اردو زبان کے مسائل اور اکیسویں صدی

عملی طور پر ہندوستان میں اردو کی حیثیت ثانوی ہو چکی ہے۔ اگر کبھی یہ صورتحال پیدا ہو جائے کہ کرہ ارض کی ایک زبان کو محفوظ رکھنا ناممکن ہو، تو یہ فیصلہ کرنے کے لئے کسی طویل بحث کی ضرورت ہنہیں اور نہ ہی اس کے لئے اقوام متحدہ کا کوئی اجلاس ہی لازمی ہے۔ اس سوال کا سیدھا سادہ جواب ہے، انگریزی زبان!
اس کی ویسے تو بہت سی وجوہات ہیں، مگر سب سے بنیادی اسباب دو ہیں۔ اس وقت دنیا کا مکمل انحصار سائنس اور ٹیکنالوجی پر ہے اور دنیا کو کوئی سائنس کانفرنس بین الاقوامی سطح پر انگریزی زبان کے علاوہ کسی او زبان میں نہیں ہو سکتی۔ جو اصطلاحات مروج ہیں۔ ان کا بنیادی تعلق بھی زیادہ تر اسی زبان سے ہے اور جو نئی اصطلاحات بنائی جاتی ہیں، وہ بھی اسی وقت مروج ہوتی ہیں، جب وہ انگریزی زبان کے لئے قابل قبول ہوں۔اسی باعث انسانوں کے روزگار کے تمام مسائل اور وسائل انگریزی زبان سے متعلق ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی تجارت اور تعلیم زیادہ تر اسی زبان میں ہوتی ہے اور دنیا کا ہر ملک خواہ و ہ فرانس، روس اور چین ہی کیوں نہ ہو، اس زبان کو سیکھنے پر مجبور ہے۔ انگریزی کو علمی اور ادبی سطح پر اب وہ حیثیت حاصل ہے جو قرون و سطی میں عربی حاصلت ھی، یا اس سے پہلے یونانی کو حاصل تھی۔
موجودہ لسانی صورتحال کو تبدیل کرنا بھی ممکن نہیں اور شاید اس کی ضرورت بھی نہیں ہے، پوری انسانیت کے پاس کوئی ایک زبان تو ایسی ہونی ہی چاہئے، جو ایک دوسرے سے رابطے کی زبان ہو، اور ایک چھوٹے پیمانے پر ہم یہ بات پاکستان میں اردو کے بارے میں بھی کہتے ہیں، ایک زمانے میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا۶۸۹۱ءتک اردو کو دفتری زبان کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ اس کے لئے کچھ کام بھی ہوا۔ مرکزی سطح پر مقتدرہ قومی زبان قائم کیا گیا تھا، مگر ۶۸۹۱ئگزر جانے کے بعد ۷۱برس میں ہم نے اس طرف مڑ کے دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ کسی طرح پر بھی عملی طور پر یہ سوال نہیں اٹھایا گیا کہ اب کوئی دوسری تاریخ ہی مقرر کر دی جائے، بلکہ اس کے برعکس انگریزی کو پرائمری سطح پر رائج کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی والے اس وقت سب سے زیادہ فعال ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ اگلے چند برسوں میں ہماری سب سے زیادہ ایکسپورٹ اس شعبے میں ہوگی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم سال بھر میں جتنی ایکسپورٹ کرتے ہیں، اس سے زیادہ ایکسپورٹ ہندوستان میں صرف سوفٹ ویئر کی ہے، لہٰذا عملی طور پر ہندوستان میں اردو کی حیثیت ثانوی ہو چکی ہے۔رہا ادب کا سوال تو چند ماہ پہلے اپنے ایک ٹی وی انٹر ویو میں اردو کے مقبول ناول نگار عبد اللہ حسین اردو ادب کے مستقبل کے بارے میں خاصی مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں۔ انھوں نے صرف اپنے ناول اداس نسلیں کا ترجمہ خود انگریزی میں کیا ۔ ہیم بلکہ وہ کوئی ناول انگریزی زبان میں بھی لکھ رہے ہیں۔
ہمارے یہاں فکشن کا رواج اب روایت کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ انگریزی زبان میں ایسے کئی قابل ذکر مصنف موجود ہیں جنھوں نے آغاز تو کسی اور زبان سے کیا تھا، مگر بعد میں وہ انگریزی کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی میں بہت نام پیدا کیا۔ چنانچہ انگریزی کے دروازے کسی پر بند نہیں ہیں۔
زبان محض اپنے ادب پر زندہ نہیں رہ سکتی
دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنے طور پر موجود ہے کہ کوئی بھی زبان محض اپنے ادب پر زندہ نہیں رہ سکتی۔ ضروری ہے کہ اس کا تعلق علوم کے ساتھ بھی ہو اور روٹی کمانے کے وسائل کے ساتھ بھی۔ اور اردو کا یہی حصہ بہت کمزور ہے۔ اردو پڑھے لکھے لوگوں میں اب وہ لوگ بے حد محدود تعداد میں رہ گئے ہیں، جن کا بنیادی تعلق علوم سے ہو۔ ڈاکٹر عبد السلام اگرچہ اردو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ مگر انھوں نے اردو زبان میں سائنس پر کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ شاید یہ ان کے لئے ممکن بھی نہیں تھا، کیونکہ انھوں نے اپنے لئے نظریاتی طبیعاتی سائنس داں کا کردار پسند کیا تھا۔ جس میں اردو گنجائش ہی نہیں تھی اور پاکستان بھی اسی لئے چھوڑا تھا کہ اس وقت یہاں سائنسی برادری سرے سے مفقود تھی، چنانچہ یہ ضروری ہے کہ نہ صرف سائنسی برداری موجود ہ و، بلکہ ایسی ہو جو اردو زبان میں سائنس کو ترقی دینے کے کام پر لگی ہوئی ہو۔ بہت سے اردو جاننے والے دنیا کے مختلف ممالک میں بڑے بڑے سائنسی اداروں میں اعلیٰ سطح پر کام کر رہے ہین، مگر ان کا کوئی تعلق اردو زبان سے نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی کی سطح پر بھی اردو زبان کو متعارف کروانے کی باقاعدہ کوشش نہیں کی گئی، حالانکہ اس سطح پر یہ نہ صرف ممکن تھا بلکہ ضروری بھی۔ مثال کے طور پر موٹر مکینک مختلف چیزوں کے لئے مختلف اصطلاحات استعمال کر تے ہیں مگر اس سلسلہ میں کسی سطح پر بھی کوئی کام نہیں ہوا۔ ہم نے ایم اے اردو کو محض ادیبوں کے احوال و آثار تک محدود کر دیا ہے اور مقالہ لکھنے کے لئے سانچے بنا دیئے ہیں۔ یہی حال عام طور پر پی ایچ ڈی کی سطح پر بھی ہو رہا ہے۔ ہمیں کسی نہ کسی صورت میں ادب اور جدید علام کے مابین کوئی مضبوط رشتہ بنانا پڑے گا، پھر بعض تکنیکی شعبوں کی تربیت بھی اردو میں کرنی پڑے گی۔ اگر یہ نہ کیا گیا تو پھر طلبہ مجبور ہوں گے کہ وہ انگریزی تک محدود ہو کر رہ جائیں۔ روٹی کمانے کا تعلق بھی اردو سے قائم کرنا ہوگا۔ شماریات کا تو مجھے علم نہیں ، مگر میرا خیال ہے کہ شاید ایک فیصد لوگ بھی ایسے نہیں ۔ جن کے رزق کا تعلق اردو کے ساتھ قائم کیا جا سکے۔
ادیب اور شاعر مباررکباد کے مستحق ہیں کہ وہ اردو کی شمع کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ خصوصاً جو مشاعرے کے ذریعہ اپنے خیالات اور محسوسات دوسروں تک پہنچاتے ہیں، مگر اس میں بھی اب زیادہ تر مشاعروں کو ترجیح ملنی شروع ہو گئی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے باہر بھی مشاعرہ ایک ثقافتی سرگرمی کی طور پر مقبول ہے، جونسل تازہتازہ ملک چھوڑ کر گئی ہے، یہ سرگرمی ان کے لئے طمانیت قلب کا باعث ہے، مگر ان محفلوں میں نوجوان نسل بہت کم نظر آتی ہے۔ پچھلے پچاس برس میں جو تبدیلیاں بھی ہمارے معاشرے میں آئی ہیں، انھوں نے سبھی کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ اگر ہم سب پورے نہیں تو آدھے انگریز ضرور بن چکے ہیں۔بے شمار سہولتیں ایسی ہیں، جن کے بغیر ہم ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتے، مگر ان سب کا تعلق سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *