مسلمان سب سے پیچھے کیوں؟

بہر حال صرف نمونے کے طور پر تین شعبوں یعنی انتخابی عمل ،روزگار اور تعلیم میں مسلمانوں کی کمزور نمائندگی کے اسباب کا جائزہ لیا جائے اور اس کی تاریخ 1947سے کھنگالی جائے تو آپ کو اس بات کا آسانی سے پتہ چل جائے گا کہ مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں کس طرح سے رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔انتخابی عمل میں مسلمان
لوک سبھا انتخابات کے نتائج آنے کے بعد الگ الگ جگہوں سے اس بات کو لے کر خوب واویلا مچا کہ پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی اتنی کم کیوں ہے۔یہ دلیل دی گئی ، کہ پارلیمنٹ میں لوک سبھا کی 543سیٹیں ہیں اور سال 2001کے عوام شمار کے مطابق، ملک کے مسلمانوں کی آبادی کا فیصد 13.4ہے۔اس لئے لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی 543کا 13.4فیصدی یعنی 72.76یعنی 73ہونا چاہئے۔ جبکہ سال 2009کے عام

آزادی کے بعد سے ہی ملک کے مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کے اس مسلسل پچھڑے پن کی وجہ سے نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ان کا شمار سماج کے نچلے یا اس سے بھی بد تر طبقے میںہونے لگا ہے۔
کچھ قائدین، اشخاص اورکچھ غیر سرکاری تنظیموں کی تو یہ بھی رائے ہے کہ مسلمانوں کی اس حالت کے لئے خود مسلمان ہی ذمہ دار ہیں۔قومی معاملات میں حصہ لینے اور ملک کی ترقی میں شرکت کرنے کے بجائے انھوں نے الگ الگ رہنا پسند کیا۔ نہ صرف قومی معاملات سے، بلکہ سماج سے بھی۔ مسلمان اگر قوم اور سماج سے قطع تعلق کر کے نہیں رہے ہوتے تو وہ ان مراعات کے بھی حصہ دار ہوتے جو ہندوستانیوں کو یہاں کا شہری ہونے کے ناطے نصیب ہوئی ہیں ۔
بہرحال، ملک کی تقسیم کے بعد ترقی کے دور کا اگر گہرائی سے جائزہ لیں تو جو حقیقت سامنے آتی ہے، وہ ان الزامات کے بالکل برعکس ہے۔مسلمان اب بھی ترقی کے ہر شعبہ میں پسماندہ ہیں، اس کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ ان کو ہر طرح سے ہر ترقی سے دور رکھا جائے ترقی کی تمام تر اسکیمیں جیسے کے روزگار اورتعلیمی اداروں میں داخلہ نہ ملنا تو معمولی مثالیں ہیں ۔ دیکھا جائے تو مسلمانوں کی اس پسماندگی کے لئے آزادی کے بعد ملک میں بنی حکومتیں پوری طرح سے ذمہ دار ہیں۔ ملک کی تقسیم کے بعد مسلمانوں کا جو پڑھا لکھا اور کامیاب طبقہ تھا ، وہ پاکستان چلا گیا۔ لیکن وہ مسلمان جو اس وقت مسلم لیگ کی باتوں میں نہیں آئے اور جنھوں نے پاکستان نہ جا کر ہندوستان میں ہی رہنا پسند کیا، آج نہ صرف غیر تعلیم یافتہ اور غریب ہیں ، بلکہ بری طرح کمزور پسماندہ، ڈرے ہوئے ہیں، ان کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی حالت نچلے طبقے جیسی ہی دگرگوں ہے، بلکہ ان سے بھی کہیں بدتر ہے۔
ہندوستانی حکومت کے 1935کے قانون کے ذریعہ انگریزوں نے مسلمان نچلے طبقہ کو بھی دوسرے ہم پیشہ ہندوو¿ں کے ساتھ ریزرویشن سے متعلق آئینی دفعات 1950کے ذریعہ اسے واپس لے لیا۔ یہاں یہ بتانا قابل ذکر ہوگا کہ آزادی کے بعد ہمارے آئین نے بھی ہندوستانی حکومت 1935کے قانون کو بغیر کسی ترمیم کے 26نومبر 1949کو منظور کر لیا تھا۔ ایسا لگتا ہے ، جیسے کہ آزادی کے بعد ہماری سیکولر قیادت اپنا آئین نافذ کرنے کرنے کے لئے بڑی بے صبری سے منتظر تھی۔ اس لئے اس نے آناً فاناً میں حکم جاری کر دیا۔ یہ آئین کے فیصلہ کی کھلی ٓخلاف ورزی کہی جائے گی۔ ملک کے مسلمانوں کے تئیں کبھی نہ ختم ہونے والے تعصب کا یہ وہ آغاز تھا اور جسکی سزا آج بھی بدستور جاری ہے۔انہیں غیر تعلیمیافتہ رہنے ، غریبی اورفاقہ زدی سے دوچار ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ہاں اگرکہیں ان کی نمائندگی ہے تو وہ جیلوں میں ہے ۔ آبادی کے تناسب سے جیلوں میں ان کی موجودگی ضروری کثیر تعداد میں ہے۔مسلمان سالوں سے جیلوں میں ہیں اور زیادہ تر معاملات میں تو ابھی ان کا ٹرائل بھی شروع بھی نہیں ہوا ہے۔ اور اگر شروع بھی ہوا ہے تو وہ ابتدائی حالات میں ہی ہے۔ حالانکہ زیادہ تر معاملات میں عدالت کو ان کے خلاف کوئی اہم سراغ ہاتھ نہیں لگے ہیں اگست،2008کو حیدر آباد میں 22سے 24 اگست کو قومی اور بین الاقوامی سطح کے شہرت یافتہ مجرموں کی لوک عدالت کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں گزشتہ دو سال کے دوران دہشت گردانہ سرگرمیوں میںملوث ہوئے مسلمانوں کے لئے موجود گواہوں کی سماعت ہوئی۔اس سماعت میں یہ پایا گیا کہ جن پر قصور ثابت نہیں ہو سکا انہیں رہا توکیا گیا،لیکن کئی سالوں تک غیر قانونی طریقہ سے قیدی بنائے رکھنے کے بعد۔سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ اٹھائے گئے غیر قانونی قدم سے ان سزایافتگان اور ان کے اہل خانہ کو جو ذلت اور پریشانی ہو ئی ا س کا ازالہ کون کریگا

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *