نریگا کے سامنے نئے چیلنج

نریگا یوں تو روزگار گارنٹی پروگرام ہے، لیکن یہ روزگار گارنٹی پروگرام اب بد عنوانی کا شکار ہو چکا ہے۔ مسٹر رول، جاب کارڈ اور ادائیگی وغیرہ میں یوں تو بد عنوانی کی خبریں پہلے سے ہی آتی رہی ہیں، لیکن اب یہ اسکیم کچھ بالکل نئے قسم کے مسائل کی گرفت میں ہے۔ دہلی کا ایک ادارہ ہے ’کرم نالج اویئرنیس ریسرچ اینڈ مینجمنٹ ) یہ ملک کے کئی رٹائرڈ ماہر اقتصادیات کی زیر نگرانی چل رہی ایک تنظیم ہے۔ بی ایل جوشی اس کے سربراہ ہیں اور نریگا سمیت عام آدمی سے جڑے کئی مسائل پر مسلسل ریسرچ کر رہے ہیں۔ ان کی سرپرستی میں کرم نامی اس تنظیم نے اتر پردیش کے اناﺅ، مدھیہ پردیش کے’ دموہ‘ اور ’کرناٹک‘ کے’ کولار‘ اور’ بنگلورو‘ کے دیہاتی علاقوں میں نریگا کے تحت چل رہے کاموں کا جائزہ لیا اور پہلی بار کچھ ایسے مسائل کی شناخت کی گئی ہے، جن کے بارے میں ابھی تک تصور بھی نہیں کیاگیا تھا۔ بہر حال ہم ایسے ہی پانچ سوالوں( مسائل)کو اٹھا رہے ہیں، جن کو نظر انداز کرنے سے اس ڈریم پروجیکٹ کا دیوالہ نکل سکتا ہے۔
رجسٹریشن کا فقدان
کیا آپ کو یہ حیرت انگیز نہیں لگے گا کہ کسی گاﺅں کے 160کنبوں میں سے محض13فیصدی یعنی 20کنبے ہی نریگا کے تحت رجسٹرڈ ہوں؟ اتر پردیش کے اناﺅضلع کے ایک گاﺅں کے صرف20کنبے ہی اس اسکیم کے تحت رجسٹرڈ ہیں اور سال میں محض32دنوں کا کام ان لوگوں کو مل پاتا ہے۔کرناٹک کے’ کولار‘ اور’ بنگلورو‘ (دیہات)علاقہ کا تو اس سے بھی برا حال ہے۔ یہاں کے محض10فیصد کنبے ہی رجسٹرڈ ہیں جبکہ مدھیہ پردیش کے دموہ میں حالات تھوڑے بہتر ہیں یہاں کے تقریباً56فیصدی کنبوں کا نریگا کے تحت رجسٹریشن ہے اور سال میں انہیں تقریباً52دن کام بھی مل رہا ہے۔
کرائے پر جاب کارڈ
کرم تنظیم کے چیئر مین’ بی ایل جوشی‘ ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں۔ یہ کہانی اناﺅ کے’ ویر سنگھ پورا‘ گاﺅں کی ہے۔ جوشی جی بتاتے ہیں کہ سروے کے دوران جب یہ اس گاﺅں میں گئے تو انھوں نے وہاں کے پردھان کو کافی پریشان دیکھا۔ وجہ یہ تھی کہ گاﺅں میں نریگا اسکیم کے تحت ایک تعمیری کام چل رہا تھا اور اس کے لئے پانچ مزدوروں کی ضرورت تھی لیکن چار ہی مل پائے تھے۔ جبکہ گاﺅں میں250لوگوں کے پاس جاب کارڈ تھے۔ جوشی نے جب پردھان اور گاﺅں کے دیگر لوگوں سے اس ضمن میں بات چیت کی تو پتہ چلا کہ بہت سے جاب کارڈ ہولڈرنریگا کے تحت کام ہی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنا کارڈ گرام پردھان یا ٹھیکیدارکو 20روپے یومیہ کے حساب سے کرائے پر دے دیتے ہیں۔ ٹھیکیدار اپنے مزدوروں سے 50روپے دے کر کام کرا لیتا ہے اور باقی پیسے خود رکھ لیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سارا دھندہ اتنے سلیقہ سے ہوتا ہے کہ کوئی انگلی تک نہیں اٹھا سکتا۔
کرایہ دو، پیسہ لو
نریگا کے تحت سبھی کارڈ ہولڈروں کا کھاتا ڈاک گھر یا بینک میں کھلتا ہے۔ یہیں سے مزدوروں کی مزدوروں کی ادائیگی کی جاتی ہے۔لیکن، یہاں بھی کم گورکھ دھندہ نہیں ہے۔ جوشی جی بتاتے ہیں کہ الور ضلع کے ایک گاﺅں میں ایسا ہی معاملہ دیکھنے کو ملا۔ وہاں کے پوسٹ آفس میں جب کوئی مزدور اپنی ادائیگی لینے جاتا ہے تو اس سے کہا جاتاہے کہ کسی ایسے آدمی کے ساتھ آﺅ، جو تمہیں اور مجھے یعنی دونوں کی شناخت کر سکے۔ آخر کار، تین چار مہینوں کے بعد بینک یا پوسٹ آفس کا کوئی کلرک گاﺅں میں جا کر پردھان کے سامنے سبھی مزدوروں کی ادائیگی کرتا ہے۔ اس کے بدلے وہ ہر ادائیگی پر 10روپے یہ کہہ کر لے لیتا ہے کہ میں شہر سے آیا ہوں اور اس میں میرا بھی خرچہ ہوا ہے۔ظاہر ہے، اگر سو لوگوں سے بھی 10-10روپے ملے تو اس ملازم کی بغیر کچھ کئے ایک ہزار روپے کی آمدنی ہو جاتی ہے۔
کام پورا، پیسہ کم
سروے سے یہ بھی پتہ چلا کہ مزدوروں کو دنوں کے حساب سے نہیں،بلکہ جتنا کام کیا جائے اسی حساب سے ادائیگی کی جا رہی ہے۔مثال کے طور پر، چار پانچ لوگوں کے ایک گروپ کو ایک خاص کام دے دیا جاتا ہے اور پھر جتنے دنوں میں کام ہوپاتا ہے، اسی کے تحت اس کی ادائیگی کی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق، دموہ کے ایک گاﺅں میں ایک شخص سال میں27دن کام کر کے بھی 1887روپے ہی کما پاتاہے۔ جبکہ کرناٹک میں یہ اعداد و شمار 22دن کے بدلے 2173روپے کا ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش کے دموہ میں ایک خاتون سال میں23دن کام کرکے 1546روپے کم پاتی ہے۔
نئے کاموں کا فقدان
نریگا کے تحت یہ نیا اصول بنایا گیا ہے کہ کسی گاﺅں میں اگر ایک کام ہوتا ہے تو دوبارہ پھر وہی کام نہیں ہوتا۔ ایسے میں جب سوال اٹھتا ہے کہ ایک گاﺅں میں کتنے تالاب کھودے جائیں گے یا کتنی سڑکیں بنیں گی؟ تو ظاہر ہے، ایسی حالت میں لوگوں کے پاس کام کی کمی ہونا طے ہے، لیکن اس مسئلہ کا بھی کوئی ٹھوس حل نہیں نظر آ رہا ہے۔جوشی جی بتاتے ہیں کہ سروے کے دوران انہیں ایک بھی ایسا معاملہ نہیں نظر آیا جہاں کام نہ ملنے پر کسی جاب کارڈ ہولڈر کو بے روزگاری بھتہ دیا گیا ہو۔
یقینی طور پر، یہ پانچ مسائل نریگا اسکیم کے لئے بڑ ے چیلنج ہیں جس سے فوراً نمٹنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نریگا صرف یو پی اے سرکار کا ڈریم پروجیکٹ نہیں ہے جو اس کی سیاسی خواہش کو پورا کر رہا ہے۔بلکہ اس اسکیم میں اتنی طاقت ہے کہ یہ گاﺅں میں رہنے والے کروڑوں غریب عوام کے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔
”اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور کرناٹک کے کچھ گاﺅں میں نریگا کی تفتیش کے دوران کچھ ایسے معاملے سامنے آئے ہیں،جو یو پی اے سرکار کے اس ڈریم پروجیکٹ کی کامیابی پر سوال کھڑے کر رہے ہیں ۔ ’چوتھی دنیا‘ ایسے ہی پانچ مسائل کی تحقیق کر رہی ہے، جو نریگا کے لئے خطرہ بن چکے ہیں“

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *