ہیتی کی بربادی کے لئے امریکہ ذمہ دار

ہندوستان کے عوام کے لئے ہیتی کبھی اہم نہیں رہاہے۔اس کے باوجود ہندوستانی حکومت کی ہیتی میں موجودگی جنوبی ممالک کے اتحاد کی ایک مضبوط مثال ہے۔2006سے ہی جنوبی افریقہ اور برازیل کے ساتھ ہندوستان ہیتی میں ایک ایسے پروگرام میںلگا ہواہے، جس کے تحت ہیتی کے80فیصدی باشندوں کو اقتصادی طور پر مضبوط کیا جا سکے اور توقع کے مطابق روزگار کے ذرائع مہیا کرائے جا سکیں۔ اس پروگرام کے تحت ہیتی میں توانائی کے بہترذرایعوںکو تلاش کرنا اور ترقی دینا ہے ۔
زلزلہ کے بعد راحت کا کام شروع ہو چکا ہے اور ہیتی اپنے زخموں کو بھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں ہندوستان کو اس کے زخم بھرنے میں تعاون کرنا چاہئے۔ ہیتی ایک ایسا ملک ہے، جس کی ہمت و جرا¿ت اور آزادی کی انوکھی تاریخ رہی ہے۔1804میں یہ پہلا سیافام ملک بنا۔ یہاں غلاموں کی آبادی زیادہ ہے اور انھوں نے بغیر کسی بیرونی مدد کے فرانسیسی غلامی سے نجات حاصل کی۔ اس وقت یہ اس زمین کا سب سے امیر ملک تھا۔ آج یہ بیرونی مداخلت اور اندورنی طور پر غیر مستقل حا لات کے سبب نازک دور سے گزر رہا ہے ۔ حالانکہ ہیتی میں وقتاً فوقتاً غذائی مسائل کو لے کر فساد کی وارداتیں ہوتی رہی ہیں جو بین الاقوامی سرخیا ں بنتی رہی ہیں۔ہیتی خود کفیلی کے معاملے میں ناکام رہا ہے۔ اور اسی وجہ سے قرض میں ڈوب گیا ہے۔آج اس کا یہ حال ہے کہ اسے شدید طور پر مدد کی ضرورت ہے اورابھی تک اس کی حالت قابل رحم بنی ہوئی ہے۔حالات اتنے بدتر ہوتے جا رہے ہیںکہ اس ملک کا اقتدار ہی خطرہ میں نظر آ رہا ہے۔ جنوبی ممالک کے لئے ہیتی ایک سبق ہے۔
یہاں آنے پر ہماری پہلی نظر ہیتی کی راجدھانی پورٹ آف پرنس پر پڑتی ہے۔ جو ایک جنگ کا سا منظر پیش کرتی ہے ۔شہر کے وسط میں گاڑی چلانا حیرت زدہ کرنا ہے۔یہاں اتنی غربت ہے کہ پہلی بار میں سارا قصہ بیا ن نہیں کیا جا سکتاہے۔ اس لئے بعد میں ہم نے راجدھانی کے کئی مقامات کا معائنہ کیا۔ ان مقامات کو بھی دیکھا، جہاں پورٹ آف پرنس کاخوفزدہ طبقہ رہتا ہے۔ یہاں ہوٹل مونٹانا اور کئی دوسرے ریسٹو رینٹ ہیں، جہاں کھانے اور رہنے کے بہتر بندوبست ہیں۔ غریبی اور امیری کے درمیان کایہ فرق تضاد پیدا کرتا ہے۔شہروں کے وسط میں ہی آپ کو لاکھوں بے روزگار نوجوان فٹ پاتھ پر بیٹھے اور مایوسی میں ٹکٹکی لگائے دیکھتے ہوئے مل جائیں گے۔ پورٹ آف پرنس کی سب سے تعجب کی بات اس کا معاشی نظام ہے۔سرکاری ملازمین اور کچھ صاحب حیثیت لوگ ہی یہاں کچھ خرید سکتے ہیں۔بقیہ دوسرے لوگ جو انہیں خریدنے کی آس یا تمنا رکھتے ہیں، وہ یا تو جوا، یا پھر لاٹری کا سہارا لیتے ہیں۔ نوجوان لڑکیاں اس کے لئے کھلے عام جسم فروشی کرتی ہیں۔ غیر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی حکومت کے ذریعہ درآمد ہو کر یہاں پہنچتاہے، اس سے امیر طبقہ کا ہی خزانہ بھرتا ہے۔
ہیتی امریکہ سے مکا، چاول، بین، تیل، چینی اور آٹا درآمد کرتاہے ۔ پورٹ آف پرنس میں صرف ایک ہی مقامی پروڈکٹ دیکھنے کو ملتا ہے، وہ آم ہے۔ یہ ایک موسمی پھل ہے اوربڑی تعداد میں ملتا ہے۔ ہیتی آم اور کافی امپورٹ کرتا ہے۔ ہیتی کے موجودہ مسائل اس کی تاریخ میںپوشیدہ ہیں۔حالانکہ یہ دنیا کا اولین سیاہ فام ملک ہے، پھر بھی آزادی کے بعد اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہیتی اپنے آزادی پسند مزاج کی قیمت ادا کر رہا ہے۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق، 1825میں ہیتی نے فرانس کو 150ملین ڈالر کی ادائیگی کی، وہ بھی سونے کی شکل میں۔ اس کے بعد سے غیر ملکوں کو ہرجانہ کی ادائیگی کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا۔1991میں ہیتی کی پہلی منتخب جمہوری حکومت نے فرانس سے 22بلین ڈالر کی رقم واپس مانگی، مگر تب تک حکومت کا تختہ پلٹ گیا اور ایک ہی جھٹکے میں وہ مطالبات بھی مسترد ہو گئے۔ ہیتی کے لوگ کہتے ہیں تب ہی سے یہ ایک غریب ملک بنتا جا رہا ہے۔مشرقی ممالک نے اقتصادی بہتری کے نام پر اس کے راستے مسدود کر دئے ہیں ۔ ہیتی کو مجبور کیا گیا کہ وہ سماجی معاملات مثلاً تعلیم، صحت اور زراعت وغیرہ پر اخراجات میں کمی کرے۔ فوجی اور تانا شاہی حکومت کے بعد ہیتی میں پہلی جمہوری حکومت 1991میں بنی۔ صدر جین بیرنٹرا ارسٹیڈ کا دو بار تختہ پلٹاگیا جسکا دور اقتدار جرائم سے پر تھا۔ اس کے بعد جتنے بھی صدور آئے، سبھی اپنے دشمنوں سے ساز باز کر کے اقتدار پر قابض رہے۔ وہ بھی متحدہ ممالک کے 9ہزار امن فوجیوں کی موجودگی میں۔
ہیتی کی بہتری اور ترقی تبھی ممکن ہو پاتی ہے جب امریکی کاروبار اور امریکیوںکے لئے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ ہیتی کو امریکیوں کے لئے اپنے بازار کھولنے پر مجبور کیا گیا۔ آج ہیتی محدود وسائل کے باوجود سب سے زیادہ آزاد کاروباری مرکز ہے۔مثال کے طور پر امریکہ اس کا سب سے بڑا شریک کار ہے۔امریکی مفاد کو بڑھاوا دینے اور حفاظت کے لئے ہیتی میں خوب پیسہ منتقل کیا جا رہا ہے مگر ہیتی کے لوگوں کے ذریعہ مخالفت کئے جانے کے سبب امریکہ نے سزا کے طور پر طویل مدت کے لئے پیسہ نہیں لگایا ہے ۔ ترقی پذیر ممالک کے لئے ہیتی یہ مثال پیش کرتا ہے کہ جو ملک غذائی معاملے میں خود کفیل نہیں ہوتا اس کا انجام یہی ہوتاہے۔ یہ اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی کی سمت اشارہ کرتا ہے ۔ اس طرح کی پالیسیاں دوسروں پر انحصار پیدا کرتی ہیں، غیر ملکی قرض کوبڑھاوا دیتی ہیں، قومی ترقی میںاور خود کفیل ہونے میںخود کو کمزور کرتی ہیں۔ ۔
امریکہ اور مشرقی ممالک کے خلاف جنوبی ممالک میں اتحاد پھیل رہا ہے۔اسی اتحاد کے سبب کیوبا،وینزویلا اور ہیتی ایک ایسے گروپ میں تبدیل ہو رہے ہیں ، جو مشرقی پالیسیوں کی مخالفت کر تا ہے۔ یہ گروپ کھیتی والی زمین کو بایو فیول کے لئے استعمال کرنے کی مخالفت کر رہا ہے۔ جب اس مخالفت کے سبب امریکہ نے ہیتی کو ایندھن دیئے جانے پر روک لگا دی تو اس کے جواب میں پڑوسی ملک ونیز ویلا نے ہیتی کو آئندہ سو سالوں تک ایندھن مہیا کرانے کا معاہدہ کر لیا۔ آج ہیتی اس آپسی جنگ کو برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ اپنے اندورنی حالات، اغوا ،قائدین کی اپنی فوجوں کے بیچ خون خرابہ،ہر وقت تختہ پلٹ جانے کا خطرہ اور عام آدمی کی زندگی گزارنے کے لئے بے پناہ جدوجہد، کے سبب ہیتی بربادی کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے۔ ہیتی کی موجودہ حالت اس بات کی غماز ہے کہ کس طرح کوئی ترقی پذیر ملک اپنی عظمت کو محض اس لئے کھودیتا ہے کہ اسے طبی سہولیات مہیا ہو سکیں، کیونکہ اسکے اپنے وسائل ختم ہو چکے ہیں

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *