کیا ہندوستان کو ہالبروک کی ضرورت ہے؟

افغانستان اور پاکستان میں تعینات امریکی سفارتکار ریچرڈ ہالبروک افغانستان اورپاکستان پالیسی میں امریکہ کی فتح کے لئے ہندوستان کو فائدہ مند مانتے ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے، جب ریچرڈ ہالبروک نے افغانستان پاکستان پالیسی میں ہندوستان کو شامل کئے جانے کی پیشکش کی ہے۔ اپنے اس بیان سے بھلے ہی انھوں نے سیدھا اشارہ نہیں کیا ہے،لیکن اتنا ضرور واضح کر دیا ہے کہ امریکہ افغانستان اور پاکستان میں ہر حال میں فتح کا خواہشمند ہے اور اس فتح کے لئے اسے اگر ہندوستان کا سہارا لینا پڑتا ہے تو وہ ضرور لے گا۔ ہالبروک کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندوستانی وزیر خارجہ افغانستان میں منعقدہ ایک اجلاس کے لئے لندن روانہ ہو رہے تھے۔ اس اجلاس کا انعقاد برطانیہ، مشترکہ ممالک اور افغانستان کی پہل پر ہوا۔ اس میں دنیا بھر کے ممالک کے وزرائے خارجہ اس بات پر بحث و مباحثہ کریں گے کہ کس طرح سے افغانستان میں فوجی اور غیر فوجی ہتھیاروں کا استعمال کیا جائے اور بین الاقوامی سطح پر افغانستان کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے پالیسی بنائی جائے۔ افغانستان میں ہندوستان کا کیا کردار رہے گا یہ کبھی کسی بیرون ملک نے طے نہیں کیا ہے۔افغانستان میں سوویت یونین کی فوج کی موجودگی کے دوران بھی ہندوستان نے غیر جانبدرانہ کردار ادا کیاتھا۔11ستمبر کو امریکہ پر ہوئے القاعدہ حملہ کے بعد جب امریکی حملوں کا آغاز ہوا اور آگے چل کر امریکہ کی افغانستان اور پاکستان پالیسی بنائی گئی تب بھی ہندوستان کا کردار غیر جانبدارانہ رہا۔ یہ بات الگ ہے کہ ہندوستان نے امریکی پالیسی کی سخت مذمت نہیں کی، لیکن وقت وقت پر ہندوستانی وزارت خارجہ یہ واضح کرتی رہی ہے کہ ہندوستانی حکومت افغانستان میں امن بحالی کے ساتھ ساتھ افغانی باشندوں کو ترقی کے راستہ پر لانے کے حق میں ہے۔لہٰذا، افغانستان میں ہندوستان نے مدد کرنے میں ہمیشہ سے دوری بنا کر رکھی کیونکہ انہیںافغانستان کی ترقی سے کوئی واسطہ نہیںتھا۔ لیکن افغانستان میں دہشت گردی ایک ایسا مس¿لہ ہے، جس سے ہندوستانی سفارت کاروں نے ہمیشہ اپنا دامن بچایا اور اس کا نتیجہ آج سامنے ہے۔ امریکہ اور درجن بھر دیگر مغربی ممالک افغانستان میں ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں، جس کا آغاز تو ہوا تھا امریکہ کی جنگ کے طور پر، لیکن بعد میں تبدیلی کے ذریعہ اسے افغانستان کی جنگ قرار دے دیا گیا۔
ریچرڈ ہالبروک کے بیان کا کیا مقصد ہے ؟ امریکہ کس جنگ میں فتح کے لئے ہندوستان کو فائدہ مند مان رہا ہے؟ کیا افغانستان کی جنگ میں امریکہ کا اپنا بھی کوئی فائدہ ہے یا پھر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے افغانستان دورہ کے وقت دیئے گئے بیان پر امریکہ آج بھی قائم ہے؟ غور طلب ہے کہ ہلیری کلنٹن نے اپنے دورہ کے وقت واضح الفاظ میں کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں افغانیوں کے لئے ہے۔ لہٰذا، ریچرڈ ہالبروک ایسے وقت میں ہندوستان کی جانب دیکھ رہے ہیں، جب مشترکہ ممالک اور افغانستان کی پہل پر لندن میں اجلاس کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ جس طرح سے گزشتہ کچھ ماہ میں افغانستان میں امریکی اڈوں پر حملہ کیا گیا ہے اور یہاں تک کہ سی آئی اے کے خلاف القاعدہ اور طالبان کو بڑی فتح حاصل ہوئی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ریچرڈ ہا لبروک افغانستان میں جنگ کی بساط بچھانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ اوپر سے اوبامہ انتظامیہ کی دی گئی مدت بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا نو سال تک افغانستان سے لڑنے کے بعد امریکی سفارتکاروں کو ایسا لگ رہا ہے کہ افغانستان میں فتح امریکہ کی مجبوری ہے اور وہ ویتنام جیسی غلطی دہرانے کی منڈیر پرکھڑا ہے۔

راہل مشر

بین الاقوامی اور قومی سیاست کو باریکی سے سمجھنے والے راہل مشر کے پاس میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ راہل مشر خاص طور پر امریکی سیاست اور اس سے جڑے مسائل کے تحقیق کار ہیں۔”چودھی دنیا“میں راہل مشر ڈپٹی ایڈیٹر کے عہدہ پر تعینات ہیں۔

Latest posts by راہل مشر (see all)

Share Article

راہل مشر

بین الاقوامی اور قومی سیاست کو باریکی سے سمجھنے والے راہل مشر کے پاس میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ راہل مشر خاص طور پر امریکی سیاست اور اس سے جڑے مسائل کے تحقیق کار ہیں۔”چودھی دنیا“میں راہل مشر ڈپٹی ایڈیٹر کے عہدہ پر تعینات ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *