آچاریہ رام مورتی زندہ تاریخ ہیں

آچاریہ رام مورتی ہمارے درمیان ہیں اور اسی شدت کے ساتھ ہیں جیسے 1954میںتھے۔ 1938میں لکھنو¿ یونیورسٹی سے ایم اے تاریخمیں فرسٹ ڈویژن سے پاس ہو کر انھوں نے بنارس کے کوئنس کالج میں درس و تدریس کا کام کیا۔1954میں کالج کی نوکری چھوڑ کر وہ شری دھریندر مجمدار کے بلانے پر شرم بھارتی کھادی گرام مونگیر (بہار)پہنچے۔جہاں انھوں نے محنت مزدوری زندگی سے متعلق تعلیم اور سادہ زندگی جینے کے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کی۔یہاں انھوں نے گاندھی جی کے خیال کے مطابق نئی تعلیم کا مشق اور تدریس کا کام شروع کیا۔آچاریہ رام مورتی کی بہتر زندگی کی شروعات کھادی گرام سے ہوئی۔ آچاریہ ونوبابھاوے کی زمینی تقسیم ہم کے سلسلہ میں انھوں نے مونگیر ضلع کا پیدل سفر کیا۔ جس کے ذریعہ انھوں نے زمینی تقسیم مہم کا خیال اور زمین سے محرومیت دور کرنے کے لئے باقاعدہ گھر گھر جا کر لوگوں کو بیدار کیا۔آچاریہ نے نے تفرقہ بازی اور فرقہ وارانہ کوششوں کو کم کرنے یا انہیں ختم کرنے کے لئے کئی کوششیں کیں،جن میںبڑھیا( مونگیربہار)میں باغیوں کو خود سپردگی کے لئے تیار کرنا اور ان کا خود کو سپرد کرنا خاص تھا۔ وہ سروودیہ آندولن کے کیندریہ سنگٹھن سیوا سنگھ کے صدر بھی بنے۔ سروودیہ آندولن کی لٹریچر نئی تعلیم اور زمینی تقسیم کاعمل گاﺅں کی آواز کی رہنمائیآچاریہ جی نے کی جہاں انھوں نے گاﺅں کی بغاوت، طرز تعلیم اور سماج، جے پی کی وراثت، بھارت کا اگلا قدم:لوک تنتر سمیت کئی کتابیں لکھیں۔ آچاریہ رام مورتی بنیادی طور پر ایک معلم ہیں اور انھوں نے اپنی ساری زندگی سماج کو تعلیم دینے میں گزاری۔1974میں جب جے پرکاش جی نے بدعنوانیوں کے خلاف طلبا کا ساتھ دیا اور انہیں رہنمائی سوپنے کا فیصلہ کیا تو آچاریہ جی اس میں کود پڑے۔ آچاریہ ونوبابھاوے اس مہم کو صحیح نہیںمانتے تھے، لیکن آچاریہ جی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس مہم کو کامیاب بنانے میں جان لگا دی۔ آچاریہ جی بہار کے گوشے گوشے میں گئے اور انھوں نے بنیادی خیالات کی جڑیںمضبوط کیں۔ جے پرکاش جی نے مکمل انقلاب کے خیال کو جب ملک کے سامنے اس مہم کے ذریعہ 1975میں رکھا تو آچاریہ جی نے اس کے بنیادی خیال کو ہر جگہ جاکر سمجھایا۔آچاریہ رام مورتی کی زبان اتنی شستہ،سہل اورلوجیکل ہوتی تھی کہ لوگ حیران رہ جاتے تھے۔ آج بھی آچاریہ جی کی زبان اتنی ہی شیریں، پیاری، لوجیکل، سیدھی اور سہل ہے کہ بغیردماغ پرزور ڈالے آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔
سروودیہ آندولن کے کئی بڑے رہنما چلے گئے لیکن ابھی ٹھاکر داس بنگ نارائن دیسائی اور آچاریہ رام مورتی ہمارے درمیان ہیں۔ آچاریہ را م مورتی نے دھریندر مجمدار اور جے پرکاش جی کے ساتھ آزاد ہندوستان کے گاﺅں،ان کی مکمل آزادی کا خواب دیکھا تھا ا س کے لئے انھوں نے اپنی ساری زندگی عوام کی تربیت میں صرف کر دی۔ اب جب جسم پوری طرح ساتھ نہیں دے رہا ہے تو کبھی پٹنہ تو کبھی کھادی گرام میں رہتے ہیں۔ وی پی سنگھ جب وزیر اعظم تھے تو انھوں نے آچاریہ جی کو گورنر بنانے کی پیش کش کی تھی،لیکن آچاریہ جی نے اسے قبول نہیں کیا اور تعلیم کے میدان میں کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔تب وی پی سنگھ نے انہیں نیشنل ایجوکیشنل ایڈوائزر کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داری سونپی۔ انکی رپورٹ طرز تعلیم میں انقلاب کے نظریہ سے بے حد اہم ہے۔آج آچاریہ جی کی عمر 97سال ہو گئی توکیا وہ اپنی عمر کے آخری ایام میں خاموش بیٹھے ہیں اور صرف وقت گزار رہے ہیں؟ عام آدمی کے طور پر اس کا جواب ہاں ہی ہو سکتا ہے، لیکن ایسانہیںہے۔ آچاریہ جی نے جنوری 2010میں اپنی نئی کتاب لکھی ہے”مہیلا شانتی سینا“ شانتی کی نئی سنسکرتی کے لئے ایک ودھایک اور رچناتمک کرانتی۔97سالکی عمر میں بھی سماج کے لئے سوچنے اور سوچتے رہنے کے ساز و سامان اور سوال کھڑے کرنے والا شخص ہم سب کے سلام کا حقدار ہے۔
2002میں آچاریہ جی نے ایک نئی شروعات کی، انہیں گاندھی کی ایک بات یاد آئی، جب آزادی ملنے میںکچھ د ن باقی تھے تو ایک دن صحافیوں نے گاندھی جی سے پوچھا:انگریزوں کے جانے کے بعد کون سا کام پہلے کرنا چاہیں گے؟گاندھی جی کا جواب تھا : ڈیموکریسی کو آگے بڑھانا۔آچاریہ جی نے اسی نکتے کو اپنا راستہ بنایا۔
سماجی کارکن سیاسی پارٹیوں کے لیڈر آچاریہ جی سے ملتے رہتے تھے، وہ ان کی عزت و احترام بھی کرتے تھے،لیکن ساتھ دینے کا وعدہ نہیںکرتے تھے۔ سروودیہ اور سویم سیوی تنظیمیں بھی خاموشی بھرا جواب دیتی تھیں۔آچاریہ جی نے ایک کوشش پنچایتی راجیہ کے پنچ پر کی۔ انہیں پنچایتی راج سسٹم کے اندر تبدیلی کی ایک امید نظر آئی، کیونکہ خواتین کوایک تہائی ریزرویشن پنچایتی راجیہ کی ہر سطح پر ملا ہے۔آچاریہ جی کا ماننا ہے کہ خواتین میں خلق و تخلیق کی بے انتہا قوت پوشیدہ ہوتی ہے، وہ پنچایتی راجیہ کے ایشوکو گاﺅں سے لے کر صوبائی سطح تک جلسہ و جلوس میں جاتے رہے اور اپنی بات رکھتے رہے۔
27فروری 2002کو مہاویر اور بدھ کی سرزمین ویشالی میں دس ہزار لوگوں کا مجمع اکھٹا ہوا، جسے ویشالی سبھا کا نام دیا گیا۔ یہاں خواتین مہیلا شانتی سینا کا علامیہ جاری کیا گیاہے۔ یہ سبھا تاریخی تھی،جس میں پانچ ہزار سے زائد خواتین شریک ہوئیں۔ اس جلسہ کے بعد مہیلا شانتی سنیا کی تعلیم و آسام ،اروناچل،منی پور، تریپورہ اور اڑیسہ تک پھیل چکی ہے۔یہ کتاب آچاریہ جی کے ذریعہ بولے گئے ،لکھے گئے مضامین اور سوالات و جوابات کا بے مثل مجموعہ ہے۔آیئے آپ کو جھلک دیتے ہیں:”جس طرح کے فکری اور آئینی انقلاب کی ضرورت ہے وہ انہی لوگوں سے شروع ہوگی جو تہذیب کی سطح پر حضرت انسان کی ترقی کو کچھ دور تک دیکھ سکتے ہیں“
”غیر مستقل پر سکون زندگی اور مستقبل پر سکون زندگی کی ہندوستان کی دنیا کو ایک تحفہ ہوگا اور اس کا سہرا مہیلا شانتی سنیا کو ملے گا بغیر نہیں رہے گا“”شانتی کی سنسکرتی ایک رچناتمک آندولن ہے، جو عام رائے کی طاقت پربھروسہ کرتا ہے اورمروجہ اکثریت کے ساتھ پوری طرح تعاون کر کے ترقی کی سطح پیدا کرنا چاہتا ہے، کیونکہ اس کا یقین ہے کہ بدلاﺅ سے پہلے شہریوں کا ہونا چاہئے اوراس کے بعد این جی اوز اور تنظیموں کا‘”بات ایک مہم کے کامیاب ہونے کی نہیں ہے، بلکہ ایک نئی انسانی تہذیب کی تخلیق کی ہے۔حالات کی باریکی کو جو لوگ نہیں سمجھیں گے وہ چاہتے ہوئے بھی انقلاب کا حصہ نہیں بن سکیں گے“”اب بندوق اور تلوار کے بھروسے بدلاﺅ کی کوشش ہمیشہ کے لئے چھوڑ دینی چاہئے۔ انسان کو آج تک جو سکھایا گیاہے اسے بھولنے کے لئے وقت دینا ہی پڑے گا اور تربیت کی سیڑھیاں بنانی پڑیں گی،جس پر آدمی آہستہ آہستہ چڑھ سکے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض انسانوںمیں سیڑھیوں پر آہستہ آہستہ چڑھنے کے بعد چھلانگ لگانے کی قوت آ جائے“۔پونجی سے ترقی ہوگی وہ کچھ ہی لوگوں کے لئے ہوگی ، پورے سماج کے لئے نہیں ہوگی، پورے سماج کو خیال میں رکھ کر بدلاﺅ لانے کی بات ہو تو بیشک بنیادی طورپر تبدیل کرنی پڑے گی“۔”آج کی پنچایت کا مقصد غیر مستقل زندگی کو سدھارنے اور ترقی کرنے کا ہے۔ پنچایت راج پاور کا حصہ نہیں ہے،بلکہ پنچایتی حلقہ آزاد شہریوں کا حلقہ ہے، اس میںمساوات ہے ،برابری ہے،حصہ داری ہے، جن کے د ل میں سماج میں بدلنے کی، کچھ کرنے کی چاہ ہے انہیں آچاریہ رام مورتی کے پاس جانا چاہئے اور ان کے تجربہ اور عقل و خرد سے سیکھنا چاہئے۔97برس کی عمر میں ہندوستان کے سماجی اور سیاسی تاریخ کے زندہ اور سب سے بااعتماد شخصیت کے پاس جاناچاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ کیوں خواب پورے نہیںہوتے؟کیوںلوگ چلتے تو منزل کی طرف ہیں، مگر کیوں بھٹک جاتے ہیں؟ لے سکیںتو وہ طاقت بھی ان سے حاصل کرنی چاہئے کہ کیسے 97برس کی عمر میں بھی دماغی اور جسمانی طور سے چست درست رہا جاتا ہے۔ آچاریہ رام مورتی اس وقت ہمارے ملک میںتنہا زندہ تاریخ ہیں اور پر امن تبدیلیوں کی زندہ لائبریری ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *