سی آئی اے اور موساد کا اسمائل انڈیا 2015

ہم نے گزشتہ شمارے میں سی آئی اے اور موسادکی خوفناک سازش کا پردہ فاش کیا تھا اب کم سے کم سرکار کو جواب دینا چاہئے کہ ہماری اس رپورٹ میں کوئی حقیقت ہے بھی یا نہیں۔ ملک کے خلاف یہ سازش دو طاقتور ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں کر رہی ہیں، ہم جتنی تفتیش کر رہے ہیں اتنی ہی خوفناک تصویر سامنے آ رہی ہے۔ حکومت اگر جواب نہیں دیتی تو ماننا چاہئے کہ حکومت خواب غفلت میں ہے اور ملک کی سیاسی جماعتیں اپاہج ہو گئی ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کہیں کہ ہماری رپورٹ میں کوئی حقیقت نہیں ہے، اور تب ہم اپنامحاسبہ کرینگے اور خود کو دوبارہ آزما پائیں گے۔ لیکن اگر خاموشی رہتی ہے تو مان لینا چاہئے کہ ملک کے معروف لوگوں کے ساتھ حادثوں کی بتدا ہونے والی ہے، چاہے وہ حادثہ ان کے کردارکشی کا ہویا کہ ان کے قتل کا، یا ان پر جسمانی حملوں کی شکل میں۔ دلالوں کی منڈی میں میڈیا کے چند معروف لوگوں سے اتناہی کہنا ہے کہ آج کے بعد کل ان کا بھی نمبرآنے والا ہے۔ آنکھیں کھولنے کا آج ہی وقت ہے۔
اس امریکی خفیہ ایجنسی’ سی آئی اے‘ کا مشن ہندوستان 2015ہے، جس کا مقصد ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کے وجود کا خاتمہ کرنے کی خوفناک سازش رچنا ہے۔اس مشن پر امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ نے اپنی پوری طاقت لگا دی ہے۔’سی آئی اے‘ کی منشاءہے کہ وہ ہندوستان کو 2015تک اتنا تقسیم کر دے کہ ملک کے اندرونی حالات 1947جیسے حالات میں تبدیل ہو جائیں۔بغاوت اور افرا تفری اس قدر پھیلے کہ حکومت کا سماج پر قابو پانا مشکل ہو جائے ۔ اور ، تب ہندوستان کے بگڑے حالات کومستحکم کرنے کے بہانے ’سی آئی اے ‘اپنا اقتدار قائم کرسکے اور آخر کار ہندوستان امریکہ کا غلام بن جائے۔ اس خوفناک مشن میں سی آئی کو تعاون دے رہی ہے اسرائیلی خفیہ ایجنسی’ موساد‘۔ ان دونوں کے ایجنٹ پورے ملک میں ہر سطح پر اپنا جال بچھا چکے ہیں۔ وہ اپنے خطرناک منصوبوں پر بخوبی عمل بھی کر رہے ہیں۔یہی سبب ہے کہ سی آئی نے اپنے مشن کو پورا کرنے کے لئے ہمارے ہی ملک کی کچھ شہرت یافتہ ہستیوں کی عزت نیلام کرنے کے لئے کچھ خاص افراد کو منھ مانگی قیمت پر خرید لیا ہے۔یہ شہرت یافتہ ہستیاں سماج کے سبھی طبقوں، سبھی شعبوںسے تعلق رکھتی ہیں جنمیںصحافی، صنعت کار، اعلیٰ افسران، سماجی نمائندے اور فن و حرفت سے متعلق معروف ہستیاںشامل ہیں
ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے پاس اس بابت پوری خبر ہے ۔ ’را‘ اور’ آئی بی‘ کے پاس وہ نقشہ بھی موجود ہے جو سی آئی نے اپنے مشن کے لئے تیار کیا ہے۔اس نقشہ میں ہندوستان کو اتنے ہی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جتنی کہ یہاں ریاستیں ہیں۔یعنی کل 28ریاستیں اور 7مرکزی حکومتیں، یہ آپریشن بالکل اسی طرح سے انجام دیا جا رہا ہے، جس طرز پر سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے تھے۔ اس نقشہ کے ساتھ جو دستاویز ملے ہیں، ان میں صاف طور پر اس بات کا ذکر ہے کہ ہندوستان کو مذہب، برادری اور اخلاقی قدروں کے بہانے سے توڑا جائے۔مختلف مذاہب ، فرقوں سماج کی معزز اور نامور ہستیوں اورملک کی ترقی میںاہم کردار ادا کرنے والے لوگوں کے خلاف گندی اور خوفناک سازش رچ کر ایسی دشواریاں پیدا کر دی جائیں کہ وہ سماجی طور بالکل برباد ہو جائیں۔ سماجی اتحاد بگڑ جائے ہرسو فرقہ واریت پھیلے۔ فسادات بھڑکیں او ر ’ سی آئی اے ‘ اپنے گھناﺅنے مقصد میں کامیاب ہو جائے۔ ہندوستان کے علاوہ دنیا کے دیگر 60ترقی یافتہ ممالک بھی ’سی آئی اے‘ کے نشانہ پر ہیں۔ حالانکہ دکھاوے کے طور پر امریکہ یہ کہتا ہے اس کی یہ جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے امریکہ کی واشنگٹن ڈی سی میں واقع ناسا کے دفتر میں موجود انٹر نیٹ کی دنیا کا بادشاہ’ گوگل‘’ سی آئی اے‘ کے نشانے والے ملکوں ایک ایک حرکت کی پوری خبر اپنے ’ای‘ جاسوسوں کے ذریعہ سی آئی اے تک پہنچاتا ہے۔مگر پہلا ٹارگٹ ہمارا ملک ہندوستان ہی ہے۔
دراصل مالیگاﺅں بلاسٹ بھی ’سی آئی اے‘ اور موساد کی اسی اسکیم کی ایک کڑی تھی۔ 12اپریل 2008کو’ سی آئی اے‘ اور موساد نے اسی سلسلہ میں بھوپال کے شری رام مندر میں ایک میٹنگ بھی کی تھی، جس میں ’را‘ اور’ آئی بی‘ کے کئی سابق اور موجودہ افسران نے بھی حصہ لیا تھا۔ ’سی آئی اے‘ اور’ موساد‘ کی اس ناپاک سازش کی خبر ہمارے اعلیٰ خفیہ افسران کو بھی ہے، مگر انھوں نے کتنی معلومات وزیر اعظم کو دیں ہیں اور کس حد تک، کہا نہیںجا سکتا۔کیونکہ ان سازشوں پر روک لگانے کے لئے ابھی تک حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔کچھ صحافیوں پر شک ہے کہ وہ’ سی آئی اے‘ اور موساد کے لئے اطلاعات جمع کر رہے ہیں۔ صحافی اگر اپنے پیشہ سے غداری کرتاہے تو یقیناً اچھا انفارمر بن جاتا ہے، کیونکہ اس کی پہنچ آسانی سے ان خفیہ مقامات تک ہو جاتی ہے جہاں سے اسے معلومات فراہم کرنے پر بہت کچھ مل جاتا ہے۔ساﺅتھ اور نارتھ بلاک کے دروازے آسانی سے صحافیوں کے لئے کھل جاتے ہیں۔خفیہ ایجنسیوں کے پاس خبر ہے کہ’ سی آئی اے‘ کے لئے مخبری کرنے والے ایک صحافی’میتھیو روزینبرگ ‘پاکستان کے فیڈرل سوات قبائلی علاقہ’ فاٹا‘ اور مشرقی سرحدی صوبہ’ این ڈبلیو ایف پی ‘کے افسران ’کیپٹن حیات خان‘ اور’ حبیب خان‘ کے ساتھ گزشتہ دنوں مسلسل سفر پر تھے۔ ایک بڑے خفیہ افسر بتاتے ہیں کہ میتھیو روزین برگ’ سی آئی اے ‘اور’ موساد‘ دونوں کے ہی مشترکہ ایجنٹ ہیں۔ میتھیو نے سی آئی کے لئے طالبان دہشت گردوں کے خلاف پاکستان میں چل رہی فوجی مہم کی بھی مخبری کی تھی۔ پاکستان سے انہیں وارننگ بھی ملی تھی۔مگر ہندوستان میں میتھیو کے لئے ایسی دقتیں نہیں ہیں، کیونکہ ہندوستان کے کئی بڑے افسران میتھیو کی ہی طرح سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں۔خفیہ رپورٹوں میں اس بات کی بھی معلومات درج ہے کہ غیر ممالک کے اخباروں میں رپورٹ دینے کے نام پر شاطر جاسوسوں کا وفد دہلی سے اپنی مہم چلاتا ہے۔
دوسری جانب، دہشت گردی کا صفایا کرنے کے نام پر ہندوستان اور امریکہ کے درمیان خفیہ اطلاعات کاتیزی سے تبادلہ ہو رہا ہے۔امریکہ یہ کہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس کی جنگ میں ہندوستان ایک اہم شریک کار ہے اور اس بہانے گزشتہ دس بارہ سالوں میں ہندوستان اور امریکہ کے مابین خفیہ تعاون میں اضافہ ہوتا ہی جا رہا ہے۔ اس خفیہ تعاون کا ایک نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل افسران ہندوستان کے مفادات سے زیادہ غیر ممالک کے مفادات کا خیال کررہے ہیں۔
ہندوستان میں جب این ڈی اے کی حکومت تھی، تب امریکہ کی ایک دیگر خفیہ ایجنسی ’ایف بی آئی‘ کو دہلی میں دفتر کھولنے کی اجازت بھی دے دی گئی تھی۔ پہلی بار اٹل بہاری واجپئی حکومت نے امریکی ایجنسیوں کی ہندوستان میں موجودگی کی سرکاری طور سے تصدیق کی تھی اور یہیں سے شروع ہو ئی، ہندوستان کی خفیہ طور پرحفاظت کے بہا نے جمہوریت میں امریکی خفیہ ایجنسیوں کی مضبوط در اندازی۔
حالانکہ یہ سلسلہ 50کے دہائی سے ہی شروع ہو چکا تھا، مگر اس وقت ہندوستان میں امریکی مخالف ماحول تھا۔ سی بی آئی کے اعلیٰ افسران بتاتے ہیں کہ سی بی آئی نے بے حد منصوبہ بند طریقہ سے ہندوستانی لیڈروں اور افسروں کو اپنے جال میں پھانسنا شروع کیا۔ ایجوکیشن ٹور اور فیلوشپ کا چارا ڈال کر ملک کے شہرت یافتہ اشخاص کے بچوں کو امریکہ بھیجنے کی حکمت عملی تیار کی گئی۔ دھیرے دھیرے ملک میں امریکہ پرست لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی۔اس وقت ہندوستان پرسوویت یونین کا جادو چلتا تھا۔ جب اندرا گاندھی وزیر اعظم بنیں تو انھوںنے ملک میں’ سی بی آئی اے‘اور’ کے جی بی‘ وغیرہ کے ایجنٹوں کی دخل اندازی پر سختی سے روک لگانے کی کوشش بھی کی۔ باوجود اس کے ان کی وزارت میں ہی ایک قدآور لیڈر’ سی آئی اے‘ ایجنٹ کے طور پر موجود تھا۔ اسی و قت سے’ سی آئی اے‘ نے حکومت میں ہر سطح پر اپنی پکڑ مضبوط بنانی شروع کر دی تھی۔ خفیہ ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ لیڈر 1964سے ہی ’سی آئی اے‘ ایجنٹ کا کام کر رہا تھا۔ جب18مئی 1974کو پورکھن سروے کیا گیا تھا، تب اس بات کی اطلاع پہلے ہی اس لیڈر کے ذریعہ سی آئی اے کو فراہم ہو چکی تھی۔اس وقت جگ جیون رام وزیر دفاع کے عہدہ پر فائز تھے۔انہیں اس بات کا پورا علم تھا ۔ وہ اس بات سے اتنے ناراض تھے کہ انھوں نے اس بات کو ایک عوامی اجلاس میں ظاہر بھی کر دیا تھا۔ پر چونکہ اس لیڈر کا قد اتنا اونچا تھا کہ حکومت کی اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرا¿ت ہی نہیں ہوئی۔
گاندھی بھی امریکہ سے نزدیکی تعلقات بڑھانے کے خواہشمند نہیں تھے ۔لہٰذا ان کے خلاف اپنے ہی ملک میں امریکہ پرست لوگوں نے گروہ بندی شروع کر دی۔ لیکن سوویت یونین کی تحرےک کے بعد دھیرے دھیرے ملک میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی ہی گئی، جو امریکہ سے دوستی کے حمایتی تھے۔ منموہن سنگھ حکومت کے ذریعہ ایٹمی قرار دادہو یا واجپئی کے ذریعہ سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کی بات۔نر سنگھ راﺅ کی حکومت ہو یا دیو گوڑا کی، جنھوں نے بھی ایٹمی تجربہ ٹالنے کی کوشش کی ان کی اس کوشش کو امریکی مخالفت کی شکل میں ہی دیکھا گیا۔ جب عراق میں جنگ ہوئی تو اس وقت ہندوستان کے اقتدار پر قابض چندر شیکھر کی حکومت نے امریکی جنگجو طیاروں کو ایندھن دینے میں مدد دی۔ یہ بھی امریکی حمایتی لابی کا ہی دباﺅ تھا۔ہندوستان میں تقریباًہر پارٹی میں اپنی جگہ بنا چکی’ سی آئی اے‘ کے حوصلے اس کے بعد بڑھتے ہی چلے گئے۔
آج بھی ہندوستانی عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ پر قبضہ کرنے کی ’سی آئی اے ‘کی مہم بدستور جاری ہے۔وزیر اعظم کا دفتر ہو وزارت دفاع ہو یا وزارت داخلہ۔ یا پھر ’آئی بی‘،’را‘ اور’ سی بی آئی‘ جیسی خفیہ اور تفتیشی ایجنسیاں۔ ان سبھی کے افسران کا مقررہ وقت پر وقتاً فوقتاً امریکہ جانا، تربیت لینا اور ورکشاپ کے نام پر لیکچر دینا اسی کی کڑی ہے۔ ان افسران کو باقائدہ امریکہ جانے کی فیلو شپ دی جاتی ہے۔وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بے حد متفکرانہ انداز میں کہا کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی ہندوستانی جمہوریت میں جاسوسی نے، ہندوستانی خفیہ اور تفتیشی ایجنسیوں کو پیچھے ہونے پرمجبور کر دیا ہے۔ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی اوقات بس اتنی رہ گئی ہے کہ وہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کے سوالوں کا پوری فرض شناسی سے جواب دیں۔ مگر ان سے کوئی سوال نہ کرےں۔ اگر کسی کیس کے سلسلہ میں ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں ’سی آئی اے‘ سے سوال کرنے کی گستاخی کر بھی دیں تو’ سی آئی اے‘ ان کو جواب دینا غیر ضروری سمجھتی ہے۔ہندوستانی تفتیشی ایجنسیوں کے لئے یہ حیثیت بے حد توہین آمیز ہوتی ہے۔ مگر وہ مجبور ہیں، کیونکہ ہندوستان بین الاقوامی دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہاہے۔اور ایسی حالت میں امریکی خفیہ ایجنسیوں سے مدد لینا اس کی مجبوری بن چکی ہے۔ مگر ان سب کے درمیان ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکہ سے اپنے رشتے نبھانے کی وجہ سے ہندوستان کے اپنے پڑوسی ممالک سے فاصلے بڑھ رہے ہیں، جو ہندوستان کے مفاد میں قطعی نہیں ہے۔ مگر یہ امریکہ کی اسکیم کا حصہ بے شک ہے
’آئی بی آئی‘ کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ یہ وہی امریکہ ہے، جو پہلے کھل کر ہندوستان کی مخالفت کرتا تھا، مگر آج وہ ہندوستان کو اپنا شریک کار بتانے میں پیچھے نہیں ہٹتا۔ظاہر ہے کہ امریکہ ہندوستان کا استعمال چین کے خلاف کر رہا ہے۔ اسی طرح، جیسے پہلے وہ پاکستان کا استعمال چین کے خلاف کرتا تھا۔ آج امریکہ کی ایجنسیوں نے کچھ ہندوستان افسران کو اس قدر اپنا بنا لیا ہے کہ وہ’ سی آئی اے‘ کے لئے ملک سے بغاوت کرنے تک کو تیار ہیں۔’ را‘ کے بھگوڑے افسر’ ربندر سنگھ‘ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
’ربندر سنگھ ‘ ’را‘ کے مشترکہ سکریٹری تھے۔ ان پر’ را‘ کے جنوبی مشرقی ایشیا کے ڈپارٹمنٹ کو سنبھالنے کی ذمہ داری تھی، مگر کام وہ سی آئی کے لئے کرتے تھے۔ جب یہ بات عام ہوئی تو وہ امریکہ فرار ہو گئے۔امریکہ نے انہیں با عزت اپنے یہاں پناہ دی اور اس کے عوض میں’ ربندر سنگھ‘ سے دنیا بھر میں ہو رہی ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی تمام سرگرمیوں کی اہم معلومات الگوا لیں۔ ہندوستانی حکومت امریکہ سے اس پر ناراضگی بھی نہیں ظاہر کر پائی۔
’سی آئی اے‘ کی سازش کی جڑیں ہندوستان میں کتنی گہری ہیں ، اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ’ سی آئی اے‘ کو نہ صرف ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی تمام منصوبوں کی خبر رہتی ہے، بلکہ نارتھ بلاک اور ساﺅتھ بلاک میں بن رہی حکمت عملی سے بھی پوری باخبر ہوتی ہے۔
ہندوستان کو پوری طرح اپاہج بنانے کی خاطر سی آئی نے ایک نیا کھیل کھیلا ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے بہانہ امریکہ اور اسرائیل ہندوستان پر اب اس بات کا دباﺅ بنا رہے ہیں کہ وہ ان کی مشینری خریدیں اور خفیہ مشن میں انہیں کا استعمال کریں، تاکہ اطلاعات فراہم ہونے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔تکنیکی مشنری کی خرید پر سرکاری گفتگو تقریباًآخری مرحلہ میں ہے۔ گزشتہ دنوں’ ہیڈل ایشو‘ کے نام پر ’سی آئی اے‘ سربراہ’ پینٹا‘ کے ہندوستان آنے کافی سنجیدگی سے تبادلہ خیال ہوا۔ اس وقت ہندوستان کے اعلیٰ افسران کے ساتھ اسرائیل کے محکمہ داخلہ کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
اب ذراسوچئے!اگر تکنیکی مشنری کا مشترکہ استعمال ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں کرنے لگیں گی تو ان کی ہلکی سی جنبش بھی ’سی آئی اے‘ اور موساد کی نگاہ سے نہیں بچ سکتی۔ اور اس طرح ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں پوری طرح’ سی آئی اے‘ اور موساد کی مٹھی میں ہوں گی۔ یعنی کہ حفاظت کے نام پر ہندوستان کو خاک میں ملانے کی پوری تیاری ہے۔
خفیہ محکمہ کے ایک افسر بتاتے ہیں کہ’ سی آئی اے‘ کی نظروں میں ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ’سی آئی ا ے‘ کے افسر’ را ‘یا’ آئی بی ‘کے افسران پر ذرا بھی بھروسہ نہیں کرتے۔ ان کے ساتھ دوئم درجہ سے پیش آتے ہیں۔
جب کبھی امریکی صدر یا خفیہ افسران کی ہندوستان آمد ہوتی ہے تو حفاظت کا پورا انتظام’ سی آئی اے ‘اپنے ہاتھوں میں لے لیتی ہے۔ اس وقت ہندوستانی خفیہ افسران کا کردار محض گونگے بہرے ناظر کا ہوتا ہے جو صرف تماشائی کی حیثیت سے موجود رہتا ہے ، ہوائی اڈے سے ہوٹل یا سفارتخانہ تک کے حفاظتی انتظام اور پروٹوکال کے ددوران بھی ہندوستانی افسران محض دکھاوے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں اس بات کی ہوا بھی نہیں لگنے دی جاتی کہ امریکی افسران یا دوسرے عہدیداران کا اگلا پروگرام کیا ہے؟
ایسے میں ظاہر ہے مستقبل میں ہندوستان کا وجود اور قار دونوں ہی داو¿ں پر لگنے والے ہیں

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *