لالو کانگریس آمنے سامنے

بہار کے اسمبلی انتخابات اب دروازے پر دستک دینے لگے ہیں۔ نتیش کمار الگ الگ علاقوں میں جا کر عوامی حمایت حاصل کرنے میں مصروف ہیں، تو کانگریس بھی اتر پردیش کی طرح، بہار میں پارٹی کو مضبوط کرنے اور اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس لانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار نے بھی اپنی پوری طاقت بہار میں لگا دی ہے۔ اس بیچ لالو پرساد یادو نے ایک ماسٹر اسٹروک کھیلا ہے۔ اور وہ ہے خود کو اور مسلمانوں کو پھر سے متحد کرنے کا ایک زوردار منصوبہ ۔ سچ پوچھئے تویہ چال ایک ملٹری کمانڈر کی چال جیسی ہے، جو دشمن کو شکست دینے کے لئے میدان جنگ میں ایک دوسرامحاذ قائم کر لیتی ہے:
بہار میں2010کے اسمبلی انتخابات یقیناً تاریخی ثابت ہوں گے۔ سیاست کے بڑے بڑے قدآور لیڈران دنوںاپنے لئے زمین تیارکرنے کے فراق میں ہیں۔بہار میںراہل گاندھی کی اسکیم سب کے سامنے ہے، مگر15سالوں تک بہار میں اقتدار پر قابض پارٹی’ آر جے ڈی‘ کا پلان کیا ہے؟ اس کا انکشاف اس رپورٹ میں ہی ہوگاجو لالو پرساد یادو نے اپنی ہاری ہوئی سیاسی بساط جیتنے کے لئے بنائی ہے۔ان کے دوست کون ہیں؟ دشمن نمبر ایک کون ہے؟ سامنے وہ کون سی سیاسی جماعت ہوگی جس سے لالو پرساد یادو سب سے پہلے دو دو ہاتھ کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے نشانہ پر کالج کے زمانہ کے ساتھی نتیش کمار ہیں یا پھر کوئی اور؟ بی جے پی کو تقسیم کرنے والے لالو کیا پھر سے کوئی ایسی چال چلنے والے ہیں، جس میں ان کو مسلم طبقہ کی کھوئی ہوئی حمایت واپس مل پائیگی۔ ایسے کئی سوال ہیں جن کا جواب ہم اس رپورٹ میں دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو نے اسمبلی انتخابات کے لئے جو حکمت عملی تیار کی ہے، اسے سن کر کئی سیاسی تجزیہ کار حیران رہ جائیں گے۔ لالو اپنی اسکیم میں کامیاب ہوں گے یا ناکام، یہ تو الیکشن کے بعد ہی پتہ چل پائے گا۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان کی اسکیم ایسی ہی ہے جس کا اثر مرکز کی سیاست پر بھی پڑنے والا ہے۔ لالو پرساد یادو بہار میں ’کانگریس بے نقاب تحریک‘کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔یہ تحریک اگلے ہفتہ سے بہار کے ہر ضلع اور قصبہ میں شروع ہونے جا رہی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے ضلع کے افسران کو پیغام دیا گیا ہے کہ نتیش کمار سے نمٹنے سے پہلے کانگریس سے نمٹنا ضروری ہے۔ انہیں سمجھایا گیا ہے کہ بہار کی گدی کا راستہ کانگریس کے گھر کے سامنے سے ہو کر گزرتا ہے۔
”کانگریس بے نقاب تحریک“، ایک بار پھر سے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کی جا رہی ہے۔ اس دوران لالو پرساد یادو اقلیتی طبقہ کو یہ باور کرائینگے کہ بابری مسجد منہدم کرنے والوں کا ساتھ صرف کانگریس نے دیا تھا۔مسلمانوں کو 1991کی کانگریس حکومت کے کاموں سے واقف کرایا جائے گا۔ دراصل راشٹریہ جنتا دل بہار میں سرگرم مسلم تنظیموں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔”کانگریس بے نقاب تحریک“ کے دوران یہ انکشاف کیا جائے گا کہ کس طرح سے کانگریس کی سرکار نے بابری مسجد کو منہدم کرنے میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی مدد کی تھی۔ راشٹریہ جنتا دل کا یہ الزام ہے کہ لبراہن کمیشن کی رپورٹ کے بعد کانگریس نے نرسمہا راﺅ کی حکومت کا بچاﺅ کیوں کیا؟ کانگریس حکومت نے بابری مسجد کے گناہگاروں کو کیوں چھوڑ دیا؟۔ بابری مسجد انہدام معاملے میں کانگریس کے کردار کو بے نقاب کرنے کے لئے آر جے ڈی نے پوری طرح کمر کس لی ہے۔اخبارات اور کتابوں میں شائع ان سبھی رپورٹوں اور دستاویزوں کو یکجا کر کے آر جے ڈی یہ ثابت کرنے جا رہی ہے کہ بابری مسجد انہدام کے لئے سنگھ اور بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس بھی برابر کی ذمہ دار ہے۔ لالو یادو اور آر جے ڈی کے کارکنان بہار کے مسلمانوں تک یہ بات پہنچا دینا چاہتے ہیں کہ جب بھی فرقہ پرست طاقتوں سے لڑنے کی بات ہوتی ہے تو کانگریس میدان چھوڑ دیتی ہے۔
”کانگریس بے نقاب تحریک“ سے جڑا ایک اور پہلو ہے۔ لالو بہار کے مسلمانوںکو یہ بتائیں گے کہ کس طرح کانگریس نے آزادی کے بعد سے ہی انہیں ایک ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا۔وہ اس دوران ’رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ‘ او’ر سچر ّکمیٹی ‘کی رپورٹ کے ایشوزکو بھی اٹھانے والے ہیں۔کانگریس پر وہ الزام تراشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سچرّ کمیٹی نے جب یہ ثابت کر دیا ہے کہ سرکاری اداروں اور سرکاری محکموں میں مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم ہے اور جب’ رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ‘ نے مسلمانوں کے ریزرویشن کو ہری جھنڈی دے دی ہے تو پھر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی اسے نافذ کیوں نہیں کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ریزرویشن سے محروم رکھنے کی آخر وجہ کیا ہے؟
اب سوال یہ ہے کہ لالو یادو نے کانگریس کو ہی کیوں نشانہ بنایا ہے؟ جبکہ الیکشن میں ان کی براہ راست لڑائی نتیش کمار کی’ جے ڈی یو‘ اور’ بی جے پی‘ سے ہے؟ اب تک مل رہے اشارات سے واضح ہوتا ہے کہ اسمبلی انتخابات میں نتیش کمار اپنے کاموں پر عوام سے حمایت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔انھوں نے کئیترقیاتی کام کئے ہیں۔ بہار کی سڑکیں پہلے سے کافی بہتر ہوگئی ہیں۔ جرائم کے گراف میں کمی آئی ہے۔ انھوں نے بدعنوانیوں سے بہار کو پاک کرنے کی کافی کوششیں کی ہےں اورحکومت کے تئیںلوگوں کے کھوئے ہوئے اعتماد کو پھر سے بحال کیا ہے۔ ان پر کسی گھوٹالے یا بے ایمانی کا کوئی الزام نہیں ہے۔ بہار میں اقلیتی طبقہ ہو یا دلت طبقہ، سبھی اس بات کومانتے ہیں کہ نتیش کمار ایک بہتر نظام حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ نتیش کمار کو لگتا ہے کہ انھوں نے جو کام کئے ہیں، وہ عوام کے سامنے ہیں اور ان ترقیاتی کاموں کی بدولت وہ آسانی سے انتخاب جیت جائیں گے۔لالویادوسیاست کے پرانے کھلاڑی ہیںاور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ                                                                                وہ نہایت تجربہ کار سیاستداں ہیں۔ وہ بہار کے عوام کی نبض کو اچھی طرح سے پہنچانتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بہار میں بہتر حکومت دینے کے باوجود انتخابات میں فتح یقینی نہیں کہی جا سکتی ۔ بہار میں الیکشن جیتنے کے لئے ترقیاتی کاموں سے زیادہ اہمیت برابری کی ہے۔وہ اس بات کو بھی جانتے ہیں کہ اگر انہیں بہار میں پھر سے اپنی حکومت بنانی ہے تو انہیں مسلمانوں اور یادووں کی حمایت کی ضرورت پڑے گی۔ جہاں تک بات یادووں کی ہے تو بی جے پی اور جے ڈی یو میں گزشتہ پانچ سالوں میں کوئی بھی ایسا یادو لیڈر نہیں ابھرا ہے جو لالو یادو کو چیلنج کر سکے۔ ساتھ ہی، بہار کی قوم پرست سیاست کا مزاج ہی کچھ ایسا ہے کہ یادو رائے دہندگان خود بخود آر جے ڈی کے حمایتی بن جائیں گے۔ بہار کی اس حقیقت کو بھی سبھی جانتے ہیں کہ لالو یادو اگر بہار کے مسلمانوں کا ووٹ یکجا کرنے میں ناکام ہو گئے تو ان کا الیکشن جیتنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہوگا۔ گزشتہ انتخاب میں لالو یادو نے لال کرشن اڈوانی کے رتھ کو روک کر اور انہیں گرفتار کراکے مسلمانوں کے دلوں میں اپنے لئے جگہ بنائی تھی۔ اس بار لالو یادو پھر سے دلوں کو جیتنے کے لئے کانگریس کو بے نقاب کرنے کی تحریک شروع کر کے نیا کھیل کھیلنے جا رہے ہیں۔لالویادو کولگتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے حق میں کرنے کے لئے کانگریس پر حملہ کرنا ضروری ہے۔
بہار اسمبلی انتخابات میں نئے دوستوں، نئے تال میل اور پارٹیوں کی اندرونی قلعی بھی کھل سامنے آئے گی۔ لالو یادو مرکزی سیاست میں کانگریس کے ساتھ یو پی اے حکومت میں وزیر رہے۔ یو پی اے سرکار کو حمایت دے رہے تھے پر سیاست کی مجبوریاں بھی عجیب ہوتی ہوتی ہیں۔ لالو اب تک جس کے ساتھ تھے، اسی کانگریس کے خلاف انہوں نے آگ اگلنے کی اسکیم بنائی ہے۔”کانگریس بے نقاب تحریک“ مشرقی اتر پردیش کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج سے وجود میں آئی ہے۔ یہاں مسلمانوں نے سماجوادی پارٹی کو چھوڑ کر کانگریس کا ساتھ دیا۔مسلمانوں کے ووٹروں کی بدولت کانگریس ایک مضبوط پارٹی بن کر ابھری اور 6سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ جب سے کانگریس نے بہار میں اپنے منصوبے عام کئے۔ راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ مرکز کے کئی لیڈر وں نے پٹنہ پہنچ کر کانگریس کو مضبوط کرنے کا اعلان کیا، راہل گاندھی نے بہار میں نوجوانوں اور اقلیتوں کو لبھانے کا پروگرام چلایا، تب سے بہار کی سیکولر پارٹیوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگی ہیں۔ لالو یادو کو اس بات کا ڈر ہے کہ اگر بہار میں کانگریس کا مظاہرہ مشرقی اتر پردیش کی طرح رہا تو ان کی پارٹی کہیں کی نہیں رہے گی۔ الیکشن جیتنا تو دور، اسمبلی میں آر جے ڈی کی سیٹیں کم ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ راشٹریہ جنتا دل کے لیڈران بھی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ نتیش کمار سے بڑا خطرہ ان کے لئے کانگریس پارٹی ہے۔
لالو یادو کی ” کانگریس بے نقاب تحریک“ کا اثر مرکز کی سیاست پر بھی ہونے والا ہے۔ بی جے پی کے کمزور ہونے کے بعد نئے ایشو زابھرنے متوقع ہیں۔ ملک میں ایک بار پھر سے کانگریس مخالف لہر چلنے والی ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یو پی اے کو حمایت دینے والی سیاسی جماعتیں اور لیڈر کانگریس مخالفت کی وجہ سے اپنی اپنی ریاستوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لالو یادو کی اس تحریک کو کئی پارٹیوں کا ساتھ بھی ملنے والا ہے۔ اس تحریک میں لالو یادو کا ساتھ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو دیں گے۔ اتر پردیش میں جس طرح اقلیتوں نے سماجوادی پارٹی کا ساتھ چھوڑا ہے، ویسا ہی بہار میں راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کانگریس جس طرح سے بہار میں تشہیر کرنے اور تنظیم کو مضبوط کرنے میںمصروف ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ کانگریس کی اس مہم کا سیدھا اثر آر جے ڈی پر ہونے والا ہے۔کانگریس کی نظر بہار کے دلت رائے دہندگان پر بھی ہے، اس لئے ان کی مہم کا اثر رام ولاس پاسوان پر بھی ہونے والا ہے۔ لالو یادو کی” کانگریس بے نقاب تحریک“کو رام ولاس پاسوان کا بھی تعاون ملنے والا ہے۔ ساتھ ہی بایاں بازو بھی لالو یادو کے ساتھ کھڑا نظر آ رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران بنا چوتھا مورچہ بہار میں متحد ہو کر نتیش کمار اور کانگریس کے خلاف الیکشن لڑنے والا ہے۔
لالو یادو کے ذریعہ کانگریس کو نشانہ پر لینے کی ایک اور وجہ بھی ہے، جو سیاسی ہونے کے ساتھ ساتھ نجی بھی ہے۔ لالو یادو کے سالے سادھو یادو اپنے شرکاءکے ساتھ کانگریس میں آ چکے ہیں، جن سے وہ اچھے خاصے ناراض ہیں۔ اسے وہ خود پر حملہ مانتے ہیں۔
بہار الیکشن میں ملک کے بڑے بڑے لیڈروں کا وقار داﺅ پر لگا ہوا ہے۔ بہار الیکشن کسی بھی پارٹی کے لئے آسان نہیں ہوں گے۔ چیلنج سب کے سامنے ہیں۔ نتیش کمار کا دعوہ یہ ہے کہ وہ پانچ سال کے اپنے دور اقتدار میں ہوئی ترقی کو عوام کے سامنے کس طرح سے پیش کریں ، جو کہ وو ٹ میں تبدیل ہو جائے۔ بی جے پی کے سامنے دوسرا چیلنج ہے۔ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے اچھے کاموں کا کریڈٹ نتیش کمار کو ملتا ہے،لیکن جو برائیاں ہیں، وہ بی جے پی کے کھاتے میں چلی جاتی ہیں۔بی جے پی کو بہار میں اپنے آپ کومضبوط کرنے کا چیلنج ہے۔انتخابات سے قبل پارٹی کو مضبوط کرنا کانگریس کے لئے بڑا چیلنج ہے تو لالو پرساد یادو کے سامنے یہ الیکشن ان کے وجود کا سوال لے کھڑا ہے۔رام ولاس پاسوان گزشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل وزیر اعلیٰ بننے کی دوڑ میں تھے، لیکن آج حالت یہ ہے کہ وہ خود لوک سبھا الیکشن میں شکست کھائے بیٹھے ہیں۔ کل ملا کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر بڑی پارٹی اور لیڈر کے سامنے بہار کا الیکشن ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *