عوام مہنگائی کی مار سے بے حال

ڈی آر آہوجہ

دہلی میں رہائش پزیر خاندان آسمان کو چھوتی مہنگائی کے بوجھ سے دبے جا رہے ہیں۔ ان میںسب سے زیادہ پریشان ہیں خواتین۔ جو اس بڑھتی مہنگائی کے سبب گھریلو ضروریات میں توازن قائم رکھنے کی کوشش میں بے حال ہو رہی ہیں روز مرہ کے استعمال میں آنے والی اشیاءکی بڑھتی قیمتوں نے انہیں سب سے زیادہ پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے ، دال، پھل، سبزیاں، پولٹری، مچھلی، دودھ اور دوسری خوردنی اشیاءکی بڑھتی قیمتوں نے ان پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے۔ یہاں تک کہ ان کا ماہانہ بجٹ بھی بگڑ رہا ہے۔اس بڑھتی مہنگائی کے سبب سے انہیں اپنے باورچی خا نہ میں کٹوتی کرنی پڑ رہی ہے۔اس مہنگائی سے اگر کوئی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے تو وہ ہے متوسط او ر نچلا طبقہ۔ دراصل بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے روز مرہ کی ضروری اشیاءان کی دسترس سے باہر ہو رہی ہیں۔گزشتہ سال کے برعکس اس سال خوردنی اشیاءکی قیمتوں میں تقریباً 50سے 100فیصدی تک اضافہ ہوا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ زراعتی اشیاءکی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ یہ کمی سوکھے، اور گلوبل وارمنگ کے سبب آئی ہے۔لیکن، قیمتوں میں اس بے پناہ اضافہ کے لئے تھوک میں خریدنے والے قصوروار ہیں۔ وہ بھولے بھالے صارفین کو ٹھگ رہے ہیں۔ فصلوں کی پیداوار کرنے والے غریب کسان منہہ تکتے رہ جاتے ہیں اور سارا منافع تاجروں کو مل جاتا ہے۔یہاں تک کہ کسانوں کا اپنی لاگت یعنی بیج اور سینچائی تک کا خرچہ نہیں نکل پاتا اگر کچھ ہاتھ آتا ہے تو بس سخت محنت۔ اس سال آلو کی قیمت دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ بھنڈی اور کریلا 50سے 60روپے فی کلو گرام مل رہے ہیں۔ پھلوں کے دام جیسے سیب وغیرہ 80-100روپے فی کلو گرام تک ہو گئے ہیں۔ سنترا سمیت کھٹے پھل 50سے60روپے فی کلو کے حساب سے مل رہے ہیں۔ دال کو غریبوں کا پروٹین کہا جاتا ہے اور اس کی قیمت بھی گزشتہ سال کے برعکس 60سے 80فیصدی بڑھی ہے۔ روز مرہ کے استعمال میں آنے والی اشیاءکی بڑھتی قیمتوں نے ہندوستان کے لا کھوں غریبوں کی فکر میں اضافہ کر دیا ہے۔پو لٹری ، مچھلی اور انڈے تو عام آدمی کی پہنچ سے ہی باہر ہو گئے ہیں۔ ان کنبوں کی حالت تو اور بھی خستہ ہے، جہاں صرف ایک فرد کمانے والاہے اور اس کی تنخواہ بھی پانچ سے سات ہزار روپے ماہانہ ہے۔اگر یہ دو تین افراد والا کنبہ کرائے کے گھر میں رہتاہو تو پھر اس کی پریشا نیوں کا پوری طرح اندازہ لگایا جا سکتاہے۔ایسے کنبوں کے لوگ کس طرح اپنا اور اپنے بچوں کاپیٹ پال رہے ہیں۔ اس طرف حکومت کوئی توجہ نہیں ہے ۔ گھر کا ایک بچہ اگر اسکول جاتاہے اور وہ بھی کسی چھوٹی جماعت میں، تب بھی اس پر پانچ سات سو روپے ماہانہ کا خرچ آ ہی جاتا ہے۔ لیکن حکومت کو فرصت ہی نہیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی طرف بھی ایک نظر دیکھ بھی لے۔وزرا ، ممبر پارلیمنٹ،ممبران اسمبلی اور اعلی افسران مزے کر رہے ہیںاور غریب عوام کو روٹی تک نصیب نہیں ہے ۔
سرکار کے ذریعہ چلائے جارہے اسٹورس اور مدرڈ یری وغیرہ پر سبزیاں بڑی کمپنیوں کے ذریعہ کھولے گئے رٹیل کے برعکس 10فیصد سستی مل رہی ہیں۔حالانکہ ان سرکاری مراکز پر سبزیوں اور پھلوں کی کوالٹی بڑی کمپنیوں کی رٹیل کی دکانوں کے مقابلہ میں اچھی نہیں ہیں۔ مد رڈیری پر آلو مٹی سے اٹاہوا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے پھل اور سبزیوں جویہاں ملتی ہیں، وہ یا تو باسی ہوتی ہیں یا سڑی ہوئی کہ انہیں جانور بھی نہیں کھا سکتے ۔اس صورت حال کے باوجود حکومت بڑھتی قیمتوں کو روکنے کےلئے تاجروں کے خلاف سخت قدم اٹھانے کے بجائے نہ صرف خاموش بیٹھی ہے،بلکہ اس نے دودھ، پانی اور بجلی کی قیمت بھی بڑھا دی ہے۔ اب تو میٹرو سے سفر کرنا بھی مہنگا ہوگیا ہے۔ صارفین یہ احتجاج کرتے ہیں کہ حکومت کو مہنگائی روکنے کےلئے کچھ سخت قدم اٹھانے چاہیئیں۔لیکن جب حکومت خود ضروری اشیاءجیسے دودھ ،چینی دالوں وغیرہ کی قیمتیں بڑھا رہی ہے تو تاجروں سے قیمتوں پر قابو پانے کے لئے کیسے کہہ سکتی ہے؟
حکومت کو بدعنوانی ،چوربازاری ،ملاوٹ اور کم ناپ تول کے ساتھ ساتھ،نقلی چیزوں جیسے نقلی دواﺅں سمیت اور دوسری چیزوں کی فروخت پربھی لگام لگانا چاہئے۔حکومت لگاتار اپنے ملازمین کی تنخواہ بڑھا رہی ہے۔یہاں تک کہ وزرائ،ججوں،ممبران اسمبلی، اور ممبران پارلیمنٹ کی بھی تنخواہ میںبھی اضافہ ہوا ہے۔لیکن عام آدمی کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا ہے۔ خاص کر اس عام آدمی کے بارے میں جسکا ذاتی کام ہے جو کہیں محنت مزدوری کر رہا ہے جو پرایﺅٹ فرم اور چھوٹی موٹی جگاہوں پر یا علاقوں میں کام کررہاہے۔دوا فروش اپنی مرضی سے دوائیوں کی قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ یہی نہیں، بازار میں نقلی ادویات کھلے عام فروخت کر کے مریضوں کی جان و مال سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔پرایﺅٹ اسپتالوں میں علاج کرانا عام آدمی کے بوتے کی بات نہیں رہ گئی ہے۔سرکاری اسپتالوں میں لمبی لمبی لائنیںلگی ہوتی ہیں اور مریضوں کو بیڈ کے لئے طویل انتظار کرنا پڑتاہے۔
کچھ سال قبل حکومت نے ایک قانون لاگو کیا تھا، جس کے تحت کسی بھی ڈبہ بند اشیا ءکے ساتھ ڈبے کا وزن ممنوع قرار دیا گیا تھا۔لیکن بنا کسی ڈر و خوف کے اس حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ مٹھائی کی قیمتیں دوگنی کرنے والے حلوائی اس کے لئے خاص طور پر قصوروار ہیں۔ہندوستانی مٹھائیوںکو بنانے میں کھو ئے کا استعمال خاص طور پر کیا جاتا ہے، مگر اس میں یوریا سمیت کئی زہریلے کیمیکل ملائے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ مشروبات میں بھی کیمیکل ملائے جا رہے ہیں۔یہ کیمیکل زہریلے ہوتے ہیں جو کہ کینسر جیسے موزی مرض کا بھی سبب بنتے ہیں اور اسی کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو ہر سال اپنی جان گنوانی پڑتی ہے۔یہ سبھی ناجائز کاروبار بغیر کسی ڈر و خوف کے کھلے عام ہو رہے ہیں اور سرکار خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔دراصل آج صارفین کے لئے ایک بڑے انقلاب کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، تاکہ تمام ناجائز کاروبار اور ملاوٹ کے دھندوں کو ختم کیا جا سکے۔ معمولی دکانداروں تاجروںاور خاص کر صارفین کو بڑھتی قیمتوں اور ناجائز کاروبار کے خلاف آواز بھی اٹھانی چاہئے اور آپسی اتحاد کے ذریعہ اس مہنگائی کے عفریت کا خاتمہ کرنے کے اقدامات پر بھی سنجیدگی سے غور و خوض کرناچاہئے اور۔ایسے تاجروں،منافع خوروں اور ملاوٹ کرنے والوں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔
کئی سال قبل قیمتیں اسی طرح بے تحاشہ بڑھی تھیںتو تمام افراد نے تمام صارفین نے مل کر اس کا مقابلہ کیا تھا اور سب متحد ہو گئے تھے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے میں خواتین سب سے آگے تھیںانھوں نے نہ صرف مہنگائی کے لئے احتجاج کیا تھابلکہ کالونیوں میں عورتوں نے پھل اور سبزی تھوک کے بھاو¿ فروخت کرنے کے لئے اسٹال بھی لگائے تھے۔’ گریٹر کیلاش‘ ’سروجنی نگر ‘ ’آئی این اے مارکیٹ ‘وغیرہ میں خواتین نے مہنگائی کے خلاف خوب مظاہرے کئے ۔ ان خواتین میں امیر گھروں کی عورتیں بھی شامل تھیں اور انھوں نے سبزی منڈی سے پھل اور سبزیاں خرید کر لوگوں کو فروخت کی تھیں۔ آج بھی ایسا ہی کوئی قدم اٹھا کر لوگوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ غریب عوام اور صارفین کے مفاد اور حقوق کی حفاظت ہو سکے۔

¿

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *