تعلق بوجھ بن جائے تو۔امر سنگھ اور ملائم الگ کیوں ہوئے

ملائم سنگھ اور امر سنگھ کی علیحدگی کی کہانی میں کئی حقائق پوشیدہ ہیں۔ آپس میں غیر یقینی ہے، غلط فہمیاں ہیں، حسد ہے،خواہشات ہیں،آرزو¿یں ہیں، سازشیں ہیں، غم ہے، درد ہے اور بے بسی ہے۔ملائم سنگھ اور امر سنگھ کے علاوہ اس کہانی کے اہم کردار ہیں موہن سنگھ، اعظم خاں اور رام گوپال یادو۔ بعد میں تو جیسے پوری سماجوادی پارٹی ہی اس کہانی کے اہم کرداروں میں تبدیل ہو گئی۔ امر سنگھ 14سال تک ملائم سنگھ کے ہمسفر رہے، مگر ان 14سالوں میں گزشتہ پانچ سال ایسے گزرے جس میں نظر تو وہ آئے ساتھ ساتھ، مگر ہر کسی کو انکی اس دوستی پر شک تھا۔ کسی کو نہیں معلوم کہ پہلا پتھر کس نے پھینکا، مگر آج دونوں طرف سے پتھروں کی بارش ہو رہی ہے۔ تعلقات جب ٹوٹتے ہیں، تو وہ کتنے نفرت انگیز ہوتے ہیں، اسے ہم آج امر ملائم کے معاملے میںدیکھ رہے ہیں۔
ملائم سنگھ وزیر اعلیٰ تھے تو امر سنگھ ان کے دائیں بازو۔’ادھیو گ وکاس پریشد‘ بنا، توانھوں نے ملک کے بڑے بڑے سرمایہ داروں کو ملائم سنگھ سے جوڑا اور امید پیدا کی کہ اتر پردیش میں سب سے زیادہ اندراج ہوگا۔ کسانوں کے سوال پر ملائم سنگھ کا وی پی سنگھ سے اختلاف ہو گیا۔ وی پی سنگھ نے ملائم سنگھ کے خلاف سخت مہم چھیڑ دی اور کسانوں اور ان کی زمین کو اہم مدعا بنایا۔الیکشن آئے اور مایاوتی جیت گئیںاور وزیر اعلیٰ بنیں۔
اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد سماجوادی پارٹی کی میٹنگ ہوئی۔پارٹی کے لیڈر اس شکست کے لئے امر سنگھ کو ذمہ دار تصور کر ر ہے تھے اور عام کارکنان مان رہے تھے کہ اگر ملائم سنگھ نے وی پی سنگھ کے مطالبات مان لئے ہوتے تو کسانوں اور عام لوگوں کے درمیان ان کی مخالفت نہ ہوتی اور وہ وزیر اعلیٰ بنے رہتے۔ انہیں لگ رہا تھا کہ امر سنگھ کی صلاح پر ملائم سنگھ نے سخت اور کسان مخالف رخ اختیار کیا تھا۔
اس میٹنگ میں پہلی بار موہن سنگھ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو ناچنے والوں کی پارٹی بنا دیا گیا ہے، جس کے سبب شکست ہوئی ہے۔ماحول غمگین اور غم وغصہ سے بھرا ہوا تھا، جیسے الفاظ موہن سنگھ نے استعمال کئے، امر سنگھ کے اوپر یہ شاید پہلی بار سخت الفاظ کی بارش تھی، جس سے وہ تلملا گئے تھے۔ امر سنگھ کو ایسا لگا کہ ان کی جان بوجھ کر بے عزتی کی جا رہی ہے۔
موہن سنگھ کی تقریر کے پیچھے ملائم سنگھ کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ گزشتہ سات سالوں میں سماجوادی پارٹی کے تمام لیڈران کو لگ رہا تھا کہ ملائم سنگھ ان کی بات نہیں سنتے ہیں۔ پہلے راج ببر، پھر بینی پرساد ورما اور بعد میں اعظم خاں، سبھی کو لگا کہ ان کی رائے کی کوئی قیمت ملائم سنگھ کے سامنے نہیں ہے۔ عام کارکنان کوئی بات کہیں یا پارٹی کے لیڈر، سبھی کو لگتا تھا کہ ملائم سنگھ فیصلے لیتے ہیں، مگر انکی رائے سے نہیں۔ یہاں تک کہ فیصلہ لینے سے پہلے رائے مشورہ بھی نہیں کرتے۔اسمبلی میں شکست کا واحد ذمہ دار سماجوادی پارٹی کے اندر امر سنگھ کو مانا جانے لگا۔
پہلے سماجوادی پارٹی میں بحثیں ہوتی تھیں، کیمپس لگتے تھے، یہاں تک کہ پارٹی کے اخراجات کے لئے تمام اضلاع سے چندہ جمع ہوتا تھا۔ اس وقت انتخابات میں بڑی رقم امیدواروں کو نہیں مل پاتی تھی۔ امر سنگھ کے آنے کے بعد سماجوادی پارٹی کے لئے کئی نئے راستے کھلے۔ پہلا راستہ یہ کھلا کہ قومی سطح کے دوسرے اہم سیاست دانوں کے ساتھ بات چیت کرنے والا ایک پر اعتماد شریک کار ملائم سنگھ کو مل گیا۔ دوسری جماعتوں سے بات چیت ، تال میل، حکمت عملی اور حمایت کا ذمہ پہلے ملائم سنگھ خود سنبھالتے تھے۔اور انہیں ہمیشہ ایک ایسے ساتھی کی سخت ضرورت رہتی تھی، جو ان کے سیاسی مفادات کی دیکھ بھال کر سکے۔امر سنگھ نے اس خالی جگہ کو پر کر دیا۔انھوں نے بڑی مہارت سے ملائم سنگھ کو قومی افق چمکادیا ۔
اتنا ہی نہیں، انھوں نے سماجوادی پارٹی کے ساتھ ملک کے بڑے بڑے سرمایہ داروں کو جوڑا تو دوسری جانب فلموں سے بھی لوگوں کو لائے۔ سماجوادی پارٹی کے پاس اب ایسا لیڈر تھا جو تنہا اپنے بل پر لوگوں کو اپنی جانب کھینچ سکتا تھا، بعد میں یہ کام راج ببر نے کیا۔ اب اس میں جیہ پردا، جیہ بچن اور سنجے دت بھی شامل ہو گئے۔سماجوادی پارٹی سے وابستہ پرانے سماجوادیوں کو لگا کہ ملائم سنگھ تو ان سے دور ہو ہی گئے۔پارٹی بھی سوشلزم سے دور چلی گئی۔لیکن وہ دور جیت کا تھا، اس لئے بول کوئی نہیں رہا تھا ۔امر سنگھ کے پاس خبریں آ رہی تھیں کہ سماجوادی پارٹی کے لیڈروں کے درمیان ان کی کافی مخالفت ہو رہی ہے انہیں یہ برا بھی لگتا تھا۔ ان کا م کہنا تھا کہ جب کسی چیز کی ضرورت ہو تو ان سے توقع کی جائے ، جب بھیڑ کھینچنے کی ضرورت ہو تو جیہ پردا یا جیہ بچن کو بلایا جائے اور بعد میں بندکمروں میں انہیں کوسا بھی جائے یہ کہاں کا انصاف ہے
ملائم سنگھ کے خاندان کے تمام اہم لو گ پا رٹی کے اہم عہدوں پر ہیں اور اسمبلی یا لوک سبھا میں بھی ہیں۔ان سب کی ہی ابتدا میں تو امر سنگھ سے کافی قربتیں رہیں لیکن سیاست بڑی بے وفا شے ہے۔ ایک چھوٹے طبقہ نے ملائم سنگھ کے خاندان کے لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ امر سنگھ نے ملائم سنگھ کا بہانہ لے کربہت پیسہ جمع کیا ہے ۔اتنا ہی نہیں، خاندان سے یہ بھی کہا کہ ملائم سنگھ کے وزیر دفاع رہتے ہوئے سکھوئی سمیت جتنے بڑے سودے ہوئے ہیں، ان میں امر سنگھ نے جو پارٹی کے نام پر لیاہے، وہ ان کے پاس آنا چاہئے۔
پیسہ ایسی شے ہے، جو بڑوں بڑوں کے درمیان نفرت پیدا کر دیتا ہے۔یہی لوگ امر سنگھ کے پاس جا کر کہتے کہ ملائم سنگھ کا پورا کنبہ آپ پر پیسہ جمع کرنے کی بات کہہ رہا ہے۔ امر سنگھ منھ پھٹ اور بناءکسی لاگ لپیٹ کے بولنے والے انسان ہیں۔ ان کے ردعمل کافی تیکھے ہوتے تھے،جسے اور تیکھا بنا کر خاندان کے لوگوں کے درمیان یہ لوگ پہنچاتے تھے۔نتیجہ میں امر سنگھ اور رام گوپال یادو جو کبھی ساتھ ساتھ گھومتے تھے رفتہ رفتہ یہ حال ہوگیا کہ ان میں فون پر بھی بات چیت بند ہو گئی
امر سنگھ نے اپنی ناراضگی ملائم سنگھ سے نہیں چھپائی اور بارہا بتایا کہ ان کے خلاف کیا رام گوپال یادو نے کہا ہے اور کیا اکھلیش یادو نے ۔ ملائم سنگھ یادو نے کئی بار رام گوپال یادو اور اکھلیش یادو سے معافی بھی منگوائی۔جبکہ دونوں نے کہا کہ انھوں نے امر سنگھ کے خلاف وہ باتیں نہیں کہیں، جنہیں امر سنگھ بتاتے ہیں، اس کے باوجود ملائم سنگھ نے نہ صرف ان دونوں پر،بلکہ پارٹی کے دوسرے لیڈران پر بھی دباﺅ ڈال کر امر سنگھ سے معافی مانگنے کے لئے کہا۔
آگ لگانے والوں نے ملائم سنگھ کے خاندان کو کامیابی سے سمجھا دیا کہ نوئیڈا کی زمین امر سنگھ نے بلڈروں اور پیسے والوں کو دلوا دی ہے۔نوئیڈا دہلی سے جڑا اتر پردیش کا صنعتی علاقہ ہے، جہاں زمین کا ملنا سونا ملنے جیسا ہے۔ نوئیڈا ایک اہم سبب ہے، جس نے ملائم سنگھ کے خاندان کو امر سنگھ سے نہ صرف دور کر دیا، بلکہ ان کا مخالف بنا دیا۔ ملائم سنگھ نے بیس دن پہلے اپنے کئی ساتھیوں سے کہا بھی کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کب امر سنگھ نے پورا کا پورا نوئیڈا بیچ ڈالا۔
اتر پردیش اسمبلی کی شکست اور لوک سبھا انتخابات کے درمیان امر سنگھ کی قسمت کا سماجوادی صفحہ بند کرنے کا فیصلہ لیا جا چکا تھا۔ ملائم سنگھ کے خاندان کے رخ نے پارٹی کے تمام لیڈران کو اشارہ دے دیا کہ اب امر سنگھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امر سنگھ صرف پیسہ لانے کی مشین ہیں، ووٹ نہیں دلوا سکتے۔ ان پر پارٹی کے لیڈران چھینٹا کشی کرنے لگے کہ کہیں سنیما کے لوگوں سے ووٹ ملتا ہے؟ سماجوادی پارٹی بغیر جدوجہد کے جیت نہیں سکتی اور امر سنگھ نے جدوجہد کو سالانہ جلسوں کے انعقاد کرنے اور فلمی ہستیوں کے ملن میں تبدیل کر دیا ہے۔
لیکن ملائم سنگھ نے امر سنگھ کا ہمیشہ دفاع کیا اور انہیں اطمنان دلایا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور پارٹی میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ امر سنگھ یقین اور غیر یقینی کے درمیان جھولتے رہے۔انہیں وہ لوگ جو ملائم سنگھ کے خاندان کے پاس سے بیٹھ کر آتے تھے، سمجھانے میں کامیاب ہو گئے کہ ملائم سنگھ خاندان کا دباﺅ نہیں جھیل پائیں گے۔
اعظم خاں اور موہن سنگھ نے امر سنگھ کو لے کر سوال اٹھانے شروع کئے۔، امر سنگھ کے کارناموں ، ان کے تعلقات کولے کرافواہیں گردش کرنے لگیں۔ جیہ پردا بری طرح اسکی زد میں آ گئیں۔ ہندوستانی سیاست میں اگر کوئی خاتون آگے بڑھتی ہے تو بڑی تعداد میں لوگ ماننے لگتے ہیں کہ اس کا راستہ کسی خواب گاہ سے نکل کر آسان ہوا ہے۔ہندوستان کی سیاسی ذہنیت کییہ افسوسناک، گھناﺅنی اور تلخ حقیقت ہے، جو خواتین کو سیاست میں آنے سے ہمیشہ رکواتی ہے۔ خواتین سے آگے آ گے ان کی بدنامی چلتی ہے۔’ جیہ پردا‘ کو لے کر اڑائی گئی افواہوں کو امر سنگھ برداشت نہیں کر پائے ۔ ’جیہ پردا‘ کا نام پارٹی لیڈران نے اپنے ساتھ ویسے ہی چٹخارے لے کر جوڑنا شروع کر دیا جیسے فلم میں ہیرو یاڈائریکٹر کرتے ہیں۔ افواہوں میں کوئی پیچھے نہیں رہا،نہ ملائم سنگھ، نہ رام گوپال یادو، نہ اکھلیش یادو ۔
لوک سبھا انتخابات سے قبل سماجوادی پارٹی کی مجلس عاملہ کی قومی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں امر سنگھ آئے اور انہوں نے تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ لمبا خطاب کیا۔ اس خطاب میں انھوں نے سخت سے سخت زبان کا استعمال کیا اور پارٹی کے لوگوں سے کہا کہ سبھی ان سے پیسہ لیتے ہیں، مصیبت میں ہر طرح کی مدد مانگتے ہیں اور انہیں گالی بھی دیتے ہیں۔ امر سنگھ نے کہا کہ انھوں نے انتخابات کے لئے ہمیشہ ڈھائی سو کروڑ کے قریب روپیہ جمع کیا، پارٹی کے لوگ اس کا دس فیصد بھی جمع کر کے دکھا دیں۔ انھوں نے غصہ سے کہا کہ’ جیہ پردا‘ کو رنڈی کہتے ہیں اور الیکشن میں تشہیر کے لئے بلانے پر ہاتھ پیر جوڑتے ہیں۔انھوں نے صاف کہا کہ وہ وہی کرتے ہیں، جو ملائم سنگھ کہتے ہیں۔ امر سنگھ نے ہر جملہ میں سماجوادی لفظ کو طعنے کی طرح استعمال کیا اور کہا کہ پارٹی کے لئے سب کچھ کرنے والے لوگ سماجوادی نہیں اور جو کچھ نہ کرکے صرف باتیں بناتے ہیں، وہ سماجوادی ہیں۔ اس مجلس عاملہ میں امر سنگھ کے غصے، ان کی زبان نے اشارہ دے دیا کہ دوری بہت بڑھ چکی ہے۔ امر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ پیسہ لینا ہو تو انل امبانی ٹھیک، اور عوام سے خطاب کرنا ہوتو انل امبانی کو گالیاں۔ امر سنگھ نے اپنی اس تکلیف کو بھی نہیں چھپایا کہ لوگ انہیں انل امبانی کا سیاسی کاروباری نمائندہ بتاتے ہیں۔ انھوں نے ملائم سنگھ پر بھی الزامات کی بارش کردی اور آخر میں اپنے استعفے کااعلان کر دیا اس سے پہلے انھوں نے کہا کہ وہ اگر تمام باتیں کھل کر بتا دیں تو بہت سے لوگ بے نقاب ہو جائیں گے۔
ملائم سنگھ نے امر سنگھ کے خطاب کے بعد نرم لہجہ میں کہا کہ آپ نے تمام باتیں پارٹی کے سامنے رکھ دیں۔ وہ باتیں بھی جو نہیں رکھنی چاہئے تھیں۔ اب پارٹی اس پر اپنا رخ بتائے۔ ملائم سنگھ کے نزدیکی چار پانچ لوگوں نے کہا کہ امر سنگھ کے استعفے کا سوال ہی نہیں ہے۔ کیونکہ مجلس عاملہ میں سبھی کو اپنی باتیں رکھنے کا حق ہے۔ پارٹی کے لیڈران کو اشارہ چلا گیا کہ ملائم سنگھ نہیں چاہتے کہ امر سنگھ کے خلاف اور کچھ ہو۔ سبھی خاموش ہو گئے۔ ملائم سنگھ نے کہا کہ پارٹی میں جمہوریت ہے اور پارٹی کی بات ماننی چاہئے۔ استعفے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔دراصل یہی مجلس عاملہ کی میٹنگ تھی، جس نے امر سنگھ کو احساس دلا دیا کہ ان میں اور پارٹی میں دوریاں بڑھ گئی ہیں۔ملائم سنگھ کو احساس دلایا کہ امر سنگھ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور پارٹی کے لیڈران کو احساس دلایا کہ وہ چاہیں تو ملائم سنگھ کو امر سنگھ سے الگ کر سکتے ہیں۔ امر سنگھ گردے کے علاج کے لئے سنگا پور گئے۔ سماجوادی پارٹی میں یہ بات شروع ہو گئی کہ کیسے مایاوتی کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے جدوجہد کی جائے۔ اس درمیان امر سنگھ کو دیکھنے ملائم سنگھ کے خاندان سے، ملائم سنگھ سمیت تقریباً15لوگ سنگا پور گئے۔ لیکن امر سنگھ جس ایک ممبر کو سنگا پور میں دیکھنا چاہتے تھے، وہ سنگا پور نہیں گیا۔
رام گوپال یادو ملائم سنگھ کے بھائی ہیں۔رام گوپال یادو کو سماجوادی پارٹی میں خوش مزاج اور سمجھدار شخص مانا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ معلومات میں بھی ان کا کوئی جواب نہیں ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں دہلی سے تعلقات میں ملائم سنگھ ان کے مشورہ پر انحصار کرنے لگے تھے۔رام گوپال یادو ،وہ وا حد شخص ہیں، جو ملائم سنگھ سے بے جھجھک ، بغیر ڈر کے باتیں کر سکتے ہیں۔ رام گوپال یادو نے ملائم سنگھ یادو کو اسمبلی انتخابات کے بعد پارٹی کے لوگوں کی رائے بتانی شروع کر دی۔ملائم سنگھ کو پارٹی میں پھیلی بے اطمینانی کے ساتھ متعدد طرح کے شک بھی ظاہر کئے۔
رام گوپال یادو نے شبہ ظاہر کیا کہ کچھ اور لیڈران پارٹی چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ امر سنگھ نے سنگاپور سے لوٹنے کے بعد بھی اپنی بیباک اور تلخ تنقیدیں بند نہیں کیں۔ ڈمپل یادو کی شکست کو انھوں نے ملائم سنگھ کے خاندان کی انتہا سے زیادہ بڑھی ہوئی خود اعتمادی کہا، جو شکست کا سبب بنی
رام گوپال یادو نے ملائم سنگھ یادو کو مطلع کئے بغیر خود ہی کہہ دیا کہ کوئی بھی شخص پارٹی سے اوپر نہیں ہے۔امر سنگھ نے اسے اپنے اوپر حملہ مانا اور سمجھ لیا کہ آخری گنتی شروع ہو گئی ہے۔عام بیانات شروع ہو گئے۔ امر سنگھ نے اس بات عام طور سے استعفے کا اعلان کر دیا۔
ملائم سنگھ اس سلسلہ سے پریشان تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ امر سنگھ اور ان کی پارٹی الگ ہوں۔انھوں نے کوششیں کیں، عام طور سے امر سنگھ کے خلاف کوئی تنقید نہیں کی۔اتنا ہی نہیں، انھوں نے رام گوپال یادو کے اوپر دباﺅ ڈالا کہ وہ امر سنگھ سے اظہار معذرت کریں۔رام گوپال یادو نے ایسا کیا بھی ، مگر امر سنگھ نے اسے عام کر دیا، اور کہا کہ رام گوپال یادو نے مجھ سے معافی مانگی ہے۔
اس فون کال کا عام ہونا سماجوادی پارٹی میں زلزلہ کا سبب بنا۔رام گوپال یادو، اکھلیش یادو، شیو پال یادو نے مل کر یہ واضح کر دیاکہ وہ امر سنگھ کے ساتھ رہنے کی جگہ سیاست سے الگ ہونا پسند کریں گے۔پارٹی کے تمام لیڈر رام گوپال کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ فون پرپارٹی لیڈران اور کارکنا ن نے ملائم سنگھ سے کہنا شروع کر دیا کہ وہ امر سنگھ کا استعفیٰ منظور کر لیں۔ ادھر امر سنگھ کی حمایت میں سنجے دت جیہ پردا، جیہ بچن اور منوج تیوار ی کھل کر آ گئے۔ رام گوپال یادو کو لگاکہ اگر جلدی کارروائی نہیں ہوئی تو کچھ ممبر ان ا سمبلی بھی امر سنگھ کے ساتھ جا سکتے ہیں، کیونکہ امر سنگھ کے پاس پیسہ ہے۔
سیاست میں گزشتہ سالوں میں دوجوڑیاں ہمیشہ موضوع گفتگو رہیں تھیں۔ایک ملائم سنگھ یادو اورامر سنگھ کی اور دوسری نتیش کمار اور راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ کی۔دونوں ہی جوڑیاں ٹوٹ گئیں۔امر سنگھ بہار سے نئی سیاسی پاری کا آغاز کرنے والے ہیں، جس میں للن سنگھ ان کے سیاسی شریک کار بننے جا رہے ہیں۔
ملائم سنگھ یادو نے پارٹی کو دوبارہ جدوجہد کے راستہ پر لے جانے کا فیصلہ لیا ہے۔ وہ ہرروز آج کل سو سے زائد لوگوں سے مل رہے ہیں۔ دوسری جانب ملائم سنگھ نے اوم پرکاش چوٹالہ کے علاوہ پرکاش کرات اور وردھن سے بھی رابطہ کیا ہے۔ ملائم سنگھ ایک بار پھر غیر بی جے پی، غیر کانگریس گٹھ جوڑبنانا چاہتے ہیں، جس کے لئے وہ بایاں بازو والی جماعتوں کے علاوہ لالو یادو، رام ولاس پاسوان، چندربابو، جے للتا اور چوٹالہ کے مسلسل رابطہ میں ہیں۔
رام گوپال یادو کے پاس اب یہ ذمہ داری آئی ہے کہ وہ اس گٹھ جوڑ کو شکل دیں۔ پارٹی میں انھوں نے سماجوادیوں برج بھوشن تیواری، موہن سنگھ اور سنیلم کو اہم ذمہ داریاں دی ہیں۔
ایک صلاح امر سنگھ کو اور ایک صلاح ملائم سنگھ کے ساتھیوں کو دینا چاہتے ہیں۔ سیاست میں ساتھ چھوٹنے کا مطلب انسانی رشتوں کا خاتمہ نہیں ہوتا۔الگ تو لوہیا اور جے پرکاش بھی ہوئے تھے۔وی پی سنگھ اور چندرشیکھر بھی ہوئے تھے۔یہاں تک کہ چندر شیکھر اور ملائم سنگھ بھی الگ ہوئے تھے۔ ویسی ہی انکساری دکھانی چاہئے۔ ہمارے پاس دونوں فریقین کے لیڈان کی زبان اور موضوع دونوں ہی ہیں، لیکن دونوں ہی لکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ ہم نے صرف اشارہ دیا ہے۔ بازار میں افواہیں سرگرم ہیں کہ امر سنگھ کے پاس ملائم سنگھ سے جڑی سی ڈی ہے تو ملائم سنگھ کے پاس امر سنگھ کی بد عنوانی کے ثبوت۔افواہیں ہی فساد کراتی ہیں،دونوں فریقین کوافواہوں کے جال میں نہیں پھنسنا چاہئے۔ورنہ ایسی حالات پیدا ہو جائیں گے جو صرف تماش بینوں کا مزہ دوبالا کرینگے ۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *