ہند آسٹریلیائی تعلقات ۔نازک موڑ پر-قسط-2

دنیا کے سبھی ممالک اور ہر معاشرہ میں نسل پرستی اور تعصب عام بات ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر اسے ختم نہیں کیا جا سکتا تو کم کیسے کیا جا سکتا ہے؟یا پھر روکا کیسے جا سکتا ہے؟جہاں تک سوال آسٹریلیا کا ہے اس کا حل تین صورتوں میں ممکن ہے کہ فوری طور پرکیا کیا جائے ، کیسے اس مس¿لہ کا حل زیادہ وقت کے لئے نکالا جائے اور پھر ہمیشہ کےلئے اس کا سد باب کیسے ہو ، فوری طور پر تو یہ کیا جاسکتا ہے کہ حکمت عملی کے تحت طلبا کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ان جگہوں پر سخت نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی، جہاں اس طرح کی وارداتیں زیادہ ہو رہی ہیں۔ ساتھ ہی طلبا میں اعتماد بحال کرنے کے لئے عام مقامات کی نگرانی بھی ہو نی چاہئے اور طلبا سے جڑنے کی بھی کوشش ہونی چاہئے۔عام طور پر فوراً حل کے لئے قانونی عمل کو درست کرنے کی بھی ضرورت ہے۔تھوڑے زیادہ وقت کے حل کے لئے یہ ضروری ہے کہ آسٹریلیا-ہند کے تعاون سے بین الاقوامی تعلیم کے بہتر راستے تلاش کرے ۔ ساتھ ہی اسٹوڈنٹ مائیگریشن صنعت کو بھی قابومیں کرے۔حال ہی میں اس طرح کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جس میں 15بلین ڈالر کے فرضی امیگریشین اور اس صنعت سے متعلق بد عنوانی کی طرف افسران کی بھی توجہ گئی ہے، لیکن اسٹوڈنٹ امیگریشن کاسسٹم زبردست ہونے کے سبب اس میں تبدیلی کرنے اور من پسند نتیجہ حاصل ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ اسی ماہ میں اعلی سطح پر دو طرفہ بات چیت سے یہ صاف ظاہر ہوتاہے کہ اس مقصد کے لئے اتحاد دکھایا جا رہا ہے۔آسٹریلیامیں تعلیم کو محفوظ اور آرام دہ بنانے میں کم سے کم تین سے پانچ سال لگ جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دھوکہ باز ایجنٹ اور داخلہ ایجنسیاں اسٹوڈنٹ مائیگریشن کے عمل میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکے ہیں۔ اگر ہمیشہ کے لئے اس کا خاتمہ کرنا ہے تو حکومت کو اعلی سطح پر اقدامات کرنے ہونگے کیونکہ یہ حکمت عملی آسٹریلیا کے پورے تعلیمی نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ساتھ ہی والدین کو بھی اس ضمن میں آگے آنا پڑیگا کیونکہ وہی ا پنے بچوں کو سماجی فرائض سے روشناس کراسکتے ہیں۔اس کے تحت والدین کا اپنے بچوںکو بہتر تعلیم دینا اور انہیں اصول و ضوابط سکھانا ضروری ہو جاتا ہے ۔
آسٹریلیا ایک ایسا ملک رہا ہے، جہاں جرائم، مذہبی منافرت اور نسل پرستی کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کئی اجلاس ہو چکے ہیں۔ آسٹریلیائی قوانین کے تحت اسکولوں کو کسی بھی بنیاد پر نسل پرستی اور تعصب کو روکنے کے لئے خصوصی ذمہ داری دی گئی ہے۔ کسی دوسرے جمہوری ملک کی طرح آسٹریلیائی قانون بھی رنگ،نسل، قوم، یامذہب کی بنیاد پر تعصب روکنے پر یقین رکھتا ہے۔ ہمیشہ کے لئے اگر اس مس¿لہ کا حل تلاش کرنا ہے تو اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ اسکول ایک بار پھر اپنی ذمہ داریوں کی اہمیت کو سمجھیں۔ ان کی یہ ذمہ داری بچوں کو صرف تعلیم یاٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍفتہ بنانے تک محدود نہیں ہے،بلکہ انہیں ثقافتی اور تہذیبی طور پر بھی با شعور بنانا اسکولوں کا ہی کام ہے ۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں خاندان معاشرہ کی چھوٹی اکائی ہے۔ اگر والدین اور بزرگ گھر پر نصیحت اور تہذیب بچوں کو نہیں سکھا پاتے ہیں، تو ایسے میں اسکولوں کی محنت ضائع ہو جائے گی۔ والدین اپنے بچوںکے پہلے استاد اور آئیڈیل ہوتے ہیں اور انہیں اس کی مثال پیش کرنی چاہئے۔ ضروریات زندگی اور جدید سہولیات مہیا کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں بچوں کو اخلاقیات کا بھی درس دینا چاہئے
ہندوستانی رد عمل پر آسٹریلیائی میڈیا میں پہلے ہی بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا کوئی ردعمل ہندوستانیوں کی جانب سے دیکھنے کو نہیں ملا۔ ہندوستانی میڈیا کے ردعمل کو پورے ہندوستان کا رد عمل مانا گیا، جو کہ صحیح نہیں ہے۔ ہندوستان نے اس ضمن میں جو بھی ردعمل دکھایا ہے، وہ کافی متوازن تھا۔ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے ردعمل ظاہر کیا کہ ان حملوں سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر اثر پڑے گا۔ لیکن ان کا یہ بیان عام آدمی کے خیالات کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ اس طرح کے ردعمل اور بیانات اپوزیشن کی تنقیدکے بعد دیئے گئے ہیں۔آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سمون کرین نے یہ بیان دیا کہ ہندوستان کو اس کے لئے اتنی بے چینی نہیں دکھانی چاہئے ۔ ایسے حساس حالات میں شاید یہ صحیح ردعمل نہیں تھا۔گزشتہ 15سالوں میں میڈیا میں ہوئے بے پناہ انقلاب نے لوگوں کو ہر گھڑی بیدار کرکے حکومت کے کام کو اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔مختصراً کہیں تو آسٹریلیا کی کوئی بھی خبر چند منٹوں میںہندوستان میں بہت تیزی سے پھیل جاتی ہے ۔ہندوستانی میڈیا میں ایک طبقہ خبروں کو سنسنی خیز طریقہ سے پیش کرنے میں شامل رہا ہے۔لوگوں کو مطلع کرنے اور مسائل کو سنسنی خیز بناکر پیش کرنے میں بے حد فرق ہے اور اس لئے میڈیا سے اگر سمجھداری سے پیش آنے کی توقع کی جاتی ہے تو اس میں کیا غلط ہے۔موجودہ حکومت نے میڈیا سے کہا کہ وہ مسائل کو اور سنسنی خیز نہ بنائے اور ایسی رپورٹنگ سے پرہیز کرے۔اس بات کا آسٹریلیا میں خیر مقدم کیا گیا۔
تعلیمی اور عوامی دونوں حلقوں میں اس پر زوردار بحث ہوئی ہے کہ کسی ایک حادثہ کے بارے میں عوام کو لمحہ لمحہ کی خبر دی جائے یا نہیں؟ اس پر لوگوں کی رائے مختلفہے، لیکن اس مسئلہ پر عام طور پر اتفاق ہے کہ حساس معاملات میں میڈیا کا اگر کردار مثبت ہے اور وہ سمجھ داری سے خبر دے رہا ہے تو نقصان کم ہوگا۔ ہندوستانی میڈیا کے ایک خاص طبقہ کو اس طرف توجہ دینا ہوگی۔
علاوہ ازیں صبر و استقلال بنائے رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔خاص کر ہندوستان کی جانب سے۔ ہندوستان گزشتہ چھ دہائیوں سے مذہب پرستی، فرقہ واریت اور نسل پرستی کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ اس طرح کے مسائل بے حد اندر تک اپنی جڑیں مضبوط کرچکے ہیں اور ان کا کوئی مثبت حل نہیں نظر نہیں آتا ۔اگر آسٹریلیا یہ قبول بھی کرتا ہے کہ کچھ حملے نسل پرستی کی بناءپر تھے تو بھی اسے روکنے اور نمٹنے کے لئے کچھ وقت او صبر و استقلال کی ضرورت ہوگی۔آسٹریلیا یہ بھی جانتا ہے کہ اگر ہندوستانی طلبا پر مسلسل حملے ہوتے رہے تو یہ باتیں سرخیوں میں بنی رہیں گی اور ہندوستانی عوام کے غصہ کو بھڑکانے میں ایندھن کا کام کریںگی۔ حملے کے بعد فوراً کی گئی کارروائی سے ہندوستان میں امن کا ماحول بنانے میں مدد دملے گی۔
مگر’ کینبرا‘ اور’ ملبورن‘ نے اس عمل میں اپنا تعاون دینے کا موقع گنوا دیا ہے۔شاید یہ سوچ کر کہ اگر ان حملوں میں نسل پرستی کی بات قبول کرینگے تو پوری ریاست یا ملک پر داغ لگ جائے گا۔صرف ہندوستان کے معاملہ میں دیکھیں تو کچھ علاقوں میں فرقہ واریت ،طبقہ یا علاقہ پرستی کو قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پورا ملک یا پوری آبادی فرقہ واریت یا تعصب کا شکار ہے۔ اگراس نہج پر سوچینگے تو اس طرح کے معاملات کا حل نکالنا آسان ہوگا ۔ یہ سوچ کر اس مس¿لہ سے آنکھیںچراناکہ آہستہ آہستہ یہ مسئلہ خود بہ خود کم ہو جائے گا ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍمنفی اثر ڈالے گا ۔ ایشیائی ممالک کے عو ام نے آسٹر یلیا کو اپنی آماجگاہ بنانے کے لئے اس لئے نہیں منتخب کیا کہ وہ نسل پرست ہے بلکہ صرف اس لئے کہ وہاںتعلیم و ترقی کے بہتر مواقع ہیں ،اور اس اعتماد کو قائم رکھنا بے حد ضروری ہے۔
اس طرح کچھ حملوںکے نسل پرست ہونے کی بات قبول کرنے کو ایماندارانہ اور مدلل پالیسی کے طور پر دیکھا جائے۔ حال ہی میں آسٹریلیائی ڈپٹی کمشنر پیٹر ورگیز نے یہ تسلیم کیا کہ آسٹریلیا اپنے شہریوں کو حفاظت کی سو فیصدی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ یہ کسی دوسرے ملک کے بھی بس کی بات نہیں ہے۔وکٹوریہ کے چیف پولس کمشنر سمون اوور لینڈ کا یہ کہنا ہے کہ ہندوستانی طلبا کو لوٹ مار کے ارادہ سے نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ صحیح نہیں ہے۔ اس بات کا جس طرح سے اعتراف کیا گیا اس سے ہندوستانی عوام میں مثبت پیغام گیاہے اس طرح کی جرا¿تمندی اور ایماندار انہ پہل سے نہ صرف تنقیدیں بند ہوں گی، بلکہ دو نوں طر ف تعلقات کی بحالی میں مدد ملے گی اور آپس میں رشتے بہتر ہونگے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *