اعداد و شمار میں نہ الجھئے ترقی کی جانب توجہ کیجئے

کسی بھی ریاستی سرکار کے ذریعہ پیش کئے جانے والے اعداد و شمارہمیشہ ترقی کی کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ ان میں کتنی سچائی ہے اسکا کتنا فیصدصحیع ہے اس سے  انداز ہ ہو جاتا ہے کہ سرکار کی نیت شہری عوام کے تئیں کتنی صاف ہے۔مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ کروڑوں روپے کے اشتہارات کے ذریعہ اب تک جاری کئے گئے اعداد و شمار زمینی حقیقت سے کہیں دور ہیں۔بی جے پی اس سرکاری تشہیر کو اگر صحیح مانتی ہے تو یہ مستقبل میں کتنا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اسکا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔صرف خواب دکھانے اور جھوٹے وعدے کرنے سے قوم اور سماج کی ترقی ممکن نہیں ہے اور وہ بھی اس وقت، جبکہ سرکاری عملہ اپنے ذاتی مفاد تلاش کرنے میں میں لگا ہوا ہے۔
ریاست میں سرکاری طور پر تشہیر کرنے والے گروہ نے مہینوں تک شور مچایا کہ ہر روز8کلو میٹر ، سڑک تعمیر ہو رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں جتنی سڑکیں بنیں،ا تنی گزشتہ 50سالوں میں نہیں بنیں۔لیکن، راجدھانی بھوپال کے ارد گرد کئی گاﺅں ایسے ہیں، جہاں سڑک کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ کچھ گاﺅں میں تو آج بھی قبائلی تہذیب کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں
وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ کے رہائشی ضلع سیہور کا ایک گاﺅں ہے کنجر کھیڑہ۔ یہ راجدھانی سے پچاس کلو میٹر اور ضلع ہیڈ آفس سے صرف 17کلو میٹر دور ہے، لیکن کسی پکی سڑک سے اس گاﺅں کا کوئی ناطہ نہیں ہے۔گاﺅں میں واقع ندی پر تھوڑی دور کھجوریا کلاں میں ،ایک باندھ بنا کر پانی روکا گیا ہے،جسے پینے اور سینچائیکے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن، باندھ بن جانے سے کنجر کھیڑہ میں آمد و رفت کی سہولیات بند ہو گئی ہیں۔اہم شاہراہ کی جانب باندھ کا پانی 8مہینے بھرا رہتا ہے اور گاﺅں والوں کو روز اسی پانی میں سے گزر کر سڑک پر جانا پڑتا ہے۔بچے پانی میں سے گزرنے کے بعد ہی اسکول جا پاتے ہیں۔وزیر اعلیٰ،ممبر پارلیمنٹ اور ممبر اسمبلی سبھی کو اس بات کا علم ہے،لیکن کسی نے پلیا اور رپٹا بنوانے کی زحمت گوارا نہیں سمجھی۔یہ صرف ایک گاﺅں کہانی ہے،لیکن ایسے 20سے زائد گاﺅں بھوپال اور وزیرا علیٰ کے ضلع میں ہیں،جہاں چھوٹے چھوٹے تعمیری کام نہ ہونے کے سبب عام زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔بھوپال اور سرحد پر واقع گاو¿ں میں پکی سڑکیں نہیں ہیں۔ناگرا بس اسٹینڈ سے سات کلو میٹر دور واقع گھاٹ کھیڑی، بھوپال سے 15کلومیٹر دور کھیجڑادیو اور تاراشیوانیا سے جھاپریا اور سوکھانپانیا کو جوڑنے کے لئے کوئی پکی سڑک نہیں ہے۔ اسی طرح کانسی بر کھیڑہ،سگونی،دیو پور اور شاہ پور جیسے گاﺅں بھی سڑک کی سہولیات سے محروم ہیں۔
دیہاتی علاقوں میں سڑکیں تین چار سال کے عرصے میں بنائی جاتی ہیں اور ان کی مرمت ہوتی ہے۔لیکن، قومی شاہراہوں اور کچھ اہم شاہراہوں کو چمکانے کی سرکاری مہم کے سبب دیہاتی علاقوں کی سڑکوں کی حالت بے حد خستہ ہے۔ گاﺅوں میں سڑک تعمیر کے لئے وزیرا عظم سڑک اسکیم کے تحت دیگر ریاستوں کی طرح مدھیہ پردیش کو بھی بھرپور پیسہ ملتا ہے، لیکن 9سالوں میں 77ہزار کلو میٹر سڑک تعمیر کے اعداد و شمار کاغذوں میں درج ہوجانے کے بعد بھی حقیقت یہ ہے کہ اس ریاست میں20ہزار گاﺅں سڑک سہولیات سے آج بھی پوری طرح محروم ہیں۔ معلومات کے مطابق،500سے 999تک کی آبادی والے 7131اور 250سے 499تک کی آبادی والے 1529گاﺅوں میں سڑک سہولیات نہیں ہیں۔ اسی طرح 250سے کم آبادی والے 8171گاﺅوں میں سڑکوں کا نام و نشان تک نہیں ہے۔قابل ذکرہے کہ 500سے کم آبادی والے زیادہ تر گاﺅں قبائلیوں سے بھرے ہیں۔ان گاﺅوں میں کبھی کبھی سرکاری جیپیں اور موٹر سائیکلیںدوڑتی ہیں ۔لیڈر انتخابات کے وقت تشہیر کے لئے آتے ہیں اور پھر انہیں بھول جاتے ہیں۔ ابھی بھی ان گاﺅوں میں ٹرانسپورٹ کے لئے بیل گاڑی سب سے تیز گاڑی مانی جاتی ہے۔اساتذہ، پنچایت سکریٹری ،پرائمری ہیلتھ سینٹر کے ڈاکٹر اور دیگر عملہ بھی یہاں آنے جانے کے لئے بیل گاڑی کا ہی سہارا لیتے ہیں۔
ریاست کے محکمہ صحت کا عملہ بے رحم اور ظالم ہو چکا ہے۔ راجدھانی بھوپال میں ایک سال قبل کاٹجو اسپتال میں ایک حاملہ خاتون کو داخل نہیں کیا گیا، نتیجتاً اسے اسپتال کے گیٹ پر ہی زچگی کرنی پڑی۔جن ہنگامہ ہوا تو کچھ ڈاکٹروں پر کارروائی کی گئی، لیکن جلد ہی معاملہ سرد پڑ گیا۔اسی طرح گنج بسودہ کے پاس واقع ایک گاﺅں میں رہنے والی ایک خاتون کو زچگی کے لئے گنج بسودہ سے ودیشا بھیجا گیا اور جب وہاں بھی سرکاری اسپتال میں داخلہ نہیں ملا تو گھر لوٹے وقت اس کی زچگی ریل گاڑی میں ہی ہو گئی۔جے پرکاش ضلع اسپتال میںگزشتہ 30دسمبر کو ایک خاتون نے اسپتال کے برآمدے میں بچے کو جنم دیا۔گاﺅں کالاپانی ساکن رام وتی بائی نامی یہ خاتون زچگی کے لئے اسپتال آئی تھی، لیکن جانچ اور داخلہ میں ٹال مٹول کے دوران زچگی سے کراہتی خاتون نے برآمدے میں ہی بچے کو جنم دے دیا۔بعد میں وہاں پہنچے ایک ڈاکٹر نے خاتون کو اسپتال میں داخل کرایا۔ بھوپال کے سرکاری اسپتالوں میں غریبوں کو مفت دوا نہ ملنے، ڈاکٹروں اور کارکنان کے غائب رہنے جیسی کئی پریشانیاں ہیں۔کرپشن، گھوٹالوں اور ڈاکٹروں،عملہ کے لالچ کے سبب سرکاری اسپتال اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ،وزیر اور سرکاری افسران اپنا اور خاندان کا علاج نجی اسپتالوں میں کراتے ہیں،کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں من مانی شباب پر ہے۔گزشتہ دنوں بھوپال پولس نے نشانت پورہ میں ایک فرضی دوا فیکٹری کا پردہ فاش کیا۔ 12ویں تک پڑھے انل اگروال نامی شخص نے ہاﺅسنگ بورڈ کالونی کے دو چھوٹے کمروں میں شکر، گڑ کے شیرے اور آراروٹ کے گھول سے کئی طرح کی نقلی دوائیاں بنا کر بھوپال اور ارد گرد کے سرکاری اور غیر سرکاری اسپتالوں، ڈاکٹروں اور دوکانوں میں سپلائی کی جا رہی تھیں۔ معلوم ہو کہ ریاستی سرکار کا اپنا ڈرگس کنٹرول محکمہ ہے،ضلع سطح پر ڈرگس انسپکٹر تعینات ہیں اور ضلع اسپتالوں میں فارمیسسٹ بھی ہیں،باوجود اس کے راجدھانی میں نقلی ادویات کا کاروبار چل رہا ہے۔سرکاری اسپتالوں میں خراب بنا سطحی ادویات سپلائی کی جاتی ہیں۔ کبھی کبھی ایکسپائرڈ دوائیں بھی خرید لی جاتی ہیں۔جب جب ایسے معاملے روشنی میں آتے ہیں، میڈیا میں کچھ دنوں تک شور مچتا ہے،لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے کے سبب گھپلوںکا کھیل پھر شروع ہو جاتا ہے۔حمیدیہ اسپتال کے سابق افسر ڈاکٹر ڈی کے ورما کہتے ہیں کہ بازار نقلی دواﺅں سے بھرا پڑا ہے، جن کے استعمال سے لوگ کینسر جیسی خطرناک بیماری کے شکار ہو سکتے ہیں۔انتظامیہ کو اس سمت میں کارروائی کرنی چاہئے۔ ڈاکٹر بھی مریضوں کے ذریعہ خریدی گئی دوا کو دیکھنے کے بعد ہی انہیں اس کے استعمال کے بارے میں بتائیں۔اگر ڈاکٹر ادویات کا معائنہ کریں گے تو نقلی دوائیوں پر کافی حد تک روک لگائی جا سکتی ہے۔
بی جے پی نے 2003اور پھر 2008کے اسمبلی انتخابات میں جاری اپنے اعلان نامہ میں آیوروید، ہومیو پیتھی اور یونانی طب کی تعلیم کو فروغ دینے اور ان کے علاج کی سہولیت کی ترقی کے وعدے کئے تھے۔ساتھ ہی آیوروید ،ہومیو پیتھی اور یونانی طب میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن ڈگری حاصل ڈاکٹروں کی بھرتی کے بھی وعدے کئے گئے تھے،لیکن مذکورہ تمام وعدے الیکشن کے بعد بھلا دیئے گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان وعدوں پر بھروسہ کر کے ریاست کے ہزاروں نوجوان طبی تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی دربدر بھٹک رہے ہیں۔ریاستی سرکار کے میڈیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی لاپروائی سے آیوروید میںعلاج نہیں ہو پارہا ہے ۔7آیورویدک کالجوں میں سے 6کی منظوری نہ ہونے کے سبب گزشتہ 2تعلیمی سیشن صفر قرار دیئے جا چکے ہیں۔ نئے سیشن کے لئے ہندوستان مرکزی میڈیکل بورڈ کے ذریعہ دی گئی مدت ختم ہونے کے بعد بھی منظوری سے متعلق خامیاں مکمل نہیں کی گئی ہیں۔ جبکہ آی¿ندہ سیشن کے لئے سی سی آئی ایم کی ٹیم آیورویدک میڈیکل کالجوں کے معائنہ کے لئے پھر آنے والی ہے۔ جبل پور سمیت ریاست کے چھ آیورویدک کالجوں، جن میں ریوا، اندور، گوالیار،برہانپور اور اجین وغیرہ شامل ہیں، کی منظوری خارج کر دی گئی ہے۔ اب مذکورہ کالج نئے سیشن شروع نہیں کر سکتے۔ ریاست میں سات گورنمنٹ آیورویدک کالجوں کے مقابلہ 7نجی آیورویدک کالج چلائے جا رہے ہیں۔ساتوں آیورویدک کالجوں میں پروفیسر کے کل88عہدوں میں سے 46عہدے خالی ہیں۔یہی نہیں،لیکچررس کے بھی 123منظور عہدوں میں سے 57خالی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *