اسمگلروں کے نشانہ پر بے زبان جانور

چاندی کے چمچماتے سکوں نے بے زبان جنگلی جانوروں کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے۔طرح طرح سے پکڑ کریا انہیں مار کر بیرون ممالک فروخت کیا جا جا رہا ہے۔اسمگلروں کے حوصلے بلند ہیں۔ان کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اپنی تجوری بھرنے کی خاطر انسانیت کو کہیں دفن کر چکے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ انتظامیہ سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے بعد بھی صرف تماشائی بنی ہوئی ہے
اتر پردیش میں ان دونوں جنگلی جانور وں کے اسمگلروں کی طوطی بول رہی ہے۔جنگلی زمین پر ناجائز قبضے کئے جا رہے ہیں۔ جنگل سمٹ رہے ہیں تو جانور شہر کی جانب نکل آنے کو مجبور ہیں۔ اور ،اسمگلر تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ جانور کب ان کی نگاہ میں آئےں اور کب انہیں نشانہ بنایا جائے۔انتظامیہ کو اس معاملے کا پورا علم ہے، لیکن وہ کچھ کر نہیں پا رہی ہے یا پھر کرنا ہی نہیں چاہتی ہے۔ ایسے میں جنگلی جانوروں کے اسمگلر او رجنگلوں پر ناجائز قبضہ کر کے اس کاروبار کو پھیلانے والوں کے حوصلے بلند ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی طرح کی خبریں آ رہی ہیں۔ مختلف چڑیا گھروں پر بھی اسمگلروں کی گدھ جیسی نظر لگی ہوئی ہے۔وہاں پر گھس پیٹھ کر کے جانوروں کی چوری کی جا رہی ہے۔کولکاتہ کانڈ اس کا تازہ ثبوت ہے۔
جنگلی جانوروں کے اسمگلروں نے سیاستدانوں اور جرائم پیشہ لوگوں کے گٹھ جوڑ سے جنگلوں پر ناجائز قبضے کر کے اپنے کھیل کو آسانی سے انجام دینے کا راستہ نکال لیا ہے۔شمالی ملکوں میں جنگلی جانوروں کے اعضاءسے بننے والی ادویات کے سبب ملک میں کچھ خاص نسلیں خطرے میں آ گئی ہیں۔ کچھوا، مور، شیر، سلو سانپ، اجگر، کوبرا، گنگا، ڈالفن، سانڈا، جنگلی کبوتر، کنگ فشر، سارس، سائبیرائی پرندے اور جل مرغی وغیرہ اسمگلروں کے نشانے پر ہیں۔چھوٹے طوطے کی بھی اسمگلنگ میں تیزی آئی ہے۔ہندوستان جنگلی جانوروں کی اسملنگ کرنے والے اتنے ہائی ٹیک ہو گئے ہیں وہ انٹر نیٹ کے ذریعہ ملک بھر میں کہیں بھی کسی بھی وقت ڈیل کر لیتے ہیں اور اس کی ہوا تک کسی کو نہیں لگتی۔ اس کا انکشاف کرائم برانچ نے کیا ہے۔حالانکہ اس طرح کی خرید فروخت سخت ممنوعہ ہیں،لیکن اس کے بعد بھی چوری چھپے یہ کاروباری جاری ہے۔جنگلی جانوروں کی اسمگلنگ بیرون ممالک تک کی جاتی ہے اور اس کے لئے میرٹھ اور لکھنو¿ بے حد مشہور ہیں۔گزشتہ دنوں کرائم برانچ نے چھاپہ مار کر سائبر جنگلی جانو روں کی اسملنگ کا خلاصہ کیا تھا۔اس چھاپے ماری میں میرٹھ کے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے پاس مینا، مور کے بچوں، کوئل اور چھوٹی چڑیوں کو آزاد کرایا گیا تھا۔ہستینا پور علاقہ میں بھی ہرن،مور اور گھڑیال کے شکار کی وارداتیں ہو رہی ہیں، لیکن جنگلی جانوروں کے تحفظ افسران اس اور توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ مخدوم پور علاقہ کے گنگا گھاٹ پر کثیر تعداد میں گھڑیال چھوڑے گئے تھے۔انہیں وہاں چھوڑنے کا مقصد یہ تھا کہ ناجائز طور سے ہونے والا مچھلیوں کا شکار رک جائے اور انسانی ہڈیوں کے بہاﺅ سے گنگا میں ہونے والی گندگی گھڑیالوں کی مدد سے صاف کی جا سکے۔ اگست ماہ میں فوجی علاقہ میں چار ہرن مل چکے ہیں۔ مذکورہ ہرن کہاں سے اور کیسے آئے، کسی کو کچھ علم نہیں۔ میرٹھ کے سوتی گنج میں روزانہ ہندوستان اور بیرون ممالک، طوطہ،کبوتر، چھوٹی چڑیا، گوریا اور کوئل وغیرہ کی فروخت ہوتی، لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئ۔ جنگلی جانوروں کی حفاظت کے لئے افسران کا کہنا ہے کہ غیر ممالک سے چڑیوں کو فروخت کرنے کی اجازت ہے،لیکن ہندوستان پرندوں کو نہیں۔
نیپال کے سرحدی ضلع بہرائچ میں پرندوں کی اسمگلنگ کا معاملہ روشنی میں آیا ہے۔پولس نے اس سلسلہ میں نصف درجن لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ان کے پاس سے 400طوطے برآمد ہوئے ہیں، جنہیں محکمہ جنگلات کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ یہ طوطے ضلع کے جنگلوں سے پکڑے گئے تھے۔وشیش ورگنج تھانہ انچارج شری رام نے بتایا کہ بہرائچ نگر کے چاند پورہ ساکن اندریش اور مورتیہا تھانہ علاقہ کے ککرہا ساکن ایک دیگر شخص ان طوطوں کو لے کر بہار جا رہے تھے۔ان کے ساتھ علی حسن،چھوٹ کنے ولد علی احمد ،منگرو ولد یوسف، منا ولد عیسیٰ،انیس احمد ولد موعید احمد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ان کے تار بین الاقوامی اسمگلر گروہ سے جڑے ہیں۔مشرکھ (سیتا پور)میں پولس نے سانپ برآمد کئے۔ پولس نے تین لوگوں کو تین دو منھ والے سانپوں، ایک رائفل اور کچھ دیگر سامان کے ساتھ گرفتار کیا۔ مذکورہ برآمدگی پرسولی چوراہے پر سفاری گاڑی HR-51Y1121سے کی گئی۔ گرفتار کئے گئے لوگوں میں گاڑی ڈرائیور ستیہ ویر سنگھ ولد راجیندر تیاگی ساکن دلیل پور ضلع فرید آباد،کنور پال سنگھ ولد پرتاپ سنگھ ساکن شانتی کالونی فرید آباد اور اندر پال سنگھ عرف پپو ولد شیو دت سنگھ ساکن احتیاد سرائے ضلع بلند شہر ہیں۔ جامع تلاشی کے دوران پولس کو نقدی، موبائل اور دیگر سامان بھی ملا ہے۔پکڑے گئے لوگوں کے خلاف جنگلی جانور تحفظ ایکٹ کی دفعہ 9/51اور تعزیرات ہند کی دفعہ 41/411کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
سدھارتھ نگر ضلع کا دکشانچل کچھار علاقہ موروں کا مانا جاتا ہے۔ کچھار کے تقریباً1500گاﺅوں کے درمیان ندیوں اور جھاڑیوں کے آس پاس ہزاروں کی تعداد میں قومی پرندے مور سیاحت کرتے ہیں ۔ پیسوں کے لالچ کچھ لوگ انہیں اپنا شکار بنا رہے ہیں۔محکمہ جنگلات کی نظر اندازی اور پروں اور ناخونوں کی بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتی ڈیمانڈ کے سبب موروں کے اوپر خطرات کے بادل امڈنے لگے ہیں۔ مظفر نگر کے کھتولی، اٹاوا ضلع سے نکلنے والی یمنا اور چمبل ندی وغیرہ علاقہ میں ان دونوں کچھوﺅں کی اسمگلنگ شباب پر چل رہی ہے۔گزشتہ دنوں ان کانپور میں ایک شخص کو چار بوروں میں کچھوﺅں کے بچے لے جاتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ اسمگلر بچوں کے تعاون سے جانوروں کو پکڑ کر بازاروں میں چوری چھپے فروخت کر رہے ہیں۔راجدھانی لکھنو¿ کے چوک علاقہ م یں لگنے والی بازار میں دیگر قسم کے پرندے ندیوں سے پکڑ کر بازاروں میں چوری چھپے فروخت کئے جا رہے ہیں۔ لکھنو¿ میں ایک ایسا گروہ ہے، جو آرڈر پر گنگا ڈال فن سے لے کر گھڑیال اور ہاتھی دانت وغیرہ مہیا کرا رہا ہے۔
اسمگلنگ کے کھیل میں اتر پردیش کے سرحدی نیپال اور چین کی 800کلو میٹر لمبا کھلا سرحدی نشان ًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًً بخشش ثابت ہو رہی ہے۔اسمگلنگ نیپال میں چین کے راستہ بین الاقوامی مارکیٹ میں جانوروں کو فروخت کر مالامال ہو رہے ہیں۔ اسمگلروںنے چڑیا گھروں کے اندرگھس پیٹھ کرکے اپنے من پسند جانور چوری کروا کر اور انہیں موت کی نیند سلا کر ان کے اعضاءکے کاروبار کی خطرناک سازش شروع کی ہے۔ کولکاتہ چڑیا گھر سے کثیر التعداد برازیلی بندروں کی چوری سب سے بڑی واردات مانی جا رہی ہے۔مغربی ایشیا، جنوبی ایشیائی اور یوروپی ممالک میں سرگرم اسمگلروں کی نگاہ اب ہندوستانی چڑیاگھروں پر آ ٹکی ہے۔کولکاتہ میں کچھوو¿ں کی مختلف اعضاءکی اسمگلنگ کی وارداتیں ،ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں، لیکن ان کا دائرہ مقامی اسمگلروں تک محدود مانا جا تا رہا تھا اب برازیلیائی بندروں کی چوری سے واضح ہو گیا ہے کہ اسمگلروں کا نیٹورک جاپان، ملیشیا وغیرہ ممالک کے ساتھ سا تھ اب انگلینڈ، جرمنی، فرانس اور امریکہ تک پھیل چکا ہے۔
اگست کے وسط میں کولکاتہ کے چڑیاگھروں میں پنجرا کاٹ کر 8برازیلیائی بندروں (مرموسیٹ)کو چوری کر لیا گیا۔ان میں تین نر اور تین مادہ اور دو بچے شامل تھے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک جوڑے کی قیمت تین ہزار ڈالر اور ہندوستان مارکیٹ میں کم سے کم سوا لاکھ روپے جوڑا مانی جاتی ہے۔مرموسیٹ کے دماغ سے بنی اشیاء ملایا اور چین میں بے حد مقبول ہیں، لیکن ان کا زیادہ استعمال جنوبی ایشیا ، مغربی ایشیا اور جنوبی امریکہ کی دوا بنانے والی کمپنیاںوصولی کے کام کر رہی ہیں۔کولکاتہ پولس کی تفتیش میں ان بندروں کے بارے میں کوئی سراغ نہیں لگ سکا ہے۔ ”جنگلی جانور پریمی سنگٹھن“ کا کہنا ہے کہ بغیر ملی بھگت کے قیمتی مویشیوں کی اتنے بڑے پیمانے پر چوری نہیں ہو سکتی۔ دو ہفتہ قبل ممبئی ہوائی اڈے سے ایک تھائی باشندے کو گرفتار کیا گیا اس کے قبضہ سے پانچ بندر برآمد کئے گئے تھے۔ اس نے بندروں کو باکس میںپیک کر رکھا تھا۔ تین بندر مر چکے تھے۔ تھائی باشندہ کہیں باہر سے آیا تھا۔’ وائلڈ لائف پروٹیکشن سوسائٹی آف انڈیا‘ کی فاﺅنڈر بیلنڈ’ا رائٹ ‘کے مطابق ممبئی کی برآمدگی کا کولکاتہ کی واردات سے کوئی تعلق ضرور ہو سکتا ہے۔ اس نسل کے بندروں کی یورپ کے اسمگلروں میں کافی مانگ ہے۔ انگلینڈ کے چڑیا گھروں سے اکثر درجنوں کی تعداد میں ایسے بندروں کی چوری کی خبریں آتی ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں جنوبی لندن کے چڑیا گھر میں چوری کی واردات ہوئی تھی۔ مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں ایسے بندروں کے خریداروں کی بڑی تعداد ہے۔
مغربی بنگال کے پرنسپل چیف ’کنزرویٹو آفیسر آف فاریسٹ‘ ’اتنوراہا‘ کے مطابق، کولکاتہ کے چڑیا گھروں سے چوری میں ،بین الاقوامی اسمگلروں کا ہاتھ ہے۔ یہاں کی چوری دنیا بھر میں ہوئی کچھ بڑی چوریوں سے میل کھاتی ہے۔اگست 2004میں اسکاٹ لینڈ کے اوبان زولوجیکل ورلڈ سے 16بندر چرائے گئے تھے۔ جون 2006میں شمالی سینسیکس صوبہ سے پانچ مرموسیٹ ، اسی دوران انگلینڈ کے ایکسومر چڑیا گھر سے 11مرموسیٹ اور جون 2007میں امریکہ کے سوویئر چلی سے کئی مرموسیٹ بندر چرائے گئے تھے۔ ”فاریسٹ اینیمل اسپیشلسٹ“’پرانویش ‘سانیال کا کہنا ہے کہ اب شیر کی کھال، پنجے اور مگر مچھ کی کھال کےعلاوہ اسمگلروں کیہندوستانی چڑیا گھروں کی قیمتی انسانی دولت پر بھی بری نظر ہے۔مذکورہ جنگلی جانور کولکاتہ سے ممبئی اور بنگلور، پھر وہاں سے غیر ممالک کو بھیجے جا رہے ہیں۔ شمالی بنگال کے سلی گوڑی ہو کر نیپال کے راستہ آسان ہے۔ یہ بند ر ساخت میں چھوٹے ہوتے ہیں اور انہیں چھپا کر کہیں بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ سینٹر زو اتارٹی نے کولکاتہ چڑیا گھر کے ڈائریکٹر کو برخاست کرتے ہوئے ریاستی سرکار سے کیفیت طلب کی ہے۔ اتھارٹی نے اس معاملہ میں ریاستی سرکار کے ذریعہ چڑیا گھر چلانے کے حقوق پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ فاریسٹ اسپیشلسٹ وید پرکاش دوبے کہتے ہیں کہ جب تک جنگلوں کی حفاظت نہیں کی جائے، جنگلی جانوروں کو بچائے رکھنا بے حد مشکل ہے۔ سمٹتے جنگلی علاقے جنگلی جانوروں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔اگر وقت پر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو وہ دن دور نہیں، جب ہم جنگلی جانوروں کو صرف تصویروں میں دیکھیں گے۔ ممبر اسمبلی ونود چترویدی کا کہنا ہے کہ بندیل کھنڈ میں خوردنی مافیاﺅں کو سرکاری تحفظ حاصل ہونے کے سبب جنگلی جانوروں اور جنگلوں پر خطرہ منڈرانے لگا ہے۔ مغربی ممالک سے آنے والے مہمان پرندوں کا شکار پرتاپ گڑھ، اناﺅ، بلیا، باندا اور للت پور کے بڑے بڑے تالابوں میں کھلے عام ہو رہا ہے،لیکن محکمہ جنگلات آنکھے بند کئے بیٹھا ہے۔ غریب طبقہ کے لوگوں کا استحصال کیا جاتا ہے، جبکہ شکار کرنے والے طاقتور لوگ مستی کر رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *