سوائن فلو اور اسے بچاﺅ

دنیا بھر میں عام نزلہ زکام سے ڈھائی لاکھ افراد موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں اگر اس طرح دیکھا جائے تو اس H1N1سے مرنے والوں کی تعداد دوسرے وارس سے مرنے والوں کی تعداد سے بہت ہی کم ہے۔ پھر ایک اور چیز بھی یاد رکھنے والی ہے کہ نزلہ و زکام کا مرض عموماً سردیوں کے موسم میں زیادہ پھیلتا ہے۔ آج کل ہندوستان و دیگر صوبوں میں سردیوں کا موسم ہے اس طرح آئندہ آنے والے وارئس میں سوائن فلو H1N1کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اسے بچانے کے لئے عوامی آگاہی مہم بے حد ضروری ہے اور اگر نزلہ زکام روکنے کے لئے بنیادی ضروری اقدامات کر لئے جائیں تو اس ممکنہ اضافہ کو بھی روکا جا سکتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے یہ سردی کا موسم کم ہوتا جائے گا اور اس مرض میں از خود کمی آ جائے گی اور امید ہے کہ فروری اور مارچ 2010، تک یہ مرض از خود ختم ہو جائے گا۔
کچھ لوگ H1N1کی ویکسین کے حوالے سے بہت تشویش کا شکار ہیں کچھ خیال ہے کہ اس ویکسین سے مرض پر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا ۔ دراصل حقائق ایسے نہیں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر H1N1کے لئے ویکسین کا سہارا لیا جائے توکم ازکم 14-10روز میں اس مرض کے خلاف مدافعت آتی ہے جبکہ سوائن فلو کا مریض کسی بھی متاثرہ مریض سے ملنے کے ساتھ روز کے اندر اندر ہوتا ہے۔ اور اس وقت کسی قسم کی ویکسین اثر نہیں کرتی اس لئے ویکسین کا سہارا مرض سے بچاﺅ کے لئے اتنا فوری اثر نہیں رکھتاہے۔ اگر کسی شخص کو H1N1حملہ ہو جائے تو بچاﺅ کا واحد ہتھیارAntiviralادویات ہیں جو کہ مرض سے بچاﺅ کے لئے کافی موثر ہیں۔ اسی طرح اگر ویکسین کوپھر استعمالمیں لانے کی کوشش وہ تو ویکسین تمام کے تمام افراد کے لئے ضروری نہیں بلکہ وہ افراد جو کہ ہائی رسک گروپ سے تعلق رکھتے ہوں مثلاً جو کہ ڈاکٹر، نرسز،میڈیکل اسٹاف جو کہ ایسے مریضوں کے علاج کے لئے متعین ہیں ان کو پہلے ویکسین لگوا دی جائے پھر وہ علم جو کہ بین الاقوامی برادری کے افراد کی چیکنگ کے لئے معمور ہو اس کو بھی سوائن فلو کی ویکسین اور ادویات ان کو بھی لینی چاہئیں اور پھر ایسے افراد جو کہ سوائن فلو کے مریضوں کے ارد گرد یا ان کی تیمارداری پر معمور ہوں ان کو سب سے پہلے ویکسین لگوانا چاہئے۔
یہ ویکسین باقی تمام ویکسین کی طرح 100فیصد کو دفاع فراہم نہیں کرتی اور یہ کہ اس ویکسین کے لگوالینے کے بعد ہر شخص مکمل طور پر محفوظ ہوجانا ہے یہ بھی درست نہیں اور یہ ویکسین اپنے مضر اثرات رکھتی ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس ویکسین کے لگوانے سے چند افراد میں اس ویکسین کو لگوانے والے شخص میں جسم کا فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔ یہ کہ اس ویکسین کے لگوانے سے چند افراد میں اس ویکسین کو لگوانے والے شخص میں جسم کا فالج کا حملہ ہو سکتا ہے یہ بھی دیکھا گیا ہے۔ اس لئے ویکسین لگوانے کے لئے جس خاص احتیاط کی ضرورت ہے اور اس کو کسی بھی ڈاکٹر کے مشورہ کے بغیر لگوانا خطرناک ہو سکتا ہے۔
سوائن فلو کے متاثرہ زیادہ افراد میں بغیر کسی دوا کے مکمل صحت یابی ہو جاتی ہے جبکہ متاثرہ شخص میںAntiviralادویات کا استعمال مرض کی شدت میں کمی کر کے اس کی صحت یابی میں مدد گار ثابت ہوتا ہے اور ان ادویات کے استعمال سے سوائن فلو کی خطرناک مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
سوائن فلو کا مریض مرض کے پہلے 5روز میں زیادہ متعدد ہوتا ہے جبکہ پہلے 10روز تک بھی مرض پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لئے مرض کی تشخیص کے لئے ضروری ہے کہ مرض کا”سیمپل“بیماری کے ابتدائی 5ایام کے اندر اندر بھیجا جائے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ میزوں پر، ٹیلی فون پر اور اگر کئی سطحوں پر وائرس لگ جاتے ہیں اور ان سطحوں کو چھونے والا شخص ان وائرس کو کسی بھی شخص کی آنکھوں ، ناک اور منھ تک جا سکتے ہیں اور ایسے افراد جن کو نزلہ، زکام ہوا اور علامات سوائن فلو کی جانب نشاندہی کر رہی ہو تو ان افراد کو اپنے دفتر، عوامی مقامات سے دور رکھنا چاہئے اور فوری ڈاکٹر سے رابطہ ضروری ہے۔ ڈاکٹر اس بات پر متفق ہیں کہ اس میں فاصلہ رکھنا مرض روکنے کے لئے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان افراد سے دور رہا جائے جو اس مرض میں مبتلا ہوں جس کا طریقہ یہ ہے کہ زیادہ بھیڑ بھاڑ سے دور رہنا چاہئے اور کام کے دوران ایک دوسرے سے فاصلے پر رہنا اور اگر معاشرے میں بیماری پھیل جائے تو زیادہ دیر گھر میں گزارنا اور عوامی اجتماعات سے روکنا زیادہ اہم ہے اور عوام اجتماعات میں ایک دوسرے سے فاصلہ پر رکھنا مرض سے بچاﺅ کے لئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ علامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سوائن فلو کی علامات میں بخار، کھانسی، گلے میں خراش، جسم میں درد، سردرد، سردی کا لگنا اور نقاہت کا رہنا شامل ہیں۔ 2009میں جو اس مرض کا حملہ ہوا ہے اس میں بہت سارے افراد اسہال اور الٹیوں کا مسئلہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔ 2009کا H1N1حملہ میں دراصل انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو رہا ہے کیونکہ نزل و زکام کی علامات اور سوائن فلو کی علامات اتنی ملتی جلتی ہیں کہ اس کی تشخیص کے لئے علامات کے ساتھ ساتھ اس مرض کے حوالہ سے بھی بات چیت کرنا ضروری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *