نکسل واد کے خاتمے کے لئے عدم تشدد ہی واحد ہتھیار

آج جو بھی ہو رہا ہے، اس سے مجھے گھبراہٹ ہوتی ہے۔ عدم تشدد کا راستہ اپنانے سے قبل ہی لوگ یہ ذہن بنا لیتے ہیں کہ عدم تشدد سے کچھ ہونے والا نہیں ہے، اس لئے پرتشدد تحریک کا آغاز کرو۔ شاید یہ بھی تجربہ سے ہی لوگوں نے سیکھا ہے کہ صرف تشدد کے سامنے ہی حکومتیں جھکتی ہیں۔نکسلی مسائل پر کافی کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک کے لوگ اس مس¿لہ کو لے کر دو حصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ ایکفرقہ کی رائے ہے کہ ملک میں غریبوںکوکافی پریشانیاں درپیش ہیں۔اس لئے اگر عام آدمی نے بندوق اٹھا لی ہے تو ٹھیک ہی کیا ہے۔ دوسرے فرقہ کی رائے میں مسائل کتنے بھی سنگین ہوں، بندوق اٹھانے کا حق عا م آدمی کو نہیں ہے اور صرف حکومت ہی بندوق اٹھا سکتی ہے۔ میں بار بار اس کوشش میں لگا ہوا ہوں کہ اس کھیل میں جو تیسرافرقہ شامل ہے ، اس کی جانب سب کی توجہ مرکوز کر سکوں۔ میرے خیال میںاس کا واحد حل یہ ہے عدم تشدد کا طریقہ¿ کار اپنایا جائے امن و امان کے ساتھ تحریک شروع کریں اور اس پربات کرنے کے لئے حکومت تیار ہو لیکن افسوس اسی بات کا ہے کہ حکومتیں مسلسل اپنے رویہ سے یہ ثابت کر رہی ہیں کہ ان کے پاس پر تشددراستہ اپنانے والوں سے بات کرنے کے لئے وقت نہیں ہے۔حکومت اس معاملے میں جو احتجاجی پہلو ہے اس کو نہیں سمجھ پارہی ہے اس میں جو مخالفت ہے، اسے سمجھنے کی یقینی طور پر ضرورت ہے۔ ایک جانب توا حتجاج کے لئے عدم تشدد کا استعما ل کئے بغیر ہی ہم نے عدم تشدد کو رد کردیا ہے۔ جبکہ ہمیں یہ بات ضرور ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ عدم تشدد ہی وہ واحد ہتھیار ہے جس کے سامنے حکومتیںہمیشہ جھکتی ہیں۔ مگر ایسی بھی مثالیں ہیں جب ہم نے یہ محسوس کیا کہ حکومتیں صرف تشدد کے سامنے ہی جھکتی ہیں اس کی تازہ مثال کچھ دن قبل کا واقعہ ہے جب ہم سب نے دیکھا کہ کسانوں نے ڈنڈے کے زور پر پر حکومت سے گنے کی قیمتوں میںکس طرح اضافہ کرایا تھا۔
اس لئے، میں نہ نکسلیوں کے حق میں ہوں اور نہ حکومت کے حق میں۔ مجھے لگتا ہے کہ دونوں مل کر اس ملک اور عام آدمی کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اسی بندوق سے غریب لوگ مارے جا رہے ہیں۔ قبائلیوں کے ساتھ ساتھ جونکسلی اور پولس کے ملازمین مارے جا رہے ہیں، وہ بھی کو ئی بہت امیر گھرانے کے نہیں ہیں۔ غریب لوگوں کو اس کھیل میںشامل کر بڑے بڑے لوگ عیش کر رہے ہیں اور ملک کے سسٹم کو لوٹ رہے ہیں۔ اتنے سالوں میں نکسلی تحریک نے کسی بڑی فیکٹری کو اڑا دیا ہو، ایسی کوئی مثال نہیں ہے۔ کوئی بڑا صنعت کار بھی ان کے نشانہ پر نہیں ہے۔ اہلکاروں کومار کر، ریل گاڑیوں کو پٹریوں سے اتار کر ہم انقلابی ہونے کا خواب تو دیکھ سکتے ہیں، لیکن اس سے کوئی بنیادی تبدیلی ہونے والی نہیں ہے۔ اسی طرح کچھ قبائلیوں کو مار کر خود کو نکسلیوں کو اپنا استحصال کرنے اور اپنوں کو مارنے کی شاباشی تو دی جا سکتی ہے، مگر حکومتیں یہ بھول جاتی ہیں کہ غریبوں کے خون کا ہر قطرہ نئے نئے نکسلیوں کو جنم دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ چھوٹے ہتھیار فروخت کرنے والی کمپنیوں نے ہندوستان کو اپنا بازار بنا لیا ہے۔ وہ بہت تیزی سے نکسلیوں، دہشت گردوں اور حکومتوں کو ہتھیار فروخت کر رہی ہیں۔ اپنا کاروبار بڑھانے کے لئے وہ دل کھول کر سب کے تعاون کے لئے کوشاں ہیں۔سرمایہ داروں کی مخالفت میں ہتھیار اٹھانے والے نکسلی وہی ہتھیار خرید رہے ہیں، جو سرمایہ دار ممالک کی کمپنیوں کے ذریعہ تیار کئے جاتے ہیں۔ حکومتیںبھی انہیں لوگوں کا حصہ بن چکی ہیں، جو ظاہری اور پوشیدہ طور پر اس کاروبار میں سرگرم ہیں۔ یہی کمپنیاں جنگ کے لئے ہندوستان اور پاکستان کو ہتھیار فروخت کرتی ہیں۔ ایک جانب وہ تمل لیڈر پربھا کر کو ہتھیار سپلائی کرتی ہیں تو دوسری جانب سری لنکا حکومت کو بھی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہتھیاروں کا کاروبار کئی ارب روپیوں کاہے۔
مجھے اس بات پر شبہ ہے کہ اس میںلگی تمام کمپنیاں ایک طرف نکسلیوں کو بڑی رقم دیتی ہیں تو دوسری طرف لیڈروںکو بھی استعمال کر رہی ہیں تاکہ وہ غیر قانونی طریقہ سے قبائلیوں کے گھر اور گاﺅں اجاڑنے کاروبار کر تے رہیں۔ کبھی کسی ’مدھو کوڑ‘ا یا’ جناردن ریڈی‘ کی کہانی سامنے آجاتی ہے،لیکن جن کے پاس لا تعداد دولت ہے اور جو نظام وقانون کو خرید سکتے ہیں، انکی کہانیاں اب بھی چھپی ہوئی ہیں۔ اگر وقت ہو تو آپ کالاہانڈی، رائے گڑھ یا سندر گڑھ کا دورہ کر لیجئے تو آپ کومعلوم ہو جائے گا اس ملک میں کتنی کانیں غیر قانونی ڈھنگ سے چل رہی ہیں۔ سرکاری ملازمین، لیڈر، اور صنعت کار جب سبھی ملے ہو ئے ہوں تو پھر انہیں چیلنج کون کر سکتا ہے؟۔ اتنی بڑی لوٹ میں کچھ رقم لیڈروں کو، کچھ رقم نکسلیوں کو دینے سے بڑے بڑے صنعت کاروں کو کوئی نقصان نہیںپہنچتا ہے۔
ہتھیاروں کی اس دوڑ میںلیڈروں کو بھی کوئی نقصان نہیں ہے چونکہ وہ خود بھی اپنی حفاظت کے لئے مسلح لوگوں کو تعینات کر رہے ہیں۔ وی آئی پی حفاظت کے نام پر جو پروگرام حکومت نے چلا کر رکھا ہے، اس کا بھی فائدہ ہتھیار فروخت کرنے والی کمپنیوں کو ملتا ہے۔ سماج میں جتنا خوف پھیلے گا، اتنی ہی حفاظت کی بھی ضرورت ہوگی اور اسی تعداد میں ہتھیاروں کی فروخت بھی ہوگی۔ پرانی کہاوت ہے ” پانچوں انگلیاں گھی میں“ جو اب ہندوستان میں ہو رہا ہے، اس کا فائدہ غریب لوگوں کے علاوہ سب کو ہو رہاہے۔ جبکہ یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ حکومت عام آدمی کی طاقت سے ہی بنتی ہے۔
عدم تشدد اور جمہوری اصولوں پر یقین رکھنے والی تمام تنظیموں کی آج کل ایک عام زبان ہے جو حکومت کے ساتھ نہیںہے، وہ سب نکسلی حامی ہیں۔ نکسلی حامی قرار دے کر حکومت کسی کو بھی بدنام کر سکتی ہے، زد و کوب کر سکتی ہے اور جیل میں بھی ڈال سکتی ہے۔ اس عمل کا ایک ہی مطلب ہے کہ جو بھی چل رہا ہے، اس پر کوئی سوال نہ کریں۔ سوال کرنے والے لوگوں کی آواز کو بند کردیا جائے۔ عدم تشدد اور عوامی تحریکوں کو کچل دیاجائے، تاکہ تشدد بڑھے، ہتھیار فروخت کرنے والو ں کے روزگار کو فروغ ملے اور غریبوں کو مارمار کر باقی بچے ہوئے لوگ مالا مال ہو سکیں۔ اس زبردست سازش کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جولوگ اس کھیل کو سمجھتے ہیں، وہ حق و ا نصا ف کے اس کھیل میں نہ الجھ کر اس مکمل سازش کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں۔ ساتھ ہی اس کی زبردست مخالفت بھی کریں۔ عام آدمی کو دکھ و تکالیف میں الجھاکر ملک کی تمام مشینری لوٹنے اور عام آدمی کی آواز دبانے کے لئے جو حکمت عملی بنائی گئی ہے، اسے ختم کرنے کے لئے ہم سب کو متحد ہونا ہے۔ ورنہ ہماری خاموشی تاریخی غلطی ہوگی۔

Share Article

One thought on “نکسل واد کے خاتمے کے لئے عدم تشدد ہی واحد ہتھیار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *