مہنگائی کو واٹر لو کا میدان مت بننے دےجئے

کانگریس اس خوش فہمی میں ہے کہ مہنگائی میں تو گزشتہ کئی برسوں سے اضافہ ہو رہا ہے، مگر پھر بھی اسے لوگ ووٹ دے رہے ہیں۔ شاید اسی لئے کانگریس نے مہنگائی میں اضافہ کو بے لگام چھوڑ دیا ہے ۔کانگریس کی قیادت والی حکومت کا کوئی قدم مہنگائی کو روکنے کا اشارہ نہیں دے رہا ہے، اس کے برخلاف وزیر زراعت شرد پوار مہنگائی میں ضافہ کرنے والے بیان کچھ اس انداز میں دے رہے ہیں کہ عام لوگ کھائیں یا نہیں، بس ذخیرہ اندوزوںاور جمع خوروں کی چاندی ہوتی رہے۔ شرد پوار کیوں ایسا کر رہے ہیں، اسے ڈاکٹر منموہن سنگھ ہی بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں۔
کانگریس اور شرد پوار کے کارناموں کی وجہ سے ملک اشیائے خوردنی کے سبب رونما ہونے والے سنگین بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دال، گیہوں، چاول، چنا، جو، مکا، چینی کی قیمتیں ملک کے 40فیصدی لوگوں کی قوت خرید سے باہر چلی گئی ہیں۔ چالیس روپے فی کلو چینی وزیر زراعت کے ایک بیان سے 50روپے کلو ہو جاتی ہے۔ بعد میں جب وہ دو روپے سستی ہوتی ہے تو وزیر زراعت کہتے ہیں چینی سستی ہو گئی۔ اب دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا اشارہ وزیر زراعت دے رہے ہیں اور اکسا رہے ہیں کہ دودھ کے کاروبار میں شامل بڑی کمپنیاں قیمتیں بڑھا دیں۔
منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ کر رہے ہیں کہ وہ قیمتیں بڑھنے اور جمع خوری روکنے کا کوئیمنصوبہنہیں بنا رہے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ لوگوں نے ان کے صرف 206ممبران پارلیمنٹ کو جتایا ہے اور انہیں حکومت بناے کے لئے دوسری جماعتوں کی مدد لینی پڑی ہے۔ بی جے پی کے ذریعہ عوام کو اپنی جانب راغب نہ کر پانے والے وعدے کانگریس کی فتح کا سبب بنے اور اڈوانی جی کی و زیر اعظم بننے کے خواہش نے اس پر مہر ثبت کردی۔ مگر اس سے اگر منموہن سنگھ سوچتے ہیں کہ وہ عوام کی ناراضگی سے بچ جائیں گے یا عوام غصہ اورناراضگی کا اظہار ہی نہیں کرینگے تو یہ ان کی بڑی غلط فہمی ہوگی۔
راہل گاندھی کوکانگریس آئندہ وزیر اعظم کے طور پر تیار کر رہی ہے۔ ظاہرہے، آئندہ انتخابات تک بشمول پرنب مکھر جی سبھی سینئر لیڈر ارجن سنگھ کی طرح ریٹائرڈ ہو جائیں گے تو واحد نام راہل گاندھی ہی کابچے گا۔ راہل گاندھی مدھیہ پردیش میں بیان دیتے ہیں کہ انھوں نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ مہنگائی کب کم ہوگی؟ تو وزیرا عظم نے کہا کہ جلدی ہی، یاکچھ دنوںمیں کم ہو جائے گی۔ راہل گاندھی کو بھی اس مسئلہ کا سامنا کرنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ مہنگائی کی اقتصادیات کا جمع خوروں کے ذریعہ سیاسی لیڈروں کو فراہم کی جانے والی موٹی رقم سے یا خود سیاسی لیڈروں کے ذریعہ کم منافع کمانے کے لالچ میں جمع خوروں کو بڑا منافع کمانے کی چھوٹ دینے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ راہل گاندھی کہہ رہے ہیںکہ بشمول کانگریس کسی بھی پارٹی میں جمہوریت نہیں ہے وہ صحیح کہہ رہے ہیں، مگر وہ مہنگائی جیسے سب کو متاثر کرنے والے مسئلہ پر پارٹی فورم پر بحث کے لئے ممبران پارلیمنٹ یا پارٹی لیڈروں کو دعوت فکر کیوں نہیں دیتے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ مسئلہ کو سمجھنے کا دکھاوا یا اسے حل کرنے کی یقین دہانی کی جگہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے قدم اٹھائے جائیں۔اگر قدم نہیں اٹھتے تو کئی لوگوں یا کئی پارٹیوں کی سیاست پر لوگ سوال کھڑا کر دیں گے۔اس ملک میں ندیاں ہیں، ندیوں کے ساحلوں پر زمین ہیں، وہاں اسکول کالج ہیں، کیوں حکومت ان اسکول کالجوں کے ساتھ دودھ کی پیدوار کے مراکز جیسے ڈیری وغیرہ شروع نہیںکرتی؟۔ انہی اسکول کالجوں کے ساتھ دودھ کو مختلف طرح سے پروسیس کرنے کے ساتھ اس سے جڑی مختلف اشیاءبنائی جا سکتی ہیں۔ان اسکول کالجوں سے فارغ طلبا دودھ سے جڑے مختلف کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ دودھ سے بننے والی اشیاءہم باہر سے منگاتے ہیں، کیونکہ ہمارے یہاں دودھ جتنا پیدا ہوتا ہے، وہ اپنی اصلی شکل میں ہی کھپ جاتا ہے۔حکومت اگر نہیں توجہ دے سکتی تو کیوں امول (amul) جیسی کمپنیوں کو شمالی ہندکی ریاستوں میں اس طرح کا کام کرنے کےلئے ترغیب نہیں دیتی۔
دراصل ہماری حکومت کے پاس کوئی منصوبہ ہی نہیں ہے۔ بے روزگاری اور مہنگائی سے لڑنے کا منصوبہ ایک دوسرے سے جڑ ا ہونا چاہئے۔ زندگی کے دو ایسے سرے ہیں، جہاں ہمارے ملک کی دو اہم شخصیتیںکھڑی ہیں ایک ہیں منموہن سنگھ اور دوسرے ہیں راہل گاندھی۔منموہن سنگھ کو جو حاصل کرنا تھا وہ کرچکے، اب انہیں حقیقتاً ملک کے لئے کچھ ٹھوس یا کچھ پختہ اقدامات کرنے چاہئییں اور دوسرے سرے پر کھڑے راہل گاندھی کوان تمام داخلی اختلافات کوسمجھ کرملک کو بدلنے کا نقشہ تیار کرنا چاہئے۔
ہم جس ملک میں ہیں،وہاں 100سے زائد اضلاع ایسے ہیں، جہاں پولس بھی آزادانہ نہیں گھومتی۔ وجہ صرف ایک ہے کہ وہاں کے عوام مسائل سے دوچار ہو کر جمہوری نظام سے اپنا اعتماد کھوتے جا رہے ہیں۔ یہ اعتماد تب ہی دوبارہ بحال ہوگا، جب ان کے درد کو برسر اقتدار لوگ سمجھیں گے۔ اس کے لئے پہلا قدم بڑھتی ہوئی مہنگائی پر روک لگانا ہے اور ملک کی ترقی اور بے روزگاری سے جوڑ کر کوئی پختہ راستہ تلاش کرنا ہے۔ منموہن سنگھ اور راہل گاندھی سے یہی کہنا ہے کہ شرد پوار جیسے لوگوںکوسمجھائیں کہ عوام اہم ہیں جمع خور نہیں اور خود دونوں اسی وقت پہل کریں کہ قیمتیں وہاں پہنچیںجہاں عام آدمی کی جیبیں ہیں مہنگائی کو واٹر لو کا میدان نہ بننے دیجئے منموہن سنگھ جی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *