دو بوند زندگی کی : پولیومہم خود پولیو کا شکار

اتر پردیش کولوگ اکثر الٹا پردیش کہہ کراس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن، یہ ایک تلخ حقیقت ہے ۔آج ساری دنیا کو پولیو جیسی بیماری سے نجات دلانے کے لئے بے تحاشہ اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن یہ بڑی عجیب بات ہے کہ اتر پردیش میں پولیو کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ پولیو بیداری مہم کے تئیں ریاستی حکومت کی لاپروائی نہیں تو آخر کیا ہے؟ معلوم ہوا کہ وزیر اعلیٰ مایاوتی کے انتخابی حلقہ رہ چکے امبیڈ کر نگر میں گزشتہ دنوں سڑک پر ایک پولیو پیکٹ پڑا ملا، جس پر’کٹوئی ‘ لکھا ہوا تھا۔ ظاہر ہے، یہ دوا’ کٹوئی علاقہ‘ کے لئے تھی۔ اتنا ہی نہیں، باغ پت ضلع کے بنولی بلاک کے’ گھنورا سلور نگر گاﺅں‘ میں پولیو دوا پلانے کے کچھ دیر بعد ہی عبد الرحیم کے ڈیڑھ ماہ کے بچے فرحان کی موت ہو گئی۔ وزیر خاندانی بہبود بابو سنگھ کشواہا کو پلس پولیو مہم کا معائنہ کرنے کی فرصت تک نہیں ہے۔ راجدھانی لکھنو¿ میں ایک سوئم سیوک تنظیم نے جب اس مہم کے تحت غلط دوا پلانے کی شکایت کی اورگواہوں سمیت کی، تب چار ملازمین پر کارروائی کی گئی۔ مہم سے وابستہ لوگوں کی حفاظت بھی ایک مسئلہ ہے۔ بدایوں ضلع کے پرمانند گاﺅں میں شرابیوں نے پولیو کی دوا پلانے جا رہی خاتون ٹیم پر حملہ بول دیا۔ ٹیم نے کسی طرح گاﺅں کے مکھیا کے گھر میں چھپ کر اپنی جان بچائی۔انٹر نیشنل ہیلتھ آرگنائزیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش میں پولیو سے متاثر 15معاملات سامنے آئے ہیں۔جو سبھی کے سبھی پی تھری کے معاملے ہیں۔ علی گڑھ میں تین، غازی آباد، میرٹھ، مظفر نگر اور بلند شہر میں دو-دو، بدایوں، گوتم بدھ نگر، متھرا اور ہاتھرس میں پی تھری پولیو کے ایک ایک معاملے سامنے آئے ہیں۔ یہ رپورٹ 2009کے لئے گئے نمونوں کی جانچ پر مشتمل ہے۔کل تک یہ کہا جاتاتھا کہ ایسے بیشتر معاملے غیر تعلیم یافتہ مسلم فرقہ میں پائے جاتے ہیں، لیکن جو نئے معاملات روشنی میں آئے ہیں، ان میں زیادہ تر ہندو فرقہ کے لوگ ہیں۔محکمہ خاندانی بہبود پولیو مہم پر ہر ماہ اوسطاً 50لاکھ روپے خرچ کر رہا ہے۔ محکمہ کی کوشش رہتی ہیں کہ کسی طرح اعداد و شمار میں اضافہ کر کے پولیو کے معاملے کم سے کم دکھائے جائیں۔ سوا سال کے ایک بچے’ اسلام‘ کا معاملہ ہی لے لیں۔’ اسلام‘ کے پولیو سے متاثر ہونے کی بات پتہ چلتے ہی تین اضلاع یعنی لکھنو¿، بارہ بنکی اور غازی آباد کا محکمہ صحت اس کوشش میں لگ گیا کہ کیسے تمام تر ذمہ داری دوسروں پر ڈالی جائے ۔’ اسلام‘ اس وقت لکھنو¿ میں فیض آباد روڈ پر ریلوے اسٹیشن کے پاس جھگی جھوپڑی میں اپنے والد کانشی رام کے ساتھ رہتا ہے، جو بنیادی طور سے بارہ بنکی کے رہنے والے ہیں۔ بچے کا ننہال غازی آبادکے لونی علاقہ کا ہے۔
گزشہ ایک دہائی میں ملک بھر میں پولیو کے 2000معاملے روشنی میں آ چکے ہیں۔ اتر پردیش اور بہار تو سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں شامل ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا پولیو اورل ویکسین پوری طرح محفوظ اور پولیو وائرس کو بھگانے میں کارگر ہے؟ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو ڈراپ پلانا مشکل ہے۔ اس میں کبھی بچوں کی صحت مانع آتی ہے تو کبھی دوسرے اسباب۔ اس لئے ہر پلس پولیو مہم میں بچوں کو دوا ضرور پلانی چاہئے۔
دو دہائی قبل 1988میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے دنیا کوپولیو سے آزاد کرانے کا خواب دیکھا تھا۔ اب تک 211ملکوں کا تو یہ خواب پورا ہو چکا ہے۔ ان میں نیپال اور بنگلہ دیش بھی شامل ہےں۔ لیکن، ہندوستان میں تو وہی مثال ہوگئی ’ کہ مرض بڑھتاگیا جیوں جیوں دوا کی‘ ۔پولیو کے نام پر گزشتہ 15سالوں کے دوران سرکاری خزانہ کو جم کر لوٹا گیا ہے۔ 1995سے 2000کے درمیان’ پولیو سے بچاو¿ ‘ مہم میں قابل ذکر تیزی آئی تھی۔ سال 2001میں پولیو متاثرین کی تعداد 216تھی ۔جبکہ 2002میں 1241،2003میں 24اور 2004میں5۔ ایک بار تو ایسا لگنے لگا تھا کہ اب اتر پردیش کو پولیو سے نجات ملنے ہی والی ہے، لیکن 2007میں 135مریض ملنے کے بعد سرکاری ادویات کی قلعی کھل گئی۔ تفتیش میں معلوم ہوا کہ کئی دیہی علاقوں میں ڈراپ کی جگہ پانی پلا کر فرض ادا کردیا گیا۔ ’سورو بلاک‘ کے پرائمری ہیلتھ سینٹر پر پولیو دوا کی ایک وائل سے 40سے زائد بچوں کو دوا پلا دی گئی۔ جبکہ ایک وائل سے زیادہ سے زیادہ 17بچوں کو دوا پلائی جا سکتی ہے۔مہم سے جڑے’ پون کمار‘ کہتے ہیں، ویکسین کی کولڈ چین کے سبب ہمیشہ سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ گاﺅں میں بجلی نہ ہونے کے سبب کولڈ چین برقرار نہیں رہ پاتی اور ویکسین بے اثر ہو جاتی ہے۔پر ان سبھی باتوں میںکوئی منطق نہیں ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO)کی جانب سے پولیو ویکسین رکھنے کے لئے آئیس لینڈ ریفریجریٹر ( آئی ایل آر) کا بندوبست کیا گیا ہے، جو بجلی جانے کے 48گھنٹے بعد تک کولڈ چین بنائے رکھتا ہے۔ کم بجلی سپلائی والے علاقوںمیں جنریٹر کا بندوبست کیا گیا ہے۔
سال 2002میں ملک میں جو 1600معاملے سامنے آئے، ان میں1240اتر پردیش کے تھے۔ طبی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 2002میں عوامی تحفظ میں کمی ہونے سے پولیو کی شکایات میں اضافہ ہوا۔ یہ کمی تبھی ہوتی ہوتی ہے، جب بڑی تعداد میں بچوں کو بہت کم بار پولیو ویکسین ملتی ہے۔مراداباد
ڈویژن کی حالت سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ محکمہ صحت کے افسران نے بتایا کہ 15سالوں سے چل رہی پولیو مہم کے کوئی بہتر نتائج نہیں نکل سکے۔انھوں نے کہا کہ محکمہ کے ذمہ دیئے گئے چیچک مہم کو صد فیصد نتائج کے بعد 1974میں بند کر دیا گیا تھا۔ لیکن’ پولیو بچاو¿ ‘ مہم نوکر شاہی کے حاوی ہونے کے سبب کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے۔ 15دنوں کا’ جے ای ٹیکا‘ پروگرام 7دنوں میں مکمل کر لیا گیا کیونکہ افسران کا فرمان یہی تھا ۔ جبکہ 14لاکھ بچوں کو محض 7 دن میںٹیکے لگنا ممکن نہیں ہیں۔ ریاست کے سابق وزیر صحت ڈاکٹر’ اروند کمار جین ‘کہتے ہیں کہ ابھی تک اسی ویکسین سے کام لیا جا رہا ہے، جس کی عادت پولیو وائرس کو ہو گئی ہے۔ اگر پولیو پر قابو پانا ہے تو نئی ویکسین کے ساتھ ساتھ نئے سرے سے کام شروع کرنا ہوگا۔ ویکسین پر سوال اس لئے کھڑے ہو رہے ہیں کہ مہوبا میں تین بار ڈراپ پینے والا بچہ بھی پولیو کا شکار ہو گیا۔ ادھر سہارنپور میں بھی پولیو کا ایک معاملہ روشنی میں آیا ہے۔ انتظامیہ نے یہاں کے گنگوہ تھانہ کے تحت کنڈال کلاں، نیا کنڈاں، گھٹم پور، ڈھلا ولی، خان پور اور بالو وغیرہ علاقوں کو اس نظریہ سے حساس مانا ہے ۔ وہاں پر پولیو ڈراپ کے علاوہ’ بی سی جی‘ اور ’ڈی پی ٹی‘ کے ٹیکوں کا بھی بندوبست کیا جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *