2 لڑکوں کو ہوا پیٹ میں درد تو ڈاکٹر نے لکھ دیا حمل ٹیسٹ اور پھر …

Share Article

 

ہسپتال میں ڈاکٹروں کے آپریشن کے دوران مریض کے پیٹ میں ہی تولیہ یا پھر کینچی چھوڑ دینے کی خبر تو آپ نے کئی بار سنی ہوگی لیکن کیا کبھی یہ سنا ہے کہ کسی ڈاکٹر نے ایک نوجوان کو پیٹ میں درد ہونے پر حاملہ خواتین کو کیا جانے والا ٹیسٹ (تحقیقات) لکھ دیا ہو. آپ کا جواب ہوگا نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے لیکن ایسا ہوا ہے جھارکھنڈ کے چترا ضلع کے سمريا سرکاری ہسپتال میں جہاں ڈاکٹر نے دو مردوں کو ANC ٹیسٹ کرانے کا حکم دے دیا۔

2 लड़कों को हुआ पेट दर्द तो डॉक्टर ने लिख दिया प्रेग्नेंसी टेस्ट और फिर...

دراصل سمريا کے چوربورا گاؤں کے رہنے والے 22 سال کے گوپال گجھو اور پاس کے ہی دوسرے گاؤں کے رہنے والے سدھ گجھو کو 1 اکتوبر کو پیٹ میں اچانک درد ہونے لگا. دونوں کو ان کے لواحقین سمريا کے سرکاری ہسپتال لے گئے جہاں اس وقت ڈیوٹی پر ڈاکٹر مکیش نے دونوں کی جانچ کی اور پرچی پر کچھ ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی۔

جب دونوں مریض انکوائری والی پرچی لے کر پیتھلوجی لیب پہنچے تو وہاں ڈاکٹر یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ حاملہ خواتین کو ہونے والا ٹیسٹ مرد مریض کا کیسے ہو سکتا ہے. پیتھلوجی کے ڈاکٹر نے پرچی پر لکھے دوسری تمام انکوائری تو کر دی لیکن ANC (حاملہ خواتین کی تحقیقات) ٹیسٹ کرنے سے انکار کر دیا. اس کے بعد دونوں مریض اپنے اپنے گھر واپس آئے۔

 

جب دونوں مریضوں نے اس بحث اپنے ارد گرد کی تب جاکر اس بات کا انکشاف ہوا کہ حکومت ہسپتال کے ڈاکٹر نے حاملہ خواتین کا ہونے والا ٹیسٹ پیٹ میں درد ہونے پر مردوں کے لئے بھی لکھ دیا. اس کے بعد یہ خبر پورے علاقے میں آگ کی طرح پھیل گئی۔

وہیں اس طرح کا الزام لگنے کے بعد سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر مکیش نے کہا ایسا قطعی نہیں ہو سکتا اور اس سے مجھے بدنام کرنے کی سازش ہے. پرچی پر اوور راٹگ کر ایسا کیا گیا ہے. وہیں اس معاملے کو لے کر ہسپتال کے کاوچ سرفنگ ڈاکٹر ارون کمار نے بتایا کہ انہیں معاملے کی جانکاری نہیں ہے اور اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو اس کی جانچ کروائی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *