لوگ چاہیں گے تو بنے گی تیسری طاقت

قومی سیاست میں جسونت سنگھ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔وہ بی جے پی کے بانی اراکین میں شمار کئے جاتے ہیں۔ وہ ملک کے خارجی اور مالیا تی جیسے اہم شعبوں کو سنبھال چکے ہیں ۔ ”چوتھی دنیا“ کے ایڈیٹر ڈاکٹر منیش کمار نے ان سے مختلف معاملات پر ایک طویل گفتگو کی۔ پیش خدمت ہیں ان سے گفتگو کے اہم اقتباسات :
پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کے صدرکے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے لئے آپ پرجو دباﺅڈالا گیا اسکی کافی شہرت تھی۔ کیا یہ حقیقت ہے کہ سشما سوراج جب آپ سے ملنے آئی تھیں تو انھوں نے آپ سے استعفیٰ دینے کے لئے کہا تھا؟
دباﺅ ڈال کر کوئی مجھ سے کام نہیں کرا سکتا۔ میں ایسا کسی غرور یا کسی زعم میں نہیں کہہ رہا لیکن اگر کوئی مجھ پردباﺅ ڈالتا ہے، پھر تو کوئی کام نہیں ہوگا۔ آپ نے سشما جی کے بارے میں پوچھا، تو یہ حقیقت ہے کہ سشما جی یہاں تشریف لائی تھیں۔ بھائی سریندر سنگھ جی اہلوالیہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ کئی سال تک وہ میری نائب رہی ہیں۔ انھوں نے اتنا ضرور کہا کہ آپ عہدہ سے استعفیٰ دے دیں،مگر میں نے ان سے معذرت چاہی۔ اب میں یہ نہیں بتا پاﺅں گا کہ وہ یہاں خود آئی تھیں یا انہیں اڈوانی جی نے بھیجا تھا۔لیکن، ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ بنا اڈوانی جی کی منشا یا ان کے احکامات وہ ایسا کریں۔ مجھے اس وجہ سے انہیں منع کرنا پڑا، کیونکہ ماہ دسمبر میں مجھے جو رپورٹ تیار کرنی تھی، وہ تیار ہو گئی تھی، ایک مڈ ڈے میل پر تھی اور ایک نریگا پر۔ اب مجھے وہاں کوئی رہنا تو تھا نہیں اور ایسا لالچ بھی نہیں تھا کہ پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کے لئے باقی دوسرے کاموں کو چھوڑ دوں۔ یہ کہنا کہ© آپ نہیں رہیں گے، آپ استعفیٰ دے دیجئے، پارٹی کی بے عزتی ہے،یا میری منشا ہےتب بھی میں نے کسی سے کچھ نہیں کہا اور مجھے اس سے کیا ملتا؟ میں اتنا ضرور کہنا چاہتا تھا کہ جس دن پارلیمانی کمیٹی کے سربراہان اور پارٹی لیڈر ان کے کہنے پر اپنے خیالات بدلنے لگیں گےپھر تو آپ کمیٹی کو ختم کر دیجئے۔ پھر پارٹیاں سیدھے ہی آپس میں میں سمجھوتہ کر کے سب طے کر لیں۔ کہیں نہ کہیں اس سے پارلیمنٹ کی اہمیت بھی کم ہوتی ہے۔ کوئی زبردستی نہیں تھی۔ بحیثیت وزیر میں بہت کام کر چکا ہوں۔ کئی پارلیمانی کمیٹیوں کا صدر رہ چکا ہوں۔ جس دن ہم خود پارلیمنٹ اور پارلیمنٹری کمیٹیوں کی اہمیت کم کر دیں گے، ہم خود اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مار لینگے۔
آج سیاسی جماعتوں کی جیسی حالت ہے، اسے دیکھ کر کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ آنے والے دنوں میں یہ سب ہماری جمہوریت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھریں گی؟
آپ آنے والے دنوں کی بات کیوں کر رہے ہیں؟آج کی حالت دیکھئے۔ مجھے تو ابھی بھی جمہوریت پر خطرہ منڈلاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ایسا لگتا ہے، جیسے کہ پارلیمنٹ بھی بے ایمان ہو گئی ہے ایسے میں اسمبلیوں کے کیا معنی رہ جاتے ہیں ایوان میںمخالفت کا طریقہ بس شورو غل کرنا رہ گیا ہے۔ جہاں تک پارٹیوں کا سوال ہے تو مجھے لگتا ہے کہ دو جماعتیں قومی نہیں ہیں۔ ایک تو کمیونسٹ پارٹی اور دوسری بی جے پی ۔ اب حالات ہی ایسے ہو گئے ہیں کہ سبھی سیاسی جماعتیں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں ہو گئی ہیں۔ ان میں ایک شخص کہتا ہے کہ اٹھو بیٹھو، ابھی دن ہے ، ابھی راتیہ بالکل غلط ہے۔ میری رائے میں اگر آپ کسی بات سے اتفاق نہیں کرتے ہیں تو کہئے کہ میں اس بات سے متفق نہیںہوں حالا نکہ میں کوئی ذاتی رائے کسی پر تھوپنا نہیں چاہتا ، پر معذت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ اگر آپ میری رائے سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں تو کیا آپ پارٹی سے نکال دیئے جائیںپھر ہم جمہوریت کی دہائی کیوں دے رہے ہیں؟ بی جے پی اور کمیونسٹ پارٹی سمٹ گئی ہے اور خیالات میں ہم سمٹ گئے ہیں ، تنگ نظر ہو گئے ہیں۔آج مرکز میں جس کا راج ہے، اس کا بول بالا نہیں ہے۔ آندھرا پردیش کو دیکھئے،اور ادھر ادھر نظر ڈالئے ہر جانب بد عنوانی کا راج ہے۔ میں کس کا نام لوں؟ کس کی مثال دوں؟
ملک کے 150اضلاع نکسلیوں سے متاثر ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو آپ اس کے لئے کہاں تک ذمہ دار مانتے ہیں؟
ہر کام میں، ہر مملکت میں،چاہے جمہوری ہو یا شاہی یا پھر کمیونسٹ ہو دو باتیں بہت ضروری ہیں ۔ پہلی ہے حکومت کی عوام کے مسائل سننے کی طاقت اور دوسرے حکومت کی اچھی شبیہ ۔ اگر حکومت کی عوام کے مسائل سننے کی طاقت ہی ختم ہوگئی توان کی کوئی سنے گا ؟ اور جب ان کی کوئی سننے والا نہیں ہوگا تو یہیں سے مسائل پیدا ہونگے اگر عوام کے اندر کا غبار نہیں نکلے گا تو وہ شعلہ بن کر ہر سو آگ لگادیگا ۔ اور، جس دن سے حکومت کی ساکھ ختم ہوجائیگی اس دن سے حکومت نہیں۔ آج حکومت کی شبیہ داغدار ہے۔ لوگوں کی بات کو سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ ہر تھانہ ہر تحصیل آج ماﺅنوازوں کا کارخانہ ہے۔ آپ تو 150اضلاع کی بات کر رہے ہیں، خدا نہ کرے، جب عوام کا غصہ بڑھے گا تو وہ شعلہ بن جائگا۔
آپ بی جے پی میں طویل عرصہ تک رہے ہیں، رام مندر کو لے کر ان کی اصل میں ذہنیت کیا ہے؟
مندر تو ہو گیا ہے وہاں۔ اس لئے یہ کہنا کہ ہم رام مندر کے لئے لڑ رہے ہیں، ہم کو تو جھوٹ لگتا ہے ۔ ہاں، یہ کہہ سکتے ہیں ہم وہاں عالیشان مندر بنائیں گے۔ جب اڈوانی جی نے رتھ یاترا نکالی، میںلوک سبھا میں ڈپٹی لیڈر تھا۔میں نے ان سے معافی مانگ لیاب یہ ان کا بڑا پن ہے کہ انھوں نے اس بات کی گانٹھ نہیں باندھی اور اگر باندھی بھی ہو تو انھوں نے کبھی اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا۔ تب میں چتوڑ سے ممبر پارلیمنٹ تھا۔ رتھ یاترا وہاں سے گزر رہی تھی، تب بھیرو سنگھ شیخاوت جی نے مجھ سے کہا تھا کہ بھائی وہاں تک تو آ جاﺅ۔ اصولاً دیکھیں تو میری اس میں مخالف ہے۔ رام کی کی عظمت ایک اور مندر بنا دینے سے بڑھ نہیں جائے گی اور مندر اگر وہاں نہیں ہے تو عظمت کم بھی نہیں ہوگی۔ میں اس یقین کو لے کر چلتا ہوں، میرا ماننا ہے کہ تاریخ میں ہمارے اوپر جتنے حملے ہوئے، جتنی ناانصافی اور مظالم ہوئے، اگر ہم آج ان کا ازالہ تلاش کرتے ہیں تو نہ ہم آج کے چیلنجوں کو برداشت کر پائیں گے اور نہ آنے والے کل کوکل تو گزر گیا ہے۔
ایک سوال راج ناتھ سنگھ جی کو لے کر ۔ اب تو گڈکری صدر بن گئے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ کے وقت میں تنظیم منتشر ہو گئی تھی ، ریاستی ضلعے اور دیہی سطح پر کارکنان پارٹی سے ناراض ہو گئے تھے۔ کیاراج ناتھ سنگھ اس کے لئے ذمہ دار نہیں ہیں؟
دیکھئے بی جے پی، جس کا اب میں حصہ نہیں ہوں، ان کی 2004کے انتخابات میں ہار ہوئی، 2009میں بھی ہوئی۔2004میں ہمیں شکست کی بالکل امید نہیں تھی۔ سبھی سوچتے تھے کہ ہم تواقتدار میں واپس آ رہے ہیں۔ 2009میں ہمیں پختہ یقین نہیں تھا، لیکن لگتا تھا کہ ہم اقتدار حاصل کر سکتے ہیں۔ 2004میں جب ہار ہوئی تو میں نے کہا کہ اس کی تحقیق کر لیتے ہیں۔ 2009کی شکست کے بعد بھی میں نے کہا کہ تحقیق کر لیتے ہیں۔ کور گروپ کی میٹنگ میں میں نے یہی سوال رکھا تھا۔ اس بات کو لے کر لوگوں کو پریشانیاں ہوئیں۔ پارٹی کا ایک پہلو تو انتخابات میں شکست ہے، دوسرا پارٹی کی ایک رائے اور ایک شکل، پارٹی میں ایک رائے رہے ہمارے مارواڑ میں ایک کہاوت ہے ”بنا موڑی کا اونٹ اونٹ کی نکیل ہوتی ہے“جسے موڑی کہتے ہیں۔ اسے نکال دیجئے تو پھر اونٹ کا جس جانب دل کرے گا، اس جانب جائے گا۔ ایسا لگتا تھا کہ بی جے پی بنا نکیلکی اونٹ ہو گئی ہے اس کی جس جانب خواہش ہوتی ہے اس جانب جا رہی ہے۔اس کے لئے صرف صدر کو قصوروار ٹھہرانا مناسب نہیں ہے۔ شملہ کی میٹنگ میں بھی کچھ طے نہیں ہوا۔ وہاں کی میٹنگ نے تو کچھ اور ہی رخ لے لیا۔ تو میں اس گلی میں اب نہیں جاﺅنگا۔
اٹل جی کے ساتھ آپ کو بھی بی جے پی کا مثالی چہرا بتایا گیا۔ دوسری جانب ہارڈ لائنر ہیں، جو ہندوتوادی کہے جاتے ہیں۔کیا آپ اس طرح کی تقسیم میں یقین رکھتے ہیں؟
صحیح مانیں تو میں ہندوتو کو کبھی نہیں سمجھ پایا۔ میں ہندو ہوں، مجھے اس بات کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور میں ہو بھی کیا سکتا ہوںآج میں چاہوں تو بھی کیا ہوںگا؟ میں کہنانہیں چاہتا ہوں، لیکن اگر میں ہندو ہوں بھی تو اس میں کون سی بڑائی ہے اس میں شیخی بگھارنے کی کیا ضرورت ہے۔جس گاﺅں میں ہم رہتے ہیںسال 1092سے لے کر آج تک قریب 1100سال ہو گئے، ہندوستان پر اب تک جتنے بھی بیرونی حملے ہوئے ہیں، میرا گاﺅں اس کی زد میں کئی بار آیا ہے۔ میرے بزرگوں نے زندگی بھروہاںگائے، براہمنوں اور مندروں کی حفاظت کی ہے۔ ہمارے پاس ہی مسلمان بھی بسے ہوئے ہیں، مغربی راجستھان میں، تقسیم کے وقت کوئی بھی مسلمان وہاں سے سرحد پار نہیں گیا۔ سندھ میں آج بھی میرے رشتہ دار بیٹھے ہیں۔ آپ جسے ہارڈ لائن کہتے ہیں، اس طرح کا ہندوتو تو میری سمجھ میں نہیں آیا۔ کون سا ہارڈ لائن کون سا سافٹ لائن؟ میں اپنی لائن پر چلوں، خدا سے یہی مسلسل دعا کرتا رہتا ہوں۔ اسی پرچلنے کی کوشش بھی کرتا رہاہوں اور کرتا رہونگا۔
لوگوں کا سیاسی جماعتوں سے اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔کسی بھی پارٹی کو عام لوگوںاور گاﺅں میں رہنے والے لوگوں کے مسائل سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ کیا ٓٓ ایسے میں ایک ایسی تھرڈ فورس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، جو عام لوگوں کے مسائل کو سنے، سمجھے اور ان کا حل نکالے؟
دیکھئے، آپ اسے فرسٹ، سیکنڈ یا تھرڈ فورس کی زبان مت دیجئے۔ بلکہ، یہ کہئے کہ کیا ہندوستان کے مسائل کے حل کے لئے ا ٓج کے سربراہ، سیاسی جماعتیں یا بی جے پی اور کانگریس ٹھیک ہیں؟میں اس کا جواب یہی دوں گا کہ اس کی ناپ تول کرنے کے لئے مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہےمیرے خیال سے دونوں جماعتیں اس میں ناکام رہی ہیں۔ہندوستان کا مطالبہ کیا؟ آپ جو بات کہنا چاہ رہے ہیں، اسے آپ تھرڈ فورس مت کہئے۔ ہندوستان کی جو ضرورت جو تڑپ ہے، اس کا جواب کیا ہے؟ کیا اس تڑپ کا جواب سرکل پارٹیوں، سماجی رہنماﺅں، سماجوادی پارٹی، کمیونسٹوں یا بی ایس پی میں ہے؟ یہ جماعتیں سبھی مسائل کا سد باب نہیں کرتیں ؟ یہ جماعتیں اتحاد قائم نہیں کرتیں بلکہ تباہی کرنے والی ہیں۔ اس لئے تیسری طاقت کی ضرورت تو ہے، مگر یہ ضرورت تب ہی پوری ہوگی، جب پورا سماج، عوام اور پوری قوم ایک ا ٓواز کے ساتھ اس کا مطالبہ کرینگے کہ ہاں اس کی ضرورت ہےاور میرا یقین ہے کہ یہ ضرورت تب ہی پوری ہوگی۔ جب ہر طرف سے نیچے سے اوپر سے ہر جانب سے آواز آئے
نیچے سے تو کوئی آواز ہی نہیں اٹھ رہی ہے؟
یہی بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ نیچے سے آواز نہیں اٹھ رہی ہے ؟ آپ اور ہم جیسے باخبر شہری یا’ چوتھی دنیا‘ جیسے اخبار اس سوال کو پوچھیں کہ آج اتنی مہنگائی کیوں ہے؟ یہ فکر کی بات ہے کہ کوئی آگے نہیں آرہا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ کہیں لاوا نہیں کھول رہا ہے۔ ڈر بس اس بات کا ہے کہ یہ چنگاری کہیں شعلہ بن کر کہیں پور ے ہندوستان کو خاکستر نہ کردے اور ہندوستان کو توڑ نہ دے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *