مدھیہ پردیش کابجلی بحران

ریاست مدھیہ پردیش گزشتہ ایک دہائی سے شدید بجلی بحران سے نبرد آزما ہے۔بجلی کے جھٹکوں سے بی جے پی نے 2003میں کانگریس کی حکومت کو تو ہلا ڈالا ، لیکن پورے پانچ سال تک ریاست میں بجلی کا بحران جوں کاتوں رہا۔ پھر2008کے انتخابات میں بی جے پی نے بجلی کے اس بحران کے لئے مرکز کی کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کو مجرم ٹھہرایا ۔ بی جے پی کے لئے ریاست کا بجلی بحران سیاست کا داو¿ں کھیلنے والی ایک ایسی بساط ہے جس پر وہ سیاسی چالیں چل کر اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کر رہی ہے پھر اسے کیا پرواہ کہ ریاست میں بجلی کا مس¿لہ حل ہو یا نہیں؟
بجلی کے بحران سے نبرد آزما 4ر یاستوں میں سے مدھیہ پردیش بجلی کی چوری اورسپلائی میں گڑ بڑ کے سبب بجلی ضائع کرنے والی ریاستوں میں سے ایک ہے۔بہار، جھارکھنڈ اورجموں کشمیر کے بعد مدھیہ پردیش میںہی سب سے زیادہ بجلی ضائع ہوتی ہے۔جھارکھنڈ اور جموںو کشمیر میں40فیصد اور مدھیہ پردیش میں39فیصد میگا واٹ بجلی توتکنیکی خامیوں اور بجلی چوری کے سبب ضائع ہو جاتی ہے۔ مرکزی پاور کارپوریشن نے ریاستی حکومت کو یہ بربادی روکنے کے لئے کارگرا قدامات کرنے کے لئے وارننگ دی ہے۔
بجلی بل کا2200کروڑ روپیہ بقایا:
ایک جانب پیداشدہ بجلی برباد ہو جاتی ہے تو دوسری جانب پاور کارپوریشن صارفین سے بجلی سپلائی کی پوری قیمت وصول کرنے سے قاصر ہے۔ ستمبر 2009کی حالت کے مطابق، ریاست میں آعلی عہدے اور قد والے صارفین پر 2220کروڑ 50لاکھ روپے کا بقایا اکاﺅنٹ بک میں تودرج ہے، لیکن اس کی وصولی کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔کروڑوںکا بقایا ہونے کے بعد بھی صارفین کو بجلی کی سپلائی جاری ہے، جبکہ غریب اور کم آمدنی والے صارفین پردو ماہ کا بل بقایاہو جانے پرانہیں بجلی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ پاور کارپوریشن کا ستم عام آدمی پر ٹوٹتا ہے۔ امیروں، سیاستدانوں،انتظامیہ کے نزدیک لوگوں اور صاحب حیثیت لوگوں پر پاور کارپوریشن کوئی کارروائی نہیں کرپاتا۔
ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق، سب سے زیادہ 429کروڑ روپے چھتر پور ، 269کروڑ روپے نیمچ ،229کروڑ روپے ستنا ،223کروڑ روپے کھرگین ، 197کروڑ روپے ریوا، 194کروڑ روپے کھنڈوا برہانپور ،116کروڑ روپے بیتول،93کروڑ روپے سیدھی،90کروڑ روپے اجین اور 77کروڑ روپے اندور ضلع کے بڑے صارفین پر بقایا ہیں۔ علاوہ ازیں گوالیئر میں52کروڑ ،ساگر میں44کروڑ،شاجاپور میں43کروڑ،بھوپال میں 30.6کروڑ، رائے سین میں25.67کروڑ روپے بقایا ہیں۔ دیگر اضلاع میں10کروڑ روپے یا اس سے کم رقم بقایا مد میں درج ہے۔
ایک جانب مدھیہ پردیش پاور کارپوریشن کو کروڑوں روپے اپنے صارفین سے وصول کرنے ہیں، دوسری طرف اس کی مالی حالت اتنی خستہ ہو گئی ہے کہ گزشتہ ایک سال میں کارپوریشن کے کئی دفاتر میں ملازمین کو وقت پر تنخواہ نہیں مل پائی۔اس کے علاوہ مختلف کمپنیوں سے خریدے جانے والے کوئلے کی قیمت کی بھی وقت پر ادائیگی نہیں ہو پائی۔ہر ماہ 200سے 250کروڑ روپے کا کوئلہ قرض لے کر خریدا جاتا ہے اور اس کی ادائیگی دو ماہ بعد کی جاتی ہے۔ کبھی کبھی زیادہ قرض ہو جانے پر کمپنیاں کوئلہ دینے سے انکار کر دیتی ہیں۔ کوئلہ کی کمی کااثر بجلی کی پیداوار پر پڑتاہے۔ ایسی حالت میں ریاست کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان مرکزی حکومت پر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں سے تعصب کا الزام لگانا شروع کر دیتے ہیں،لیکن وہ پاورکارپوریشن اور اس کی معاون کمپنیوں کے طریقہ¿ کار میں بہتری لانے کی خود کوئی کوشش نہیں کرتے۔
بجلی مشینری میں بغاوت
مدھیہ پردیش پاور کارپوریشن اور اس کی معاون کمپنیوںکی مشینری اور نظام میں خامیوں کے سبب بجلی پیدا کرنے والی تمام مشینری خراب پڑی ہوئی ہے ۔چونکہ ریاست میں بجلی کا شدید بحران ہے، اس لئے پاور کمپنیوں پر ہمیشہ زیادہ پیداوار کرنے کا دباﺅ بنا رہتا ہے۔ مسلسل بجلی پیدا کرنے کے لئے مشینوں کو لگاتار چلاتے رہنے کی وجہ سے انکی مرمت بھی نہیں ہو پاتی ہے اور گھسائی روکنے کے لئے تیل، گریز ڈالنا وغیرہ کام بھی ٹھیک سے نہیں ہو پاتا ہے۔ مشینری کو صیح رکھنے یا مرمت کے لئے بند کرنا ممکن نہیں ہوپاتا ہے۔ اس وجہ سے وقتاً فوقتاً بجلی پیدا کرنے والی یہ مشینری خراب ہو جاتی ہے اور کام کرنا بند کر دیتی ہے ۔گزشتہ ایک ماہ میں ریاست میںپچاس مرتبہ ان مشینوں کے ایک سے چار گھنٹے تک بند رہنے کے واقعات ہوئے ہیں ۔
مزدوروں کی کمی:
بجلی پیدا کرنے والی مشینوں پر مزدوروں کی کافی کمی ہے۔ذرائع کے مطابق، پاور جنریٹنگ کمپنی میں کل منظورشدہ عہدے11047ہیں،لیکن حال میں صرف 6342ملازمین کام کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں جلد ہی مالوا میں1200میگاواٹ کے لئے نئی بجلی مشینری اور پینل میں500میگاواٹ کی نئی مشینری کے لئے 1500مزید ملازمین کی ضرورت ہوگی۔لیکن،اپنی خستہ حالت کے سبب پاور کارپوریشن مزید ملازمین کی بھرتی نہیں کر رہا ہے۔بجلی ملازمین یونین کے مطابق، آئندہ تین ماہ میں تقریباً600 1ملازمین افسران رٹائرڈ ہو جائیں گے، ایسی حالت میں مشینری کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔لیکن یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی پاور کارپوریشن نئی تقرریوں کے لئے کوئی اقدامات نہیں کر رہاہے۔اس کے پیچھے کارپوریشن کے سینئر افسران کا یا تو اپنا کوئی مفاد ہے یا پھر ہو سکتا ہے کہ لیڈروں کے اشارے پر ایسا کیا گیا ہو، تاکہ ملازمین کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مشینری کو ٹھیکہ پر دیا جا سکے۔فی الحال، پینل اور برسنگھ پور میں2500ملازمین پرائیویٹ طور سے ٹھیکہ پر کام کر رہے ہیں۔ قابل توجہ بات یہہے کہ پاور کارپوریشن نے ملازمین کی سیدھے ٹھیکہ پالیسی کے ذریعہ تقرری نہیں کی ہے ، بلکہ انکی تقرری کرنے اور کام پر لگانے کا ٹھیکہ کچھ ٹھیکیداروں کو دیا گیا ہے۔ ابتداءمیں تو اچھا منافع ہونے سے ٹھیکیدار – مزدوروں کو مشینری پر کام کرنے کے لئے لگاتے رہے، لیکن گزشتہ کچھ ماہ سے پاور کارپوریشن کے ذریعہ ادائیگی نہ کئے جانے کے سبب جب ٹھیکہ پر لگائے گئے مزدوروں کو وقت پر تنخواہ ملنی بند ہو گئی، تو انھوں نے کام کرنا بند کر دیا۔ اس سے بھی بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے اب تو ٹھیکیدار بھی مزدوروں اور ملازمین کو کام پر لگانے کے ٹھیکہ لینے سے کتراتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *