ایک تھے جارج فرنانڈیز

ایک تھے جارج فرنانڈیز جنھوں نے سماجوادی تحریک کو ہندوستان میں ڈاکٹر لوہیا کی قیادت میں مدھو لمیے کے ساتھ مل کر ایک شکل دی، سماجوادی تحریک نے ہندوستانی سیاست میں قیادت کرنے والے ایسے اشخاص کوپیدا کیا، جنھوں نے اپنے ابتدائی دنوں میں عام آدمی اور اس کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے کافی جدو جہد کی۔ جارج فرنانڈیز ہمارے درمیان ہیں،لیکن ان کی زندگی آج ایسے موڑ پر پہنچ گئی ، جو کتنی ہے کتنی نہیں ہے پتہ ہی نہیں۔ ایک زندہ دل شخصجس کی زندگی سے عبارت جدو جہد کی ایک طویل داستان ہے، آج بے جان کھلونا سابن گئے ہیں۔
جارج فرنانڈیز ک ڈاکٹر لوہلیا جارج کہہ کر بلاتے تھے اور یہی ان کا مختصر نام مشہور ہو گیا۔ جارج نے 20سال کی عمر کے بعد اپنے کو عام آدمی ، مزدور اور غریبوں کے دکھ سے جوڑ لیا، اس وقت کے بمبئی کے بیسٹ کی لڑائی اور اس میں جارج کی قیادت میں جیت نے جارج کو مزدوروں کا مسیحا بنا دیا۔ سماجوادی تحریک بیشک ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی۔لیکن جارج کی تحریک تقسیم نہیں ہوئی۔ جہاں مزدور وہاں جارج ۔ بہار تحریک آئی اور جارج اس میں کود پڑے۔ ہندوستان میں پہلی بار تین دنوں کی مکمل ریل ہڑتال انہی دنوں ہوئی۔جارج کی قیادت میں ریل م لازمین نے ریل پٹری پر تین دنوں تک ریل نہیں چلنے دی۔ 1975میں ایمر جنسی کا نفاذ ہوا، جارج نے انڈر گراﺅنڈ ہو کر ایمر جنسی مخالف تحریک کو منظم کیا۔ مشہور بڑودہ ڈائنامائیک سانحہ ہوا، جارج فرنانڈیز پکڑے گئے، جیل میں رہتے ہوئے لوک سبھا کا انتخاب جیتے اور 1977میں مرکزی وزیر بنے۔ کوکا کولا کو ہندوستان سے جانے پر مجبور کیا تاکہ ہندوستانی مشروبات کو بازار مل سکے۔کئی بار مرکزی وزیر رہے، حالات نے انہیں اٹل جی کے ساتھ جوڑا۔ مرکزی حکومت کے وہ مرد بحران ثابت ہوئے۔ جارج نے لوگوں کی ترقی میں بھرپور تعاون کیا۔ شاید ہی کوئی ایسا ہو جو یہ کہے کہ اسے جارج کا تعاون نہیں حاصل ہوا آج کانگریس، جنتا دل اور سماجوادی پارٹی سمیت ہر پارٹی میں اہم شخص بحیثیت سربراہ ہ اور انہیں ہمیشہ پریشانی میں جارج کی مدد ملی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج جب جارج کو مدد کی ضرورت ہے تو یہ سبھی خاموش ہیں۔ جارج ’الزائمر‘ نامی بیماری کی گرفت میں ہیں اور چھٹی اسٹیج میں ہیں۔ اس بیماری کا شکار شخص اپنی یادداشت کھو دیتا ہے اور بتدریج کھانا نگلنا بھی بھول جاتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ایسے شخ کواسی جگہ رکھنا چاہئے جس جگہ سے وہ بخوبی واقف ہو۔اس کے آس پاس وہ لوگ رہیں جنہیں وہ پہلے دیکھتا رہا ہو۔ اس کا بستر ویسا ہی رکھنا چاہئے جیسا وہ کرکھتا تھا۔اس سے ان سب کو ملنا چاہئے جن سے وہ ملتا رہا ہو، لیکن آج جارج کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
اس سے پہلے کہ آگے کی بات کہیں آپ کو بتا دیں کہ جارج کی ذاتی زندگی کافی تکلیف دہ رہی ہے۔ انھوں نے کانگریسی رہنما ہمایوں کبیر کی بیٹی لیلیٰ کبیر سے شاید کیلیکن لیلیٰ کبیر بھی لیلیٰ جارج فرنانڈیز نہیں بن پائیں۔ ان کا ایک ان اکڑ و دیگر وجوہات کی بنا پر ایک بیٹا ہونے کے بع دونوں علیحدہ ہو گئے۔25سال لیلیٰ کبیر جارج سے جدا ہو کر غیر ممالک میں رہیں اور کبھی جارج کی زندگی میں نہیں جھانکا۔
جارج کا کنبہ ان کے ساتھی بن گئے۔ جارج کے ساتھیوں میںمرداور خواتین دونوں ہی رہیں، جارج نے سبھی کے ساتھ قابل احترام رشتہ رکھا۔ذاتی زندگی میں جارج کی سادگی کا یہ عالم رہا کہ ان کا گھر ہمیشہ ان کی جدو جہد اور ان کی پارٹی کا مرکز رہا۔25سالوں تک جارج کی زندگی عمومی رہی۔سینکڑوں دوست اور مداح رہے، جو ان سے ہمیشہ ملتے رہتے تھے۔ایسا نہیں کہ جارج کو دھوکے نہیں ملے، سیاست میں بھی ملے اور پارٹی میں بھی ملے۔ کچھ تو ایسے تھے، جنہیں جارج نے بنانے میں سب سے لڑائی لڑی۔مگر بننے کے بعد انھوں نے جارج کو ہی کنارے کرنے کی کوشش کی۔
جارج کی گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد بری حالت ہو گئی تھی۔ ان کے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ممبئی کی یونین کے ساتھیوں نے ان کے لئے حوض خاص میں ایک مکان خریدا تھا، مگر مکان کا ٹائٹل یونین کے نام تھا۔اس یونین نے جارج کو مکان میں نہ آنے دینے کی کوشش کی۔ جارج کے دوست ان کے لئے کرائے کا مکان تلاش رہے تھے۔تبھی نتیش کمار نے انہیں بہار سے راجیہ سبھا کے لئے بھیج دیا، یہ نتیش کاجارج کے تئیں احترام تھا،کیونکہ تین ماہ قبل ہی جارج نتیش اور شرد یادو سے الگ ہو لوک سبھا انتخاب لڑے تھے اور ہار گئے تھے۔
جارج کی بیماری بڑھ رہی تھی، وہ چھٹی اسٹیج میں آ گئی ۔ اس کی صرف سات اسٹیج ہوتی ہیں۔ نتن گڈکری آخر بڑے لیڈر تھے، جو جارج سے بی جے پی صدر بننے کے بعد ملنے آئے تھے۔ جارج اپنے لان میں ان کے ساتھ ٹہلے اور مراٹھی میں ان سے بات چیت کی۔ اس دور میں جیہ جیٹلی جارج کے ساتھ مسلسل رہیں اور ان کی دیکھ بھال ایک بچے کی طرح کرتی رہیں۔ جارج اپنی چھوٹی بڑی ہر ضرورت کے لئے ان پر انحصار کرتے تھے۔جارج کاعلاج ایمس کے دو ڈاکٹر گزشتہ د سالوں سے کر رہے تھے۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں جارج ٹوتھو¿ پ سے لے کر ہوائی جہاز کے ٹکٹ تک کے لئے اپنے انہیں ساتھیوں پر انحصار کرتے تھے۔اچانک خبر آئی کہ بنگلور میں جارج کی ماں کے نام ایک اراضی ہے ، جو اس لئے خریدا گیا تھا کہ ضعیفی میں جارج وہاں رہ کر عوامی خدمات انجام دیں گے۔جارج کے بھائیوں نے اس پر سے اپنا حق واپس لے لیا اور وہ زمین جارج کو مل گئی۔ اس زمین کو فروخت کرنے سے 16کروڑ روپے ملے، جس میںٹیکس کٹنے کے بعد 13کروڑ روپے ان کے کھاتے میں آ گئے۔
اب جارج کروڑ پتی ہو گئے، لیکن ان کی یادداشت ان کا ساتھ چھوڑ رہی تھی۔ اچانک لیلیٰ کبیر، لیلیٰ فرنانڈیز بن کر ہندوستان آ گئیں، ان کے ساتھ ان کا بیٹا بھی تھا۔ جارج انہیں دیکھ کر برہم ہو گئے۔جارج نے کبھی لیلیٰ کو پسند نہیں کیا، ان کے ہزاروں ساتھی اس بات کو جانتے ہیں ،ملک کا ہر لیڈر اسے جانتا ہے کہ جارج کی حالت بالکل بچے جیسی ہو گئی ہے۔ جارج کے گھر میں جھگڑا ہوا۔ لیلیٰ کبیر کے بھائی التمش کبیر سپریم کورٹ میں جج ہیں۔ہمارے معاشرہ میں جب کسی کا بھائی،بھتیجا بڑے عہدہ پر ہو تو وہاں دہشت کا ماحول بن جاتا ہے۔لیلیٰ کبیر جارج کو لے کر بابا رام دیو کے آشرم پہنچ گئیں۔ وہاں جارج کچھ دن رہے۔ بابا رام دیو نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے جارج کو بولنے کے قابل بنا دیا ہے۔ اب جارج کو لیلیٰ کبیر دہلی واپس لائی ہیں اور انہیں اپنے مکان میں رکھا ہے۔
یہاں جارج کے لئے سب اجنبی ہیں۔ان کے ساتھ 25سالوں سے رہ رہے لوگ نہیں ہیں، بستر نہیں ہے، کتابیں نہیں ہیں، ان کے پالتو جانور نہیں ہیں، دیواریں نہیں ہیں۔یہاں ہے تو لیلیٰ،جنہیں جارج نے کبھی پسند نہیں کیا۔ ان کے ڈاکٹر ان سے الگ کر دیئے گئے ہیں۔ جنھوں نے دسیوں سال ان کا علاج کیا۔کون ڈاکٹر ان کا علاج کر رہا ہے پتہ نہیں۔ ان سے اب کوئی مل نہیں سکتا۔ وہ روتے ہیں یا ہنستے ہیں، پتہ نہیں۔ ان کے سیاسی کارکان بے بس ہیں۔سمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں کہ کیا کریں۔
کیا یہ ڈاکٹروں کی رائے کے خلاف جارج کے ساتھ ظلم نہیں ہے؟ کیا یہ جارج کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟کیا یہ جارج سے ناراض پچیس سالوں سے الگ رہی بیوی کا بدلا تو نہیں ہے؟کیا جارج کو طلاق نہ لینے کی سزا تو نہیں مل رہی ہے؟آخر کیوں جارج سے ان کے سیاسی کارکنان کو ملنے نہیں دیا جارہا ہے؟
جارج کے کچھ ساتھی اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، مگر وہ پس و پیش میں ہیں کہ کہیں اس سے بیان بازی نہ شروع ہو جائے۔کیا زندگی بھر سیاست میں رہنے والا، اعلیٰ قیادت کا حصہ بنا رہا شخص اتنا بے بس ہو گیا ہے کہ ان کے ساتھی جو آج سیاست میں بڑے عہدوں پر ہیں ،اسے اکیلا چھوڑ دیں؟ جارج نے اپنا ایک منتخب خاندان بنایا، جس نے ان کا ساتھ کل تک دیا، مگر آج وہ خاندان رو رہا ہے۔ جارج فرنانڈیز کی زندگی کی یہ ٹریجڈی اس سے پہلے کہیں دیکھی سنی نہیں گئی۔ ملائم سنگھ یادو، شرد یادو، نتیش کمار، برج بھوشن تیواری، موہن سنگھ سمیت تمام سماجوادی اور انسانی حقوق میں یقین رکھنے والے لوگ آج خاموش کیوں ہیں؟ حکومت خاموش ہے اور عدالت بھی اس کی خبر نہیں لے رہی ہے؟ جارج کا علاج ایک میڈیکل بورڈ کرے اور انہیں ان کے ساتھیوں سے ملا جائے۔ ہمیں بھروسہ نہیں کہ ایسا ہوگا۔ وہ راجیہ سبھا ممبر بھی ہیں۔ کیا راجیہ سبھای بھی کچھ نہیں کر سکتی؟اگر کچھ نہیں ہو پاتا تو افسوس رہے گا ۔ اس لئے افسوس کے ساتھ ہمیں ان کے رہتے ہوئے ہمیں لکھنا پڑ رہا ہے کہ ایک تھے جارج فرنانڈیز۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *