ذمہ داریوں سے مبرہ ہوں گے زرداری!

پاکستان کے کچھ سیاستدانوں کے مطابق صدر آصف علی زرداری کا مستقبل خاتمہ کے دہانے پر ہے۔ وہ عہدہ¿ صدرپر تمام جوڑ توڑ اور تراکیب کے سبب بنے ہوئے ہیں،لیکن اپنی اس کوشش میں وہ زیادہ دنوں تک کامیاب نہیں ہوپائیںگے۔ پاکستان کے کچھ اخبارات دعویٰ کر رہے ہیں کہ زرداری صدر کا عہدہ چھوڑ کر پاکستان کے وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر کو آئین کے مطابق اعلیٰ اختیارات سے محروم کر دیا گیا ہے اور ان کے سبھی اختیارات وزیر اعظم کو سونپ دیئے گئے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم بننے کے لئے بھی انہیں آئین کے مطابق دو سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔ جس لمحہ زرداری صدر کے عہدہ سے مستعفی ہوں گے، اسی لمحہ سے ان کی آزادی بھی چھین لی جائے گی اوربدعنوانی کے الزام میں انہیں حراست میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ ان پر یہ الزام بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے پرویز مشرف کے ساتھ مل کر اپنی اہلیہبے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش رچی، تاکہ وہ پارٹی سربراہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے صدر بھی بن سکیں۔
سابق صدر پرویز مشرف پہلے سے ہی مصیبتوں میں گھرے ہوئے ہیں، اپنے انہیں مسائل کے سبب انھوں نے برطانیہ میں پناہ لی ہوئی ہے۔، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ پاکستان لوٹتے ہیں تو وہاں کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی انہیں حراست میں لیا جاسکتا ہے۔برطانیہمیں زرداری کی اپنی جائیداد ہے اور جب انھوں نے وہاںکا رخ کیا تب بھی وہ بھی انہیں مسائل سے دو چار تھے۔ پاکستانی فوج کو زرداری پر ذرا بھی یقین نہیں ہے اور وہ انہیں امریکہ کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی مانتی ہے۔ وہیں جب سے زرداری نے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے، تب ہی سے نواز شریف انہیں باہر کا راستہ دکھانے کے مواقع ڈھونڈ رہے ہیں۔
پاکستانی اخباروں کے مطابق ”زرداری نئے سال کی ابتداءسے ہی اپنے عہدہ سے ہٹائے جا سکتے ہیں“۔’ زرداری ‘کی قسمت کے دروازے اب بند ہو چکے ہیں اور ان کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ حالانکہ وہ بے حد چالاک رہے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ اب ان کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اپنی زندگی بچانے کے لئے کسی بھی دوسرے ملک میں پناہ یا کہیں اور بھاگنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ صدر زرداری کے خلاف بدعنوانی کے کئی معاملے زیر غور ہیں اور جن اختیارات کے تحت وہ ابھی تک خود کو آزاد محسوس کر رہے تھے، اسے پاکستانی ہائی کورٹ نے رد کر دیا ہے۔ اس کے بعد سے ہی زرداری کی مصیبتیں بڑھنی شروع ہو گئی ہیں۔ عدالت کے ان احکامات کے ساتھ ہی پاکستان میں سیاسی طوفان بپاہو چکا ہے۔ ایسی بھی پیش گوئیہے کہ شاید صدر کے سبھی اختیار ان سے لے لئے جائیں اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو دے دیئے جائیں۔ پاکستانی پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کے درمیان تناﺅ کافی بڑھ چکا ہے۔یہ توقع کی جا رہی ہے کہ زرداری کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر تناﺅ اور بھی بڑھ سکتا ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی پارٹی پاکستانی مسلم لیگ کے شرکاءنے نے یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ وہ زرداری پر استعفیٰ دینے کے لئے دباﺅ بنائیں گے۔ اس کے لئے وہ ایک مہم کی شروعات بھی کریں گے۔ نواز شریف کا یہ بھی ماننا ہے کہ بھٹو اور مشرف کے درمیان ہوئے سمجھوتے اور اس کی وجہ سے زرداری کو ملے تحفظ کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔ حالانکہ نواز شریف بھی دودھ کے دھلے نہیں ہے۔ بھٹو خاندان کی طرح ان کا خاندان بھی کرپشن کا ملزم ہے۔نواز شریف کے ذریعہ زرداری کی نکتہ چینی اور خود کو ان کے تصور کے طور پر پیش کرنا صحیح معنوں میں مضحکہ خیز ہی لگتا ہے۔ پاکستان کے ہر طبقہ، چاہے وہ سیاست یا فوج سے تعلق رکھتے ہوں، سبھی ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ ایسے میں ان حرکات کو دیکھنا دلچسپ ہوگا۔لیکن اسی دشمنی نے شریف اور بھٹو خاندان کے تعلقات کو بگاڑا ہے۔ ایسے میں یہی توقع کی جا سکتی ہے کہ دونوںمیں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔
فوجی سربراہ جنرل اشفاق کیانی بھی اس عہدہ کے لئے اپنی آنکھیں لگائے کھڑے ہوئے ہیں۔ یہی بات سابق فوجی سربراہ اور صدر پرویز مشرف کے لئے بھی کہی جا سکتی ہیں۔ مشرف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ طے ہے کہ میں پاکستان ضرور واپس آﺅںگا، حالانکہ اس معاملہ میں وقت کی کافیاہمیت ہے۔ یہ خاص طور پر گھریلو حالات پر مبنی ہے۔ اس درمیان امریکہ اور پاکستانی فوج کے بیچ ہوا معاہدہ مصیبتوں کے سمندر میں غوطے لگا رہا ہے۔ یہ سارا کھیل پیسے کا ہے۔ امریکی صدر اوباما پاکستان کو مدد جاری رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ طالبان اور القاعدہ کے سرفہرست لیڈران پر شکنجہ کسا جا سکے۔ امریکی مدد کے باوجود ابھی تک پاکستان کی جانب سے کوئی وعدہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے بعد پاکستان میں یہ مطابہ سے تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ سرکار اور سینا کو امریکی دباﺅ کے سامنے خود سپردگی نہیں کرنی چاہئے۔ ظاہر ہے، یہ بات کہنا جتنا آسان ہے، کرنا اتنا ہی مشکل۔ آخر کار جو مدد دے رہا ہے، اسے ہی فیصلہ لینے کا اختیار ہے۔مدد لینے والے کے پاس منع کرنے کا کوئی جواب ہی نہیں ہوتا ہے۔ اس بات کا انتظار کرنا اور دیکھنا بے حد ہی دلچسپ ہوگا کہ طالبان اور القاعدہ کو پکڑنے میں پاکستان کے انکار پر امریکہ کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔ اگر پاکستانی فوج اس مسئلہ پر ڈٹ جاتی ہے تو امریکہ اور اس کے شریک کار دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مہم میں خود کو مشکل حالات میں پائیں گے۔ اان معاملوں سے آگے کی بات کریں تو امریکی پیسے کا لالچ اور امریکی فوج کے ذریعہ حملہ کا خطرہ دیکھ کر پاکستان پر کچھ اثر پڑ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو براک اوباما افغانستان اور پاکستان کے حالات سے کیسے نمٹیں گے ؟ پاکستان پر پینی نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ کیا وہ کوئی دوسری حکمت عملی اختیار کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *