دو ہزار امریکی مرین پہنچ گئے ،بل کلنٹن کا زلزلہ متاثرین کی امداد میں اہم کردار

پورٹ او پرنس:( ایجنسیاں)کیریبیئن کے ملک ہیتی میں ایک ہفتے قبل آنے والے زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں کچھ تیزی آئی ہے۔ امریکی افواج نے جزیرے کے ایک محفوظ علاقے میں فضائی طیاروں سے امدادی سامان گرایا ہے۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ طیاروں کے ذریعے اس نے اس پور ٹ او پرنس کے شمال مشرق میں واقع ایک عالاقے میں کھانے کے 14ہزار امدادی پیکیج اور پانی کے 15ہزار لیٹر پانی پہنچا دیے ہیں۔ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر 2ہزار سے زائد امریکی میرین فوجی ہیتی پہنچ گئے ہیں جو امداد کی ملک کے مختلف حصوں میں ترسیل میں مدد دیں گے۔ امریکی فوجی اپنے ہمراہ ایک درجن ہیلی کاپٹر اور ملبہ ہٹانے والی بھاری مشنری بھی ساتھ لائے ہیں۔زلزلہ متاثرین کے لیے امداد دینے والے ملکوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ یورپی اتحاد کے ممالک نے مجموعی طور پر ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ عالمی بینک اور امریکہ نے بھی زلزلہ متاثرین کو دس دس کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا۔امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن بھی ہیٹی کے دار الحکومت میں ہیں جہاں پیر کے روز انہوں نے جنرل اسپتال کا دورہ کیا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ادارے کی سلامتی کونسل سے سفارش کی ہے کہ ہیتی میں تعینات امن فوج کے دستوں اور پولیس کی تعداد کو ساڑھے تین ہزار تک بڑھا کر انہیں فوری طور پر تعینات کردیا جائے۔تاہم ہنگامی امداد کی ترسیل پر اقوام متحدہ کے رابطہ کار جون ہولمز نے لوٹ مار کے واقعات اور سلامتی پر خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گو تشدد کے کچھ واقعات ہوئے کہا ہے کہ مجموعی صورتحال تسلی بخش ہے۔زلزلہ متاثرین راجدھانی پورٹ او پرنس اور دوسرے بری طرح تباہ شدہ حصوں کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں۔ پورٹ او پرنس کے امریکی سفارتخانے کے باہر ویزے کے خواہشمندوں کی ایک لمبی قطار بھی دیکھی جارہی ہے جو امریکہ میں مقیم اپنے رشتے داروں کے پاس جانا چاہتے ہیں۔لیکن دوسری جانب زلزلہ متاثرین دارالحکومت پورٹ او پرنس اور دوسرے بری طرح تباہ شدہ حصوں کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں۔ پورٹ او پرنس کے امریکی سفارتخانے کے باہر ویزے کے خواہشمندوں کی ایک لمبی قطار بھی دیکھی جارہی ہے جو امریکہ میں مقیم اپنے رشتے داروں کے پاس جانا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ایسی اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ امداد کی عدم فراہمی کے باعث لوٹ مار بھی کی جارہی ہے۔زلزلے میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد پر اب بھی ابہام برقرار ہے۔ اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے اندازوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ لیکن ہیتی میں تعینات امریکی فوج کے اعلٰی ترین اہلکار جنرل کن کین کے مطابق مرنے والوں کی تعداد دو لاکھ تک ہوسکتی ہے۔ زلزلے میں مرنے والے ستر ہزار ہلاک شدگان کو اب تک دفن کیا جاچکا ہے۔زلزلہ متاثرین کے لیے امداد دینے والے ملکوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس مقصد کے لیے چھپن کروڑ ڈالر کی خصوصی اپیل کی تھی۔ یورپی اتحاد کے ممالک نے مجموعی طور پر ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ عالمی بینک اور امریکہ نے بھی زلزلہ متاثرین کو دس دس کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *