مشن کے جی بی اور کیمبرج فائیو

یہ داستان اس شخص کی ہے، جس کی پیدائش تو ہندوستان میں ہوئی، لیکن تھا وہ ایک برطانوی فوجی افسر کا بیٹا ، یعنی برطانوی شہری، پر پوری زندگی اس نے ایک ایسی خفیہ ایجنسی کے لئے کام کیا، جو خوف اور قہر کا دوسرا نام ہے۔ کے جی بی کے لئے سال 1949۔ اس سال اسے واشنگٹن میں برطانوی ایمبیسی کا سکریٹری بنا کر بھیجا گیا۔ وہاں اس نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور برٹش ایجنسی کے درمیان اہم کڑی کا کام کیا۔کچھ دنوںتک کام کرنے کے بعد اس نے دونوں کے درمیان اپنی خاصی جگہ بنا لی۔ یہاں تک کہ وہ اب کہیں بھی آ جا سکتا تھا۔ امریکہ کے حساس اڈوں تک اس کی پہنچ ہوچکی تھی۔ اسی دوران برطانوی حکومت کو ایک بے حد ہی چونکادینے والی خبر ملی۔ وہ خبر تھی برطانوی ایمبیسی کے ذریعہ سوویت یونین کو کچھ بے حد خفیہ معلومات بہم پہنچانے کی۔ دراصل برطانوی حکومت کو یہ جانکاری دی گئی کہ 1944-45میں کسی نے سوویت یونین کو خفیہ معلومات مہیا کرائی ہیں۔ خفیہ معلومات لیک کرنے والے کا کوڈ اور نام کا پتہ چل چکا تھا۔ ہومر، جی ہاں یہی نام تھا اس کا، جس نے سوویت یونین تک اہم معلومات پہنچائی تھی۔ واشنگٹن میں برطانوی ایمبیسی کا سکریٹری بن کر آئے جاسوس کو 1950میں یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ پتہ لگائے کہ’ ہومر کوڈ‘ نام سے برطانوی ایمبیسی میں گھس پیٹھ کرنے والا جاسوس آخر کون تھا؟
کچھ دنوں تک معاملہ کافی الجھا رہا۔ تفتیش چلتی رہی۔ لیکن ایک شخص تھا، جو شروع سے ہی پورا قصہ جانتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کس نے برطانوی ایمبیسی میں گھس پیٹھ کر کے خفیہ معلومات لیک کرنے کی جرا¿ت کی ہے۔ جی ہاں، یہ وہی شخص ہے، جو برطانوی ایمبیسی میں سکریٹری بن کر آیا تھا۔ ہومر کے بارے میں سارا کچا چٹھا اسے معلوم تھا۔ ہومر کے کوڈ اور نام سے گھس پیٹھ کرنے والااور کوئی نہیں،بلکہ اس ایمبیسی کا دوسرا سکریٹری تھا۔ ڈونلڈ میکلین، یہی نام تھا اس کا۔اور، ڈونلڈ کوئی اور نہیں، بلکہ اس کا پرانا کالج کے زمانہ کا دوست تھا۔ یہی سبب ہے کہ اس نے برطانوی افسران کو ڈونلڈ کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا۔افسران کو پتہ چل ہی گیا۔نتیجتاً سب سے پہلے اسی کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد اپنے ساتھی اور برطانیہ کے خلاف جاسوسی کرنے والے کی شناخت چھپانے والے اس سکریٹری سے بھی برطانوی خفیہ ایجنسی کے ذریعہ استعفیٰ طلب کیا گیا۔بات یہیں نہیں رکی ا س کے اگلے کچھ سالوں تک اس سکریٹری کو سنگینوں کے سایہ میں تو نہیں،لیکن برطانوی خفیہ ایجنسی کی نظر بندی میں رہنا پڑا۔ اس کی ہر نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جاتی تھی، لیکن اس سے بھی برطانوی افسران کو کامیابی حاصل نہیں ہو پا رہی تھی دراصل انہیں یقین تھا کہ ایمبیسی سے خفیہ معلومات تین لوگوں نے مل کر لیک کی ہیں۔ ڈونلنڈ میکلین سمیت دو لوگوں کو تو برطانوی افسر اپنے شکنجہ میں لے چکے تھے، لیکن تیسرا ابھی ان کی پکڑ سے باہر تھا۔ ہر کسی کا شک سکریٹری پر جا رہا تھا،لیکن اس نے برطانوی پارلیمنٹ ہاﺅس آف کامنس میں خارجہ سکریٹری کے سامنے خود کو تیسرا شخص ہونے سے صاف صاف انکار کر دیا۔ بعد میں اسے ہر الزام سے بری کر دیا گیا۔ اور،بیروت میں اسے ایک اخبار کے نامہ نگار کے طور پر بھیجا گیا، تاکہ وہاں وہ برطانوی ایجنسی کے لئے کام کر سکے۔
بڑی ہوشیاری سے امریکی اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں کو چکما دے کر وہ شخص اپنے کام پر لگ چکا تھا۔ ہم آپ کو بتا دیں کہ یہ کوئی اور نہیں ،بلکہ’ کم پھلبے‘ تھا۔ یہی وہ شخص تھا، جس کی پیدائش ہندوستان میں پنجاب کے انبالہ شہر میں ہوئی تھی۔اس کی تعلیم برطانیہ میں ہوئی۔ لیکن اس نے کام کیا سوویت ایجنسی کے جی بی کے لئے۔امریکہ میں برطانوی ایمبیسی میں سکریٹری کے عہدہ فائز ہونے کے دوران اس نے نیو کلیئر ہتھیاروں سمیت نہ جانے کتنی خفیہ اطلاعات سوویت یونین تک پہنچائیں۔ اسی کی وجہ سے سوویت یونین سرد جنگ میں ایک وقت امریکہ پر بھاری نظر آ رہا تھا۔ کم پھلبے کا یہ تعارف تو محض چند الفاظ میں سمویا ہوا ہے، مگر اس کے کارناموں کو بیان کرنا اور بھی مشکل ہے۔کم کی خفیہ سرگرمیوں نے امریکہ سمیت برطانیہ کو کافی نقصان پہنچایا۔ اس کی سرگرمیاں ایک بار پھر سوالوں کے گھیرے میں آ چکی تھیں۔ 1951میں ایک بار پھر برطانوی افسران نے کم سے سوال وجواب کے لئے نوٹس بھیجا۔ پہلے کی طرح اس بار بھی کم نے میکلین سے کسی بھی طرح کا تعلق ہونے سے صاف انکار کر دیا۔لیکن برطانوی افسران نے کم پھلبے کے خلاف کافی معلومات یکجا کر لی تھیں، جس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ اب تک امریکہ میں برطانوی خفیہ ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا یہ شخص کسی اور کے لئے کام کر رہا تھا۔جس کے لئے وہ کام کر رہا تھا۔ وہ ایجنسی کوئی اور نہیں، بلکہ ’کے جی بی‘ تھی۔ ان سب سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب پوری دنیا میں امریکہ اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں کی طوطی بولتی تھی تو سوویت یونین ایجنسی ’کے جی بی‘ ان سے دو قدم آگے رہتی تھی۔ وہ اپنے دشمن ملک کے باشندوں کو ہی اپنا جاسوس بنا لیتی تھی۔ یعنی امریکی ایجنسی سی آئی اے سمیت باقی خفیہ ایجنسیاں ڈالی ڈالی ہوتی تھیں تو کے جی بی پات پات
ہم آپ کو بتا دیں کہ کم کا سارا معاملہ کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ ہے۔یہ دنیا کی سب سے مشہور یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ برطانیہ کی یہ مشہور یونیورسٹی کئی معنوں میں تاریخی رہی ہے۔اس کی تاریخی کہانیوں میں سے ایک ہے کیمبرج فائیو کی داستاں۔جیسا کہ نام سے معلوم ہوتا ہے، کیمبرج فائیو یعنی یہ کہانی برطانیہ کی اس یونیورسٹی میں زیر تعلیم پانچ لوگوں کی ہے جو کیمبرج فائیو کے جی بی کے سب سے خاص جاسوسوں میں تھے۔ کم پھلبے کیمبرج فائیو کے پانچ جاسوسوں میں سے ایک تھا۔ وہی کیمبرج فائیو، جس نے کے جی بی کے خوف کو پوری دنیا میں پھیلایا

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *