شمالی ہندوستان، ٹیکسیاں، کانگریس اور ٹھاکرے

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اشوک راﺅ چوان اور ان کی وزارت سے ایسی نادانی کی امید کسی کو نہ تھی۔ ایک ایسی نادانی جس نے زبان کے ذرئیے نہ صرف فرقہ واریت کو فروغ دیا بلکہ علاقہ پرستی کو بھی جانے انجانے ہوا دے گئی۔ اس نے پہلے سے ہی مراٹھی بنام غیر مراٹھی کے جھگڑے میں پس رہی ممبئی اور شمالی ہندوستانیوں کے ہندی زبان کے مس¿لہ کے ساتھ ساتھ اب ٹیکسیوں کو لیکرایک طرح سے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا ہے۔ دراصل، چوان حکومت کے وزیر ٹرانسپورٹ ’آر وکھے پاٹل ‘نے فرمان سنایا ہے کہ ٹیکسی چلانے کے لئے لائسنس اب صرف انہیں لوگوں کو ملیںگے، جو مراٹھی زبان اچھی طرح سے لکھ پڑھ سکتے ہوں اور گزشتہ پندرہ سال سے مہاراشٹر میں سکونت اختیار کئے ہوئے ہوں۔مہاراشٹر میں ٹرانسپورٹ کے ضابطوں کی دہائی دینے والے ریاست کے وزیر ٹرانسپورٹ کو یہ علم نہیں کہ ممبئی کی 40فیصدی عوام ہندی بولتی ہے۔ تو کیا ہندی ممبئی کی مقامی زبان نہیں ہے؟
واضح طور پر اس فیصلہ کا مقصد ہندی ریاستوں سے ممبئی جا کر روزی روٹی کمانے والوں کو اس پیشے سے دور کرنا ہے۔یہ فیصلہ اس لئے بھی لیا گیا ہے کیونکہ ممبئی کے ٹیکسی ڈرائیور تو پہلے سے ہی ممبئی ٹیکسیوں کی بے روزگاری کا ٹھیکرا ہندی زبان بولنے والوں کے سر پرپھوڑتے آ رہے ہیں، اس بار یہ موقع کانگریس کی قیادت والی حکومت نے حاصل کر لیاہے۔ حالانکہ، تنازعہ بڑھنے پر چوان نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ مقامی زبان کے طور پر گجراتی اور ہندی جاننے والے لوگ بھی پرمٹ لے سکتے ہیں۔لیکن اس صفائی کا اب کوئی مطلب نہیں ہے، کیونکہ اس جھگڑے میں ہندی زبان بولنے والوں کی مخالفت کے نام پر راج ٹھاکرے ایم این ایس ، شیو سینا اور بی جے پی بھی کود چکی ہے۔ راج ٹھاکرے نے تو دھمکانے والے انداز میں کہہ دیا ہے کہ وزارت کو یہ فیصلہ واپس نہیں لینے دیا جائے گا۔
بہرحال اس پورے معاملے میں کچھ حقیقت بھی ہے جو چوان حکومت کے اس فیصلہ کی اصل کہانی بیان کرتی ہے۔ فی الحال، ممبئی کی سڑکوں پراس وقت 56,000ٹیکسیاں دوڑ رہی ہیں۔ حالانکہ 24ہزار پرمٹ ابھی بھی استعمال نہیں ہو رہے ہیں۔ اب حکومت انہیں24ہزار پرمٹوں میں سے چار ہزار پرمٹ ایسی پرائیویٹ پارٹیوںکو فروخت کرنا چاہتی ہے، جو آرام دہ ٹیکسیاںفراہم کر سکیں۔ ممبئی میں ابھی بھی ایسی ٹیکسیوں کی تعداد نام کو ہے۔ ظاہر ہے، حکومت کے اس اقدام سے ہر سال روزگار کے چار ہزار نئے مواقع ملنے کے امکانات بنتے نظر آ رہے ہیں۔ روزگار کے حساب سے دیکھیں تو ٹیکسی چلانے کا کام کچھ کم نہیں ہے،لیکن حکومت کے زبان کے متعلق فیصلہ سے عام ٹیکسی چلانے والوں اور ہندی ریاستوں سے آئے لوگوں کے لئے نئی مصیبت کھڑی ہو گئی ہے اور یہ مصیبت ہے، شیو سینا اور ایم این ایس کی بغاوت۔ پہلے بھی’ ایم این ایس‘ کارکنان ہندی زبان بولنے والے لوگوںاور گلی محلہ میں ٹھیلا لگا کر سبزی فروخت کرنے والوں کے خلاف محاذ قائم کر چکے ہیں۔ اب ان کے نشانہ پر ٹیکسی ڈرائیور ہوں گے۔
ممبئی میں تقریباً2لاکھ ٹیکسی ڈرائیور ہیں، جن میں زیادہ تر بہار اور اتر پردیش سے آئے لوگ ہیں۔ جبکہ مہاراشٹرمیں ہر سال پانچ لاکھ بے روزگار نوجوانوں کی فوج تیار ہو رہی ہے۔بے روزگاری میں اضافہ کی شرح سات فیصدی تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کے لئے ان لوگوں کو روزگار مہیا کرانا کسی مصیبت سے کم نہیں ہے۔ جہاں تک ممبئی میں ٹیکسی کی سہولیات کا سوال ہے تو وہ ابھی اپنے کالے پیلے چولے سے باہر نکل پانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ریڈیو ٹیکسیوں ں کی تعداد ابھی بھی وہاں بہت کم ہے۔لیکن، چوان حکومت کے ایجنڈے میں بہتر ٹیکسی سروس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ الٹے زبان کے نام پر سیاست کر کے وہ غیر مراٹھیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔دوسری جانب دہلی کی کانگریس حکومت ہے جوکامن ویلتھ گیمس کے بہانے اپنے کانسٹیبلوں اور ڈی ٹی سی کے بس ڈرائیوروں کو انگریزی سکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ راہل گاندھی مدھیہ پردیش کے کالجوں میں جا کر طلبا کو انگریزی سیکھنے کی نصیحت کرتےہیں، لیکن اشوک چوان ٹیکسی ڈرائیوروں کے لئے مراٹھی زبان کی وکالت کر رہے ہیں۔اور، اس طرح سے کر رہے ہیں کہ راج ٹھاکرے کو جبراً اس لڑائی میں آگے آنا پڑ رہا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں ان کے روایتی سیاسی مدعے کو اشوک چوان نہ اڑا لے جائیں۔ دراصل، گزشتہ اسمبلی انتخابات میں راج ٹھاکرے انہیں غیر مراٹھیوں کی مخالفت کر کے 13سیٹوں پر قابض ہو چکے ہیں۔ 2012میں بی ایم سی کے الیکشن ہونے ہیں۔ بی ایم سی پر ابھی شیو سینا کا قبضہ ہے۔ اب شاید اشوک چوان بھی راج ٹھاکرے کے نقش قدم پر چل کر مراٹھیوںکو لبھانا چاہتے ہیں، تاکہ مہاراشٹر کے ساتھ ساتھ ممبئی ( بی ایم سی)پر بھی ان کا قبضہ ہو جائے۔ ٹیکسی کو مراٹھی زبان سے جوڑنے کے پیچھے ان کا مقصد بھی انتخابی سیاست ہے۔ حالانکہ ایسا کر کے انھوں نے اپنی پارٹی کے مفادات کو اور ساکھ دونوںکو داو¿ں پر لگادیا ہے ، جس کا اثر بہت جلد دیکھنے کو مل سکتا ہے۔بہار میں اس سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ نتیش کمار نے مہاراشٹر حکومت کے فیصلہ پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے اور وزیر اعظم کو مکتوب ارسال کرنے کی بات کہی ہے۔ یقینی طور پر بہار کی سبھی اہم سیاسی پارٹیاں الیکشن میں اس ایشو کا استعمال کانگریس کے خلاف کریں گی۔مہاراشٹر میں بھی’ شیو سینا‘ اور’ ایم این ایس‘ کے سیاسی طرز عمل پر انگلی اٹھانے کا اخلاقی حق کانگریس کے پاس نہیں رہا، کیونکہ فرقہ ورایت محض مذہب کی بنیاد پر ہی نہیںہوتی بلکہ یہ زبان کی بنیاد پر بھی ہوتی ہے اور علاقے کی بنیاد پر بھی ۔ اور، چوان حکومت کے حالیہ فیصلہ سے کم سے کم زبانی اور علاقائی فرقہ وارایت کی بو تو آ ہی رہی ہے۔ اب مہاراشٹر کی سیاست میںکانگریس بھی اسی راستہ پر چل پڑی ہے، جس پر چل کر شیو سینا نے اقتدار حاصل کیا تھا اور راج ٹھاکرے اقتدار پانا چاہتے ہیں ۔
ظاہرہے ، چوان حکومت نے ٹھاکرے خاندان کے ہاتھ میں سیاست کا ایسا مہرہ اور ایشو تھما دیا ہے کہ اب اسی بنیاد پر سیاسی بساط بچھے گی۔ خیر’ ایم این ایس‘ اور شیو سینا کی چال اس کی اخلاقی پستی اور اصل چہرے سے تو ملک واقف ہے ہی لیکن ٹیکسی ڈرائیوروں کے نام پرسیاست کر کے اشوک چوان کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ یہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔ کیا وہ بھول گئے تھے کہ وہ ایک ایسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، جس نے ہمیشہ ٹھاکرے خاندان کی سیاست کو فرقہ وارانہ کہہ کر کوساہے۔کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ اس طرح کے فیصلہ سے لوگوں کے درمیان دوریاں گھٹنے کی بجائے بڑھیں گی؟ پھر بھی اشوک چوان سے اتنی امیدتو کی ہی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی، جس کے مطابق ممبئی کی ٹیکسیوں میں سفر کرنے کےلئے غیر مراٹھیوں اور ہندی زبان بولنے والوںکو پہلے مراٹھی زبان سیکھنی ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *