1993 کا ممبئی بم بلاسٹ معاملہ 24 برس لگ گئے ادھوری سزا دینے میں

Share Article

کسی بھی جرم کے بعد اگر قصوروار کو سزا دلانے میں دہائی سے زیادہ کا وقت لگ جائے تو متاثرین کے ذریعہ انصاف کی اہمیت پر سوال کھڑا کرنا لازمی ہے۔ ممبئی بم دھماکے کے قصورواروں کو ٹاڈا عدالت کے ذریعہ دی گئی سزا پر عام لوگوں کی بے اطمیانی یہی بتاتی ہے۔ ہمارے یہاں بڑے مجرموں کو سزا دلانے میں بھی قانونی ایجنسیوں کو کتنا لمبا وقت لگ جاتا ہے، ممبئی بم دھماکے کامقدمہ اس کا تازہ نمونہ ہے۔ خصوصی ٹاڈا عدالت نے ممبئی بم دھماکوں کے 24 سال بعد مقدمے کے دوسرے مرحلے کا فیصلہ سناتے ہوئے دو قصورواروں کو سزائے موت اور گینگسٹر ابو سلیم سمیت2 دیگر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
مقدمہ کا لمبا سفر
آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ مقدمہ کس دور سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہے۔ وہ 12مارچ1993 کی تاریخ تھی۔ ملک کی تجارتی راجدھانی ممبئی میں سورج اس دن بھی اپنے ہی انداز میں پروان چڑھا۔ ممبئی والے اپنے کاموں میں مشغول تھے۔ ممبئی لوک اور ایسٹ ویسٹ کی بسوں پر آمدو رفت جوں کی توں تھی کہ ایک ایک کرکے بم دھماکے ہونے شروع ہو گئے۔ دوپہر 1.30 بجے ممبئی اسٹاک ایکسچنج کی 28منزلہ عمارت میں پہلا دھماکہ ہوا۔ یہاں بیسمنٹ میں کار بم اتنا زور دار طریقے سے پھٹا کہ آس پاس کی عمارتوں تک میں کئی آفس ڈمیج ہو گئے۔ کھڑکی کے شیشوں کے ٹکڑے سینکڑوں افراد کو زخمی کرنے میں کامیاب رہے۔ اس دھماکے میں 50 لوگ مارے گئے۔
ممبئی کے لوگ اور پولیس ایسے حملے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ابھی پولیس اس حملے میں زخمیوں کو مناسب علاج مہیا کرانے میں لگی ہوئی تھی کہ دوسرا دھماکہ کارپوریشن بینک کے مانڈوی برانچ میں ہوا اور پھر تو جیسے دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ایک گھنٹے کے اندر ممبئی شہر میں، اس دن 12 بم دھماکے ہوئے تھے۔زیادہ تر بم اسکوٹر اور کار میں رکھے گئے تھے۔ ہر طرف دھواں اور خون کی چھینٹیں ،لاشیں ، افراتفری اور بربادی۔ سلسلہ وار طریقے سے ہوئے بم دھماکوں کی گونج آج بھی ملک بھلا نہیں سکا ہے۔ اخباروں میں چھپی تصویریں گویا کہ دماغ پر چسپاں ہیں۔ اس دھماکے میں کسی کا بیٹا مرا تھا تو کسی کا بھائی۔کسی کی مانگ اجڑی تھی تو کوئی اناتھ ہوا تھا ۔کسی کی گود سونی ہوئی تھی تو کسی کی سیج ۔اس دن ممبئی میں کل 257 لوگ مارے گئے تھے اور 713 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ صرف ممبئی ہی نہیں ،پورا ملک دہل گیا تھا۔
پولیس کو ان دھماکوں کے کچھ وقت بعد ہی ابتدائی جانچ میں پتہ چل گیا کہ حادثہ کے پیچھے انڈرورلڈ سرغنہ دائود ابراہیم کا ہاتھ ہے۔ کہتے ہیں کہ دائود ابراہیم انڈین اسٹیٹ سسٹم یعنی مرکزی سرکار سے بابری مسجد ڈھائے جانے کا بدلہ لینا چاہتاتھا اور اس کے لئے اس نے بے قصور لوگوں کو نشانہ بنایا، وہ بھی اس واقعہ کے لئے جس میں ممبئی کے لوگوں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ ممبئی والے تو خود متاثر ہوئے تھے۔پھر اسی ممبئی میٹروپولیٹن سیٹی میں اس کا بچپن گزرا تھا۔ لیکن اس کے دماغ میں بابری مسجد کے ایشو پر ملک بھر میں ہوئے فسادات کا بدلہ لینے کا جیسے بھوت سوار تھا۔یاد رہے کہ 6دسمبر 1992 کو ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ منہدم کئے جانے کے بعد ممبئی سمیت پورے ملک میں فسادات بھڑک گئے تھے۔ اس معاملے میں مقدمہ بھی قائم ہوا تھا، جس میں بی جے پی کے آج کے کئی سینئر لوگ ملزم بنائے گئے تھے، جنہیں ابھی بھی سزا نہیں دلائی جاسکی ہے۔
مضمون نگار ایس حسین زیدی نے اپنی کتاب ’’ بلیک فرائڈے ‘‘ میں لکھا ہے کہ 6دسمبر 1992 کو ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچے کو ڈھائے جانے کے بعد خاموش بیٹھے مافیا سرغنہ دائود ابراہیم کو کچھ مسلم عورتوں نے ڈبے میں چوڑیاں رکھ کر بھیجی تھیں۔یہی وہ چیز تھی، جس پر دائود بھڑک گیا اور اس کے بعد ہی اس نے اپنے گینگ کو ممبئی کی بربادی کا حکم دیا۔ دراصل متنازعہ ڈھانچے کے ڈھائے جانے اور ممبئی میں ادھر ادھر کچھ فسادات کے بعد دائود پر بدلہ لینے کا دبائو ڈالا جارہا تھا۔ اس کے کئی قریبی چاہتے تھے کہ وہ کچھ ایسا کرے، جس سے بدلہ تو لیا ہی جائے، ایک مقتدر اور محفوظ ملک کے طور پر ہندوستان کا امیج بھی ہل جائے۔

 

 

 

 

 

دھماکے کی منصوبہ بندی
ممبئی دھماکے کو پورے منظم طریقے سے انجام دیا گیا تھا۔ انڈر ورلڈ ڈان دائود ابراہیم کا اشارہ ملنے کے بعد سب سے پہلے ممبئی میں دھماکوں کے لئے لوگوں کو منتخب کیا گیا۔ انہیں دبئی کے راستے پاکستان بھیج کر ٹریننگ دی گئی۔ اسمگلنگ کے اپنے نیکسس کا استعمال کرتے ہوئے دائود نے بحیرہ عرب کے راستے دھماکہ خیز مادے ممبئی پہنچائے تھے۔ پولیس نے دھر پکڑ شروع کی تو طاقتور مجرم غیر ملک بھاگ نکلے،جن میں دائود ابراہیم کا پورا خاندان اور اس کے ابو سلیم جیسے گرگے شامل تھے۔
اس سلسلہ میں ہوئی ابتدائی گرفتاریوں میں چھوٹے مجرموں اور گینگسٹروں کے ساتھ بالی ووڈ اداکار سنجے دت کا نام بھی شامل تھا۔ ملزم نمبر 117 کی شکل میں 19اپریل 1993 کو ان کی گرفتاری ہوئی۔ اس وقت ہوئی پوچھ تاچھ میں انہوں نے یہ مانا تھا کہ اپنے والد سنیل دت کو ملنے والی دھمکیوں سے تنگ آکر اپنے خاندان کی سیکورٹی کے لئے انہوں نے ان مجرموں سے کلاشنکوف جیسے ہتھیار خریدے تھے لیکن انہوں نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ وہ بم دھماکوں کی سازشوں میں شامل تھے۔
4نومبر 1993 کو جب اس مقد مے میں 10,000سے زیادہ صفحات کی پہلی چارج شیٹ داخل کی گئی تو 189 ملزموں میں سنجے دت بھی شامل کئے گئے تھے۔19نومبر 1993 کو سی بی آئی نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ اس کے باوجود گواہوں کی کمی، پیسے کا فقدان، کمزور الزام وغیرہ کی وجہ سے 10اپریل 1994 کوٹاڈا کورٹ نے 26 ملزموں کو بری کر دیا۔ باقی بچے 163 ملزموں کے خلاف الزام طے کئے گئے اور ٹرائل شروع ہوا۔ لیکن اس میں بھی کچھ لوگ جو کہ اہل تھے، وہ اَپَر عدالتوں میں چلے گئے۔
قانونی اٹھا پٹخ کا یہ دور کتنا لمبا کھینچا، اسے ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ اپریل 1995 میں دو بااثر اداکاروں کو سپریم کورٹ نے الزام سے بری کر دیا، جس میں ٹریول ایجنٹ اور کبھی ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر رہے ابو عاصم اعظمی اور امجد مہر بخش شامل تھے۔ عالم یہ تھا کہ 2007 میں جب یہ مقدمہ ختم ہوا تب اس معاملے کے 7 اداکاروں کا مقدمہ الگ کر دیا گیا، ان پر الگ سے مقدمہ چلا، جس میں سے 6 اداکاروں کو سالوں بعد امسال 16 جون کو قصوروار قرار دیا جاسکا اور سزا اب جاکر ستمبرمیں سنائی گئی۔
سنجے دت قصوروار
عدالت نے اپنے فیصلے میں قصورواروں پر لگے الزام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پروسیکیوٹر نے یہ ثابت کیا ہے کہ ابو سلیم اہم سازش کرنے والوں میں سے ایک تھا اور اس نے اداکار سنجے دت کو تین اے کے 56 رائفل، گولہ بارود اوردستی گولے دیئے تھے۔ سنجے دت کو آرم ایکٹ کے تحت قصوروار ٹھہریا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ دائود کے بھائی انیس ابراہیم اور دوسا کے قریبی رہے ابو سلیم دیگھی سے ممبئی خود ہتھیار اور گولہ بارود لے کر آئے تھے۔ اس سازش کا اہم مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے بے قصور شہریوں کو دہشت زدہ اور ان پر تشدد روا رکھنے کے لئے ان ہتھیاروں کا استعمال کیا جاسکے۔
ٹاڈا کورٹ کے جج جی اے سنپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے سزا تو دے دی ہے، لیکن اس سزا کو لاگو کرنا ،کرانا اب مرکزی سرکارکے دائرہ اختیار میں ہے۔ پرتگال میں 2002 میں گرفتار گینگسٹر ابو سلیم کو 2005 میں ہندوستان لایا گیا تھا۔ اس نے دلیل دی تھی کہ دو ملکوں کے بیچ حوالگی معاہدہ کے مطابق اسے 25برسوں سے زیادہ لمبی سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔ سزا سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھاکہ بم دھماکے کا موازنہ دیگر جرائم سے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ نادر معاملے کے درجے میں آتا ہے۔یہ کوئی عام جرم نہیں ہے۔
جج کا یہ بھی کہنا تھاکہ آئین میں عدلیہ اور ایگزیکٹیو کا رول طے ہے۔ سزا سنانا اور اسے لاگو کرنا دو مختلف پہلو ہیں۔عدالت جب سزا سنا دیتی ہے تو اسے لاگو کرانا ایگزیکٹیو کے دائرے میں آجاتاہے۔ مرکزی سرکار اپنی طاقت کا شفافیت سے استعمال کرنے کے لئے آزاد ہے۔ وہ پرتگال کو دیئے گئے بھروسے کو دھیان میں رکھ کر سزا لاگو کرا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سزا میں سلیم کے جیل میں گزارے گئے وقت کا شمار 2005 سے ہوگا نہ کہ 2002 سے۔ سنوائی کے دوران گینگسٹر جیل میں ہی رہا ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ طاہر مرچنٹ اہم سازش کرنے والوں میں شامل تھا، جس نے (بھگوڑے سازش کنندہ )ٹائیگر میمن کے ساتھ دبئی میں سازش رچنے والی کئی میٹنگوں میں شرکت کی۔ اتنا ہی نہیں ، طاہر نے کئی معاون ملزموں کے آنے جانے کا بندوبست کیا۔ ٹھہرنے اور سفر کے خرچ کا انتظام اور انہیں پاکستان میں ٹریننگ دلوایا۔عدالت نے فیروز کی اس دلیل کو بھی خارج کر دیا کہ وہ فیروز خاں نہیں بلکہ حمزہ تھا۔
عدالت نے طاہر مرچنٹ اور فیروز عبد الرشید خاں کو موت کی سزا سنائی اور حوالگی کے معاہدے کرکے ہندوستان لائے گئے گینگسٹر ابو سلیم اور کریم اللہ خاں کو عمر قید کی سزا سنائی۔اس معاملے میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد 28جون کو ممبئی کے جے جے اسپتال میں ایک دوسرے ملزم دوسا کے دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔ عدالت نے ان پر لگے مجرمانہ سازش ، ہندوستان کے خلاف جنگ اور بے قصوروں کے قتل کے الزامات کو صحیح مانا اور کہا کہ ان مجرموں کی سازش صرف ملک کو جان مال کا نقصان کرنے کی ہی نہیں تھی ، بلکہ ان کے نشانے پر ہندوستان کا اتحاد و اتفاق اور بھائی چارہ بھی تھا۔ انہوں نے ان دھماکوں سے نہ صرف قانون اور نظم و نسق کو چیلنج دیا تھا بلکہ وہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
حالانکہ جرائم کی گہرائی اور اس سے ہوئے نقصان کو دیکھتے ہوئے یہ سزا کافی کم ہے لیکن مجرموں کی پہنچ، پیسے کی طاقت اور ان کے دبدبے کو دیکھتے ہوئے عدالت اور جانچ ایجنسیوں کی اس بات کے لئے تعریف کی جانی چاہئے کہ انہوں نے ملک سے غداری کرنے جیسے اس حادثے میں شامل لوگوں کو ان کے کئے کی سزا دلائی۔ سچ تو یہ ہے کہ ملک سے غداری سے جڑے جرائم میں شامل لوگوں کو کسی بھی حال میں بخشا نہیں جانا چاہئے۔
عدالت کا دیر سے آیا یہ فیصلہ بھلے ہی مارے جانے والے لوگوں کے خاندانوں اور قصورواروں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کی کوشش میں لگے پولیس اہلکاروں کو زیادہ سکون نہ دے، لیکن یہ ملک میں قانون کے تسلط کی دھمک تو چھوڑتا ہی ہے اور ایک بار پھر سے یہ بتاتا ہے کہ ایک لیول کے بعد صرف پیسے کے دم پر اس ملک میں جرائم سے بچنا نا ممکن ہے۔ حالانکہ مسلم طبقے کے لوگوں کی دلیل ہے کہ کیا ہی بہتر ہوتا اگر عدالتیں لگے ہاتھ بابری مسجد ڈھانے سے متعلق مقدمے کا بھی فیصلہ دے دیتی تو ملک کی غیر جانبدار شبیہ اور صاف ہوتی ۔

 

 

 

 

برطانیہ میں ضبط ہوئی دائود کی جائیدادیں
دائود ابراہیم دنیا کا دوسرا سب سے امیر جرائم پیشہ فرد ہے۔حالانکہ وہ ہندوستان کا سب سے بڑا دشمن ہے لیکن اس کے خلاف ایک بڑا ایکشن برطانیہ نے لیا ہے۔ برطانیہ میں دائود ابراہیم کی کروڑوں کی جائیداد ضبط کر لی گئی ہے۔ ایک برطانوی اخبار نے دائود کی جائیداد ضبط ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہاں دائود کے پاس ہوٹل اور کئی گھر موجود ہیں۔ فی الحال دائود کی ضبط کی گئی جائیداد کی قیمت 42 ہزار کروڑ بتائی جارہی ہے۔ اس سے پہلے یو اے ای میں دائود کی تقریباً 15 ہزار کروڑ کی جائیداد پر وہاں کی سرکار نے شکنجہ کسا تھا۔
برطانیہ کے وارویکشائر میں دائود کے کئی ہوٹلز ہیں۔ جبکہ مڈ لینڈ میں دائود کی کئی رہائشی جائیدادیں ہیں۔گزشتہ مہینے ہی یو کے ٹریجری محکمہ نے ایک لسٹ جاری کی تھی، جس میں دائود کے پاکستان میں تین ٹھکانوں کا ذکر کیا گیاتھا۔ لندن کی پراپرٹیز میں سینٹ جان ووڈ روڈ، ہورن چرچ، ایسیکس،رچمانڈروڈ، ٹامس ووڈ روڈ، چگویل ، رو ہمپٹن ہائی اسٹریٹ، لندن ، لانس لوٹ روڈ، تھارٹن روڈ، اسپائٹل اسٹریٹ، ڈارٹفر کے بڑے بڑ ے رہائشی کمپلکس اور تجارتی عمارتیں شامل ہیں۔
یوکے ٹریجری محکمہ کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیاتھا کہ برطانیہ میں دائود نے 21 فرضی ناموں سے جائیدادیں لے رکھی ہیں۔ ان 21ناموں میں عبد الشیخ اسماعیل، عبد العزیز ، عبد الحمید ، عبد الرحمان ، شیخ محمد اسماعیل، انیس ابراہیم، شیخ محمد بھائی، بڑا بھائی، دائود بھائی، اقبال، دلیپ، عزیز ابراہیم ، دائود فاروقی، انیس ابراہیم ،حسن شیخ ، دائود حسن ، شیخ ابراہیم کاسکر، دائود حسن ، ابراہیم میمن ، سابری دائود، صاحب حاجی اور سیٹھ بڑا ، شامل ہیں۔
ہندوستانی سرکار کے ذرائع کے مطابق ’دائود کا زیادہ تر پیسہ برطانیہ، دبئی اور ہندوستان میں ہی سرمایہ کاری میں لگایا گیا ہے۔ ہندوستانی سرکار دائود کو گرفتار کرنے کی کئی سالوں سے کوشش کررہی ہے لیکن وہ پاکستان کے اپنے ٹھکانے پر پاک فوج کی سیکورٹی میں بزنس کر رکھا ہے ،اب اس کی جائیداد ضبط کر کے اس پر اور اس کے رہنمائوں پر بائو بنایا جا رہا ہے۔ اس سے اس کا نیٹ ورک بھی ٹوٹے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی کافی کوششوں کے بعد دائود ابراہیم کو گلوبل ٹیریرسٹ ہونے کا اعلان کیا جاسکا۔ اسی کے بعد دنیابھر میں پھیلے اس کے تمام بزنس اور پراپرٹی کی پہچان کرکے انہیں ضبط کیا جا رہاہے۔ ہندوستانی سرکار نے کئی ملکوں کو دائود کی جائیدادوں کے بارے میں پختہ جانکاریاں دی ہیں، جس کے بعد دائود کو نیست و نابود کرنے کے لئے متعلقہ سرکاریں کارروائی کر رہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *