امر سنگھ کی نئی حکمت علی

ٹھاکر امر سنگھ اپنی نئی پارٹی بنا رہے ہیں۔ بے حدخاموشی سے تمام کاموں کو انجام دیا جا رہا ہے۔پارٹی کے رجسٹریشن کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔نئی پارٹی کے قومی صدر کے طور پر امر سنگھ کا نام الیکشن کمیشن کو بھیجا جا چکا ہے۔ان کے علاوہ جو اہم نام اس پارٹی میں شمولیت کے لئے ہیں، وہ ہیں راجیہ سبھا کے سابق رکن اور مسلمانوں میں اپنی سیکولر شناخت بنا چکے مولانا عبید اللہ خاں اعظمی، یہ لالو یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل سے ممبرپارلیمنٹ رہ چکے ہیں اور اب کانگریس میں شامل ایک بے حد اثرو رسوخ والے لیڈر ہیں۔امر سنگھ کی نئی پارٹی مسلمان، یادو اور راج پوت برادری یعنی ان تینوں پر مشتمل ہوگی۔ملک کی سیاسی تاریخ میں طبقاتی برادری کا یہ پہلا استعمال ہوگا، جس میں راجپوت لیڈروں کی گروہ بندی مسلمان اور یادو لیڈران کے ساتھ ہوگی۔عبید اللہ خاں اعظمی ان دنوں اپنی اپنی پارٹیوں کے رویہ سے ناراض بہار اور اتر پردیش کے تمام یادوں،مسلمانوں اور راجپوت لیڈران سے مل کر انہیں امر سنگھ کی پارٹی میں آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔یہ وہ لیڈر ہیں، جن کی سماج میں کافی اہمیت اور نام ہے۔بہار میں ایسے لیڈروں کویکجا کرنے کا ذمہ اسی یادو لیڈر کو دیا گیا ہے ۔وہ جب لالو یادو کی پارٹی میں تھے تو بہار میں ان کا سکہ چلتا تھا۔بہار کے اس یادو لیڈر اور مولانا عبید اللہ خاں اعظمی کے زور پر ٹھاکر امر سنگھ فروری کے آخری ہفتہ میں بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ایک شاندار کنونشن کرنے کی تیاری میں ہیں۔یہ کنونشن ایک طرح سے امر سنگھ کی طاقت کا مظاہرہ بھی ہوگا، تاکہ جب بہار میں اکتوبر میں اسمبلی انتخابات ہوں،تو اس سے پہلے ہی انہیں اپنی جوڑ توڑ کی سیاست کا اندازہ اچھی طرح ہو جائے۔ امر سنگھ کی منشا ہے کہ ان کے اس تجربہ کی ابتدا بہار سے ہو۔ یہی نہیں وہ تو پہلے ہی وار میں بہار کا قلعہ فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ ٹھیک اس کے بعداتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔تب تک امر سنگھ اپنی سیاسی حکمت عملی کو اچھی طرح آزما لینا چاہتے ہیں، تاکہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کا مظاہرہ بے مثال ہو سکے اور وہ اپنے پرانے خیر خواہوں اور چاہنے والوں کو مکمل جواب دے سکیں۔آئندہ لوک سبھا انتخابات تک امر سنگھ ملک کی سیاست میں تارے کی طرح چمکنے کی حسرت رکھتے ہیں۔
نئی پارٹی کی تشکیل میں امر سنگھ پوری ہوشیاری سے کام لے رہے ہیں ۔وہ اپنی پارٹی کے ذریعہ سوشلزم کی ایک نایاب مثال پیش کرنا چاہتے ہیں۔راجپوت، یادو اورمسلمانوں کی گروہ بندی کی اسکیم تو چل ہی رہی ہے، ساتھ ہی دلتوں اور اقلیتی طبقات پر بھی ڈورے ڈالے جا رہے ہیں۔ کبھی اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کے خلاف آگ اگلنے والے ٹھاکر صاحب اب ان کی تعریف میںرات دن قصیدے پڑھ رہے ہیں۔بہن جی کی قابلیت کے وہ قائل ہوچکے ہیں اور یہ کہنے لگے ہیں کہ انھوں نے ہر مشکل وقت میں خود کو ثابت کیا ہے ۔ آج سونیا گاندھی بھی ان کی نظر میںعظیم ہو چکی ہیں۔مولانا عبید اللہ خاں اعظمی اپنی مذہبی تقریر کے لئے خوب مشہور ہیں۔ وہ جب جلسوں میں بولتے ہیں تو ہزاروں کی تعداد میںلوگ انہیں گھنٹوں سنتے ہیں۔ان کی تقاریر کے کیسٹ،سی ڈی بازاروں میں فروخت ہوتے ہیں۔ پہلی بار مولانا صاحب کو سابق وزیر اعظم وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کے کہنے پر راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو نے راجیہ سبھا کا رکن بنایا۔پھر مولانا اعظمی کانگریس میں شامل ہو گئے۔ کانگریس نے انہیں مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا میں بھیجا۔دوبارہ وہاں گنجائش نہ دیکھ کر مولانا اعظمی نے ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی جوائن کر لی۔لیکن یہاں بھی ان کی دال نہیںگلی۔سماجوادی سربراہ نے انہیں گھمایا ،ٹہلایا تو بہت، مگر ان کی خواہشیں پوری نہیں کیں۔انہیں راجیہ سبھا کا ممبر نہیں بنایا،لیکن اس درمیان وہ اور پارٹی کے اس وقت کے جنرل سکریٹری امر سنگھ ایک دوسرے کے دوست ضرور بن گئے۔اب جبکہ دونوں کو ہی ایک دوسرے کی ضرورت تھی، ایسی صورت میں امر سنگھ کے استعفے کے بعد مولانا صاحب نے بھی ملائم سنگھ کا ہاتھ چھوڑا اور امر سنگھ کاہاتھ تھام لیا۔اور، اب وہ امر سنگھ کی ہدایات کے مطابق پارٹی کو نئی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ویسے بھی پارٹی میں انہیں امر سنگھ ہی لے کر آئے تھے۔وہ بہار اور پردیش کے ناراض لیڈروں کے مسلسل رابطہ میں ہیں۔’چوتھی دنیا‘ کے پاس جن لیڈروںکے نام کی فہرست آئی ہے، ان میں سر فہرست ہیں سابق ممبر پارلیمنٹ اور کانگریس لیڈر سادھو یادو،سابق آر جے ڈی کے ممبر پارلیمنٹ پپو یادو، سابق جے ڈی یو ممبر پارلیمنٹ پربھو ناتھ سنگھ، آر جے ڈی لیڈر گردھاری یادو، آر جے ڈی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر تسلیم الدین، آر جے ڈی چھوڑ کر سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے والے اور اب خود کی پارٹی بنا کر سیاست کرنے والے ممبر اسمبلی ددن سنگھ یادو، انوا ر الحق ،رمئی رام وغیرہ کے ناموں کی طویل فہرست ہے۔اس کے علاوہ کانگریس کے ناراض لیڈران سے بھی بات چیت چل رہی ہے۔ بی جے پی، جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے لیڈروں کی سیاست پروان چڑھ رہی ہے۔اب سوال بس یہی ہے کہ تمام پارٹیوں کے منتخب لیڈروں کو ملا کر امر سنگھ کی نئی پارٹی مکمل ہو پائے گی؟
امر سنگھ ان تمام لیڈروں پر چھاپ چھوڑنے کی اہم ذمہ داری کانگریس لیڈر سادھو یادو کو دینا چاہتے ہیں حالانکہ سادھو یادو اس خبر کو بالکل غلط قرار دے رہے ہیں۔ وہ کانگریس کے تئیں اپنی وفاداری ظاہر کرتے ہیں، مگر ان کی موجودہ رہائش ’15جن پتھ‘ پر مولانا عبید اللہ اعظمی کا آنا جانا بدستور جاری ہے۔دراصل سادھو یادو بہار میں اکثریت رکھنے والے لیڈر کی شکل میں جانے جاتے ہیں۔آر جے ڈی صدر’ لالوپرساد یادو‘ کے سالے کے طور پر سادھو یادو نے اپنا سیاسی سفر کا آغاز کیا، مگر رفتہ رفتہ سادھو یادونے اپنی ایک الگ شناخت بنا لی۔لالو کے کندھے پر پیر رکھ کر چھلانگ لگائی اور رشتوںمیں آئی تلخی سے وہ کانگریس میں شامل ہو گئے۔لیکن سادھویادو کا پارٹی بدلنا ان کے رائے دہندگان کو راس نہیں آیا اور وہ لوک سبھا الیکشن میں شکست کھا گئے۔ہارنے کے بعد بھی سادھو یادو کے ساتھ ان کے حامیوں کی جو اکثریت ہے ، اس میں یادو، مسلمان، براہمن،راج پوت لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔علاوہ ازیں سادھو یادونے اپنی شناخت جنوب میں بھی بنانی شروع کر دی ہے۔وہاں کے یادوں کی بھی حمایت سادھو یادو کو حاصل ہونے لگی ہے۔بہار میں لالو یادو سے دشمن ہونے یا اتر پردیش میں ملائم سنگھ یادو سے دودو ہاتھ کرنے میں سادھو یادو سے بہتر نعم البدل امر سنگھ کو دکھائی نہیں دے رہا ہے۔حالانکہ سادھو یادو کی شبیہہ ایک جرائم پیشہ اور اثر و رسوخ والے لیڈر کی رہی ہے، لیکن یہ شبیہہ طبقاتی وجوہات سے کہیں دب کر رہ گئی ہے۔امر سنگھ اس تاک میں ہیں کہ قومی سطح پر وہ ایک علاقائی لیڈر کے طور پر اپنی شناخت قائم کرلیں۔مولانا اعظمی مسلمان لیڈر اور سادھو یادو، یادوں کے لیڈر کی شکل میں اپنی ساکھ بنائیں۔دلت ووٹوں کو بٹورنے کے لئے اتر پردیش کے ایک بڑے دلت لیڈر سے بات چیت آخری مرحلوں میں ہے۔بہار میں راجپوت برادری کا ووٹ تقریباً5فیصد، مسلمانوں کا 11فیصد اوریادووں کا 18فیصد ہے۔ امرسنگھ کی نظر اسی ووٹ بینک پر ہے۔امر سنگھ چاہتے ہیں کہ ملک کی سیاست میں راجپوتوں کی برتری ہو، تاکہ آنے والے دنوں میں ایک پارٹی کے صدر کے طور پر امر سنگھ کی سماجی شناخت بنی رہے۔ اسکے لئے وہ سابق جے ڈی یو لیڈر اور آزادممبر پارلیمنٹ دگوجے سنگھ سے بھی ساز باز کرناچاہتے ہیں۔لیکن فی الحال دگوجے سنگھ خاموشی اختیار کئے بیٹھے ہیں۔ انہیں اس بات کا شبہ ہے کہ کہیں امر سنگھ کا استعمال ناکام رہا تو ان کی سیاسی شبیہ مسخ ہو سکتی ہے ہے۔لیکن اتنا ضرورہے کہ اگر امر سنگھ کی حکمت عملی بہار میں کامیاب رہتی ہے اور فروری کے آخری یا مارچ کے ابتدائیہفتہ میں پٹنہ میں ہونے والا ان کا کنونشن کامیاب رہتا ہے تو دگوجے بھی امر سنگھ کے ساتھی بن سکتے ہیں، لیکن ایک بات جو طے ہے، وہ یہ کہ جے ڈی یو کے باغی لیڈرپر’بھو ناتھ سنگھ‘ امر سنگھ پارٹی میں اہم عہدہ سنبھالنے جا رہے ہیں۔ ’پربھو ناتھ سنگھ‘ بہارکی سیاست میں خاصے معنی رکھتے ہیں۔ وہ راجپوت برادری کے بے حد چہیتے لیڈر ہیں۔چھپرا، سیوان، گوپال گنج، بیتیا، موتی ہاری، ساسا رام ، سریکھے، بھوج پوری زبانی علاقوں میں پربھو ناتھ سنگھ کی ساکھ بے حد مضبوط ہے۔پربھو ناتھ سنگھ گزشتہ طویل عرصہ سے بہار کے وزیر اعلیٰ سے بے حد خفا ہیں۔ وہ کھلے عام انہیں للکار رہے ہیں۔ آمنے سامنے کی لڑائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔امر سنگھ جانتے ہیں پربھو ناتھ سنگھ نتیش کمار اور ان کی پارٹی جے ڈی یو کا کتنا بڑا نقصان کر سکتے ہیں۔لہٰذا بہار میں اپنی نئی پارٹی کے پیر جمانے کے لئے وہ پربھو ناتھ سنگھ کا استعمال بخوبی کریں گے۔ ساتھ میں رمئی رام دلت لیڈر کا ساتھ بھی امر سنگھ کی پارٹی کو بڑا فائدہ پہنچائے گا۔ اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ راج پوت ، یادو اور مسلمانوں کی امر سنگھ کی یہ تگڑی بہار اسمبلی انتخابات میں لالو یادو یا دیگر لیڈروں کو کتنا نقصان پہنچائے گی۔ خاص طور پر مسلم ووٹرس کی توجہ کس جانب زیادہ مرکوز ہوگی۔آر جے ڈی میں مسلمان چہرے کی شکل میں صرف عبد الباری صدیقی ہیں۔ صدیقی کہنے کو تو مسلم لیڈر ہیں، مگر ان کی پکڑ بہار کی مسلم برادری پر اتنی گہری نہیں، جو لالو یادو کا بیڑہ پار لگادے۔’ایل جے پی ‘میں ان دنوں ویسے بھی پہلے سے لیڈروں کا فقدان ہے۔اس لئے مسلمانوں کے نام پر کوئی جانی پہچانی شخصیت پارٹی میں موجود نہیں ہے۔ کانگریس ابھی اپنی جڑ تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ جے ڈی یو میں کوئی بڑا نام ہے ہی نہیں۔ اور بی جے پی کا ویسے بھی مسلمان لیڈران سے واسطہ نہیں رہتا۔ ایسی حالت میں مولانا عبد اللہ خاں اعظمی یقینی طور پر مسلمانوں کے بڑے لیڈر کے طور پر بہار کے ساتھ ساتھ اتر پردیش میں بھی امر سنگھ کی پارٹی کو مضبوط کریں گے۔ ویسے بھی مذہبی رہنما ہونے کے ناطے مولانا اعظمی مسلمان برادری میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں اور یہ بات امر سنگھ کی پارٹی کے لئے سنجیونی کا کام کرے گی۔ مطلب کہ راج پوت ، مسلمان، یادووں کی براری کو عمل بنا کر امر سنگھ تمام برادری میں پہنچنا چاہتے ہیں اور پارٹی کی جڑ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔اس کی خاطر ٹھاکر امر سنگھ کوئی کمی نہیں چھوڑنا چاہتے۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی پارٹی کی تعمیر نیچے سے کرنے کے بجائے اوپر سے کرنا شروع کی ہے۔یہ بات بھی دیگر ہے کہ نئی پارٹی کی تشکیل میںاخراجات بھی بہت ہیں۔اس میں بھی تب، جبکہ پارٹی میں جانے مانے بڑے لیڈران کو شامل ہوناہے۔ اب پارٹی صدر ہونے کے ناطہ یہ سارا انتظام کرنا تو ٹھاکر صاحب کو ہی ہے، مگر انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں۔ وہ تمام انتظامات بخوبی کر رہے ہیں۔ان کی ہر ممکن کوشش یہی ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات کے بعد بہار میں جوحالات سامنے آئیں، ان میں ان کی پارٹی کے ہاتھ میںسرکار بنانے کی چابی ہو۔وہ فیصلہ کن کردار میں ہوں۔بہار میں اگر یہ فتح حاصل ہو گئی تو آئندہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی پرانے دوست ملائم سنگھ یادو کے مقابلہ چناوی اکھاڑے میں اترنے کا دم بھر سکتی ہے۔یقینا اس کا نتیجہ آئندہ لوک سبھا الیکشن میں بھی دیکھنے کو ملے گا، لیکن فی الحال تو یہ دیکھنا ہے کہ امر سنگھ اپنی پارٹی کے ذریعہ بہار میں جو نئی سیاسی طاقت پیدا کرنا چاہ رہے ہیں، وہ کس کا نقصان کرے گی۔ لالو کا ؟ نتیش کا؟یا کانگریس کا؟اس کے لئے کم سے کم امر سنگھ کی پارٹی کے پہلے کنونشن کا انتظار توکرنا ہی ہوگا۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *