جیوتی بسو وزیر اعظم کیوں نہیں بن سکے

سال 1997میں جیوتی بسو کو وزیر اعظم بنانے سے ان کی پارٹی نے ہی انکار کر دیا تھا،تو بسو نے اسے کیوں ہندوستانی مارکسواد کی تاریخی بھول قرار دیا؟ جبکہ بقول ان کہ انہیں اپنے رتبے یاعہدہ سے زیادہ لگاﺅنہیںتھا۔بنگال میںرہ کر بھی ہندوستان کے کسی بھی وزیر اعظم کے مقابلے میں ان کے پاس کہیں زیادہ طاقتیں تھیں۔ وہ کولکاتہ میں خوش تھے۔ ان میں اتنی صلاحیت تھی کہ وہ کولکاتہ میں رہ کر بھی اپنے سخت رویوں سے دہلی کے سیاسی حلقوں میںمیں ہلچل پیدا کر سکیں۔ وشوناتھ پرتاپ سنگھ بغیر ان کی مدد کے کبھی بھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے۔ تاریخی بھول میں سب سے اہم لفظ تاریخی ہے، نہ کہ بھول ۔ بسو نے یہ محسوس کیاکہ ان کی پارٹی سی پی آئی( ایم)نے ماضی میںایک اہم موقع پر ایک غلط فیصلہ کیاتھا۔
عام طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انیس سو ستانوے سے ابھی تک سیاست میں سب سے بڑی تبدیلی مارکسوادی جماعتوںکا زوال رہا ہے۔ انتخابات کا اگر حوالہ دیا جائے تو مارکسوادیوں کے زوال کایہ عمل تین سال قبل اچانک تیز ہو گیا۔ ہم سیاست میں جیت کے نشہ میں اس طرح کھو چکے ہیں کہ عام آدمی کی سیاست کیا ہوتی ہے، اسے بھی نہیں سمجھ پارہے ہیں۔ سب سے چونکادینے والی بات یہ ہے کہ گزشتہ سالوں میں مارکسوادیوں میں غیر معمولی ترقی دیکھی گئی ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ پہلے جس پارٹی کے تقریباً 50 ممبران پارلیمنٹ ہوا کرتے تھے ا ب اس تعداد میں کافی کمی آئی ہے اور یہ محض دو سو اضلاع تک سمٹ چکی ہے۔ فرق یہ ہے کہ نکسلی ہندوستانی جمہوریت کی اہم دفعہ میں شامل نہیں ہے۔ ایک نظر مارکسوادیوں کی شہرت پر ڈالتے ہیں۔ اگر مارکسوادی بنگال اور کیرل میں سنگین بھول نہ کرتے تو وہ کس حالت میں ہوسکتے تھے۔ بسو وہ بات سمجھ گئے جو ان کے کامریڈ نہیں سمجھ پائے کہ سی پی آئی (ایم)کو وزیر اعظم کی بے پناہ طاقت کے ذریعہ محروم اور نچلے طبقہ کو قیادت دے کر علاقائی صوبہ داری سے قومی سطح پر ایک لمبی چھلانگ لگانے کی ضرورت ہے۔ ایک وزیر اعظم کا بیان شاید اس کی پالیسیوں طے نہیں ہوتا بلکہ آی¿ن طے کرتا ہے۔ نہرو کے دور حکومت میں بسو جوشیلے نوجوان تھے۔اندرا گاندھی کے زمانہ میں ان میں پختگی آئی۔ ان کے رویہ میں اتنی نرمی تھی کہ وہ نہرو کے اعلیٰ اصول پسندی کے ساتھ ساتھ اندرا گاندھی کے عمل کے سانچے میں بھی سما جاتے تھے۔ پچاس کی دہائی میں مارکسواد کو عروج دینے کے لئے انھوں نے جی جان لگادی۔ کانگریس ان سے فلمی انداز میں بہانہ بازی سے حمایت واپس نہیں لے سکتی تھی، جیسا کہ اس نے اندر کمار گجرال کے ساتھ کیا۔ جسکی اسے گزشتہ انتخابات میں بھاری قیمت چکانی پڑی۔ بسو کی جیت کا یقین تو گلیوں سے لے کر ریاستوں تک تھا۔
سی پی آئی ( ایم) کو تاریخی بھول کے لئے آمادہ کیا گیا،کیونکہ دہلی کے تئیں اس کا نظریہ ریاکاری پر مشتمل تھا ۔ وہ بنا کسی ذمہ داری کے مرکز کے اقتدار میں اپنی برتری چاہتے تھے۔ جبکہ ان کے مقابل سی پی آئی کو دیوگوڑا کی مشروط سرکار میں شامل ہونے میں کوئی ہچک نہیں تھی۔ سی پی آئی (ایم) یہ بھول جاتی ہے کہ محض بڑی بڑی باتوں سے سرکار نہیں بنتی ہے۔مارکسوادی تاریخ میں برابری بے حد ہی انوکھی ہے۔ بسو کی بھول ٹھیک اسی طرح کی ہے، جیسے لینن نے’ کیرینسکی‘ سے کہا کہ’ کریملن‘ کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہے۔لیکن، لینن نے یہ بھی کہا کہ ہر وقت انھوں نے’ کیرینسکی‘ سے صلاح مشورہ کیا۔ شاید اسی لئے سی پی آئی ( ایم) مارکسوادی ہے اور سی پی آئی ( ایم-ایل) مارکسوادی-لینن وادی۔
سی پی آئی( ایم ) کبھی بھی اپنی صلاحیت پوری طرح نہیں سمجھ پائی۔1964میں سی پی آئی میں تقسیم کے بعد جب نکسل باڑی کے ماﺅنوازوں کو نظر انداز کیا گیا اور قوم کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام میں کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو یہ پارٹی ایک نئے کمیونزم کی نظیر بن گئی۔ پرانی کمیونسٹ پارٹی پہلے سے ہی دم گھوٹنے والی تاناشاہی کا شکار تھی اور ساتھ ہی یہ عوام کے ذریعہ انفرادی آزادی کے مفہوم کو بھی نہیں سمجھ پائی۔ جامد جمہوریت کے باوجود مختلف سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں کے ساتھ ہندوستان نے ایک نئے کمیونزم کے لئے مناسب ماحول مہیا کرایا ہے۔ سی پی آئی (ایم)موجودہ نظام میںبہتر طور پر کام کرنے کے لئے مناسب تھی تاکہ وہ غیر متوازی نظام کو درست کر سکے۔ اس نے سماج کو ایک ایسے سانچے میں ڈھالا ، جو مکمل تو کبھی نہیں تھا،لیکن یقینی طور پر مساوات کا بہتر ین نمونہ تھا۔سوویت یونین کی تحریک کے بعد سی پی آئی ( ایم)اگر قیادت نہیں کر سکتی تھی تو ایک نظیر تو پیش کرہی سکتی تھی۔ کمیونسٹ افریقہ، لیٹین امریکہ اور ایشیا میں قیادت کی وہ خالی جگہ بھر سکتے تھے ، جو کہ ابھی بھی خالی ہے۔
کمیونزم کے زوال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا کو کمیونسٹ آواز اور ایجنڈے کی ضرورت نہیں ہے۔ ۔ سوویت یونین کی تحریک کی نصف صدی کے بعد بھی جمہوری ہندوستان کے کمیونسٹ وزیر اعظم کے طور پر جیوتی بسو نہ صرف اپنے ملک، بلکہ پوری دنیا میں بااثر ثابت ہو سکتے تھے۔وہ اپنے منھ میاں مٹو بنے بغیر اور غیر امریکی مخالف ہوئے ایسی خارجہ پالیسی اپناتے جو آزادی کو صحیح معنی دیتی۔
اس کے کئی اسباب ہیں، جنہیں یہ لگتا ہے کہ رائٹ اور لیفٹ کے درمیان کی مہابھارت ختم ہو چکی ہے۔رائٹ نے اصول اور رویہ میں اپنے وجود کی شناخت اور حفاظت کے لئے معاہدہ کرنے کی قابلیت دکھائی ہے وہ غلط ہیں کیوں کہ کمیونسٹوں نے ٹریڈ یونین کی طرح اپنے انتخابی عمل میںعوام کے مطالبات کے سامنے خود سپردگی کر دی۔ خاص کر اس وقت جب وہ اپنی شناخت، اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہے تھے ۔
جیوتی بسو ایک ایسے مجاہد تھے، جنہیں جدید نظریات والے کمیونسٹوں نے بے یقینی کی دھند میں تنہا چھوڑ دیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *