غریبوں کے منہ کے نوالے، مافیاﺅں کے حوالے

ؑغریبوں کو حکومت کی جانب سے غذائی ا شیا اور صاف پانی مہیا کرانے کے لئے چلائے جا رہے پروگراموں کا فائدہ کئی اسباب کی بناءپر ان تک نہیں پہنچ پارہا ہے۔حقوق انسانی تنظیم ”فیان“ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سرکاری طور پر اناج سپلائی نظام پوری طرح ٹھپ ہو گیا ہے۔ جن کے پاس غریب عوام کے راشن کا کوٹہ ہے وہ ان غریبوں کو ملنے والے سستے راشن کو بازار میں فروخت کر رہے ہیں۔اتنا ہی نہیں،حکومت کی جانب سے غریبوں کے لئے مہیا کرائی گئی غذائی اجناس اب کالا بازاری کے ذریعہ نیپال تک جا رہی ہےں۔نیپال اور چین کی سرحد سے ملحق سدھارتھ نگر، اور بہرائچ میں اشیائے خوردنی پر مافیا گروپ کار اج ہے۔
اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو¿ سے ملحق ارجن گنج میں غریبوں کے لئے بھیجا جا رہا راشن اور مٹی کا تیل، ڈپو مالکان بلیک میں فروخت کر رہے ہیں۔ارجن گنج میں واقع’ گھسوت کلاں گرام سبھا‘ کے ڈپو مالکان نے کئی دیہی باشندوں کے راشن کارڈ گزشتہ تین ماہ سے اپنے پاس دبا کر رکھے ہوئے ہیں۔ دیہی باشند وں کو مٹی کا تیل دیتے وقت ڈپوکامالک اس پر راشن دینا بھی درج کر دیتا ہے۔ ایسے ہی ایک ڈپو کا مالک اندرا نام کے رہائشی علاقے میں اپنی دکان چلا رہا ہے۔جسے کسی خاتون کے نام سے الاٹ کیا گیا تھا، لیکن وہ اس پرقبضہ نہیں لے سکی۔ تین ہزار کی آبادی والے گاﺅں گھسول کلاں میں سرکاری سستے غلے کی دوکان جگموہن کے نام سے الاٹ ہے۔ اس کے والد میوا لال کو بھی ایک دکان پہلے سے الاٹ ہے۔گاﺅں کے اندل، نند کشور، گنگا ساگر، سرون، راجیندر وغیرہ کاالزام ہے کہ جگموہن کے بھائی ایودھیا پرساد نے تین ماہ قبل ان کے ،اور کئی لوگوں کے راشن کارڈ اپنے پاس رکھ لئے۔ تیل اور راشن کی کالا بازاری کر کے ان کے راشن کارڈوں پر فرضی سپلائی درج کر دی جاتی ہے۔ ہبلال،لوکیش اور بھگوان دین کاالزام ہے کہ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والے دیہی باشندوں کو بھی راشن نہیں دیا جاتا۔ سنت رام، رام سیوک، شیو کمار اور انل نے بتایا کہ ڈپو مالکان روسٹر کے مطابق راشنتقسیم نہیںکرتا ہے۔خفیہ طریقہ سے راشن اور مٹی کے تیل کی کالابازاری کر دی جاتی ہے۔ تیل تقسیم کرتے وقت ہی کارڈ جمع کر کے اس میں راشن کا اندراج بھی کر دیا جاتےا ہے۔
سدھارتھ نگر ضلع کی ہند-نیپال کی کھلی سرحد راشن مافیاﺅں کے لئے مفید ہے۔ وہ اس کا استعمال اشیائے خوردنی کی اسمگلنگ کے لئے کر رہے ہیں۔ اناج نیپال کے راستہ چین تک پہنچایا جا رہا ہے۔ اس کام کے لئے نگراں ایجنسیاں بھی اس بلیک میلنگ کو روکنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ اسمگلر نیپال کی سرحد سے ملحق ہندوستانی گاﺅںاور قصبات میں چاول، گیہوں، چینی گوداموں میں اکھٹی کرلیتے ہیں اور رات میں اسے نیپال کے دیہی علاقوں میں پہنچا دیتے ہیں۔ اس کے بعد نیپال کے ارد گرد کسٹم چوکی پر ٹیکس بنا کر انہیں نمبر میں بدل دیا جاتا ہے پھر تمام اشیائے خوردنی جائز کاغذاتوں کی بنیاد پر کاٹھمنڈو پہنچ جاتا ہے، جہاں سے اسے خاصا( تبت)چیک پوسٹ سے چین بھیج دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 18سو روپے میں فروخت ہونے والا ضلع کا ”سمبھا“ چاول چین میں 4500روپے کوئنٹل فروخت ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق ، ہند-نیپال سرحد پر یومیہ پانچ ہزار میٹرک ٹن چاول اور چینی کی اسملنگ ہو رہی ہے۔ اس کا 60فیصد حصہ بی پی ایل کا چاول ہے۔
سدھارتھ نگر کے بڑھنی، کھونووا، علی گڑھوا، ککرہوا،کوٹیا اور ٹھوٹھری وغیرہ قصبات اناج کی اسملنگ کے اڈے ہیں۔ ڈسٹرکٹ سپلائی آفیسر نسیم احمد ہاشمی کے مطابق، بین الاقوامی اسمگلروں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔35راشن اسمگلروں کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے۔شراوستی ضلع میں حالات اور بھی خراب ہےں۔ ضلع کے سینکڑوں ڈپو مالکان کو الاٹ ہونے والے خوردنی اناج کے فروغت کی رقم مافیاﺅں کے ذریعہ بھری جاتی ہے۔گودام کے انچارج پیسہ لے کر ہزاروں کوئنٹل خوردنی اناج سیدھے ان کے حوالہ کر دیتے ہیں۔ ضلع میں غریب بے سہارا کارڈ ہولڈروں کی تعداد 61044ہے۔ انتودے اسکیم کے کارڈ ہولڈروں کی تعداد 37872ہے۔ہری ہرپور رانی، گلولا ،جمونہا،اکونا اور شہری علاقہ کے بیشتر ڈپو ہولڈروں کا خوردنی اناج کے اٹھان کی رقم مافیاﺅں کے ذریعہ جمع کر دی جاتی ہے۔ڈپو ہولڈروں کو اس کا حصہ دینے کے بعد وہ گودام انچارج سے ساز باز کر خوردنی اناج اپنے قبضے میں کر لیتے ہیں۔ جسے کھلے بازاروں میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ ضلع کے کئی اناج کی بلیک کرنے والے مافیاءگروپ کی پہنچ اوپر تک ہے۔
بھدوہی ضلع میں بھی اناج مافیاگروپ کی گرفت میں ہے۔بے روک ٹوک جاری اس کالابازاری پر ضلع انتظامیہ کی نظر نہیں ہے۔ضلع میں کل پانچ ہاٹ مارکیٹنگ مراکز قائم ہیں۔سب سے زیادہ کالابازاری ایک ہی مرکز سے ہو رہی ہے۔اس مرکز پر لمبے عرصے سے اناج مافیا حاوی ہیں۔اس مرکز پر ہرماہ کی 16تاریخ سے آخری تاریخ تک کوٹے داروں کا مجمع ہوتا ہے۔ حکم چلتا ہے اناج مافیاﺅں کا۔ ڈپو ہولڈروں کو خوردنی اجناس کی رقم جمع کرنے کے لئے بیاج پر نہیں،بلکہ خوردنی اناج کے حساب سے روپے دیئے جاتے ہیں۔ اس سینٹرپر تین مرتبہ پڑے چھاپوں میں بھاری مقدار میں اناج بھی برآمد کیا جا چکا ہے۔یہاں ہر ماہ غریبوں کے لقموں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔اناج سے بھری گاڑیاں سیدھے پہنچ جاتی ہیں کھلے بازاروں میں بھاری قیمت پر فروخت ہونے کے لئے اس کاروبار میں خوردنی اناج مافیاﺅں ، کئی تاجروں، اور ڈپو مالکان کے نام سامنے آئے ہیں۔اب صوبہ کی مایاوتی حکومت اس طرح کی تقسیم کو درست کرنے کے لئے ڈور اسٹیپ ڈلیوری اسکیم نافذ کر رہی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت راشن ڈپو ہولڈروں کے پاس پہنچنے پر اس کی اطلاع متعلقہ علاقہ کے لوگوں کو دی جائے گی لیکن یہ بھی یقینی کیا جانا چاہئے کہ مذکورہ اشیاءکی تقسیم صاف و شفاف طریقہ سے ہو۔ ممبر اسمبلی وشمبھر پرساد نشاد کہتے ہیں کہ ریاستی حکومت ڈور اسٹیپ ڈلیوری اسکیم میں خوردنی اناج اور مٹی کے تیل کی گودام سے سپلائی کی نگرانی کے لئے بھی کوئی کارگر نظام قائم کرے۔ ادھر، راجدھانی سے ملحق نگوہا میں حکومت کے ذریعہ چلائے جانے والی سستے غلہ کی دکان پر راشن لینے گئے ضعیف رما شنکر کو ڈپو مالک کے لوگوں کے ذریعہ بری طرح پیٹے جانے کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔
گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے سابق جج ڈی پی وادھوا لکھنو¿ میں مرکزی حکومت کی پہل پر ہو رہی میٹنگ میں گئے۔ انھوں نے وہاں موجود عوامی طرزتقسیم ( پی ڈی ایس) سے وابستہ افسران ، ڈپو ہولڈروں اور دیگر لوگوں سے پوچھا کہ کیا اور کیسے کیا جانا چاہئے، جس سے اس طریقہ کار میں جو بد عنوانی ہے وہ ختم ہو۔طے شدہ پروگرام کے تحت بات چیت چل رہی تھی اور ریاستی حکومت کے افسران کے ذریعہ مرکزی کمیٹی کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ یہاں سب ٹھیک ہے۔اسی درمیان راجدھانی کے ایک ڈپو مالک آشیش سنگھ کھڑے ہوئے اور یہ کہہ کر انھوں نے سنسنی پھیلا دی کہ ہاں صاحب میں چور ہوں۔آشیش نے آگے کہا، دنیا کا کوئی ایسا نظام نہیںہے جو اس میں بغیر چوری کے راشن کی دکان چلا سکے۔ اس پر جسٹس وادھوا نے پوچھا، آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں؟ تو آشیش نے سی اے سے تیار کرائی گئی رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ کے مطابق اگر انتظامیہ کی جانب سے طے کمیشن اور اخراجات کی بنیاد پر راشن کی کوئی دکان چلائی جائے تو ہر ماہ کم سے کم 5000روپے کا نقصان طے ہے۔آشیش نے انہیں بتایا کہ ڈپو ہولڈروں کے لئے فی کارڈ یہ نقصان 7.25روپے ہے اور جتنے کارڈ ہوں گے۔ یہ نقصان بھی اسی فیصد سے بڑھے گا۔ اسی نقصان کی بھرپائی کے لئے ڈپو ہولڈر لاپروائی کر رہے ہیں۔ مسٹر وادھوا نے بعد میں آشیش کو الگ سے بات چیت کے لئے بلایا اور تمام معلومات حاصل کی۔
راشن فروخت کرنے والے بتاتے ہیں انہیں اپنی بچت سے دوگنی رقم تو صرف سامان کی ڈھلائی پر ہی خرچ کرنی پڑ جاتی ہے۔ہر راشن کی دکان میں اوسطاً مٹی کے تیل کے 10ڈرموں کا کوٹہ ہے اس پر انہیں24روپے فی ڈرم کمیشن ملتا ہے اور ڈھلائی اپنے پاس سے دینی ہوتی ہے، جو قریب50روپے فی ڈرم ہے۔دیہی علاقوں میں راشن کی دکانوں میں ڈھلائی کا یہی خرچ تقریباً 100روپے فی ڈرم ہے۔ یہی حال گیہوں اور دیگر اشیاءکا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *