کروڑوں کا کالا بازار

امریکہ کے ’پال کرگمین‘ نے جب عالمی مندی کا اندیشہ جتایا تھا اور بش انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا کہ پوری دنیا خطرناک اقتصادی مندی کی زد میں آسکتی ہے تو اس وقت عالمی صنعتی برادری میں ہندوستانی فنی سامان کی قیمتیںآسمان کو چھو رہی تھیں اور ہندوستانی فنکاروں کی پینٹنگ کروڑوں روپے میں فروخت ہو رہی تھیں لیکن گزشتہ سال جب مارکیٹ کے علاوہ حقیقی شعبہ میں گراوٹ آئی تو اس کا تھوڑا بہت اثر ہندوستانی صنعت پر بھی دکھائی دیا۔ بازار کے ماہرین اسے شیئر بازار سے جوڑ کر بھی دیکھنے لگے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ شیئر بازار سے کمائے گئے پیسے لوگ فنی مصوری میں لگاتے تھے، جو کہ ایک بے حد محفوظ طریقہ مانا جاتا تھا۔
لیکن بین الاقوامی اور ہندوستان فنی مصوری میں اقتصادی مندی کا کوئی بہت زیادہ اثر دکھائی نہیں دیا۔ کچھ شہرت یافتہ ہندوستانی مصور ہیں، جن کی پینٹنگ ہمیشہ سے کروڑوں روپے میں فروخت ہوتی ہیں اور وہ سرخیوں میں رہتی ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ صرف ایم ایف حسین، رضا، طیب مہتا جیسے عظیم مصورین کو ہی کروڑوں کے خریدار ملتے ہیں۔ہم عصر مصورین کے علاوہ کئی جدید مصورین بھی ہیں، جن کی پینٹنگ کروڑوں میں فروخت ہوتی ہیں، لیکن ان کے بارے میںبہت ہی کم لکھا جاتا ہے اور ان کے نام اور کو شہرت بھی نہیں ملتی ہے۔ مثلاً اگر ہم دیکھیں تو کچھ ماہ قبل لندن میں نیلامی کرنے والی کمپنی ’سادبی ‘نے ’جوگین چودھری ‘کی پیٹنگ ’ڈے ڈریمننگ‘ کو تین کروڑ میں فروخت کیا۔ جوگین چودھری کی یہ پینٹنگ ’انک اور پیسٹل ورک ‘کا بہترین نمونہ تھی۔ گزشتہ ماہ ہی ’اکبر پگھسی ‘کی ایک پینٹنگ ایک کروڑ87لاکھ میں فروخت ہوئی۔ ایف ایم سوجا کی ’اولڈسٹی لینڈ اسکیپ‘پونے دو کروڑ سے زیادہ میں نیلام ہوئی۔ ان دونوں کے علاوہ ’سوبودھ گپتا‘ اور ’وی ایم گائے تونڈے ‘کی پینٹنگس کو بھی ایک کروڑ روپے سے زیادہ میں خریدنے والے گاہک ملے۔ اس نیلامی سے قبل اگر ہم گزشتہ سال پر نظر ڈالیںمشہورمصور سوبود ھ گپتا کی پینٹنگ کی سات سمندر پار سیون کے لئے تقریباًپونے چار کروڑ روپے کی بولی لگی تھی۔ سوبود نے اپنی اس فنکاری میں موجودہ سماج میں انسانی کے احساساسات کو اجاگر کیا تھا۔ سوبود کے علاوہ انیش کپور، ٹی وی سنتوش، چنتن اپادھیائے، ریاس کومو، راقب شاہ اور بوس کرشنامچاری کی پینٹنگ کو بھی امید سے زیادہ قیمت ملی تھی۔غور طلب ہ کہ 2007میں ’سادبی ‘نے راقب شاہ کی پینٹنگ ’گارڈن آف ارتھلی ڈلائٹس‘ کو21کروڑ میں فروخت کرکے تاریخ رقم کی تھی۔ اسی طرح انیش کپور کی ایک پینٹنگ کو 28لاکھ ڈالر، ٹی وی سنتوش کی پینٹنگ ’ٹیسٹ ٹو‘ کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر اور راقب شاہ کی پینٹنگ کو 91ہزار ڈالر ملے تھے، جو کہ نیلامی دہندگان کی توقع سے کہیں زیادہ تھے۔ یہ فہرست بے حد طویل ہے۔ ’چنتن اپادھیائے‘کی پینٹنگ کو 73ہزار ڈالر، ریاسو کومو، کی پینٹنگ’سسٹمیٹک سٹیزن فارٹین‘کو 79ہزار ڈالر اور ’بوس کرشنامچاری‘ کی پینٹنگ کو 40ہزار ڈالر ملے تھے۔ اس فہرست میں ہم ارپنا کور، یوسف، اتل، ڈوڈیو اور سریندر نائر کو بھی شامل کر سکتے ہیں، جن کی پینٹنگ بیرون ممالک کے علاوہ ہندوستان میں بھی خاصی کمائی کرتی ہیں۔
مذکورہ قیمتیں فن ثقافت کے ایسے ایسے پہلوﺅں سے ہمیں روشناس کراتی ہیں جس کے بارے میں ہندوستان معاشرہ میںبھی لاعلمیت ہے۔ہندوستانی مصورین کا ایک بڑا طبقہ جو بین الاقوامی آرٹ مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔ لیکن ماہرین کاماننا ہے کہ بازار میں تیزی کا جو بلبلا ہے، وہ جلد ہی پھٹ جائے گا۔ آرٹ مارکیٹ نے اس زبردست تبدیلی کا سہرا ماہرین روس کے آرٹ کلکٹر کی سر پر باندھ رہے ہیں، لیکن ساتھ میں وہ چیلنج بھرے لہجہ میں آج کے دور میں صنعت حرفت کی تیزی اور پھر بھاری گراوٹ کو یاد دلاتے ہیں۔ اس وقت جاپانی خریداری کی تیزی نے فن بازار کو کافی بلندی پر پہنچا دیا تھا، جو کہ مصنوعی تھا اور تھوڑے ہی دنوں میں وہ منھ کے بل آ گرا۔ لیکن فن حرفت کا جو بازار ہے، اس میں گاہکوں کی دماغی تکنیک ایک اہم کردارادا کرتی ہے۔اگر ملک میں سیاسی حالات بہتر رہتے ہیں تو رئیسوں کا یقین مضبوط رہتا ہے اور وہ بے فکر ہو کر اندراج کرتے ہیں۔اگر فن بازار کے ماہرین کی مانیں تو فن میں اندراج کرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور آنے والے وقت میں اس بازار میں اضافہ اور سست روی زیادہ دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ گھریلوصنعت و حرفت اور سونا2ایسی اہم چیزیں ہیں، جن میں اندراج کرنے والوں کا یقین مسلسل بنا ہوا ہے۔ ادھر اگر یوروپ اور امریکی فن بازار میں حال کی نیلامیوں اور نمائشوں کا تجزیہ کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیںکہ وہاں بھی فن و حرفت کو لے کر خریداروں اور اندراج دہندگان کا یقین مضبوط ہوا ہے۔ حالانکہ خریدار بے حد ہوشیار ہو کر قدم بڑھا رہے ہیں۔
ایک تخمینہ کے مطابق، ہندوستان کا بازار صنعت و حرفت تقریباً 2ہزار کروڑ روپے کا ہے۔ شیئر بازار میں بہتری کے سبب اس کا مستقل روشن ہے، کیونکہ مندی کے باوجود قومی اور بین الاقوامی صنعت و حرفت میں مشہور مصورین کی پینٹنگ کوواجب قیمت پر خریدنے والے رئیس لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مالی بحرانختم ہونے کے اشارات بھی اب ملنے لگے ہیں، جس سے مارکیٹ کا مستقبل بہتر ہونے کی امیدہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان میں اپنے مصورین اور ان کی پینٹنگ کو لے کر جو مایوسی ہے، اس کودور کیا جائے اور ہم عصر اور جدید مصورین کے درمیان بہتر تال میل ہو، جس کا فائدہ دونوں کومل سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *