روچیکاسانحہ: جرم زیادہ سزا کم

روچیکا گرہوترا کے ساتھ دست درازی کا معاملہ اور وہ بھی ایسا کہ اس معصوم کو اپنی زندگی ختم کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑا اور اس سنگین معاملہ میں ملوث ہریانہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل ایس پی ایس راٹھور کو ملی 6ماہ قید کی سزا اور صرف ایک ہزار روپے جرمانہ ۔ایسے شرمناک جرم کی اتنی معمولی سزا وہ بھی اتنے دیر سے کہ جب نابالغ ،بالغ اور بالغ بوڈھا ہوجاتا ہے ۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ مجرم ہریانہ ریاست میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کا اہم عہدیدار رہ چکا ہے۔ اس سابق ڈی جی پی کو صرف چھ ماہ قید کی سزا ہی ملی، کیونکہ 150سال سے بھی زیادہ پرانی ہندوستانی تعزیرات میں کئی خامیاں اور کمیاں ہیں ۔حقیقت میں ہندوستانی تعزیرات میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کو لے کر کوئی سخت قانون نہیں ہے۔ اس شرمناک واردات کے بعد ایک بار پھر سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کس طرح سماج کے با رسوخ افراد ایسے شرمناک کام انجام دیتے ہیں جس سے کہ یہ نہ صرف اپنے محکمہ ،اور پورے ملک کا نام بدنام کرتے ہیں ،بلکہ یہ لوگ اپنی ریاست کے اہم عہدہ داران کو بھی اپنے ساتھ کر لیتے ہیں اور قانون کے چنگل سے خدا کو بچا لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ سانحہ 12اگست 1990کو ہوا تھا اور اتنے سال تک دبا رہا یہان تک کہ قانون کو فیصلہ سنانے میں تقریباً 19سال لگ گئے۔ایسا گھناو¿نا جرم، جس کے سبب ایک معصوم کو موت کا شکار ہونا پڑا اور اس کے پورے خاندان کو ایک طویل عرصے تک صدمہ کے ساتھ ساتھ ذلت کے دور سے بھی گزرنا پڑا، ملزم کو ملی سزا کسی بھی نظریہ سے صیح قرار نہیں دی جاسکتی ۔ان 19سالوں کے درمیان راٹھور نے سبھی اعلیٰ اختیار ات کا فائدہ اٹھایا اور ریاست کے محکمہ پولیس میں اعلیٰ عہدہ حاصل کیا۔ ریاست کی سیاسی قیادت نے بھی سابق ڈی جی پی کے اوپر لگے الزامات کے تئیں اپنی آنکھیں موند لیں۔ملزم کو ترقی ملتی رہی اور اسے کئی پولس میڈل سے نوازا گیا۔ روچیکا کے ساتھ اس دن کیا ہوا تھا، آیئے ذرا! اس پر ایک نظر ڈالیں ۔12اگست 1990کی اس بدقسمت دوپہر راٹھور نے روچیکا کو پنچکولہ کے سیکٹر 6میں واقع ہریانہ لان ٹینس ایسو سی ایشن کے دفتر میں کوچنگ کے بارے میں بات کرنے کے بہانے بلایا۔ وہ اس وقت ٹینس ایسو سی ایشن کے صدر کے عہدہ کی ذمہ دار ی بھی ادا کر رہا تھا۔روچیکا اور اس کی سہیلی ارادھنا دونوں لان ٹینس ایسو سی ایشن کے دفتر میں راٹھور سے ملنے گئیں۔راٹھور نے ارادھنا سے کوچ کو بلانے کے لئے کہا اور جب روچیکا وہاں اکیلی رہ گئی تو راٹھور نے اس کے ساتھ دست درازی کی۔ارادھنا جب تھوڑی دیر بعد لوٹی تو اسے پتہ چلا کہ راٹھور نے روچیکا کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے کی کوشش کی ہے۔روچیکا نے ہریانہ کے اس وقت کے گورنر کو اس واقعہ کی اطلاع دیتے ہوئے ایک خط لکھا۔ اس خط کے تحت ہی راٹھور کے خلاف معاملہ درج کیا گیا۔ مقدمہ کی سماعت ہوئی اور آخر کار وہ قصورار قرار دے دیا گیا، لیکن اس پوری کارروائی میں تقریباً 19سال لگ گئے۔ حقیقت میں اس معاملہ میں9سالوں کے بعد 1999میں ہندوستانی تعزیرات کی دفعہ 354کے تحت ترمیم کی گئیجس کے تحت ۔ خواتین کے ساتھ زیادتی اور جسمانی استحصال سے جڑے جر ائم 354کے تحت کیا گیا۔ ہے۔ روچیکا کا خودکشی کر لینے کے بعد اس کے اہل خانہ نے جب اعتراض ظاہر کیا تو راٹھور کے خلاف متاثرہ کو خودکشی کے لئے اکسانے سلسلہ میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے 2001میں راٹھور پر خودکشی کے لئے اکسانے کا الزام لگایا تھا، لیکن پنجاب اور ہریانہ سپریم کورٹ نے راٹھور کو کلین چٹ دے دی تھی۔ تفتیشی ایجنسیوں نے کس طرح جانبداری کی اور قصوروار کا ساتھ دیا، اس بات سے واضح ہوتاہے کہ سی بی آئی نے سپریم کورٹ پر الزام کے بارے میں دباﺅ نہیں ڈالا۔تفتیشی ایجنسیوں نے ایسی سچائی کی پوری طرح سے ناقدری کی، جس پر اسے غور کرنا چاہئے تھا۔ سی بی آئی نے اس معاملہ میں کئی اہم حقیقتوتوں کی نظر اندازی کی۔ روچیکا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پولس کی تفتیشی رپورٹ میں فرق تھا۔ سی بی آئی نے اس پر توجہ دینا ضروری نہیں سمجھا۔ اس کے علاوہ روچیکا کے والد نے تفتیشی رپورٹ پر جن حالات میں دستخط کئے، اس بات پر بھی توجہ نہیں دی گئی۔ روچیکا کی موت کے بعد پولس نے اس کے بھائی آشو کو پریشان کیا، سی بی آئی نے اس پربھی توجہ دینا مناسب نہیں سمجھا۔ روچیکا کے ساتھ بدسلوکی کی واردات، جس کے سبب وہ خودکشی کرنے کے لئے مجبور ہوئی، اس سے یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ ایک متاثرہ خاندان کس طرح خراب نظام کا شکار بن جاتا ہے اور رسوخ دار لوگ اپنے مفاد کے لئے تمام ھقیقتوں کی نظر اندازی کر حالات کو اپنے حق میں کیسے کر لیتے ہیں؟ بات صرف اتنی نہیں ہے کہ سچ کو نظر انداز کیا گیا اور اس کے ساتھ چھیڑ خانی ہوئی ، بلکہ بات یہ ہے کہ اقتدار کے گلیارے کے ویسے دوستوں اور خاطر خواہ، جو قانون کے ضابطوں کو توڑنے مروڈنے کی طاقت رکھتے ہیں، کی مدد سے یہ بھی یقینی کیا گیا کہ قصوروار شخص پر صحیح اور ویسے الزامات نہ لگ سکیں، جو حقیقت میں لگنے چاہئے۔کیا کسی کو خودکشی کرنے کے لئے مجبور کرنے کے سبب راٹھور کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 354کے تحت معاملہ درج کیا گیا؟ تعزیرات ہند کی دفعہ 354 کے علاوہ اس پر دفعہ 306کے تحت بھی الزام لگائے جانے چاہئے تھے۔ اگر پورا معاملہ کچھ اس طرح کا ہوتا ہے تو ٹرائل کورٹ ملزم کو سخت سے سخت اور طویل سزا دے پانے کے حق میں ہوتا۔تعزیرات ہند کی دفعہ 306کے تحت زیادہ تر 10سال قید کی سزا کا ذکر ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملزم پر مالی سزا لگائے جانے کا بھی قانون ہے۔ سابق ڈی جی پی نے قانون میں کمی کا بھی فائدہ اٹھایا۔ قانون کے تحت بچوں کے ساتھ بدسلوکی سے جڑے جرائم کے لئے کوئی خاص قانون نہیں ہے۔ ہاں، بچوں کے ساتھ بدکاری کے معاملوں میں ضروری خاص قانون ہے۔ ایسے معاملوں میں دس سال کی قید کی سزا کا قانون ہے۔ موجودہ قانون کے مطابق، آبروریزی کو چھوڑ دیں تو بچوں کے ساتھ جسمانی بدسلوکی سے جڑے تمام معاملات کو قانون کی اس دفعہ کے تحت ہی رکھا گیا ہے، جس میں کسی خاتون کی عظمت کو داغدار کرنے والے جرائم کو رکھا گیا ہے۔قانونی کمیشن نے سال 2002میں پیش اپنی 172ویں رپورٹ میں بچوں کا جسمانی استحصال جرائم کے معاملہ میں جرائم کی شناخت اور مجرم کو سزا دینے کے سلسلہ میں خصوصی قانون کی سفارش کی تھی۔ کمیشن نے جسمانی استحصال میں اصلاح اور آبروریزی کی سزا کو ازسر نو دیکھنے اور بچوں کے جسمانی استحصال سے جڑے معاملات میں سخت سزا دینے کی صلاح دی گئی تھی۔ اگر حکومت ہندوستانی دفعات میں تبدیلی لانے کے سلسلہ میں قانونی کمیشن کی سفارشات کو منظور کرلیتی ہے تو راٹھور جیسے لوگوں کو ان کے جرم کے لئے سخت سے سخت سزا مل سکے گی۔ مثلا سات سال کی قید۔ بہر حال موجودہ قانونی ضابطوں کے مطابق، تعزیرات ہند کی دفعہ 354کے تحت مجرم کو زیادہ سے زیادہ دو سال کی قید کی سزا ہی دی جاسکتی ہے۔ اسے اس سانحہ کا اثر کہو کہ محکمہ¿ قانون نے اس ضمن میں تبدیلی لائے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سرکار نے یہ بھی کہا کہ روچیکا معاملے کی نئے سرے سے تفتیش کی جا سکتی ہے اور راٹھور کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا جا سکتا ہے۔ سی بی آئی بھی پہلے کے برعکس زیادہ فعال ہو سکتی ہے۔ا س واقعہ کے بعد حکومت معاملہ کی تفتیش کولے کر زیادہ سخت رخ اختیار کر سکتی ہے۔وہ نہ صرف موجودہ معاملے میں ضروری قدم اٹھا سکتی ہے، بلکہ غیر جانبدرانہ اور فوری انصاف کے راستہ میں رخنہ بنے پرانے قانون میں، ضروری سدھار کے لئے قدم اٹھانے کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *