ہاتھی تشدد پر کیو ں اتر آئے ہیں؟

اگر خبروں پر یقین کیا جائے تو گزشتہ دو صدیوں کے دوران ہاتھیوں نے نہ صرف چھتیس گڑھ میں120سے زائد انسانی زندگیاں ختم کر دی ہیں۔بلکہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ ترقی کے نام پر جنگلوں کو کاٹنے سے ما حولیات کو کتنا نقصان پہنچا ہے ۔ اپنے ٹھکانوں پر قبضہ ہوتے دیکھ کر جانور شہری علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ تشدد پسند بھی ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومتیں صرف معاوضہ تقسیم کرکے خود کو اپنے فرائض سے مبرµہ ا مان لیتی ہیں، جبکہ ان مسائل کا حل صرف اور صرف جنگلاتی تحفظ کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔سائنس اور ٹکنالوجی میں بے حد ترقی کرکے انسان نے جنگلوں اور فطرت میں جس طرح دخل اندازی کی ہے ، اس سے اب جنگلی جانوں میں اپنے تحفظ کے لئے جنگ لڑنے کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔
آئے دن جنگلی جانوروں کے گاﺅں اور شہروں میں کھیتی کو برباد کرنے ،پالتو جانوروں کو نقصان پہنچانے اور انسانوں پر جان لیوا حملہ کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے یہ واردات مدھیہ پردیش میں زیادہ بڑھ رہی ہیں انسان نے چونکہ جنگلوں پر قبضہ کر لیا ہے اس لئے جنگلی جانوروں کے سامنے تحفظ اور خوراک کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے وہ موقع پاتے ہی گاﺅں اور شہروں کا رخ کرتے ہیں اور حسب ضرورت خوراک حاصل کر لیتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ چھین لیتے ہیں لگتا ہے انھوں نے بھی یہ منتر سیکھ لیا ہے کہ جہاں حق نہ ملے وہاں لوٹ سہی ۔ سبزی خور جانور کھیتوں میں گھس جاتے ہیں اور وہاں پر اگی فصلیں اور ساگ سبزیاں کھا لیتے ہیں۔ جب کھیتوں اور باہری مقامات پر انہیں کھانا نہیں ملتا ہے تو وہ گھروں میں گھس جاتے ہیں۔ جنگلی علاقوں کے آس پاس کے گاﺅں میں ایسی وارداتیں آئے دن ہوتی رہتی ہیں۔ جنگلی جانوروں کی تو یہ حالت ہے کہ وہ کھانا حاصل کرنے کے لئے وقتاًفو قتاًگاﺅں اور شہروں میں جھنڈ بنا کر حملے کرنے لگے ہیں۔اسی طرح ریچھ، نیل گائے، سیار، لکڑ بگھے اور ہرن وغیرہ بھی گاﺅوں پر دھاوا بولنے لگے ہیں۔گوشت خور جانور تو بہت بری حالت میں ہیں۔ جنگلوں میں جنگلی جانوروں کی کمی کے سبب گوشت خور جانور اب گاﺅں میں لوگوں کے گھریلو مویشیوںکو اپنا شکار بنانے لگے ہیں۔ اس کے لئے وہ رات کے وقت دھاوا بولتے ہیں۔جنگلی جانور وں کا تحفظ کرنے کی اسکیم کے تحت مدھیہ پردیش حکومت نے کئی مقامات پر قومی گارڈن قائم کئے ہیں۔ پوری ریاست میں لاکھوں ہیکٹیئر میں پھیلی زمین اور قومی گارڈن کے اردگرد کی بستیاں ہٹا کر انہیں الگ بسایا گیا ہے۔ اس کام میں کروڑوں روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی حکومت نے بندروں اور جنگلی جانوروں کے تشدد کی وجہ سے انسانی جان و مال کو نقصان پہنچانے کے معاملوں میں معاوضہ دینے کا بھی ضابطہ بنایا ہے۔اگر ہم 1992کے بعد مدھیہ پردیش میں دیئے گئے سرکاری معاوضہ پر نظر ڈالیں تو 2008تک تقریباً 20کروڑروپے متاثرین کو تقسیم کئے جا چکے ہیں۔یہ معاوضہ جانوروں کے ذریعہ انسانوں کے مارے جانے، زخمی ہونے اور مکا نات اور فصلوں کو ہوئے نقصانات کے عوض دیا گیا۔ 2000-08تک کی مدت میں مدھیہ پردیش کے جنگلی علاقوں کے نزدیک کے گاﺅں میں جنگلی جانوروں کے ذریعہ حملوں میں مارے گئے لوگوں کی تعداد 32اور زخمیوں کی تعداد 205بتائی جاتی ہے۔ دوسری جانب انسانوں نے بھی بستیوں پر حملہ کرنے والے جنگلی جانوروں سے خود کو بچانے کے بہانے بڑی تعداد میں مارا ہے۔ چیتے اور شیر جیسے خطرناک جانور تک خود کی حفاظت کے بہانے انسانوں نے ختم کئے ہیں۔ ایسی کئی وارداتوں کی معلومات محکمہ جنگلات اور پولس تک نہیں پہنچ سکی، کیونکہ ان میں جنگل مافیا کا بڑا ہاتھ تھا، جنھوں نے کاروبار کے لئے چیتوں اور شیروں کا قتل کرایا۔ چھتیس گڑھ کبھی گھنے جنگلوں سے ڈھکا ہواتھا اور یہاں آبادی کم تھی، اس لئے قدیم زمانہ سے ہی یہاں کے کئی جنگلی علاقوں میں ہاتھیوں کا بسیرا رہاہے مگر ترقی کے اس دور میں خاص کر 2000میں چھتیس گڑھ بننے کے بعد جنگلوں کی کٹائی اور شہری نقل و حرکت کی ترقی وتوسیع سے ہاتھیوں کے تحفظ کا مس¿لہ پیدا ہو گیا ہے
حکومت کے شعب¿ہ جنگلات کی رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ کے زیادہ تر جنگلی علاقوں میں ہاتھی رہا کرتے تھے۔مغل دور میں شاہی فوج کے لئے ہاتھیوں کو سرگجا اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے مہیا کرایا جاتا تھا۔ سرگجا،ویسٹ رائے گڑھ، کوربا پوڑھی اور اپروڑھا تک ہاتھیوں کی اچھی خاصی تعداد پائی جاتی تھی۔ابو الفضل کے ذریعہ اکبر کے دور اقتدار (1565-1605)میں لکھی کتاب ’آئینہ اکبری‘ میں اس کا ذکر ملتا ہے۔1871میں کیپٹن فار سائتھ کے ذریعہ لکھے گئے ”ہائی لینڈس آف سینٹرل انڈیا“ میں بھی امر کنٹک کے شمالی اور مشرق میں بڑی تعداد میں ہاتھیوں کے زریعہ سیاحت کرنے کا ذکر ہے۔ انگریزوں کے دوراقتدار میں چھتیس گڑھ میں جنگلوں اور آس پاس کے علاقوں میں رہائش کی کوششوں کے سبب جب ہاتھیوں کے اپنی رہنے کی جگاہیں خطرے میں پڑ گئیں تھیں تب بھی ہاتھیوں نے گاﺅں اور شہروں پر حملہ کرکے انسانوں کو نقصان پہنچایا تھا،اس کا ذکر بھی سرکاری رپورٹ میں موجودہے۔ لیکن جنگلوں کو ویران کرنے اور جنگلی جانوروں کو بے گھر کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ہاتھیوں کے لئے جنگلوں میں اب محفوظ قیام مقامات اور کھانے کی کمی ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں خود کی حفاظت کے لئے انھوں نے انسانوں سے جنگ لڑنی شروع کر دی ہے۔ اس جنگ میں غریب اور کمزور قبائلیوں کو ہی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ دو صدیوں کے دوران چھتیس گڑھ کے سرگجا، کوریا، جشپور، کوربا اور رائے گڑھ اضلاع میں وقتاً فوقتاً ہاتھی اور انسانوں کے درمیان جنگ چلتی رہی ہے، جس میں اب تک 120سے بھی زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔چھتیس گڑھ بننے کے بعد ترقی کے نام پر سرگجا، رائے گڑھ اور کوربا میں صنعتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو تیزی سے اضافہ ملا ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں آبادی میں توسیع کے ساتھ انسانوں کو رہائش اور کھیتی کے لئے زیادہ زمین کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔ جسے پورا کرنے کے لئے انسان نے جنگلی جانوروں کی پرواہ کئے بغیر جنگلوں کو ویران کر دیا۔ اس لئے اب ہاتھی اور دوسرے جنگلی جانور انسان کے دشمن بن گئے ہیں۔
ہاتھیوں کے تشدد سے پریشان چھتیس گڑھ حکومت نے 2005میں اسمبلی میں ایک عزم کر ہاتھی کو تحفظاتی بنانے کی رائے مرکز کو بھیجی اور مرکز نے اسے منظور بھی کر لیا، لیکن سرکار یہ قانون نہیں بنا پائی ،چونکہ سرکار جلد ازجلد ریاست کی اپنے طریقی سے ترقی کرنا چاہتی ہے اور اس کی یہ کمزوری سرمایہ دار جانتے ہیں۔ سرمایہ داروں کی نظر چھتیس گڑھ کے قیمتی جنگلوں، معدنیات اور زمینوں پر ہے۔ وہ اہتے ہیں کہ جیسے بھی ہو، جلد از جلد حکومت جنگلی علاقے ان کے حوالہ کر دے۔ کوربا علاقہ میں کوئلا کان اور بجلی اسکیمات کے سبب جنگلی جانور بے گھر ہو چکے ہیں۔ اب آس پاس کے علاقوں پر سرکار اور سرمایہ داروں کی لالچی نظر لگی ہوئی ہے۔ انہیں علاقوں میں ہاتھی قیام کرتے ہیں۔اس کے علاوہ اڑیسہ اور جھارکھنڈ میں بھی جنگل ویران ہو چکے ہیں۔ وہاں بھی ہاتھیوں کے قدرتی قیام گاہ خطرے میں ہیں۔ اس لئے سال میں کئی بار ان صوبوں سے تحفظ قیام گاہ اور بھرپیٹ کھانے کی تلاش میں بڑی تعداد میں نکلے ہاتھی چھتیس گڑھ پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ جس راستہ سے ہاتھی گزرتے ہیں۔ وہاں ہزاروں ایکڑ زمین میں کھڑی فصل ہضم کر جاتے ہیں اور کسانوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اگر ہاتھیوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ لوگوں کو مار ڈالتے ہیں۔ ایسی کئی وارداتیں ہو چکی ہیں۔معلومات کے مطابق،1990سے 2009کے دوران سرگجا ضلع میں ہاتھیوں کے حملوں میں 116لوگ ہلاک46زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت نے مہلوکین کے وارثین کو90لاکھ اور زخمیوں کو 94000روپیہ بطور معاوضہ تقسیم کیا۔ ہاتھیوں کے ذریعہ فصل اور مکان تباہ کرنے کے 31600معاملات میں حکومت کو 43کروڑ روپے کا معاوضہ دینا پڑا۔
اسی طرح سرگجا ضلع میں 2000سے ستمبر 2009تک ہاتھیوں کے حملوں میں20لوگ مارے گئے، جن کے وارثین کو 17لاکھ 90ہزار روپے کا معاوضہ دیا گیا۔ 19زخمیوں کو 27000روپے اور فصل مکان تباہ کرنے کے 8263معاملات میں 7کروڑ 13لاکھ روپے کا معاوضہ دیا گیا۔ معاوضہ تقسیم،انسانوں کے مارے جانے اور زخمی ہونے کے اعداد و شمار ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان چل رہی جنگ کے ثبوت ہیں۔ اس کے باوجود حکومت ہاتھیوں کے لئے محفوظ قیام گاہ اور جنگلات دینے میں تاخیر کر رہی ہے۔ جب حکومت مان چکی ہے کہ چھتیس گڑھ میں ہاتھیوں کی حفاظت کے لئے ایک حفاظتی ہرا بھرا جنگلی علاقہ ہونا چاہئے، تو پھر ہاتھی ابھی تک بے گھر کیوں ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *