سرکاری ہاسٹل میں قبائلی لڑکیوں کی عصمت دری، دو افسران گرفتار

Share Article

photo

لوک سبھا انتخابات کے ٹھیک پہلے مہاراشٹر حکومت کے لئے ایک بڑی مشکل کھڑی ہو گئی ہے۔دراصل، چندر پور ضلع کے ایک سرکاری ہاسٹل میں آدیسواسی (قبائلی) لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔واقعہ مہاراشٹر کے چندرپور کے راجورا کے آدیسواسی (قبائلی) ہاسٹل کا ہے۔اب بچیوں کے ساتھ درندگی کے بعد ہاسٹل سپرنیڈینٹ اور ڈپٹی سپرنڈنٹ کو گرفتار کر لیا ہے۔ معاملے کی جانچ کر رہی راجورا پولیس نے بتایا کہ چندرپور جی ایم سی ایچ میں بھرتی دو بچیوں کے ساتھ ریپ کی تصدیق ہونے کے بعد ملزمان کی گرفتاری ہوئی۔ بچیوں کو سڈیکٹیو ڈرگس کے اوورڈوزکی وجہ سے 6 اپریل کو داخل کیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کی مانیں تو، گرفتاری کے بعد جب ہاسٹل کی تلاشی لی گئی تو سپرنڈنٹ کے کمرے بڑی تعداد میں کنڈوم اور ویاگرا (ٹیبلیٹ)پلس برآمد کی گئی ہے، جس کے بعد انہیں ہفتہ کو گرفتار کیا گیا۔ وہیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نریندر ورتکر کو اتوار کو گرفتار کیا گیا۔

ضلع کے ایس پی مہیشور ریڈی نے بتایا، ’ہم نے ہاسٹل کے دو ملازمین کو گرفتار کیا ہے‘۔ اس درمیان ایک اور لڑکی کو میڈیکل جانچ کے لئے بھیجا ہے۔ سماجی کارکن اور ایم این ایس لیڈر راجو ککڑے نے بتایا کہ ہاسٹل کی 13 لڑکیاں 6 اپریل کو بیہوش ہو گئی تھیں۔ انہیں راجورا میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ان میں سے دو کی حالت زیادہ نازک ہونے کی وجہ سے انہیں چندر پور جی ایم سی ایچ بھیج دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں ڈاکٹر کو دونوں کے پرائیویٹ حصے میں سوجن کاپتہ چلا جس کی وجہ سے ریپ کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

ایک دو دن میں تفتیش مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر نے دونوں کے ساتھ ریپ کی تصدیق کی۔ ملزمان کے خلاف آئی پی سی اور پاکسو ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس کے علاوہ ان پر ایس سی اور ایس ٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت بھی کیس درج ہوا۔ ہاسٹل کے ڈائریکٹر کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی سبھاش دھوٹے ہیں۔ ہاسٹل انتظامیہ نے سپرنٹنڈنٹ کو فوری طورپر معطل کر دیا۔

وہیں راجورا سے رکن اسمبلی سنجے دھوٹے نے پیر کو پریس کانفرنس کرکے وزیر اعلی کے سامنے معاملہ اٹھانے کی بات کہی۔ انہوں نے قبائلی ہاسٹل کا رجسٹریشن فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق میں ہاسٹل میں کل 300 طالب علم ہیں جس میں130 لڑکیاں پہلی سے نویں کلاس کی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *