مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ جیوتی بسو کا انتقال

مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ اور معروف کیمونسٹ رہنما جیوتی باسو طویل علالت کے بعد کلکتہ میں انتقال کرگئے ہیں۔
ان کی عمر پچانوے برس تھی۔وہ 23سال تک مغربی بنگال کے وزیراعلی رہنے والے جیوتی باسو کو تقریباً دو ہفتے قبل اسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے انہیں نمونیہ تشخیص کیا تھا۔
7جنوری کو جیوتی باسو کے علاج پر مامور ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ انہیں جیوتی باسو کو مصنوعی طریقے سے سانس دی جا رہی ہے۔جیوتی باسو کی پیدائش 8 جولائی 1914 کو مشرقی بنگال (جو اب بنگلہ دیش ہے) کے ایک خوشحال متوسط خاندان میں ہوئی تھی۔انہوں نے لندن سے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور 1930 کے عشرے میں کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ ریلوے ورکرز فیڈریشن میں اپنی سرگرمیوں کے سبب پہلی بار نوٹس میں آئے۔جیوتی باسو 1973سے2000مغربی بنگال کے وزیر اعلی رہے اور جب ان کی صحت خراب ہونے لگی تو ان کی جگہ موجودہ وزیر اعلی بدھ دیو بھٹا چاریہ نے لی۔ اس طرح وہ دنیا کے سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والے پہلے منتخب کمیونسٹ رہنما تھے۔دنیا کے دیگر ملکوں کے کمیونسٹ رہنماو¿ں کے برعکس باسو 23 برس تک اقتدار میں رہنے کے بعد اپنی مقبولیت کے عروج پر اپنی مرضی سے سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔ باسو کی حکومت ریاست میں کئی اہم کامیابیوں کا دعویٰ کر سکتی ہے۔جیوتی باسو کے دور اقتدار میں دس لاکھ سے زیادہ بے زمین کسان زمینوں کے مالک بن گئے۔ حکومت دیہی علاقوں میں محض بیس برس کے عرصے میں غربت میں 25 فیصد کمی لانے میں کامیاب ہوئی۔ اس نےگاو¿ں اور مقامی سطح پر خود انتظامی کے نظام پر توجہ دے کر عام لوگوں کے جمہوری حقوق کو تقویت بخشی۔ یہی نہیں حکومت نے مغربی بنگال کی زرعی اور مچھلیوں کی پیداوار میں زبردست اضافہ کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *