ہند آسٹریلیائی تعلقات ،نازک موڑ پر

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان دنوں آسٹریلیا اورہند وستان کے آپسی تعلقات ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ تعصب کی یہ حالت ہے کہ پہلے ہندوستانی ٹیکسی ڈرائیوروں پر حملے ہوئے اس کے بعد ہندوستانی طلبا پر حملے کئے گئے اور اب گرودواروں کو نشانہ بنانے جیسے معاملات سے صورت حال اور بھی سنگین ہو چکی ہے۔حالانکہ دونوں ہی ممالک نے اپنی جانب سے پوری کوشش کی ہے کہ ان حالات کا اثر دو طرفہ رشتوں پر نہ پڑے، لیکن بند دروازوں کے پیچھے کی حقیقت کا اگر جائزہ لیں تو حالات یقیناًحوصلہ افزاءنہیں ہیں۔
سال 2007سے ہی دو نوں طرف کے رشتے مسلسل کشمکش سے نبرد آزماہیں۔ کبھی محمد حنیف تنازعہ ، کبھی ایندھن میں کاروبار کی من مانی،اور کبھی ہر بھجن سنگھ تنازعہ ہندوستان اور آسٹریلیا کے مابین تناﺅ پیدا کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی بھی مس¿لہ کو ہندوستان میں لوگوں کے غصہ کا سامنا نہیںکرنا پڑا۔ جتنا حال ہی میں ہندوستانی طلبا پر ہوئے حملوں سے ملک میں اشتعال ہے۔ اس بات کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں آسٹریلیا سے کئی اعلیٰ سطحیوفد نے ہندوستان کا دورہ کیا، جس کا آغاز آسٹریلیائی وزیر خارجہ’ اسٹیفینس اسمتھ‘ سے ہوا پھر وکٹوریہ اسٹیٹ کے سربراہ ’جان بمپی‘، نائب وزیر اعظم ’جولیا گیلارڈ‘ اور آخر میں خود وزیر اعظم’ کیون روڈ‘ کا ہندوستان کا دورہ نہایت اہم ہے۔وہیں ہندوستان سے بھی وزیر خارجہ’ ایس ایم کرشنا‘ اور وزیر’ ویالار روی ‘کے آسٹریلیا دورہ سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ دونوں ہی ملک اس کوشش میں ہیں کہ باہمی رشتے اور تعلقات اور زیادہ خراب نہ ہوں۔ خاص کر، آسٹریلیائی وزیر اعظم ’کیون روڈ‘ کے نومبر میں ہوئے ہندوستانی دورہ کو مناسب موقع پر کئے گئے سفر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور آسٹریلیامیں واقع کئی تجزیہ کار اس بات کو مان رہے ہیں کہ ایک بار دونوں ممالک کے درمیان سفارتی معاملات بہتر ہو جائیں تو ہندوستانی طلبا پر ہو رہے حملوں کا معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔اگر حقیقت میں یہی وجہ ان اعلیٰ سطحی دوروں کے پیچھے تھی تو یہ بدقسمتی ہے کہ وہ دورے بے مقصد ثابت ہوئے کیو نکہ وہ زمینی حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں رکھتے۔
ایسے وقت میں جب ہندوستانی طلبا پر حملوں کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور گرودواروں کو آئے دن نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو ضرورت ہے کہ کچھ اہم سوالات پر غور وخوض کیا جائے۔ پہلا۔ حملوں کے پیچھے کی اصل وجہ کیا ہے۔ دوسرا۔کیا ہندوستانی میڈیا کے ذریعہ آسٹریلیا پر تعصب کا الزام صحیح ہے؟ تیسرا۔ ان مسائل کوحل کرنے کے لئے ہمارے پاس کیاضروری شواہد اور انتظامات موجود ہیں۔چوتھا۔ کیا ہندوستانی ردعمل کو واجب قرار دیا جا سکتا ہے ؟اور پانچواں موجودہ حالات میں دونوں ممالک سے کیا توقع کی جانی چاہئے۔
موجودہ تنازع کو حل کرنے کی پہل کی سمت میں پہلا بڑا مسئلہ تنازع کی الگ الگ شکل اور وضاحت ہے۔دونوں جانب کے افسران اسے مختلف طریقہ سے پیش کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے مطابق، آسٹریلیا میںہو رہے کچھ حملے نسلی تعصب کا نتیجہ ہیں، وہیں آسٹریلیائی افسران کسی بھی طرح کے نسلی تعصب سے صاف انکار کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ہندوستانیوں پر ہو رہے حملے محض قانونی نظام سے متعلق ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ دونوں جانب کے افسران دو مختلف مسائل کو دیکھ رہے ہیں۔ اور اسی بنیاد پر الگ الگ حل پیش کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ دونوں ہی جانب پہلے اس بات پر اتفاق ہوکہ مسئلہ کی اصل وجہ کیا ہے۔ جب اس پر باہمی اتفاق ہو جائے، تب اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ضروری قدم اٹھانے کی کوشش کریں۔ حالانکہ، آسٹریلیا کے سابق فوجی سربراہ ’پیٹر کاسگروہ ‘کاہندوستانیوں پر ہو رہے تشدد کو تعصب سے جوڑنا ، محض آسان حل ڈھونڈنے جیسا ہی ہے ۔جس پر توجہ نہ دیتے ہوئے تعصب کے خلاف کوئی معاملہ ثابت کرنا جتنا آسان لگتا ہے، اتنا ہے نہیں۔ جب تک حملوں کا مقصد واضح نہ ہو جائے کہ یہ،نسل، قومیت، مذہب یا علاقائی ہیں تب تک کچھ بھی ثابت کرنا یا کہنا مشکل ہے ، جس طرح جنوبی افریقہ میں اپاتھیرڈ کا دور رہا ، رابرٹ مگابے کے تحت زمبابوے رہا یا جنوسائڈ کے وقت روانڈا رہا۔ یہ نسلی تعصب کے نمونے ہیں آسٹریلیا میں بھی تب تک تعصب کے خلاف معاملہ بننا آسان نہیں ہے جب تک دیگر معاملات میں یا تو ملزم تعصب کا الزام تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے یا پھر تعصب کا دعویٰ کرنے والے متاثرین کے دعوے کو عدالت میں اس طرح چیلنج کردیتا ہے، کہ حملہ کی غیر جانبدرانہ گواہی کوئی نہیں دے سکتا ہے۔ ایسے حالات میں تعصب کے ملزمان کو کسی طرح کے ثبوت و شواہدکی مدد سے ثابت نہیں کیاجا سکتا ہے۔ واحد حل یہ ہی رہ جاتا ہے کہ سیاسی نیک نیتی ، باہمی اعتماد اور انسانی حقوق کوبنیاد بنا کر ہی اس مسئلہ سے نمٹا جائے۔ آسٹریلیا میں حملوں کوروکنے یا حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبے پر، پہلے ہندوستان کے سیاست دانوں اور سفارت کاروں کو اس بات کو ذہن نشیں رکھنا چاہئے۔
دوسرا، جس طرح سے وکٹوریہ میں ہندوستانیوں کے خلاف حملوںکی تعداد بڑھ رہی ہے، پورے آسٹریلیا میں رہ رہے ہندوستانیوں کو اس معاملہ میں غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور، ضرورت ہے کہ وہ ساتھ میں رہنے والے آسٹریلیائی لوگوں اور دوستوں سے ایک صاف ذہن رکھتے ہوئے جامع بحث کریں۔ یہ اس لیے بھی لئے ضروری ہے، کہ یہ بلکل مناسب نہیںہے کہ ہم کچھ لوگوں کے برتاﺅ سے بھلے ہی وہ تعصب سے ہی متاثر کیوں نہ ہوں، پورے ملک کا رویہ سمجھ لیں اور وہاں کی نظام قانون پر ہی متعصبانہ ہونے کا الزام لگائیں۔ ہندوستانی لوگوں کی آسٹریلیائی حکومت اور وکٹوریہ کی پولس سے اس بات کی ناراضگی جائزہے کہ وہ ان حملوں میں تعصبانہ کردار سے ا نکار رہے ہیں لیکن میرا سوال یہی ہے کہ کون سا ملک تعصب کا الزام تسلیم کرے گا؟، وہ بھی تب، جب وہ ملک تسلیم نہ کرے لیکن زبردستی کرکے اس سے یہ الزام تسلیم کرنے کے لئے کہا جا ئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ نسل پرستی اور تعصب کے معاملات سبھی ملک اور معاشرہ میں ہوتے ہیں۔ صرف آسٹریلیائی سماج کے لئے ایسا کہنا غلط ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ اس طرح کے حملے ہرسماج اور ممالک میں ہوتے ہیں، لیکن جو بات ایک ملک کو دوسرے ملک سے الگ اور ممتاز کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس مسئلہ کو سلجھانے کے لئے وہ کس طرح کے اقدامات کرتا ہے۔ اس زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو آسٹریلیائی اخبار اور ٹیلی ویژن چینلوں پر ایسی کئی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں، جن میں تعصب پر مبنی تشدد کی مذمت ہی نظر آتی ہے۔ ’انسانی ترقیاتی رپورٹ‘ میں ہندوستان کی خستہ حالی پر اگر کچھ سوالات کئے جاتے ہیں اور آسٹریلیائی حکومت ہندوستان سے پہلے اپنا ملک اور ملک کی حالت بہتر کرنے کی بات کہتی ہے تو واجب تو ہے مگر ضروری نہیں کہ آسٹریلیائی حکومت کے سبھی الزامات درست ہوں ہاں یہ ضرور ہے کہ آسٹریلیا ئی حکومت کو سنجیدگی سے اس مس¿لہ کو لینا چاہئے اور اس کا حل نکالنا چاہئے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *