اف، یہ مہنگائی!

ظفر آغا

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت دہلی کے بازاروں میں گھی تقریباً 250روپے فی کلو گرام کے نرخ پر فروخت ہو رہا ہے۔جی ہاں چونکئے مت، یہ ہم آپ کو دیسی گھی کی قیمت نہیں بتا رہے ہیں ۔ یہ اسی ڈالڈا گھی کا بھاو¿ ہے۔ جسے ہمارے بزرگ کھانا بھی پسند نہیں کرتے تھے ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ گھی مہنگا ہوا تو کیا فرق پڑتا ہے سرسوں کے تیل میں کھانا بنا کر کام چلا لیا جائے گا۔ لیکن، سرسوںکا تیل بھی کوئی کوڑیوں کے مول نہیں ہے۔ یہ بھی اس وقت 70-75روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔
جانے بھی دیجئے گھی-تیل کی بات! اس ملک کے عام آدمی کو گھی تیل کب چاہئے؟ وہ تو آٹا، دال اور چاول سے پیٹ بھر کر خوش رہنے کا عادی ہو چکا ہے۔لیکن اب آٹا، دال اور چاول بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہرہو رہے ہیں۔ بازار میں آٹا تقریباً 25روپے فی کلو، تھوڑی بہتر کوالٹی کا چاول 40روپے فی کلو اور ارہر جیسی روزمرہ استعمال میں آنے والی دال 100روپے فی کلو گرام کی قیمت میں فروخت ہو رہی ہے۔ اجی چھوڑئے، ہم ہندوستانی ٹھہرے مست مولا قسم کے انسان۔ ایک پیالی چائے پی کر بھی گزارا کر سکتے ہیں۔لیکن چائے پر گزارا کرنے کے فیصلے سے قبل چینی کی قیمت بھی ضرور پتہ کر لیجئے گا۔ دہلی میں آج کل چینی کی قیمت تقریباً 50روپے فی کلو ہے۔ اگر آپ 50روپے فی کلو کی چینی خرید کر خود کو چائے سے نہیں گرماسکتے تو دن بدن اشیاءکی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے اپنا خون کھولائیے اور اسی طرح خود کو بھی گرم رکھئے۔
ہم نے خون کھولانا یہاں محاورے کے طور پر نہیں استعمال کیا ہے۔ وہ عام آدمی، جس کی بہبود کا بیڑہ یو پی اے حکومت نے انتخابات میں لیا تھا۔اس کا خون اب بے شک کھول رہا ہے۔وہ خواہ گھی ،تیل ہویا آٹا دال یا پھر چینی چاول دن بدن تمام اشیاءعام آدمی کی پہنچ سے باہرہو تی جا رہی ہیں۔ ہماری کالونی کے گارڈ سورج کمار کا کہنا ہے کہ” صاحب، چار ہزار روپے ہماری تنخواہ ہے۔ اس میں کرایہ کیسے دیں اور پیٹ کیسے پالیں؟ اب سمجھ میں نہیں آتا۔ گاﺅں سے جو دال چاول لائے تھے، وہ بھی اب ختم ہونے والا ہے“سورج جیسے کروڑوں ہندوستانیوں کو آج یہی فکر ہے۔ وہ آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتوں میں اپنا پیٹ پالیں تو پالیں کیسے؟ سورج اور اس کے جیسے کروڑوں لوگ بھلے ہی متفکر ہوں، مگر وزیر زراعت شرد پوار کو بڑھتی قیمتوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔ کسی صحافی نے پوار سے سوال کر لیا کہ آخر چینی 50روپے کلو کیوں فروخت ہو رہی ہے؟ اس پر ان کاجواب تھا کہ اس کے لئے مایاوتی ذمہ دار ہیں۔ چینی دہلی، ممبئی، حیدرآباد اور چنئی میں 50روپے فی کلو اور ذمہ دار ہیں بے چاری مایاوتی ! یہ بھی بھلا کوئی بات ہوئی۔
ایک شرد پوار کیا، حکومت میں کسی سے بھی پوچھو تو یہی جواب ملتا ہے کہ بڑھتی قیمتیں تو گلوبل فینومنایعنی سارے عالم کا مسئلہ ہے۔ ایسا کون ہے، جو یہ نہیں جانتا کہ گزشتہ سال ملک کے کچھ حصوں میں سوکھا پڑا تھا۔ اناج کی پیداوار کم ہوئی تھی۔ پھر پوری دنیا میں اناج کی قیمتیں بڑھیں۔ اس بات کی خبر کیا حکومت کو نہیں تھی۔ وزیر خوراک ،وزیر زراعت اور پی ایم او سبھی کے پاس یہ اعداد و شمار تھے کہ کن حصوں میں مانسون نہ آنے کے سبب ملک کے کتنے حصوں میں اشیائے خوردنی کی کمی در پیش آسکتی ہے۔ کیا یہ سمجھنے کے لئے کہ جب کچھ اشیا ءکی کمی پڑے گی تو اس کی قیمتیںبڑھیں گی۔ کسی بڑے اشتہار کا علم ضروری ہے؟ وہ عام آدمی بھی، جس کے حقوق ومسائل کو حل کرنے کا ڈنکا پیٹتی ہوئی یہ سرکار اقتدار میں آئی ہے وہ تک اچھی فصل نہ ہونے پر یہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ اس بار وز مرہ کی اشیاءکی قیمتیں ضرور بڑھیں گی۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ بات ہمارے ملک کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو سمجھ میں نہیں آ رہی کہ بازار کا کیا حال ہے اور عام آدمی پر کیا بیت رہی ہے۔
اب یہ سمجھنے کے لئے کہ بازاروں میں آگ کیوں لگی ہوئی ہے اور آٹا دال کی قیمتیں آسمان کوکیوں چھو رہی ہیں؟۔ وزیر اعظم نے پورے ملک کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ دہلی میں بلائی ہے۔ اس میں جوہوگا، ہم یہ پہلے ہی بتا دیں۔ مرکزی سرکار تمام وزرائے اعلیٰ سے کہے گی کہ آپ قیمتوں پر روک لگائیے ، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قدم اٹھایئے، حکومت باہر سے سامان منگا رہی ہے۔ ادھر ریاست کے غیر کانگریسی وزرائے اعلیٰ مرکزی حکومت کو قصوروار ٹھہرائیں گے۔ اس میٹنگ کے بعد بھی آٹا، دال ، گھی اور چاول کے دام کم ہونے والے نہیں ہیں۔ہاں، بڑھتی ہوئی قیمتوں پر سیاسی ٹھپہ لگ جائے گا کہ حکومت نے کوشش تو کی ۔
چینی اور ہری مٹر دہلی کے بازاروں میں50روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہی ہو اور حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگے ۔آخر اس کی کیا وجہ ہے؟بات یہ ہے کہ بازار کی اقتصادی پالیسی کے سبب جمہوریت کا نقشہ بدل چکا ہے۔انتخابی عمل مہنگے سے مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ لو ک سبھا کی ایک سیٹ کے لئے ہر ایک امیدوار پانچ سے دس کروڑ روپے تک خرچ کرتا ہے اور پھر ان میں سے کوئی ایک ہی انتخاب جیت پاتاہے۔لوک سبھا میں کروڑ پتی ممبران پارلیمنٹ کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جب الیکشن پر کروڑوں خرچ ہوگا تو وہ کہیں سے نکلے گا بھی تو! ظاہر ہے کہ وہ خرچہ بھی بازار سے ہی نکلے گا۔ جس پارٹی نے بڑے بڑے سرمایہ داروں سے پیسہ لے کر الیکشن میں پانی کی طرح بہایا ہو، وہ اقتدار میں آنے کے بعد سرمایہ داروں سے تو پیسہ نہیں گھسیٹے گی نا؟۔ آخر وہ پیسہ عام آدمی کی جیب کاٹ کر ہی نکالا جائے گا۔
تب ہی تو آپ جب بھی بازار جاتے ہیں توآپکو یہ ہی محسوس ہوتا ہوگا کہ آ پ کی جیب کٹ گئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ گھی 250روپے فی کلو، ارہر کی دال 100روپے فی کلو اور چینی 50روپے فی کلو گرام ہے ۔ اور، حکومت کو کوئی فکر نہیں ہے۔ جب ا نتخابات سر پر آئیں گے تبھی تو عام آدمی کی فکر ہوگی۔ جب تک الیکشن سر پر نہیں آتے، تب تک گزشتہ انتخابات کے خرچہ کا ٹیکس بھرتے رہئے اور کھانا کھا کر نہیں، ملہار گا کر سوتے رہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *