سی آی¿ اے اور موساد کی ہندوستان پر بری نظر

آج سے آنے والے پانچ سالوں میں ہندوستان کو پاکستان، بنگلہ دیش یا افریقی ممالک جیسے حا لات میں دیکھنے کی خواہش آپ کو کیسی لگتی ہے؟چونکئے مت، یہ سچ ہونے جا رہا ہے، جس طرح ان ممالک کے ججوں، سیاستدانوں، نوکر شاہوں اور صحافیوں کی ساکھ ختم ہو گئی ہے، جیسے وہاں جمہوریت پر اعتماد ختم ہوا ہے، ویسے ہی ہمارے یہاں بھی ہونے والا ہے کیونکہ یہان ہندوستان کے35لوگ نشانے پر ہیں جنمیں بی جے پی، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور دوسری پارٹیوں کے کچھ لیڈر ہیں تو کچھ مضبوط اور اچھی شبیہ رکھنے والے صحافی بھی ۔ یہ رپورٹ کافی تلاش کے بعد تیار ہوئی ہے او ر یہ تلاش یقناً اچھی صحافت کی جھلک دکھاتی ہے۔ ہمارے پاس ان صحافیوں، سیاستدانوں کے نام آنے شروع ہو گئے ہیں، جو ان ایجنسیوں کے لئے کام کر رہے ہیں اور ملک کی جمہوریت پر سے اعتقاد ختم کرنے کے کام میںحصہ لے رہے ہیں۔ اس کا انکشاف تو ہم اگلی رپورٹ میں کریں گے، پر ابھی جو قلم بند کر رہے ہیں، وہ خوفناک بھی ہے اور نفر ت انگیز بھی ،یہ بھارت کو توڑنے کی بے حد خوفناک سازش ہے۔جسے رچ رہی ہیںدنیا کی دو سب سے خطرناک خفیہ ایجنسیاں، جن کا مقصد ہے ہندوستان میں خانہ جنگی کروانا ،سیا سی کہرام مچانا، یہاں کی جمہوریت کو نیست و نابود کرنااور تہذیب و تمدن کو برباد کرنا، تاکہ اس ملک کا وجود ہی ختم ہو جائے۔ اس کے لئے نشانے پر ہیں ملک کی عظیم پینتیس ہستیاں جن پر رات دن نظر رکھ کر ان کی نگرانی کی جا رہی ہے یہ ایجنسیاں ان سیاستدانوں، وزرائ، نوکر شاہوں اور صحافیوں کی دن رات نگرانی کر ا رہی ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے حد نجی لمحات میں بھی یہ پینتیس ہستیاں محفوظ نہیں ہیں۔ جاسوسی کرنے والے ایجنٹس کے نام ہیں۔ ای جاسوس، جو بغیر نظر آے اور بغیر کسی کیمرے یا الیکٹرانک اوزار کے اندر گھس کر اپنا جال بچھا چکے ہیں۔ ملک کی سبھی اہم پارٹیوں کے سر فہرست لیڈران کی سرگرمیاں، ان کی گفتگو اور ان کی زندگی کچھ بھی، ان ای جاسوسوں کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہے۔سی آئی اے اور موساد مل کر ہندوستان کے خلاف اس سازش کو انجام دے رہے ہیں۔ ذریعہ بنا ہے انٹر نیٹ۔فیس بک، آر کٹ، جی میل، یاہو میل، ٹویٹر سب پر ین کی کڑی نظر ہے۔امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ، نے بیس ملین ڈالر کا اندراج کر کے’ ان کیو ٹیل ‘نام کی ایک کمپنی بنائی ہے۔’ ان کیو ٹیل‘ نے امریکہ کی کئی معروف سوفٹ ویئر کمپنیوں کو اپنے ساتھ جوڑا ہے۔ یہ کمپنی انٹر نیٹ کی مکمل دنیا پر گہری اور باریک نظر رکھ رہی ہے۔ہزاروں لوگوں کو اس کام کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔سی آئی اے کے 90ایجنٹ اس پوری مہم کو سمت اور رفتار دے رہے ہیں۔دنیا کی 15خاص زبانوں میں یہ کام کیا جا رہا ہے۔سی آئی اے نے اس کے لئے ماہر زبان اورماہر فوج انجینئروں کی تقرری کی ہے، ہندی، انگریزی، عربی، اردو، فارسی، چینی، فرینچ، روسی، جرمنی، سنسکرت اور جاپانی وغیرہ زبانوں میں انٹر نیٹ پر ہونے والے سبھی لین دین کا ریکارڈ سیدھے سی آئی اے دفتر میں درج ہو رہا ہے۔
ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کو اس بات کی پوری خبر ہے کہ سی آئی اور موساد کے ای جاسوس انٹر نیٹ کے ذریعہ ملک کے پینتیس خاص لوگوں کے گھروں میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ ہندوستان یا دنیا میں کہیں بھی یہ پینتیس لوگ جیسے ہی اپنا ای میل اکاﺅنٹ کھولتے ہیں، ای جاسوس سرگرم ہو جاتے ہیں۔ نیٹ کے ذریعہ چیٹنگ، ای کاروبار، گفتگو، ڈاٹا کا لین دین، فلیکر یا ’یو ٹیوب‘ کا استعمال وغیرہ سب کچھ سی آئی اے ہیڈ آفس اور موساد ہیڈ آفس میں سیدھے ریکارڈ ہو رہا ہے۔ بند کمروں میں کی گئی ان کی باتیں، ان کی سیاسی سرگرمیاں اور ان کے مختلف پروگرام کچھ بھی ان کا اپنا نہیں ہے یہ سب کچھ جس سافٹ ویئر کے ذریعہ ہو رہا ہے، وہ یہ تک بتاتا ہے کہ کیا گفتگو ہو رہی ہے، کون کس سے مل رہا ہے، کون سی اطلاع بیکار ہے اور کون سی صحیح، کون سی گفتگو عام ہے اور کون سی خاص ہے اور کون سی سنگین انہون نے ان پینتیس اشخاص کو اپنے نشانہ پر لے رکھا ہے حالانکہ ان کا وہ جسمانی نقصان نہیں کرنا چاہتی، بلکہ ان سرفہرست اشخاص کے ذاتی لمحات کا بیورہ لے کر ان کی سماجی و معاشی شبیہہ خراب کرنا چاہتی ہے۔سی آئی اے کے ای جاسوس چوبیس گھنٹوں مسلسل تمام سائٹوں پر بھٹکتے رہتے ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی اطلاع بھی ان کے ریکارڈ میں اہمیت سے درج ہوتی ہے۔ پالی گراف سیکورٹی میں ماہر، انفارمیشن سسٹم انجینئروں کی پوری فوج ان اطلاعات کا گہرا سے گہراتجزہی کرتی ہیں، تاکہ ہندوستان کے خلاف جاری مہم کے تحت ملک کو سنبھالنے اور آگے لے جانے والی ہستیوں کے خلاف ثبوت جمع ہو سکیں۔ان کی نجی پسند-ناپسند ، مشغلہ اور حرکات کو اوزار بنا کر سماج میں ذلیل کرنے کا تمغہ حاصل ہو سکے۔ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی کے ایک بڑے آفیسر بتاتے ہیں کہ سی آئی اور موساد ان دونوں ہی یہی کوشش ہے کہ حکومت کے سرپرست بیٹھے لوگوں کا کردار اس طرح سے قتل کیا جائے کہ وہ سماج میں اپنا منھ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ جب کردار مٹی میں مل جائے گا تو لیڈر ٹوٹے گا۔لیڈر پر داغ لگنے سے پارٹی میں انتشار پیدا ہوگا اور ایسی حالت میں ملک کمزور ہوگا۔ عوام کا لیڈروں سے اعتماد اٹھ جائے گا، بغاوت پھیلے گی۔تب سی آئی اے اور موساد جیسی تباہی مچانے والی طاقتوں کو موقع ملے گا ہندوستان پر قابض ہونے کا، ملک کو برباد کرنے کا۔
دراصل دیکھا جائے تو ہو بھی یہی رہا ہے۔ اچانک ہی الگاﺅوادی طاقتوں نے ایک ساتھ اپنا سر اتھا لیا ہے۔ یوں تو وقت وقت پر الگ الگ ریاستوں کے مطالبے اٹھتے رہے ہیں، پر یہ اتنی تیز کبھی نہیں تھی۔ تلگانہ، بندیل کھنڈ، کامتاپور، پوروانچل، ہرت پردیش اور گورکھا لینڈ وغیرہ ریاستوں کے مطالبے اتنا زور پکڑ چکے ہیںکہ، ان کے لئے چلائی جا رہی تحریک تشدد کی شکل اختیار کر چکی ہے۔شکست کھا چکے عناصر ملک کی سالمیت پر حاوی ہو چکے ہیں۔ان برخاست طاقتوں کو بڑی اقتصادی مددبیرون ممالک سے ملتی ہے۔ ظاہر ہے، یہ وہی بیرونی طاقتیں ہیں جو ہندوستان کی سالمیت کو تہس نہس کرنا چاہتی ہیں۔ آزادی کے بعد ملک کی 14ریاستوں کا 21صوبوں میں تقسیم ہونا، پھر25صوبوں کا بن جانا، اس کے بعد 28ریاستوں کی تشکیل اور اب ان کے بھی حصے کرنے کی آوازوں کا اٹھنا۔ زبانی، سماجی اور اقتصادی سطح کے تحت ہندوستان حصے کردینا۔ انگریزوں نے ہندوستان کے اسی انتشار کا فائدہ اٹھا کر اسے اپنا غلام بنا لیا تھا۔
آزادی کے بعد ہندوستان ایک ہوا۔ مضبوط بنا۔ترقی کے نئے آیام نکالے گئے۔ ترقی کے زینہ پر چڑھتا ہوا ہندوستان عالمی طاقت بننے کی جانب بڑھا۔ عالمگیر اقتصادی مندی بھی ہندوستانی اقتصایات کی کمر نہیں توڑ سکی۔ جبکہ امریکہ جیسے بڑے طاقتو ملک کی بھی چولیں ہل گئیں۔ یقینا یہ حالات امریکہ کو گوارا نہیں۔ وہ بھلا کیسے چاہے گا کہ ہندوستان عالم طاقت بن اس کا مقابلہ کرے۔ لہٰذا ایک بار پھر ہندوستان کو حصوں میں کرنے کی سازش میں سی آئی اے موساد کے لگ چکی ہے۔
سوشل نیٹورکنگ سائٹ اس میں بہت بڑی مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ سائبر کرائم کے مشہور وکیل پون دگل کہتے ہیں کہ نیٹ کے ستر فیصد یوزرس غیر امریکی ہیں۔ یہ امریکہ سے باہر رہتے ہیں۔ایک سو اسی ملکوں میں ان کا جال پھیلا ہوا ہے۔دو سو سے زیادہ غیر امریکی زبانیں بلاگر ٹویٹر گروپ ہیں۔ ان کی رئیل ٹائم اطلاع سی آئی کے مشن کو بہت فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ کمپیوٹر نیٹورکنگ کی سب سے بڑی کمپنی سسکو کی سالانہ حفاظتی رپورٹ 2009میں یہ بھی خلاصہ ہوا ہے کہ اسپیم میل ٹریفک کے معاملہ میں ہندوستان اس سال دنیا کا نمبر تین ملک بن گیا ہے۔ اس سال ہندوستان میں اسپیم میل کے معاملہ میںایک سو تیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں فیز بک یوزرس کی تعداد پینتیس کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ سی آئی کے لئے فیس بک منھ مانگی مراد ثابت ہو رہا ہے۔ سی آئی اے جس وائرس کے ذریعہ اپنے ای جاسوسوں کو بے حد تیزی سے پھیلا رہا ہے۔اس کا نام فیس بک کا الٹا کر کوب فیس رکھا گیا ہے۔ حالانکہ سی آئی نے دو ہزار آٹھ میں ہی اس وائرس کو انٹر نیٹ کی دنیا میں چھوڑ دیا تھا، لیکن یہ پوری طرح سے سرگرم دو ہزار نو کے آخر تک ہوا۔ ٹویٹر بھی پوری طرح اس کی چپیٹ میں آ چکا ہے۔ابتداءمیں یہ وائرس عموماً یو ٹیوب لنک پر کلک کرنے کے لئے اکساتا تھا، لیکن اب فیس بک ٹویٹر اور آرکٹ وغیرہ پر دونوں کے فرضی نام سے اطلاعات بھیج کر پڑھنے کو اکساتا ہے۔
سی آئی اے کا سب سے خطرناک وائرس ٹرازن ہے، جو دو ہزار نو کا سب سے خطرناک وائرس مانا گیا ہے۔ یہ نام، پاسورٹ اور بینکنگ معلومات سے بھی آگے جا کر آپ کے دوستوں کی بھی جانکاریاں چرا لیتا ہے۔ یہ اتنا خطرناک وائرس ہے کہ اسے کئی اینٹی وائرس پروگرام بھی نہیں پکڑ پاتے ہیں۔ دو ہزار نو میں تقریباً باسٹھ لاکھ کمپیوٹر اس وائرس کے شکار ہوئے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ایک افسر کے مطابق ہندوستان کے 172بے حد مشہور لوگوں کی بینکنگ ڈٹیل اور ان کی نجی باتیں اس وائرس نے ہیک کر لی ہیں۔اس میں کچھ ایسے حساس معاملے ہیں کہ جو عام ہو جائیں تو ملک میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی بحران پکڑا ہو جائے۔ ہندوستان میں خانہ جنگی کے آثار پیدا کرنے کے لئے سی آئی اے اور موساد انہیں مہیا اطلاعات کو اپنا ہتھیار بنا رہی ہے۔ وہ بس صحیح موقع کی تلاش میں ہیں۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *