کابل میں شدید جھڑپیں

افغانستان کی راجدھانی کابل میں طالبان شدت پسندوں نے دھاوا بول کر شہر کے مرکز میں دھماکے کئے ہیں ۔ شدت پسندوں اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
جھڑپوں کا آغاز سیرینا ہوٹل اور صدارتی محل کے قریب ہوا جو آخری اطلاعات تک جاری تھا۔ افغان اہلکاروں کے مطابق اب تک پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔طالبان ویب سائٹ پر ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملے میں خاص طور سے سیرینا ہوٹل اور سرکاری عماتوں کو نشانہ بنانا مقصود تھا۔امریکہ نے کابل حملے کی مذمت کی ہے اور امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ طالبان کا حملہ واضح طور پر افغان حکومت اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ طالبان حملہ وحشیانہ ہے۔افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ کابل میں سکیورٹی کی صورتِ حال اب قابو میں ہے۔.یہ جھڑپیں شہر کے ان علاقوں میں ہو رہی ہیں جہاں ایوان صدر، سنٹرل بینک اور وزارتِ انصاف قائم ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس لڑائی میں کم از کم ایک عمارت کو آگ لگ گئی ہے۔طالبان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس حملے میں ملوث ہیں۔طالبان کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ان کے بیس لوگ شامل ہیں۔اس حملے سے قبل تین دھماکے ہوئے۔ کئی حملہ آوروں نے ایک منظم طریقے سے حکومتی عمارتوں اور شہر کے مرکز پر حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ جھڑپیں اب ایک سینما ہاو¿س میں ہو رہی ہے جہاں حملہ آوروں نے پناہ لی ہے۔خبروں کے مطابق انہوں نے وزارت کی عمارتوں کے نزدیک سلسلہ وار دھماکوں کے بعد گولیوں کی آوازیں بھی سنیں۔ افغان سکیورٹی فورسز قریبی ہوٹل کی چھت سے حملہ آوروں پر فائرنگ کر رہے ہیں جو آس پاس کی عمارتوں پر موجود ہیں۔حالات کو دیکھتے ہوئے شہر کے مرکزمیں واقع سڑکوں کے ساتھ ساتھ ہوٹل اور سرکاری عمارتوں کو بند کر دیا گیا ہے۔نیٹو کے مطابق اتحادی فوج افغان فوج کی مدد کر رہی ہیں۔
افغانستان کے حکام کے مطابق مرکزی کابل میں ہونے والی جھڑپ میں متعدد خودکش حملہ آور ملوث ہیں۔ بظاہر کئی حملہ آوروں نے شہر میں حکومتی عمارتوں کو مربوط انداز میں نشانہ بنایا ہے۔افغانستان میں وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کئی باغی ایک نجی عمارت میں گھس گئے ہیں جو جھڑپ کا مرکز بن گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *