جب کے جی بی نے کیا اپنے ہی جاسوس کا شکار

کوئی خفیہ ایجنسی اپنے ہی جاسوس کے قتل کا منصوبہ بنا سکتی ہے؟ آپ کہیں گے نہیں، ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔لیکن یہ حقیقت ہے۔’ کے جی بی‘ سربراہ’ ولادیمار‘ نے ایک بار اپنے جاسوس’ اینا تولی گولیت سین ‘اور اس کے شرکاءکے قتل کے منصوبہ کو منظوری دی تھی۔
سال 1917میں ایک تاریخ رقم ہوئی تھی۔ سوویت روس کے انقلاب کی تاریخ۔ پھر ایک اور تاریخ تقریباً 37سالوں بعد لکھی گئی، جب سوویت سنگھ نے دنیا کی سب سے خطرناک اور پر اسرار خفیہ ایجنسی’ کے جی بی‘ کی بنیاد رکھی۔ کاغذوں پر لکھے جانے والی خفیہ ایجنسیوں کی اس خوفناک تاریخ کو اسی ایجنسی نے حقیقت میں اور بھی خوفناک ثابت کر دیا۔کئی دفعہ اس کے پر اسرار منصوبے کو سمجھنا خود کے جی بی کے جاسوسوں کے بوتے کی بات نہیں ہوتی تھی۔ یہ باتیں کچھ اس طرح کی لگتی ہیں، جیسے کہ کوئی جاسوسی کہانیاں سنا رہا ہو۔ یقینا یہ داستان تو جاسوسی کی ہے، پر ہے صد فیصد حقیقت۔ اتنا ہی نہیں، حد سے بھی زیادہ خوف پیدا کرنے والی یہ کہانی خود’کے جی بی‘ کے جاسوسوں کے دلوں میں بھی دہشت پیدا کرتی ہے۔
بات دوسری عالمی جنگ کے ختم ہونے کے بعد کی ہے۔ اس عظیم جنگ کے انجام کے بعد بھی پوری دنیا دہشت میں جی رہی تھی۔دراصل اس کے بعد ہی دنیا میں دو اعلی© طاقتوں والے ممالک کی پیدائش ہوئی تھی۔ یہ دونوں ملک تھے ” سامیہ وادی سوویت سنگھ“ اور’ سرمایہ دار امریکہ‘۔اپنے وقار کو لے کر دونوں کے بیچ خوب رسہ کشی رہتی تھی۔ یہ دور تھا سرد جنگ کا۔ دونوں ہی ملک ہمیشہ ایک دوسرے کے یہاں خفیہ جاسوسی کی کوششیں کرتے تھے، تاکہ سرد جنگ کی یہ جنگ جیتی جا سکے۔ اسی مقصد کو انجام دینے کے لئے کے جی بی نے اپنے کئی قابل ایجنٹوں کو اس مشن پرلگایا۔’ کے جی بی‘ بھی انہیں شاطر اور تیز طرار ایجنٹوںمیں تھا،’ اینا تولی گولیتسین‘۔اور یہ’ کے جی بی‘ کے سب سے خاص جاسوسوں میں سے ایک تھا۔ اپنے خفیہ مشن کو بخوبی انجام دینے میں’ کے جی بی‘ کا یہ ایجنٹ سب سے ماہر تھا۔ اپنی اس قابلیت کے بوتے پر وہ حکمت عملی سے متعلق سرگرمیوں کو انجام دینے والے محکمہ میں میجر کے عہدہ تک پہنچ گیا تھا۔ اس کی اس خوبی کو دیکھتے ہوئے 1961میں اس کا نام’ ایوان کلیموو‘ سے فن لینڈ کی سوویت ایمبیسی بھیجا گیا۔ ایوان یعنی[ اینا تولی‘ کے ذمہ یوںتو ایمبیسی میں کام کرنے کا سونپا گیا، لیکن یہ کسی خاص مشن کو انجام دینے کے ارادے سے فن لینڈ پہنچا تھا۔ دراصل’ کے جی بی‘ کے اس ایجنٹ کا کام امریکی حساس محکمات میں سیندھ لگانا تھا، تاکہ اس کے ذریعہ سوویت سنگھ امریکی طاقت کے چیلنج کا سلسلہ ختم کر سکے۔ اس نے امریکہ میں جاسوسی کے لئے اسٹاک ہوم کے راستہ پواز کرنے کی اسکیم بنائی۔ اس کے لئے سب سے پہلے اسے فن لینڈ کے ہی ایک شہر کے لئے ٹرین پکڑنی تھی۔’ اینا تولی‘ اپنی طے شدہ اسکیم کے مطابق کام کر رہا تھا۔ 15دسمبر 1961کو ٹرین پکڑنے کے لئے وہ اسٹیشن پہنچا، لیکن اس بات کی اسے کہاں خبر تھی کہ جس ملک میں وہ جاسوسی کرنے والا تھا، اس کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی شاطر نظر اس پر پہلے ہی پڑ چکی ہے۔ یعنی اسٹیشن پر ہی وہ اپنے بیوی بچے سمیت امریکی خفیہ ایجنسی’ سی آئی اے ‘کی گرفت میں آ چکا تھا۔ اس کسی اور نے نہیں، بلکہ’ سی آئی اے‘ کے کاﺅنٹر انٹیلی جنس ڈائریکٹر’ جیمس جیسس اینگلٹن‘ نے پکڑا تھا۔’ سوویت سنگھ‘ کی تو جیسے عزت ہی داو¿ں پر لگ گئی ۔ اس نقصان کا خمیازہ کے جی بی نے جس طرح سے کرنے کی کوشش کی، یہ جانکار اس کے اپنے جاسوسوں کی بھی روح ایک بار کانپ گئی ہوگی۔ ہوا کچھ یوں کہ 15دسمبر 1961کو پکڑے جانے کے بعد 1962کے جنوری ماہ میں کے جی بی نے پوری دنیا میں واقع سوویت سنگھ کے 54سفارتخانوں میں موجود اپنے جاسوسوں سے اس نقصان کا خمیازہ بھرنے کا حکم دیا۔ اینا تولی کے پکڑے جانے کے بعد کے جی بی نے اپنے سبھی خاص ایجنٹوں کے ساتھ میٹنگ رد کر دی۔ کے جی بی کے اس فیصلہ نے سبھی کو حیرت میں ڈال دیا ۔ واقعی ہ حیران کرنے والا فیصلہ تھا۔ آخر ایک ایجنٹ کے پکڑے جانے کے بعد کے جی بی نے کیوں اپنے سبھی کاص جاسوسوں کے ساتھ خفیہ معولمات پر ہونے والی میٹنگ کو ٹال دیا۔ دراصل کے جی بی کے کام کرنے کا یہی پراصرار طریقہ ہے، جس سے اس کے منصوبوں اور سرگرمیوں کا اندازہ لگایا جانا مشکل ہو جاتا ہے۔لیکن، ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کے جی بی کے اس فیصلہ کی وجہ کیا تھی؟
بات 1962کے نومبر ماہ کی ہے۔ اس وقت کے جی بی کے سربراہ ولادیمار سیمچتنی تھے۔ انھوں نے ایک ایسے مشن کو منظوری دی، جس نے کے جی بی کے تمام ایجنٹوں کے ہوش فاختہ کر دیئے۔دراصل ولادیمار نے اینا تولی گولیتین اور اس کے دوسرے شریک کاروں کے قتل کی اسکیم کومنظوری دی تھی۔ ممکن ہے کہ اس بات پر کسی کو یقین نہ ہو، پر کے جی بی کے کام کرنے کا ہمیشہ یہی طریقہ رہا ہے۔ پہلے وہ اپنے جاسوسوں سے کام لیتی ہے، اس کا خوب استعمال کرتی ہے اور جب وہ پکڑا جاتا ہے تو اس کا کام تمام کر دیتی ہے،تاکہ اس کا کوئی بھی راز باہر نہ آنے پائے۔ اس معاملہ میں بھی کے جی بی نے ٹھیک یہی کیا۔ حالانکہ یہ کام اس کے لئے اتناآسان نہیں تھا۔ کے جی بی بھی یہ بات معلوم تھی کہ ایناتولی کو قتل کر وہ اپنی ساکھ پر ہی بٹا لگائے گی۔ نتیجتاًاس کے لئے بھی اس نے بھرپور تیار کی، تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ کے جی بی نے بے حدہی شاطر اور اثردارترکیب نکالی۔ اس نے اینا تولی کے بارے میں کئی افواہیںپھیلانا شروع کر دیا۔ مثلاً وہ سوویت سنگھ کی غیر قانونی وارداتوں میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ کئی اسمگلنگ آپریشن کو بھی انجام دیتا تھا۔ اینا تولی کو بدنام کرنے کی سازش میں کے جی بی نے اسے ڈبل ایجنٹ تک قرار دے دیا۔ یعنی کے جی بی کے ترکش کا یہ ایسا تیر تھا جو بالکل صحیح نشانہ پر لگا۔ کے جی بی کی ان کوششوں نے اینا تولی کی ساکھ مٹی میں ملا دی۔ اس طرح اپنے اس ایجنٹ کو بدنام کر کے جی بی نے پہلے اسے دنیا کی نظروں میں ایک گناہگار ثابت کر دیا۔ پھر اس کے قتل کی سازش رچی۔ اپنی جان پر خطرے کو دیکھتے ہوئے اینا تولی، جو اب سی آئی اے کی گرفت میں تھا، نے سی آئی اے سے ایک سودا کیا۔ حالانکہ یہ بات اس کی مجبوری بھی بن چکی تھی۔ اینا تولی نے اپنی جان کا سودا سوویت سنگھ کے کئی راز امریکہ کو بتا دیئے۔ اس کے بدلے اینا تولی کو ملی امریکی شہریت ۔ یعنی اس کے تحفظ کا پورا بندوبست۔ اس طرح دنیا کی سب سے خطرناک ایجنسی نے اپنے ہی جاسوس وک راستہ سے ہٹانے کی سازش رچی، لیکن کے جی بی کا یہ جاسوس اس سے بھی دو قدم آگے نکلا اور اس نے کے جی بی کو اسی کے کھیل میں شکست دے دی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *