شمالی بنگال کے قبائلی ٹکراﺅ کے موڈ میں

شمالی بنگال کے ہرے سونے والی زمین © ©©ڈوارس میں وبال مچاہواہے۔گورکھالینڈسے نکلنے والی چنگاریاں ہری پتیوں کو خاکستر کرنے لگی ہیں۔©ِومل گرنگ اس آدی واسی بڑے علاقہ کو گورکھالینڈ کے نقشہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ یہاں کے کثیر التعداد آدیواسی جیسے ہیں۔ جہاں ہیں کے طور پر بنگال میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔ بند چائے باغانوں کی وجہ سے اس علاقہ میں پہلے سے ہی بھکمری کے حالات ہیں، اس پر گورکھا جن مکتی مورچہ کی تحریک نے جلے پر نمک رگڑنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس تحریک سے چائے کی ڈھلائی بھی ٹھپ ہے اور سیاحت کے ساتھ ساتھ تمام اقتصادی سرگرمیاں رک گئی ہیں
سال کے آخری دن کا سورج بھی تناﺅ کے ماحول میں ہی غروب ہوا۔ تھوڑی بھی امید کی کرن نہیں نظر آی¿ ایک طرف جہاں دارجلنگ میں برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ، وہیں میدانی علاقہ میں سیاسی ٹکراﺅ کی گرمی بڑھی۔قومی شاہراہوں پر راستہ جام کرکے تحریک چلا رہے’©©©©© گورکھا جن مکتی مورچہ ‘کے کارکنان نے مال بازار میں ایک ایمبو لینس کے ڈرائیور اور خلاصی کوپیٹا©، تو سلی گوڑی اور ڈوارس کی بنگالی تنظیموں نے دارجلنگ جانے والے تینوں راستوں کوروک دیا۔ ناراض ومل گورنگ نے فورا ً ۲۱ جولای¿ کو بند کا اعلان کردیا ۔سلی گوڑی اور ڈوارس علاقہ میں’ گورکھالینڈ مخالفین ‘نے لال گڑھ کی طرح ”جن سادھارن“ کمیٹی بنا لی ہے اور قبائلیوں کے ساتھ مل کر©©©© گورکھا جن مکتی مورچہ کو منھ توڑ جواب دینے کا عزم کر لیا ہے۔ ان میں ”بانگلہ اور بانگلہ بھاشا بچاﺅ سمیتی“،”آمرا بنگالی اور جن جاگرن منچ“ جیسی تنظیمیں ہیں۔ گزشتہ سال 16جنوری کو ہی جل پائی گڈی ضلع میں ’گورکھا جن مکتی مورچہ‘ اور ’اکھل بھارتیہ آدیواسی وکاس پریشد ‘کے کارکنان کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں ایک پولس اہلکار سمیت 10افراد زخمی ہو گئے تھے۔ مال بازار علاقہ میں ہوئی ایک جھڑپ کو روکنے کےلئے پولس کو پہلے لاٹھی چارج کرنا پڑا اور بعد میں ہوامیں گولیاں چلانی پڑیں۔ یہاں مورچہ کی ریلی کو روکنے کے لئے وکاس پرشید نے بند کا اعلان کیا تھا۔ اس کے پہلے دونوں پارٹیوں کے درمیان ہوئی جھڑپوں کے بعد درجنوں گھروں میں آگزنی کی واردات ہوی¿۔ ٹکراﺅ ٹالنے کے لئے یکم دسمبر کو جل پائی گڈی ضلع کے مال بازار میں منعقد ایک امن میٹنگ میں پرشید نے گورکھا جن مکتی مورچہ لیڈران کو اپنے رخ کے بارے میں بتا دیا۔15نومبر کو ’گورکھا جن مکتی مورچہ ‘کے اصرار پر ہی یہ میٹنگ منعقد ہوئی تھی اور اس میں ڈوارس میں امن بحال رکھنے پر دونوں پارٹیوں کے بیچ اتفاق ہوا تھا۔حالانکہ یہ اتفاق اب ٹوٹنے کے دہانے پر ہے، کیونکہ گورکھا جن مکتی مورچہ نے 26دسمبر سے پھر گورکھا لینڈ مطالبہ کی حمایت میں راستہ روکو مہم چلا رکھی ہے۔قبائلی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔اس تحریک سے عام زندگی بے حد متاثر ہو رہی ہے۔
ابھی حال میں ہی بھوٹان سے جڑے جے گاﺅں کے ممبر اسمبلی ولسن چمپاماری سمیت 200گورکھا جن مکتی مورچہ حامیوں کو پولس نے حراست میں لیا۔ راستہ روکنے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی مقامی لوگوں نے مخالفت شروع کر دی اور پولس کو مجبور ہو کر یہ کارروائی کرنی پڑی۔ گرفتاری کی مخالفت میں’ گورکھاجن مکتی مورچہ‘ کے کارکنان نے مٹیالی، جے گاﺅں اور ویرپاڑا تھانوں کا گھیراﺅ کیا اور اپنی تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ڈوارس علاقہ کے گورکھا لینڈ مخالفین نے سرکار کی ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی کے تئیں ناخوشی ظاہر کرتے ہوئے اپنے بوتے پر گورکھا لینڈ تحریک کا مقابلہ کرنے کی بات کہی ہے۔ ویسے شمالی بنگال کے آئی جی ’پی کے ایل ٹامٹا ‘نے متاثرہ علاقوں میں راستہ روکو مظاہرین سے نمٹنے کی بات کہی ہے۔ڈوارس علاقہ میں ’گورکھا جن مکتی مورچہ‘ حامیوں کے ارادے اس لیے¿ مضبوط ہیں کہ حال ہی میں ہوئے کال چینی اسمبلی ضمنی انتخابات میں گورکھا لینڈ حامی آزاد امیدوار چمپاماری نے آدیواسی وکاس پرشید کے امیدوار کوشکست دے کر جیت درج کی۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ علاقہ کی 70فیصدی سے زیادہ آبادی قبائلیوں کی ہے اور پرشید اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے تشدد کا راستہ بھی اختیار کر سکتا ہے۔ پرشید کے صوبائی صدر’ ورسا ترکی‘ نے”چوتھی دنیا“ سے گفتگو کے دوران ان اسباب کو صاف کیا، جس سے کہ ان کا گورکھالینڈ میں شامل ہونا بے ایمانی ہوگی۔ان کے مطابق قبائلی فرقہ کے مفاد کی گارنٹی ہندوستان کے آئین میں دی ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 200سال قبل ہمارے بزرگ یہاں آئے تھے۔ زمین کو ہموار کرکے ہم نے چائے باغانوں کو اپنے خون پسینہ سے سینچا ہے۔ ڈوارس ترائی کی 70سے 75فیصد آبادی آدیواسیوں کی ہے اور 8سے 10فیصد کی آبادی گورکھاباشندوں کی ہے۔پھر ہمارے گورکھالینڈ کی حمایت کرنے کا یہاں سوال کیوں اٹھتا ہے ؟ گزشتہ سال 29جنوری کو پریشد نے وزیر اعلیٰ کو ایک میمورنڈم دیا۔ حکومت نے ’جلپائی گڑی‘ اور ’ڈوارس‘ سے ایک ہندی ہائی اسکول، ایک کالج اور ایک پالی ٹیکنک ادارہ شروع کرنے اعلان کیا ہے۔ ان قبائلیوں نے زمین کا پٹہ دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ معلوم ہو ا ہے کہ لیز باغان مالکوں کو زمین دینے کے بعد بھی جو سرکاری زمین بچی ہے ، اس پر ان کا جبراً قبضہ ہے۔اگر یہ زمین بے زمین آدیواسیوں کو دے دی جائے تو علاقہ کی تصویر بدل سکتی ہے۔اسی مدعے کو لیکر باغان مالکوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
ویسے ’گورکھا جن مکتی مورچہ‘ نے علاقہ کے پچھڑے پن کو اجاگر کرکے آدیواسیوں کو ساتھ لینے کی پہل کی۔ گزشتہ 21دسمبر’ کو گورکھا جن مکتی مورچہ ‘نے پہاڑ وں کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے غریب آدیواسی طلبا کو اقتصادی مدد مہیا کرانے کی تجویز رکھی۔اس کے لئے جلدی ہی اداروں کے پرنسپلوں کے ساتھ ایک میٹنگ ہونے والی ہے۔اسے آدیواسیوں کو لبھانے کی کوشش مانا جا رہا ہے۔پرشید کی راشٹریہ سنیکت جلیانی ٹوپپو نے ”چوتھی دنیا“کو بتایا کہ آدیواسیوں کو گورکھالینڈ میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب تک تعلیم سے محروم اور پچھڑے پن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا استحصال کیا گیا ہے۔ انھوں نے قبول کیا کہ’ وام مورچہ ‘کے 33سالوں کے دور اقتدار میں شمالی بنگال کے آدیواسیوں سے لا تعلقی کا اظہار کیا گیا اور انہیں نظر انداز کیا گیا۔اس کے لئے وہ ایک حد تک افسر شاہی کوہی ذمہ دار ما نتے ہیںکیونکہ یہ ہی فلاحی اسکیموں کو نچلے طبقہ تک پہنچنے نہیں دیتے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *