے خوف سے ڈرا سہما جسم۔ وہیں راہل گاندھی کو پر سکون، مسکراتا چہرہ، نارمل جسم ظاہر کر رہا تھا، مانو نہ کوئی ڈر ہے اور نہ ہی تناﺅ۔
اب کیا کریں دونوں نوجوان ٹھاکرے اور بزرگ بال ٹھاکرے؟ کیا وہ بی جے پی کے سارے مہاراشٹرین لیڈروں کو، سنگھ چیف موہن بھاگوت کو مراٹھا غدار بتائیں گے یا مہاراشٹر کے لوگوں کو مراٹھا مفادات کو نہ سمجھنے والا بتائیں گے۔ انتخاب کے بعد ہونے والی شکست نے بزرگ ٹھاکرے کو عوام کو گالی دیتے سنا گیا۔ اب آگے؟ ضرورت ہے ایک اور ٹھاکرے برادرس ہندوستان کی ضرورت ، اس کے ایشوز اور یہاں رہنے والے لوگوں کے مسائل کو شدت سے سمجھیں اور ایسے شیو نہ اٹھائیں جوس کا روزی روٹی سے کوئی رشتہ نہ ہو، جنھوں نے جذباتی سیاست کی ، انہیں فراموش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کے مسائل سمجھنے اور اسے حل کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ مسائل میں اضافہ کرنے کی۔ تاریخ ملک کی اور ملک کے عوام کی ہوتی ہے، اس تاریخ میں ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کیسے شامل ہوں گے، اس کا فیصلہ تو انہیں ہی کرنا ہے،لیکن مہاراشٹر کے لوگ تاریخ میں شان سے یاد کئے جائیں گے۔ انھوں نے ہمیشہ وقت آنے پر ملک کا ساتھ دیا ہے، ملک توڑنے اور غنڈہ گردی کرنے والوں کا نہیں۔ ہمیں جے مہاراشٹر کے عوام کہنا چاہئے اور عوام کا خیرمقدم کرنا چاہئے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *