جیوتی باسو ۔ بچھڑاکچھ اس ادا سے

مکیش کے یادگار نغمے جانے کہاں گئے وہ دنکو ذرا اور شاعرانہ رنگ دیں اور اس گانے کو اس طرح گائیں کہ جانے کہاں گئے وہ لوگ؟تو یقناً جیوتی باسو کا خیال آئیگا کیوںکہ وہ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے اندرا گاندھی، راجیو گاندھی چندر شیکھر اور وشو ناتھ پرتاپ سنگھ نہیں ہیں۔ یہ سبھی محض ملک کے قائد ہی نہیں تھے، بلکہ اس ملک کی عوام کے عظیم ہیر وبھی تھے آزاد ہندوستان کی یہ ہستیاں ملک وقوم کے لئے راہ عمل تھیں۔ عام آدمی کی آواز اور اس کا بھرسہ تھیں۔ جیوتی باسو کے جانے سے عام آدمی کی آواز اور بھروسہ کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ یہ صدمہ گہرا اس لئے ہے کہ جیوتی دا ہماری اس سرزمین ہند کے عظیم لعلوں کی فہرست کے آخری چراغ تھے، وہ عام آدمی کے دل کی دھڑکن تھے عام آدمی کے لئے ان کا ہونا ہی باعث تقویت تھا وہ ان کے عظیم ہیرو تھے۔ رفتہ رفتہ ملک ایسی نادر ہستیوں سے محروم ہوتا جارہا ہے اور اب ملک کے قائدین کی فہرست میں ایسا کوئی نام نظر نہیں آتاجو عام آدمی کا قائد بننے کا اہل ہو
مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے سینئر لیڈر جیوتی باسو کا 95سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ پورا ملک غمزدہ ہے۔ اس لئے نہیںکہ کسی سابق وزیر اعلیٰ یا پھر کسی سیاسی جماعت کے سابق لیڈر کا انتقال ہوا ہے، بلکہ اس لئے ان کے درمیان ایک ایسی ہستی نہیں رہی، جس نے سیاست اور سیاسی داو¿ں پیچ سے مبرا ہوکر ملک کی عوام کی خدمت کی ہے۔ عام آدمی کی آواز کو بلند کیا ہے۔ ان کا بھروسہ جیتا ہے۔ وہ ایسی ہستی تھے، جس کے پاس لوگ بے جھجھک جاتے تھے اور اپنی بات رکھتے تھے، لوگ اس یقین کے ساتھ واپس آتے تھے کہ جیوتی باسو ان کی بات سمجھ گئے ہیں اب ان کے مسائل یقینا حل ہونگے اور ان کے مفادات کی حفاظت کی جائے گی۔ اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، چندر شیکھر اور وی پی سنگھ بھی ہندوستان کے ایسے عظیم ہیرو رہے، جنھوں نے عام آدمی کے یقین کو جیتا تھا۔یہ باعث تکلیف بھی ہے کہ اتنے وسیع ملک میں اتنی بڑی جمہوریہ میں اب ایسے سیاسی رہنماو¿ں اور ہیروز کا فقدان ہے اب ایسے عظیم ہیرو عوام کے درمیان نہیں، سوائے اٹل بہاری واجپئی کے۔یقیناً سابق وزیر اعظم اور بی جے پی کے سینئر لیڈر اٹل بہاری واجپئی عظیم قائدین کی اس فہرست کی آخری کڑی ہیں۔
جیوتی باسو جیسے جیسے لیڈر اب اس جمہوریت میں پیدا نہیں ہو رہے ہیں۔ ہمارے ارد گرد ایسی ہستیاں نہیں بچی ہیں جنہیں عوام سے جڑے ہونے کا شرف حاصل ہو۔ایک بھی ایسا لیڈر دیکھنے کو نہیں ملتا، جسے عام آدمی کا محافظ کہا جا سکے۔ ایسا کوئی نہیں، جس پر ملک کی عوام کو اعتماد ہو سکے۔8جولائی 1914کومشرقی بنگال میں پیدا ہوئے جیوتی باسو نے کولکاتہ کے ایک کانوینٹ اسکول میں پڑھائی کی۔ وکالت کرنے کے لئے لندن کا رخ کیا۔1933میں’ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ‘کی ممبر شپ لی۔ آزادی کے بعد ریلوے کارکنان کے ساتھ تحریک میں زور شور سے حصہ لیا۔ جیوتی باسو پہلی بار سرخیوں میں آئے اور 1957میں مغربی بنگال کی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر منتخب کئے گئے۔ اگلے20سال تک جیوتی باسو نے ریاست کی سیاست کو اس قدر متاثر کیا کہ 1977میں پہلی بار کمیونسٹوں کو اسمبلی میں مکمل جیت حاصل ہوئی اور خود انہیں وزیر اعلیٰ کا عہدہ۔ اس عہدہ پر فائز ہونے کے بعد جیوتی باسو بنگال کی سیاست کا اہم نام بن گئے۔ 23سال تک مسلسل وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر بیٹھ کر انھوں نے ہندوستانی سیاست کی تاریخ رقم کی۔ بطور وزیر اعلیٰ مغربی بنگال میں زمینی سدھار کا جو کام جیوتی باسو نے کیا وہ ملک کے کی کسی دوسری ریاست میں سوچنا بھی مشکل تھا۔ ملک کی جمہوریت کی داستان جیوتی باسو کے بغیر رقم نہیں کی جا سکتی۔
اسے جمہوریت کا تمسخر اڑانا نہیں تو اور کیا کہیں کہ1996کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے ہی ملک کے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ جیوتی باسو ملک کے وزیر اعظم کے عہدہ کے سب سے مضبوط دعویدار ہیں۔ایسا اس لئے نہیں کہا جا رہا تھا کہ کمیونسٹ پورے ملک میں لوک سبھا انتخابات میں فتح حاصل کرنے جا رہے تھے، بلکہ اس لئے کہ علاقائی پارٹیوں کی بڑھتی دعویداری کے سبب جہاں قومی پارٹیاںاپنا وجود کھوتی جارہی تھیںوہیںپورے ملک میں ایک ہی نام گونج رہا تھا اور وہ نام جیوتی باسو کا تھا، یہ بنگال کے اس قائد پر ملک کی عوام کا بھرپور اعتماد نہیں تو اور کیا ہے کہ وہ پورے ملک کا عظیم ہیرو بنا۔
1996میں عام انتخابات کے نتائج کے بعد کمیونسٹوں نے بات چیت سے انکار کر دیا اور حکومت کوباہر سے حمایت دے دی۔ اس فیصلہ نے جیوتی باسو کو وزیر اعظم بننے سے روک دیا اور خود جیوتی باسو کے لفظوں میں یہ کمیونسٹوں کی سب سے بڑی بھول ثابت ہوئی۔ بہر حال، بغیر وزیر اعظم بنے بھی جیوتی باسو نے ملک کی عوام کا یقین جیتا اور آخری دم تک اس یقین کو قائم رکھا۔ آج ان کی کمی کا احساس اسی جمہوریت کو محسوس ہو رہا ہے۔ ہمارے موجودہ قائد بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ قائدبننے کے لئے انہیں عام آدمی کی آواز بننے کے ساتھ ساتھ ان کے اعتماد پر بھی قائم رہنا ہوگا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کے عوام ایسے لیڈروں کی کمی محسوس کر رہے ہیں، جو ان کے مفادات کی حفاظت کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *