لفظ’اللہ‘ پر کسی فرد واحد کا حق نہیں

انور ابراہیم
ملیشیا ایک بار پھر سے کچھ غلط بیانات کے سبب بین الاقوامی اخباروں کی سرخیوں میں ہے۔گزشتہ دوہفتہ کے دوران غیر سماجی عناصر نے عبادت کے دس مقامات کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ان مقامات میں عیسائیوں کے گرجا گھر اور سکھوں کے گردوارے شامل ہیں۔بہر حال اس حملہ میں وہاں کسی کو کوئی جسمانی چوٹ تو نہیں آئی۔لیکن جذباتی اور نفسیاتی طور پر دلوں کو ضرور چوٹ پہنچاگئی ہے۔ سرکاری افسران کی جانب سے کئیمتضاد بیانات کے بعد تشدد کے اصل اسباب کا خلاصہ اب بھی نہیں ہو پایا ہے۔ ملیشیا کی شبیہ ایک ا من پسند قوم کی رہی ہے جہاں مختلف برادریاں اور مختلف مذاہب رہے ہیں۔ان حملوں کے بعد ملیشیا کی یہ شبیہ داغدار ہو رہی ہے۔ فرقہ واریت اور مذہبی مسائل سے نمٹنے کے معاملہ میں ملیشیا کا ریکارڈ نہایت خراب رہا ہے۔ مسلم ممالک میں اقلیتوں کے ساتھ جو برا سلوک ہوتا ہے، وہ حقیقتاً اس سے بھی برا ہوتا ہے کہ جس کا الزام مغربی ممالک پر مسلم فرقہ کے لوگ لگاتے رہے ہیں۔میں نے مسلم ممالک میں ایسی قیادت کی ضرورت پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے جو ہمارے انصاف، سیکولرازم اور دیگر مطالبات میں توازن اور اعتماد کو نمایاں کرے۔یہ ایسی باتیں ہیں جو اسلامی روایات سے جڑی ہیں۔ 12ویں صدی کے قانون داں الشاطبی نے بھی ان باتوں کو شریعہ کے اونچے نصب العین کے طور پر سمجھایا ہے۔ ہم لوگوں نے دیکھا ہے کہ نسبتاً رواداری والے اور ترقی پسند کہلائے جانے والے مغربی ممالک میں جب کوئی مکمل جانبدرانہ قانون پاس ہوتا ہے تو اس کی مخالفت پوری دنیا کے مسلمان کرتے ہیں۔ حا ل ہی میں جرمنی میں برقعہ کا واقعہ یا سویئزر لینڈ میں میناروں کو لے کر جو واقعات رونما ہوئے ان سے مسلمانون کے تحفظ پر سوالیہ نشان تو لگ ہی گیا ہے ۔ ملیشیا بھی اقلیتی فرقہ کو تحفظ دینے اور محفوظ ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔حال ہی کی آتش زنی کی وارداتیں اور حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ اقلیتی فرقہ کے ساتھ ملیشیا میں کہیں نہ کہیں نا انصافی ضرور ہے ۔ اس بار ملیشیا کے عیسائی فرقہ کے لوگوں نے اللہ لفظ کا استعمال کیا تھا۔ ملیشیا میں اس فرقہ کی آبادی تقریباً20لاکھ یعنی10فیصدی ہے۔ 2007میںوزارت داخلہ نے ایک کیتھولک اخبار ہیرالڈ پر اللہ لفظ کے استعمال پرممانعت لگادی گئی تھی۔بعد میں بائبل کی 15ہزار کاپیاں ضبط کر لی گئی تھیں، جس میں” گاڈ“ لفظ کا ترجمہ” اللہ “کیا گیا تھا۔
31دسمبر، 2009 میںکو الالامپور ہائی کورٹ کے ایک حکم کے مطابق اس ممانعت کو رد کر دیا گیا۔ اس ممانعت کو رد کرنے کے پیچھے کورٹ کا موقف یہ تھا کہ ملیشیا کا آئین ہر مذہب کوآزادی کی گارنٹی دیتا ہے۔ اس وقت سے ہی ملیشیا کے حالات کشیدہ ہو گئے تھے او ر اس کشیدگی کو بڑھانے کے پیچھے کافی حد تک کچھ غیر ذمہ دار لیڈران ، میڈیاا ور کچھ مٹھی بھر غیر سرکاری تنظیموں( موجودہ حکومت سے جڑے)کا بھی کردار رہا۔ مثال کے طور پر ، ملک کے سب سے بڑے روزنامہ ”اٹوسن“ نے عام مسلم جذبات کو بھڑکانے میں اہم رول ادا کیا ۔اخبار نے غیر مسلم طبقہ کو اس بات کے لئے ذمہ دار بتایا ہے کہ انھوں نے” اللہ “لفظ کی توہین کی ہے اور یہ لوگ تبدیلی مذہب کے ذریعہ اس کثیر مسلم ملک میں اپنی آبادی بڑھانے کی سازش کر رہے ہیں۔میں نے پہلے بھی اس طرح کی بھڑکا نے والے جملوں کا استعمال ہوتے دیکھا ہے جب لیڈران نے لوگوں کو خوفزدہ کر کے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح کے ہتھکنڈے شرمناک وارداتوں، جیسے کورٹ کے منتازعہ فیصلے یا فوجی خریداری میں خامیاں اور رائل ملیشین ایئر فورس سے دو جیٹ انجن کی چوری وغیرہ سے توجہ ہٹانے میں کافی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ حالت تب سے اور خراب ہوئی جب سے اقتدار پر قابض جماعتوں نے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں اپنی دو تہائی عوامی رائے کو گنوا دیا۔”یو ایم این او“ اب پریشان ہے اور عوامی حمایت پانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ دنیا کے کچھ مسلمان اس طرح کے دعوے کر سکتے ہیں کہ اللہ لفظ پر صرف مسلمانوں کااختیار یا حق ہے۔حالانکہ یہ تسلیم ہو چکا ہے کہ لفظ اللہ عربوںمیں عام طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ عرب معاشرہ میں اور زبانوں میں بھی ”بھگوان“ کے لئے اللہ لفظ کا استعمال کیاجاتا تھا۔ ارامیک میں اسے ”الٰہا“ اور ”ہبرو “میں ”الوہم “کے نام سے جانتے تھے۔ تاریخی اوراق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عربی زبان بولنے والے مسلم، عیسائی اور یہودی اجتماعی طور سے ”ایشور“ کی پوجا کرتے تھے اور براہمانڈ کے مصنف اور محافظ ”بھگوان “کے لئے 1400سال تک ” اللہ“ لفظ کا استعمال کرتے رہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں اسلامی تاریخ بھائی چارے، اپنی روایات اور مسلم اور غیر مسلموں کے درمیان رشتوں کواستوار کرنے اور بہتر بنانے کے لئے مقبول رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملیشیا سے باہر عالم دین اس’ اللہ‘ والے تنازعہ کو بے معنی مان رہے ہیں اور یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ آخر اتنی مخالفت اور واویلا کیوںمچا ہوا ہے۔ مشرقی ممالک میں رہنے والے اقلیتی مسلم فرقہ نے، خاص کر 9/11کے حادثہ کے بعد، بڑی محنت سے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ مسلم، عیسائی، اور یہودی ایک جیسی روایات سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک ہی خداکی عبادت کرتے ہیں ۔اس مس¿لے پر مقامی فرقہ مشتعل ہو گیا۔ موجودہ حالات کے مطابق آپسی گفتگو اور اصول وقواعد کے تحت نرمی اور سمجھداری سے اس مس¿لہ سے نپٹنا ہوگا، بجائے اس کے کہ لوگوں کے درمیان عدم تحفط کا خوف پیدا کیا جائے۔ مسلم فرقہ کو اس بات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور پہل کرکے عیسائی فرقہ سے بات چیت کرکے انہیں اپنی تشویش سے آگاہ کرانا چاہئے۔اسپین کا مسلم فرقہ اس کی ایک بہترین مثال ہے اور ملیشیائی مسلمانوں کو اس کی پیروی کرنی چاہئے۔ عالمی طور پر اس لفظ کا استعمال کیا جانا چاہئے جیسا کے 007 2 میں یہ کوشش کی گئی تھی اس نے دنیا کے 130اہم عالم دین کی توجہ اپنی جانب راغب کی تھی۔ اس کوشش نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بھائی چارہ بنانے اور امن و خوشحالی سے زندگی جینے کا راستہ تلاش کرنے میں اہم کردار اداکیاہے۔وزیر اعظم نجیب رزاق کے حلف لینے کے وقت سے ہی ملیشیا کی بین الاقوامی شہرت کو دھکا پہنچ رہا ہے۔ قومی اتحادکو بڑھانے کے بجائے نجیب کے دوراقتدار میں مسلم نوجوانوں کے ذریعہ خواتین پر شراب پینے کے الزام میں کوڑے برسائے جا رہے ہیں، مندر بنانے کے خلاف لوگ سڑکوں پر گائے کے کٹے سر کے ساتھ مظاہرہ کر رہے ہیں۔ میل ملاپ کا تجربہ کرنے والے مسلمان یا اسلام قبول کر چکے لوگ اگر اپنے پرانے عقائد کی جانب لوٹتے ہیں تو ان کے ساتھ بدتر سلوک ہوتا ہے ۔آخر نجیب اس ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں؟ملیشیا بدعنوانیوں کی فہرست میں آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ہماری سیاحت کا شعبہ روزبروز خراب ہوتا جا رہا ہے۔
عام ملیشیائی کچھ لوگوں کے مفاد کی قربانی نہیں دے سکتے۔ بہر حال ایسی سیاست پرانی ہو گئی ہے اور اب یہ صاف ہو گیا ہے کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ صرف اقتدار پر قابض ہونے کے لئے کر رہے ہیں۔ زیادہ تر ملیشیائی عوام اس طرح کی ذہنیت سے ا نکار کرتے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم آج جن چیلنجوں کا جیسے کساد بازاری، تعلیم کا گرتا معیار اور بڑھتے جرائم کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس سے ہمیں خود ہی نجات پانی ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ سیکو لرازم اور سبھی کے لئے انصاف کے اصولوں کو لاگو کرنے کے لئے بھی لڑنا ہوگا

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *