ہیتی زلزلہ متاثرین امداد کے منتظر

پورٹ آف پرنس:امریکی محکمہ دفاع کے حکام نے کہا ہے کہ پیر تک دس ہزار امریکی فوجی زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے ہیٹی پہنچ جائیں گے۔ زلزلے میں پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ہیتی کے وزیر اعظم یان میکس بیلیریو کے حوالے سے بتایا ہے کہ پندرہ ہزار سے زیادہ لوگوں کی لاشیں دفنائی جا چکی ہیں۔دریں اثناءاقوام متحدہ نے کہا ہے کہ تیس لاکھ لوگوں کو اگلے چھ ماہ تک امداد کی ضرورت ہو گی اور اس نے پانچ سو باسٹھ ملین ڈالر کی رقم کی اپیل کی ہے۔انفراسٹرکچر کی تباہی اور رکاوٹوں کی وجہ سے امریکہ نے ہیتی میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ خوراک زلزلہ متاثرین تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ہیتی میں انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی کے وجہ سے عالمی امداد زلزلہ متاثرین تک نہیں پہنچ پا رہی ہے۔امدادی کارکنوں کے مطابق جو سامان ہیٹی پہنچ چکا ہے وہ بھی کی تباہی کی وجہ سے متاثرین تک نہیں پہنچ رہا۔
اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ہنگامی انسانی امداد کے لیے رابطہ کار جون ہولمز نے کہا کہ ادارہ ہیتی کے لیے ایک نئی امدادی اپیل جاری کررہا ہے۔جون ہولمز کہہ رہے ہیں کہ ہنگامی امداد کی یہ اپیل 56 کروڑ ڈالر کی ہوگی اور جیسا کہ ایسے حالات میں ہوتا ہے، اس میں سے تقریباً آدھی امدادخوراک کی ہنگامی مدد کے لیے مختص ہوگی۔ باقی رقم صحت، پانی کی فراہمی اور صفائی، غذائی ضروریات، رہائش، بحالی اور اور زراعت وغیرہ پر خرچ کی جائے گی۔ اس زلزلے سے تقریباً تیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور ہم ان کم سے کم چھ ماہ تک ان کی دیکھ بھال اور مدد کی کوشش کرتے رہیں گے۔
امریکہ کے صدر براک اوباما نے ہیتی میں ہونے والی تباہی کو غیر معمولی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ زلزلے سے ہونے والی تباہی انتہائی تکلیف دہ ہے۔وائٹ ہاو¿س سے جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ جانیں بچانے اور زلزلے میں بچ جانے والوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔پورٹ او پرنس میں خبر رساں ایجنسی کے نامہ نگار اینڈریو گیلاچر کا کہنا ہے کہ زلزلے میں مرنے سے بچ جانے والے زخمی افراد کی بڑی تعداد اب ہلاک ہو چکی ہے اور متاثرہ علاقے میں صاف پانی، خوراک، اور طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ پورٹ او پرنس کی سڑکوں پر لاشیں بکھری ہوئی ہیں اور انہیں ہٹانے کے لیے بلڈوزر استعمال کیے جا رہے ہیں۔زلزلہ متاثرین کا کہنا ہے کہ تیسرے دن بھی امدادی ٹیمیں ان تک نہیں پہنچ پائی ہیں۔ ایک متاثرہ شخص ڑان ولفرائیڈ کے مطابق ’ ہم ریڈیو پر سنتے ہیں کہ باہر سے امدادی ٹیمیں آ رہی ہیں لیکن کچھ بھی نہیں آیا‘۔ہیتی میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ترجمان ڈیوڈ وم ہرسٹ کے مطابق ’بدقسمتی سے یہ لوگ آہستہ آہستہ مشتعل اور بے صبر ہوئے جا رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تناو¿ بڑھتا جا رہا ہے کیوکہ غریب ترین طبقے کے متاثرین امداد کے منتظر ہیں‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *